بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ بین الاقوامی / مستقبل کے تقاضے اور حال کی سر گر میاں : توافق کی ضرورت

مستقبل کے تقاضے اور حال کی سر گر میاں : توافق کی ضرورت

(اسلامی اکیڈمی نئی دہلی کے طلبہ سے کیا گیا ایک خطاب)

میں نے اس سے پہلے کہا تھا کہ علم صرف کتابوں میں نہیں ہے، اور آفاق اور انفس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ زمینی حقائق ground reality کا مطالعہ بہت ضروری ہے، جبکہ ہمارے یہاں اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ اِکا دُکا کچھ سروے ہم کر لیتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگ کر لیتے ہیں۔ لیکن چاہے خاندان کے احوال ہوں، یا ملت کی معاشی صورتحال ہو، یا کوئی اور دائرہ ہو، سیاسی یا تہذیبی۔ ہم براہ راست اپنے مطالعہ کے نتیجہ میں اپنے حالات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ سروے کرنا ، گھر گھر جاکر سوال نامہ پُر کرانا اور اس کی روشنی میں کسی نتیجہ تک پہنچنا یہ ہمارے یہاں نہیں سکھا یا جاتا۔ میں نے آپ کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرائی تھی کہ اگرا مت کو اوپر اٹھانا ہے تو زمینی حقائق کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ہم کو اس کی تعلیم کے جو جدید طریقے ہیں ان کی طرف اپنے اداروں کے نصاب میں توجہ دینی چاہیے، تاکہ زمینی حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے اہم امور پر فوکس کیا جائے۔
آج میں ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ زمینی حقائق کوئی اللہ کی بنائی ہوئی مستقل چیز نہیں ہے( ویسے تو ہر چیز اللہ کی بنائی ہوئی ہے) لیکن ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ یہ زمینی حقائق بنتے کیسے ہیں۔ آج صارفیت (Consumerism) کا غلبہ ہے اور انسان ایسی خوا ہشات جو پوری نہیں ہو سکتی ہیں ان کی تکمیل کے لئے زیادہ سے زیادہ کمانے اور زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی دوڑ میں تھکا ہوا نظر آتا ہے۔ یایہ رحجان ہے کہ ہر چیز کو Privatize کرو، جو چیزیں کل تک صحت وتعلیم وغیرہ سے متعلق اسٹیٹ کی ذمہ داریاں سمجھی جاتی تھیں اب اس کا چرچا ہے کہ وہ بہتر طریقہ پر انجام نہیں پا سکتی ہیں، الا یہ کہ انہیں پرائیویٹ ہاتھوں میں دے دیا جائے۔حقائق (Reality) اس معنی میں تو ہیں کہ جب ہم آنکھ کھولتے ہیں تو چاروں طرف یہی نظر آتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ واقفیت ہونی چاہئے کہ یہ کسی کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ ہمارے آپ جیسے انسانوں کے فیصلے اور رویے ہیں جن سے زمینی حقائق بنتے ہیں۔
اس طرز عمل کو جامع اصطلاح کے طور پر ہمCapitalism کہتے ہیں یعنی بیش از بیش نفع کمانے کو ہدف بنانا، چاہے تعلیم ہو، چاہے صحت ہو، چاہے سیاست ہو، اور چاہے وہ معاشرت اور ثقا فت ہو، ہر میدان میں Foundation یا Corporation یا سر مایہ دار شخص یا جو بھی ڈرائیونگ سیٹ پر ہو، اس کا ایک ہی منشأ ہونا کہ بیش از بیش نفع کمایا جائے۔ یہ کیفیت جو گزشتہ دوسو سال سے ساری دنیا پر چھا ئی ہوئی ہے اور اس کے زیر اثر دنیا کا ہر حصہ آچکا ہے بشمول ہندوستان کے یا بشمول بر صغیر کے، اِس Ground Reality کا مطالعہ کرنا ، اور اسے سمجھنا بہت ضروری ہے لیکن اس کو پتھر کی لکیر سمجھنا ضروری نہیں ہے ۔اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ لکیریں کسی کی کھنچی ہوئی ہیں اور اگر اس کے Fountainکو پکڑ لیا جائے، جہاں سے اس کو طاقت مل رہی ہے، اورہم اس پر کچھ قابو حاصل کر لیں تو یہ خود بخودRedirect کی جاسکتی ہے۔
