بنیادی صفحہ / نظر / محمد ﷺ مرد ربانی

محمد ﷺ مرد ربانی

قسط: 01

سید حسین نصر دنیا کے مشہور مسلم اسکالرس کی فہرست میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سید حسین نصر فلسفی اور دانشور ہیں۔ موصوف اسلامک اسٹڈیز کے موضوع پر گہری سمجھ رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق ایران سے ہے۔ فی الحال جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں تعلیم و تدریس سے منسلک ہیں۔ حسین نصر نے اسلام، اسلامی فلسفہ، تصوف، بین المذاہب مطالعہ سے لے کر ماحولیاتی بحران تک مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ سید نصر نے متعدد ریسرچ پیپرس اور پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مختصر اور جامع کتاب “محمد دی مین آف گاڈ” ہے۔ جسے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کا اہم کام اسامہ حمید نے انجام دیا ہے۔ اسامہ حمید علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے رکن مرکزی مجلس مشاورت ہیں۔ ادارہ رفیق منزل کتاب کا اردو ترجمہ بعنوان “محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرد ربانی” قارئین کی خدمت میں قسط وار پیش کررہا ہے۔ امید ہے قارئین مستفید ہوں گے اور اپنے تاثرات ادارہ کو ارسال کریں گے۔ (ادارہ)

پیش لفظ

خدا کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اسلام کے مبارک پیغمبرؐ کی زندگی کا یہ مختصر مطالعہ نہ تو ایک نیا تاریخی تجزیہ ہے اور نہ ہی خدا کے آخری نبیؐ کی زمینی حیات کا خالصتا عقیدت مندانہ خاکہ۔ان موضوعات پر یورپی زبانوں میں پہلے ہی متعدد تاریخی مطالعات موجود ہیں، جو نہ صرف مغربی اسکالروں نے لکھی ہیں، بلکہ مسلمانوں نے بھی ان زبانوں میں خوب لکھا ہے یا ان کے کام کو ان زبانوں میں ترجمہ کیا ہے، خاص طور پر انگریزی میں۔ اس کے علاوہ بطور سیاست دان، فوجی کمانڈر، سیاسی رہنما، وغیرہ کی حیثیت سے مزید خصوصی مطالعات وقف ہیں۔مزید کچھ سوانح حیات، جنھیں عقیدت مند ادب کہا جاسکتا ہے، انگریزی میں دستیاب ہیں۔ لیکن ایسا ادبی کام جو رسول بابرکتؐ کی روحانی اہمیت کو ظاہر کرے اور آپؐ کی حیات مبارکہ کے مختلف حصوں کے اندرونی معنی اجاگر کرے بہت کم ہیں۔ موجودہ کاموں کے باوجود، ابھی بھی ایسی سوانح حیات کی ضرورت موجود ہے جو سیرت رسولؐ کی روحانی جہتوں کے ساتھ ساتھ انسانی تاریخ کو بدل دینے والے اس شخص کی زندگی کے حقائق ور تاریخی عناصر کو بھی مدنظر رکھے۔
موجودہ مطالعہ کا مقصد اس سمت میں ایک عاجزانہ قدم ہے اور اس میں ایک مختصر سیرت کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو روایتی اسلامی نقطہ نظر کو محفوظ رکھتے ہوئے اور اس مثالی حیات مبارکہ کے، جو جدیدذہن کے ذریعہ شک میں ڈال دی گئی ہے، کچھ عناصر کی وضاحت کرتے ہوئے معلوم تاریخی حقائق اور ان کی روحانی اہمیت کو مدنظر رکھتی ہے۔ اس مونوگراف میں بنیادی طور پر اس نوجوان مسلم قاری کو مخاطب کیا گیا ہے جس کی روایتی ذرائع تک دسترس نہیں ہے اور جو ابھی تک پیارے رسولؐ کی روایتی اور ہم عصر حیات طیبہ کی پیش کش کا محتاج ہے۔
راقم کا قلم اس مضمون کی عظمت کو پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ صرف امید کی جا سکتی ہے کہ اس شائستہ کاوش سے کم از کم اس شخصیت کی عظمت، وقار اور شرافت کا ایک اشارہ مل جائے گا جسے خدا نے دنیا کے لئے رحمت قرار دیا ہے۔ ہم جو کچھ بھی پیش کر سکیں ہے وہ صرف اور صرف خدا کی مدد و نصرت کا نتیجہ ہے جبکہ تمام عیب اور خامیاں ہماری ہی ہیں۔ ہم کوتاہیوں کے لئے معافی مانگتے ہیں اور اس بات کے بخوبی معترف ہیں کہ عصری زبان میں اس بزرگ شخصیت کی عظمت پیش کرنا کتنا مشکل ہے جس کا تخیل جدید دنیا کے باسیوں کی اکثریت سے بالاتر ہے اور جو اس دنیا کی پست اخلاقی کے عادی ہوچکے ہیں

