بنیادی صفحہ / ایس آئی او / متوازن سوچ اور فکر میں اعتدال

متوازن سوچ اور فکر میں اعتدال

محمد عاصم خان، ماؤنٹ سینا۔ کیرلا
اسلام دین فطرت ہے، اور فطرت کا تقاضا ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کے درمیان عدل و انصاف قائم ہو اور ظلم اور تشدد کا خاتمہ ہو۔ فطرت کے اسی تقاضے کی تکمیل کے لئے خالق کائنات کی طرف سے دین اسلام پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم نعمت بنا کر بھیجا گیا: ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی‘‘۔
عدل و انصاف کا علمبردار یہ دین دینِ انسانیت ہے۔پوری انسانیت کے نام ہمدردی ،محبت ،بھائی چارے اورحسن سلوک کا ایک آفاقی پیغام ہے۔ انسانو ں کے درمیان عدم مساوات اور نابرابری کے خاتمے کی تعلیم اور دنیا میں پرامن فضا قائم کرنے کی جدوجہد ہے۔
اسلام کے نزدیک انسانوں میں فرق رنگ ونسل،ذات پات، اونچ نیچ اور مال و دولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقوی کی بنیاد پر ہے، اور تقوی یہ ہے کہ انسان کے دل میں اپنے خالق کا خوف اور اس سے بے پناہ محبت پیدا ہو جائے۔ وہ اپنے خالق کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر گزار بن جائے۔وہ بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے،اور برائیوں سے اپنے دامن کی حفاظت کرے۔ وہ غریب ،یتیم ،مسکین اور بے سہارا لوگوں کا سہارا بن جائے، مظلوم کی مدد کرنے والا، اور ظالم کا ہاتھ پکڑکر روک دینے والا بنے۔وہ عدل و انصاف کے قیام کے لئے انتھک جدوجہد کرنے لگے۔اسلام اپنے ماننے والوں (مسلمانوں ) سے یہی مطالبہ کرتا ہے، اور بحیثیت ایک مسلمان جنت کے حصول کے لئے انہی کاموں کو انجام دینا ہے۔
امت مسلمہ کو امت وسط اور خیر امت کا لقب اسی لئے دیا گیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لئے رحمت بن جائے۔ وہ دین رحمت کو عام کرنے کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردے۔ اس عظیم مقصد اور نصب العین سے غفلت برتنے کا ہی نتیجہ ہے کہ امت مسلمہ فکری انحطاط کا شکار ہوگئی ہے، اوریقیناًکسی فرد یا قوم کے فکری توازن بگڑ نے سے اس کا عملی توازن بھی متأثر ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجے میں اس کے سامنے ترجیحات کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے،پھر وہ کسی بھی کام کے وقت اور محل کے سلسلے میں لاپرواہی اور غفلت کا شکار ہوجاتا ہے، جس کا نقصان کسی فردِ واحد کو ہی نہیں بلکہ پوری اجتماعیت کو اٹھانا پڑتا ہے۔
امت کے فکری زوال ہی کا نتیجہ ہے کہ امت کی صفوں سے اتحاد ختم ہو گیا،اور اس کی اجتماعیت کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا۔اور افراد امت شجر سے ٹوٹے ہوئے اس بے وزن پتے کی مانند ہوگئے جو بالکل بے وزن ہو جا تا ہے اورہو ا کا معمولی جھونکا اسے جدھر چاہتا ہے اڑا لے جاتا ہے۔انیسویں اور بیسویں صدی میں اسلام دشمن قوموں نے فکری انحطاط سے دوچار امت کی اس کیفیت سے فائد ہ اٹھا کر عالمی پیمانے پر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی خوب سازشیں رچیں، اور بڑے پیمانے پر دین انسانیت کو تشدد اور دہشت گردی کی تعلیم دینے والا دین بنا کر پیش کیا گیا۔ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا میں اسلامی دہشت گردی کے نام سے ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔ حد یہ ہے کہ دہشت گردی کے نام پر بہت سے مسلم نوجوانوں کو اس سازش کا شکار بنایا گیا، جو آج قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں ۔ اس طرح کے واقعات اور حادثات کا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