دوسرا ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ہم تاریخ کے مطالعہ میں بھی بہت کمزور ہیں۔تاریخ کا مطالعہ ہم جیسے لوگوں کے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعالی نے عام ہدایت دی ہے کہ عدل قا ئم کرو اور ظلم کو ختم کرو۔ نبی کریمؐ نے ہدایت کی ’’ ایا کم وا لتظالم‘‘ ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے بچو، اور تعاون کی روش اختیار کرو۔ اس کی کچھ حد بندی کردی گئی ، سود حرام کردیا گیا، ربا حرام کر دیا گیا اور غبن و غیرہ کے سلسلے میں واضح ہدایت دے دی گئی لیکن معا ملات زندگی بدلتے رہتے ہیں، اور وہ نئی نئی شکل اختیار کرتے رہتے ہیں ۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ رقم بھجنے کا ایک کام ہے، یہ ابتدائی معیشت میں بھی پیش آتا تھا اور اب Globlised world میں اور زیادہ پیش آنے لگا ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ان سب میں عدل کا طریقہ کیا ہے؟ اور تظالم سے کیسے بچا جائے، ایک دوسرے کے ساتھ Fair treatment کیسے ہو؟ یہ تلا ش ہم سے پہلے کے مسلمانوں نے بھی کی ہوگی، وہ بھی اتنے اچھے مسلمان تھے جتنے کہ ہم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی کے بارے میں بد گما نی بلا وجہ جا ئز نہیں ہے۔ بات صحیح ہے کہ ابتدائی چالیس سالوں کو ،جن میں دس سال نبی کریمؐ کی زندگی اور تیس سال خلفائے راشدین کی نگرانی میں مدینہ میں گزرے، ہم اس کو ایک آئیڈیل سمجھتے ہیں اور مأخذ سنت سمجھتے ہیں، لیکن بعد کے جو 1400سال ہیں اس میں خلا فت یا ملو کیت یا باد شاہت یا سلطنت سب میں Normal assumption میرے خیال میں یہی ہے کہ ہر مسلمان گروہ اور شخص اور کمپنی اور ادارہ کو ہم یہ سمجھیں کہ وہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے سوچتا تھا، اور اپنی جگہ پر اللہ تعالی کو دھو کہ دینے کے بجائے جو اس کی سمجھ میں آیا تھا کہ اللہ کی مرضی ہے اس کے مطابق معاملات استوار کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس مفروضہ کی روشنی میں ہم یہ دیکھیں کہ جو نئے معاملات آئے، اس میں اس نے عدل کیسے قائم کیا، آج ہم اس پر Comment کر سکتے ہیں کہ وہ نا کام رہا یا کامیاب رہا۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ اس حیثیت سے بہت ضروری ہے۔ تاریخ ایک ریکا رڈ ہے مرضئ الٰہی کے تتبّع کا۔ بہت سے ریکا رڈ مو جود ہیں لیکن ایک ریکارڈ اس کا بھی ہے کہ انسان نے قرآن و سنت سے جو کچھ بھی اللہ کی مرضی سمجھی اس کو اپنے ماحول میں، اپنے جغرافیا ئی Conxtext میں، اپنے Technological Context میں کیسے مکمل شکل دینے کی کوشش کی ۔ آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے فلاں معاملہ میں ٹھوکر کھا ئی، فلاں معاملہ میں ٹھیک کیا۔ لیکن اس کا سبب سمجھنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔ یہ بات میں اس لئے یاد دلا رہا ہوں کہ یہ دوسرا ستون ہے تین بنیادی ستونوں والی methodology کا جس میں زمینی حقائق، تاریخ اور نصوص قرآن وسنت آتے ہیں۔ ان ہی تین کے مطالعہ سے ہمیں رہنمائی حاصل کرنی ہے۔