ٍّّّّٓابتدائی زندگی

خدا کے نبیﷺایک ایسے شہر میں پیدا ہوئے تھے جس کی عظمت وحرمت خانہ کعبہ کی وجہ سے تھی ۔خانہ کعبہ کوحضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا تھا۔ جو توحیدکے علمبرداروں ، عربوں اور یہودیوں دونوں کے جدِ امجد تھے۔لیکن یہ قدیم مذہبی مرکز انسانی تہذیبوں کے اصل رنگ منچ اور بڑی عالمی طاقتوںکے میدان جنگ سے الگ تھلگ رہ گیا تھا۔اس خطے میںتاریخ کے اہم واقعات جیسے، سائرس کے ذریعہ بابل کی فتح اورفارسی سلطنت کی بنیاد،سکندر کی فتوحات،رومی سلطنت کی بنیاد،مسیح کی پیدائش اور آسمان کی جانب اٹھا لیا جانا،قدیم مصری تہذیب کا خاتمہ،بیت المقدس کی تباہی،بازنطینی سلطنت کی بنیاد اور مشرق میںفارس کے ساتھ اس کی مستقل لڑائیوں نے بھی مکہ مکرمہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔دریں اثنا،ہزار سال کے عرصہ میں،عرب میں حضرت ابراہیمؑ کا اصل توحیدی پیغام فراموش ہوگیا تھا اور عربوں کی اکثریت بدترین قسم کی بت پرستی میںپڑچکی تھی۔وہ حق کوبھلا بیٹھے تھے اور جہالت کے گڑھے میں جا پڑے تھے،یہ اسلام کے عروج کا پس منظر تھا۔ عرب میںمقیم عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک قلیل تعداد کے علاوہ، چند ایک تنہا روحیں اور تھیںجنہوں نے حضرت ابراہیمؑ کے بنیادی مذہب اسلام کو یاد رکھا تھا، یہ وہ لوگ تھے جنھیں قرآن مجید حنیف یاحنفہ کہتا ہے۔
اس مذہبی زوال کے ساتھ ساتھ،وحی کے نزول سے پہلے کا مکہ مکرمہ معاشی خوشحالی اوردولت سے مالامال تھا۔ اس معاشی فراخی نے مختلف قبیلوں کے مابین نہ صرف مستقل دشمنی میں اضافہ کیا بلکہ درحقیقت مکہ مکرمہ پر حکمراں قبیلے کی طاقت میں اضافہ کیا۔مکہ مکرمہ اس وقت بھی پورے عرب کے قبائل کے لئے مقام زیارت اور اس سرزمین کا معاشی مرکز تھا۔ تقدیر کا کرنا ایسا کہ جس قبیلے میںنبی اکرم ﷺ پیدا ہوئے وہ کوئی عام قبیلہ نہ تھا بلکہ شہر مکہ اور زیارت کے مرکز پر غالب قبیلہ تھا اور اس وجہ سے اسے پورے عرب میں خاص مقام حاصل تھا۔
نبی مبارکﷺبنوکنانہ کے انتہائی اشرافیہ اور با اثر خاندان میں پیدا ہوئے تھے جس کی ذیلی تقسیم ، قبیلہ قریش میں آپﷺ کی بعثت ہوئی ۔آپ ﷺ کا خاندان قریش کی ایک شاخ، بنو ہاشم تھا جسے خاندان کے سرپرست ہاشم کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔وہ مکہ مکرمہ میں ایک ممتاز شخص تھے اور شام و یمن تک وسیع پیمانے پر تجارت کرتے تھے۔ان کے بیٹے،عبدالمطلب،پیغمبر اسلام کے دادانے زمزم کے کوئیں کودوبارہ برآمد کیا تھا۔وہ خدا کے گھر خانہ کعبہ کے نگہبان تھے جو ہاتھ سے بنے بتوں کے ذریعہ داغدار ہونے کے باوجود اب بھی حضر ت ابراہیمؑ اور درحقیقت، اولین نبی اور نوع انسانی کے پہلے باپ حضرت آدمؑ کامقدس مقام تھا۔عبد المطلب نے ایک خواب دیکھا جس میں ایک ایسے وجود کے بعثت کی پیش گوئی کی گئی تھی جو خدا کے کلام، قرآن پاک کو انسانیت تک پہنچائے گا۔عبد المطلب نے اس خواب میں دیکھا کہ ان کی پشت سے ایک درخت نکل رہا ہے۔ یہ ایسا درخت تھا جس کی اوپری شاخیں آسمانوں تک پہنچی ہوئی تھیں اور بازو کی شاخیں مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی تھیں۔اس درخت سے سورج سے زیادہ روشن نور پھوٹ رہا ہے اورعرب و فارس دونوں اس کی پوجا کررہے ہیں۔خوابوں کی تعبیر بتانے والوں نے انہیں بتایا کہ ان کے کنبے میں ایک شخص پیدا ہوگا جو مشرق اور مغرب کو روشن کرے گا اور جوعربوںاور فارسیوں دونوں کا نبی ہوگا۔عبد المطلب کے بیٹے عبداللہ نے آمنہ بنت وہب سے شادی کی لیکن جلد ہی ان کی موت ہوگئی۔ جس کے کچھ ہی عرصہ بعد ان کی بیوی نے محمدﷺ کو جنم دیا۔آمنہ نے نہ صرف بچہ کی پیدائش کی معمولی علامتوں کا بھی تجربہ نہیں کیا تھا بلکہ آپﷺ کی پیدائش کے وقت ایک غیر معمولی نوعیت کے بصری اور سمعی تجربات بھی کئے جن کے بارے میں خدا نے کہا ہےکہ ’’ اے آدم!ؑاگر یہ محمد کے بارے میں نہ ہوتا تو میں نے نہ آپ کو پیدا کیا ہوتا اور نہ ہی زمین اور آسمان کو‘‘۔ (حدیث قدسی)ــــــ
ٓٓٓٓٓٓاس خالص ترین اور انتہائی عظیم انسان نے بچپن سے ہی غیر معمولی خصوصیات کی نمائش کی ۔آپ ﷺ نرم اور معتدل مزا ج کے مالک تھے اور کم عمری میں ہی امن اور خلوت پسند تھے۔کہا جاتا ہے کہ جب آپ چار سال کے تھے،دو فرشتوں نے آپ کی چھاتی چاک کر اسے برف سے دھویا تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے حکم سےفرشتوںنے آپ کے اندرونی وجود کوبچپن میں ہی پاک کر دیا تھا۔اس کے بعد آپ کو پیمانہ بنا دیا گیا جس کے خلاف عام لوگوں کا وزن کیا جائےگا۔اس سے کوئی فرق نہیںپڑتا کہ کتنے لوگوں کو ترازوکے دوسرےطرف کھڑا کیا جاتا ہے،آپ کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ وہ ہیں جواﷲ کی نظروں میںسب سے زیادہ قیمتی ہیں اور جو ایک دن اپنے لوگوں کو خدا کی طرف رہنمائی کرنے والا تھے۔الہی نظروں میں،انسانیت کو خدا کی طرف سے بھیجے گئے انبیاء کے ذریعہ قائم کردہ مذہبی جماعتوں،جنہیں اسلام امت کہتا ہے، کے ارکان کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے ان کا فیصلہ کیا جائے گا ۔خدا کی نظر میںقوم کی اہمیت کا پیمانہ خدا کے ذریعہ اس قوم میں بھیجے گئے نبی اور اس کے پیغام کی پیروی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا کی نظر میں نبیﷺ اپنے تمام پیروکاروں سے، علامتی طور پر کہا جائے تو، زیادہ وزن رکھتے ہیں۔
مستقبل کے نبیﷺ کو حلیمہ کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ نبیﷺ کے لئے رضاعت کے فرائض انجام دے سکیں۔وہ بنو سعد کے قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں ۔آپﷺ کچھ عرصے تک اسی قبیلے کے ساتھ ان کے گاؤں میںرہے۔چھ سال کی عمر میںآپﷺ کی ماں کا انتقال ہو گیا اور آپ واپس مکہ مکرمہ آگئے جہاں ایک یتیم کی حیثیت سے آپ کی پرورش آپ کے دادا عبد المطلب نے کی۔دو سال کے بعد جب آپ کے دادا کا انتقال ہو گیا تو آپﷺ کی پرورش آپ کے چچا ابو طالب نے کی جو آپﷺ سے بہت پیار کرتے تھے۔ نبی کریم نے عنفوان شباب کی انتہائی حساس عمراس گھر میں گزاری،جو ابو طالب کے بیٹے علی کا بھی گھر تھا۔ آپ نو سال کی عمر میں ہی ایک مفکر مزاج شخص تھے جو