ایسے موقعے پر مایوسی کی کیفیت میں مبتلا ہونے یا جذباتیت کے سمندر میں بہنے کے بجائے عزم کا پیکر بن کر صبر اور استقامت کے دامن سے چمٹنا وقت کی لازمی ضرورت ہے ۔سیرت رسول اس بات کی شاہد ہے کہ طائف کا سفر ہو یا حرم مکہ میں نماز کے دوران اہانت رسول یا ابو لہب اور اس کی جورو کی شرارتیں، ایسے موقعوں پر رحمت للعالمین کا رویہ کیسا رہا۔کسی دیہاتی کا مسجد میں پیشاب کر دینا یا کسی بڑھیا کا آپ پر کچرا ڈال دینا یا قتل کرنے کے لئے تلوار کو سر مبار ک تک لے آنا ۔ایسے موقعو ں پر محمد عربیؐ کا رویہ کیسا رہا ۔
مسلمانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ان کے قومی لیڈر یاان کے جذبات نہیں بلکہ محسن انسانیتؐ کی ذات مبارک ہے ۔اس لئے اسلام کا مطالبہ ہے کہ جب بھی امت کے سامنے ایسے حالات درپیش ہوں وہ اللہ کے رسول کی زندگی کو سامنے رکھے اور زندگی کے ہر کام میں اعتدال سے کام لے ۔امت وسط کے معنی ہی یہ ہیں کہ مسلمان اعتدال کی روش کو اپنائیں ۔دین کے کسی کام میں، انفرادی زندگی میں یا اجتماعی زندگی میں اعتدال پسندی کا رویہ اپنائے ۔کہیں کسی قوم کی دشمنی اور زیادتی امت کو عدل و انصاف کی راہ سے نہ دور کر دے۔قرآن مجید نے دو ٹوک انداز میں اس بات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ
’’اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ،اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔کسی گروہ کی دشمنی تم کو تنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔عدل کرو یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔‘‘
قرآن کی آیت میں امت کے لئے یہ پیغام ہے کہ خدا کی معرفت ،دلوں میں اس کے خوف اور اس سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر حال میں عدل و انصاف کے قیام کے لئے جدوجہد کرنا ہی امت مسلمہ کا بنیادی مقصد ہے۔کسی قوم یا گروہ کی دشمنی اور زیادتی کے نتیجے میں امت کو مشتعل ہونے کے بجائے حکمت اور دعوتی شعور کے ساتھ اس قوم کو اپنا فریق بنانے کے بجائے اپنا رفیق بنانے کی کوشش کی جائے،ایک اور مقام پر قرآن میں یہ بات کہی گئی ہے کہ
’’دیکھو ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تو اس پر تمہار ا غصہ تمہیں اتنا مشتعل کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلے میں نا روا زیادتیاں کرنے لگو۔‘‘
مسلمان ایک داعی ملت ہیں اور دوسری قومیں مدعو ہیں ۔اگر مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے تو پھراپنی مدعوقوم کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر میں امت پھر سے اپنے نصب العین کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
امت مسلمہ کے سامنے جہاں ایک طرف اپنے تحفظ کا مسئلہ ہے وہیں دوسری طرف اپنی دعوت کو عام کرنے کا ۔یہ کام اس وقت ہوگا جب امت میں فکری انقلاب کی موجیں اٹھیں اور فکر میں اعتدال اور توازن قائم ہو تاکہ امت کے افراد ،اس کے روشن مستقبل اور اس کے جیالوں کو جو افراط اور تفریط کا شکار ہوکر غلط راستے کا انتخاب کررہے ہیں انہیں صراط مستقیم کی روشن راہیں نظر آنے لگیں ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ایس آئی او افلو انتظامیہ کے طلبہ مخالف اقدام کی مخالفت کرتی ہے.

  اشفاق علی ایک پارٹ ٹائم طالب کا کیمپس میں داخلہ بغیر ...