عہد رسالت اور عہد خلافت راشدہ کے عمل سے اورtext یعنی قرآن اور صحیح احادیث کے الفا ظ سے ہم ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ ہم کو کیا کرنے کو کہا گیا ہے؟ ظاہر ہے اس سمجھ میں بہت کچھ دخل اس کو ہے کہ ہم اس وقت کے Context کو بھی سمجھیں اور دیکھیں۔ اگر نبی کریمؐ نے یا خلفاء راشدینؓ نے کسی چیز سے روکا یا کسی چیز پر ٹوکا تو کیوں ٹوکا، اور کیوں روکا؟ ایک صاحب حاطب ابن بلتعہ منقّی بیچتے تھے جو مدینہ میں پیدا نہیں ہوتا تھا بلکہ طائف سے آتا تھا۔ حضرت عمرؓ بازار کا دورہ کر رہے تھے انہوں نے دام پوچھا تو اس وقت حاطب ابن بلتعہؓ نے جو قیمت بتا ئی،وہ آپ کو ذرا کم معلوم ہوئی اور آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ تاجر اگر اتنی کم قیمت رکھے گا تو طائف کے تاجر مدینہ کے بازا ر میں مال لانے میں ہچکچائیں گے اور یہ مال کہیں اور چلا جائے گا، چنانچہ آپ نے کہا: ’’ یا تو اپنا ریٹ بڑھاؤ یا اپنی دکان بڑھالو۔‘‘ یہ آپ نے کسی سوشل مقصد کے تحت ہدا یت دی اور چلے گئے۔ گھر جانے کے بعد وہ دو بارہ واپس آئے اور ان سے کہا کہ میں نے شاید تم سے کچھ زیادہ کہہ دیا ہے، تمہارا مال ہے جس دام چاہو بیچو۔ یہ روایت بڑی اہم ہے۔ بہت سی باتیں اس سے نکلتی ہیں۔ ایک بات جو صرا حت سے نکلتی ہے، وہ یہ کہ عدل کی تلاش کوئی فار مولہ نہیں ہے جو آپ کو کسی کتاب میں مل جائے گا اور آپ اس پر عمل کریں گے تو عدل قائم ہو جا ئے گا۔ حضرت عمرؓ کو نہیں معلوم تھا تو آپ کو کیا معلوم ہوگا۔ اس سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ عدل کی تلاش میں غلطی ہو نا کوئیabnormalبات نہیں ہے، اور دوسری بات یہ کہ حاطب بن ابی بلتعہ بھی بڑے پائے کے صحابی تھے، اور حضرت عمر بھی بڑے پائے کے صحابی تھے وہ تاجر تھے، اور یہ بازار میںisor Supervکی حیثیت سے تھے۔دونوں اپنی اپنی جگہ مرضیِ الٰہی چاہ رہے ہوں گے۔
ان چیزوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، تاریخ کے پڑھنے سے اس طرح کے بہت سے سبق ملیں گے، ہمیں عہد رسالت اور عہد خلافت راشدہ اور قرآن کا Text اور مستند احادیث کو سمجھنے میں Contextکو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر Contextکو سامنے نہیں رکھیں گے تو ہوسکتا ہے اس سے ایک نتیجہ نکال لیں اور بس یہی سمجھیں کہ اب یہی کرانا ہے چاہے ہمارے حالات کا Context کچھ ہو۔ ایک لفظ آج کل بہت سننے میں آتا ہے ’’صک‘‘ جو ہمارے لوگوں کا بجا طور پر کہنا ہے کہ Check اسی عربی لفظ سے بنا ہے، یہ لفظ ’’صک‘‘ حدیث کی کتابوں میں آپ کو مؤطّا میں مل جائے گا، اور حضرت عمرؓ کے زمانہ سے تاریخ میں ملتا ہے۔ ایک گرامی قدر صحابی تھے حکیم بن حزام، ایک زمانہ میں آبادی بہت بڑھی تو اس بڑھتی ہوئی آبادی کو فیڈ کرنے کے لیے غلہ مدینہ نہیں پیدا کرپاتا تھا، کھجور بہت ہوتی تھی لیکن گیہوں نہیں ہوتا تھا۔ گیہوں مصر سے آتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے مصر سے آنے والے گیہوں کا نظم وانتظام حکیم بن حزام کے سپرد کردیا تھا۔ وہاں سے گیہوں کے آنے میں قریب مہینہ بھر کا وقت لگتا تھا۔ گیہوں پانی کی کشتیوں سے آتا تھا لیکن خبر آجاتی تھی کہ فلاں کشتی سے اتنا گیہوں آرہا ہے۔ اس خبر کی بنیاد پرایک صک یا پرچہ لکھا جاتا تھا۔ حکیم بن جزام نے بندرگاہ پر پہنچنے سے پہلے مدینہ کے تاجروں کے ہاتھ اس گیہوں کو فروخت کرنا شروع کردیا، ان لوگوں نے پرچوں کی بنیاد پر تجارت شروع کردی اور کافی امیر ہوگئے، رفتہ رفتہ حضرت عمرؓ کو پتہ چلا تو انھوں نے حکیم بن جزام کو بلایا اور کہا کہ یہ سارا منافع بیت المال میں داخل کردیجئے، انھوں نے چپ چاپ داخل کردیا۔ یہ پہلا موقع ہے جہاں لفظ صک حدیث میں ملتا ہے۔ وہ دن اور آج کا دن صک کی تجارت کے اوپر اختلاف رائے آج تک ختم نہیں ہوا ہے۔ یہ اختلاف پھر کئی حکمرانوں کے عہد میں اٹھتا رہا ہے۔ چوتھی، پانچوی صدی کے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ہمارے اسلاف کو اس سے اختلاف نہیں ہے۔ میں آپ کو بتانا یہ چاہتا ہوں کہ Textسے استفادہ کرنا یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کافی عقل کی ضرورت پڑے گی پھر اس کو اپنے حالات پر آپ Apply کریں گے، اس میں اختلاف بھی ہوگا۔
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ زمینی حقائق کو پتھر نہ سمجھئے، اسی طریقہ سے کوئی بھی Interpretation قرآن اور حدیث یا economicمعاملات میں میرا لکھا ہو، مولانا مودودیؒ کا لکھا ہو، یا کسی اور نے لکھا ہو، کسی کو بھی پتھر کی لکیر نہ سمجھئے۔ خود اسٹڈی کیجئے اور خود کسی نتیجہ تک پہنچئے۔ یہاں سے ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے جس کا تعلق ’مقاصد شریعت‘ سے ہے کہ بہت سے مسائل تو ایسے ہوتے ہیں جن کی کوئی نظیر موجود ہوتی ہے جس کی روشنی میں آپ thisیا thatمیں فیصلہ کرسکیں، جیسے نبی کریمؐ کی ایک حدیث ہے ’’لا تبع ما لیس عندک‘‘ جس چیزکے تم مالک نہیں ہو اس کو تم بیچ نہیں سکتے۔ اس سے وہ بیچ کا تاجر یا جو یہ کرتا ہے کہ اس کے پاس ہے تو کچھ نہیں لیکن آپ نے کہا 100کوئنٹل گیہوں چاہیے، اس نے آپ کے ساتھ معاملہ کرلیا۔ بیعانہ بھی لے لیا اور تاریخ بھی دے دی اور گیا، اور بازار سے اٹھا کر لے آیا اور آپ کوDeliverکردیا، تو ’’ما لیس عندک‘‘ کے تحت یہ عمل جائز نہیں ہے۔
کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن پر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ آپ کہیں کہ یہ رول پہلے تھا، اب ایک نیا مسئلہ آیا ہے اس پر قیاس کرتے ہوئے ہم یہ حکم نکالتے ہیں، لیکن بہت سے مسئلے ایسے ہوتے ہیں جس قسم کے مسئلے پہلے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اور کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں جس پر آپ قیاس کرسکیں تو یہاں اول دن سے ایسے مسئلہ میں فقہاء مصالح، حکمت دین، اور مقاصد شریعت کو سامنے رکھتے تھے۔ ان کی روشنی میں ہمیں کہنا ہے کہ یہ ہونا چاہیے۔ امام ابو حنیفہؒ کے یہاں استحسان کا ذکر ہوتا رہا، اور دوسرے بعض فقہاء نے اس لفظ کو پسند نہیں کیا، ان کے یہاں اس جیسی دوسری چیزیں الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ ملتی ہیں۔
گزشتہ 20سال سے مقاصد شریعت کیوں؟ کیسے؟ اور کن حالات میں releventہے؟ اس پر کافی کام ہواہے۔ بہت کچھ کہا گیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف فقہ کا نہیں ہے بلکہ اسSubjectکا بھی ہے جس کو فقہ الدعوہ کہا جاتاہے کہ اسلام کی دعوت کیسے دی جائے، دوسرے لوگ اسلام کی شبیہہ بگاڑ رہے ہوں، اور ہم اس کی امیج کو بہتر بنانا چاہتے ہوں تو کیسے بنائیں۔ اس پر کافی کام ہوا ہے۔
گزشتہ 20-25 سال میں جو کام ہوا ہے، اس میں سب سے زیادہ Publications عربی میں ہیں، سب سے زیادہ سمینار عربی میں ہوئے ہیں، لیکن کافی چیزیں انگلش میں ہیں جو Washington کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹIIIT نے شائع کی ہیں۔ جاسر عودہ صاحب ایک شخصیت ہیں، دہلی آچکے ہیں، ان کے کئی پروگرامس ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں نے گزشتہ 25سال میں فقہ مقاصدی پر کافی کام کیا ہے، یعنی ایسے مسائل جن کا براہ راست قرآن اور احادیث میں ہمیں ذکر نہیں ملتا مثلاً انڈیا میں جو الیکشن ہور ہے ہیں تو اس میں مسلمان حصہ لیں یا نہ لیں، اگر لیں تو کسے ووٹ دیں۔ یہ کوئی ایسے مسائل نہیں ہیں کہ آپ کسی کتاب میں ان کو پڑھ لیں اور اس پر قیاس کرلیں۔ اگر ہم اس میں حصہ لیتے ہیں تو اس کے حدود کیا ہیں۔ اگر ہم کسی کو Supportاور کسی کوopposeکرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کا معیار کیا ہوگا۔ مثلاًفاشسٹ جماعتوں کونہ ووٹ دیجئے اور ایسے لوگوں کو جو جمہوریت کے خلاف نہ ہوں اور آپ کو اجازت دیں کہ آپ اظہار رائے کرسکیں اور زندہ رہ سکیں ان کو ووٹ دیجئے۔ تو یہ سب ان کے فہم کے مطابق ’’فقہ مقاصدی ‘‘ میں آتا ہے۔
لندن کے الفرقان فاؤنڈیشن کا ایک ذیلی ادارہ ہے مرکز دراسات مقاصد الشریعۃ، اس ادارے نے ڈاکٹر کمال امام کی مرتب کردہ ایک فہرست مشروحہ annotated bibliographyشائع کی ہے، حکمت، مصلحت، اسرار شریعت وغیرہ پر جتنی تحریریں ہیں ان کا ذکر ہے۔ اس فہرست میں کتابیں، مقالات، پی ایچ ڈی اور ایم فل کے تحقیقی رسالے وغیرہ شامل ہیں۔ اگرچہ صرف عربی زبان کی تحریریں شمار کی گئی ہیں پھر بھی ان کی مجموعی تعداد ہزاروں میں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس موضوع کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ اردو زبان میں، نہ برصغیر کی دوسری زبانوں میں اس پر لکھا جار ہا ہے۔ مدارس کے اساتذہ اورطلبہ کو تقلید کے پر انے طریقہ پر قائم رکھنے کے لئے مقاصد شریعت پر پڑھنے لکھنے اور تبادلۂ خیالات سے دور رکھا جارہا ہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ جیساکہ میں نے اپنی کتاب مقاصد شرکت میں ذکر کیا ہے دوسری سے چوتھی صدی ہجری تک عالم اسلامی میں مختلف رایوں کے اظہار اور آزادانہ بحث کی کھلی فضا بنائی گئی تھی جس کے اچھے نتائج سے امّت ہزار سالوں تک فائدہ اٹھاتی رہی۔ اب بھی جدید حالات سے عہدہ برآہونے کے لئے ایسا ہی کرنا ہوگا۔
مستقبل کے چیلنجز کیا ہوں گے اس پر ہر اسکالر کی سوچ الگ ہوسکتی ہے۔ ایسی نشستیں ہونی چاہیے جس میں لوگوں کو بلایاجائے اور ان کے ساتھ گفتگو کی جائے کہ تمہارے خیال میں فلاں میدان میں مستقبل کیا ہوگا۔ مثال کے طور پر آپ دو کا م کر رہے ہیں ایک تو لائبریریاں بنا رہے ہیں، کتابیں جمع کر رہے ہیں اور دوسرے اکیڈمیاں، درسگاہیں، اور یونیورسٹیاں قائم کر رہے ہیں، اچھی اچھی عمارتیں بنا رہے ہیں، اس میں اچھے اچھے ہاسٹل بنا رہے ہیں، لوگوں کو اس میں بلا رہے ہیں۔ اب مستقبل کا تصور کیجئے، ایسا لگتا ہے (میں غلط بھی ہوسکتا ہوں) کتاب پڑھنے کا رواج کم ہورہا ہے۔ نئی نسل 15-20 سال کے بچے آئی فون اور آئی پیڈ پر چیزیں پڑھتے ہیں، کاغذ کی کتابیں نہیں پڑھتے، عادت نہیں رہ گئی ہے، مگر ہم لوگ digitalمواد Produceنہیں کر رہے ہیں۔ اگر I Phone یا I pad پر تلاش کریں تو وہ چیزیں جو ہم اس کو پڑھانا چاہتے ہیں وہ Available نہیں ہیں، آپ ضرور کتاب چھاپئے، اچھی سے اچھی چھاپئے، دو چار اور مکتبہ قائم کردیجئے، لیکن کل کی بھی فکر کیجئے، کل کتاب نہیں پڑھی جائیں گی، جو پڑھی جائیں گی اس کی تیاری کا کیا انتظام ہے آپ کے پاس۔
اور دوسری چیز جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔ بہت ضروری ہے کہ اچھی سے اچھی بلڈنگ بناےئے، اچھے اچھے ہاسٹل بناےئے، اچھے اچھے استاذ رکھئے، لیکن آپ کومعلوم ہونا چاہئے کہ اس دنیا میں ایسے پروفیسرس بھی ہیں جن کے ایک ایک لکچر میں Half-million لوگ دنیا بھر کے شریک ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کسی بلڈنگ میں نہیں بیٹھے ہوتے، وہ انڈونیشیا سے لے کر مراقش تک اور لیٹن امریکہ تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ لکچر ایک جگہ سے دیتے ہیں، لوگ Liveسنتے ہیں اور جو لوگ نہیں دیکھ پاتے ہیں، وہ بعد میں ویڈیو دیکھ لیتے ہیں۔ کیوں ایسا ہوتا ہے؟ اگر دنیا کا Bestپروفیسر موجود ہے تو ہم Third کلاس پروفیسر سے کیوں سیکھیں۔ اس طرح Future Learning ادھر جا رہی ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مدرسہ نہ قائم کیجئے، اور بلڈنگ نہ بناےئے۔ یونیورسٹی نہ بناےئے، اور اکیڈمی نہ بناےئے، لیکن پچاس سال بعد جو ہونا ہے تو اس کے لیے بھی تو کچھ تیاری ہونی چاہیے۔ اس طریقہ کی اور بھی مثالیں ہوسکتی ہیں۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ آپ کے Imagine کرنے سے پہلے بہت سے لوگ Imagineکرکے لکھ بھی چکے ہیں۔
اب ایک Family Structureوہ تھا جس میں 99.9% عورتیں ان پڑھ تھیں، مرد اگر پڑھا لکھا تھا تو فبہا ورنہ ماشاء اللہ جیسا بھی ہو۔ عورتیں خط بھی لکھنا نہیں جانتی تھیں، وہ سفر بھی نہیں کرسکتی تھیں، یہ زمانہ اب ختم ہوگیا، اب تیسری، چوتھی کلاس سے بچہLap Topکے سامنے بیٹھ جاتا ہے کسی بھی اسکول میں آپ بھیجیں۔ ہر جگہ انٹرنیٹ موجود ہے، اس نئے دور میں وہ Family Structure جس کا بہشتی زیور پر عکس ہے کیا وہ Sustainableہے، اگر نہیں ہے تو ہمیں Discussکرنا چاہیے۔ معلومات کی فراوانی اور رابطوں کی آسانی کے زمانہ میں اگلی نسلوں کو اچھی روایات اور اعلیٰ قدروں سے وابستہ رکھنے کا اہتمام کس طرح کیا جائے، اس پر گفتگو بھی ہونی چاہیے اور تجربے بھی کئے جانے چاہئیں۔ مگر قدیم کو باقی رکھنے پر اصرار، اور وہ بھی پابندیوں اور قیدوبند کی حدتک… یہ طریقہ نتیجہ بخش نہیں ہوسکتا۔
ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی، معروف اسلامی دانشور وماہر معاشیات اسلامی[email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مسئلہ بنگلہ دیش اور شہادت نظامی

تقسیم ہند اپنے آپ میں ایک بڑا سانحہ تھی، اس کے پیچھے ...