فطرت کی خوبصورتی اور تخلیق کے عجائبات پر صحرا میں مراقبہ کرتے ہوئے تنہا وقت گزارنا پسند کرتے تھے۔آپ اکثر انسانی زندگی کے معنی پر غور فرماتے تھے اور اس عظیم فطرت سے واقف تھے جسے ہر انسان کے اندررکھا گیا ہے۔ بشرط یہ کہ وہ اس اندرونی اور اصل فطرت سے واقف ہو ۔کہا جاتا ہے کہ اس چھوٹی سی عمر میں جب ایک دن آپ کے ساتھیوں نے ساتھ کھیلنے کو کہا تو آپ نے جواب دیا ، ’’انسان غیر سنجیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے کہیں زیادہ عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے‘‘۔
بارہ سال کی عمر میں، نبی کریمﷺ کو آپ کے چچا ایک تجارتی کارواں کے ساتھ شام اور بصرہ لے گئے جو عام طور پر مکہ اور ان شہروں کے مابین سفر کرتا تھا۔روایتی اسلامی ذرائع نے مسیحی راہب بحیرا کا ذکر کیا ہے جس کی ملاقات سفر کے دوران رسول اﷲ سے ہوئی تھی۔بحیرا ایک عیسائی سنیاسی تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اسے اندرونی یا باطنی علم حاصل تھا۔عام طور پر وہ خانقاہ سے گزرنے والے قافلوں کو نظر انداز کرتا تھا،لیکن اس بار اس نے پورے کارواں کو مدعو کیا اور جب صرف سردارانِ قافلہ حاضر ہوئے تو اس نے خاص طور پر قافلے کے ساتھ سفر کر رہے نوجوان کو مدعو کیا ۔جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تواس نے آپ کے کندھے سے کپڑا ہٹا کر آپ کے کاندھوں کے درمیان اس نشانی کی جانب اشارہ کیاجو روایتی تعلیمات کے مطابق مہرِ نبوت تھا۔اس نے پیشن گوئی کی کہ یہ نوجوان لڑکا ایک عظیم نبی بن کر دنیا کو روشن کرے گا۔
580 اور590 ء کی درمیانی دہائی میں ،جب نبیِ مبارک بیس برس کی عمر کو پہنچے تو آپ اپنے چچا کے ساتھ نہ صرف تجارت میں بلکہ ایسی جنگوں میں بھی شامل رہے جو قریش اور بنوہوازن کے مابین وقفے وقفے سے رونما ہوتی رہتی تھیں۔اس مدت نے آپ کو تجارت اور معاشی معاملات کے ساتھ ساتھ انسانی فطرت کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں جاننے کے بہت سارے مواقع فراہم کیے جن کا آپ نے جنگ اور امن کے حالات میں ،سکون کے ساتھ تنائو یا خطرے کے لمحوں میں بھی مشاہدہ کیا۔اس پورے عرصے کے دوران، آپ نے کردار کی پاکیزگی،دیانتداری اور اس قدر اعتماد کا مظاہرہ کیا کہ آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کو پرُ اعتماد یا الامین کہنے لگے۔آپﷺ اپنی ان خصوصیات کے لئے پورے مکی معاشرے میں مشہور ہو گئے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

Pic: Google.com

اسلام ، ماحولیات اور ہم

سید احمد مذکر تمہید آج جب ہم اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ...