بنیادی صفحہ / سخن / قلم اور تلوار

قلم اور تلوار

ابوقتادہ بلال

اس چلتے ہوئے مین روڈ میں اس کی دکان کسی سبزے میں صحرا کی مانند لگ رہی تھی۔ پورا دن گزر گیا تھا اور کسی نے کانچ کے صدر دروازے کو چھوا تک نہیں تھا۔ وہ کانچ کا دروازہ جس میں اب Pull مٹ کر lull بن چکا تھا اور Push کی صرف یادیں رہ گئی تھیں۔ صرف وہی دن کیا، ہر دن اس دکان کا یہی حال رہتا تھا۔ کسی زمانے میں عزت دار پروفیسر رہے شیخ کے اوقات ایسے گزریں گے کسی نے سوچا نہیں ہوگا۔ بچوں کے منع کرنے کے باوجود ریٹائرمنٹ کے بعد ہی اس بند دکان کو دوبارہ سامان سے سجواکر اس میں بیٹھنا شروع کر دیا۔ اسٹیشنری کی اس دکان میں گراہک صرف افتتاح والے دن ہی دکھائی دئیے تھے۔ سامان کی کمی کے علاوہ پروفیسر کا اپنا مزاج بھی لوگوں کے آنے کے لئے مانع بنتا تھا۔ جوانی میں اتنے دوست بھی نہیں بنائے تھے کہ محفل ہی جمتی، ایک دو ہی ہم عمر تھے جن سے ہنسی مذاق تک کی بے تکلفی تھی۔ آج بھی شیخ دروازے سے کچھ دور اپنے کاونٹر پہ بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے کہ دروازے کے چرچراہٹ کی آواز آئی جسے شیخ اپنی زبان میں چڑچڑاہٹ کہتے تھے۔ ایک پتلا دبلا نوجوان ان کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔
’’چچا،سنا ہے قلم میں تلوار سے زیادہ طاقت ہوتی ہے؟‘‘۔
اس نے کسی طالب علم کی طرح سوال کیا تو شیخ کے اندر کا پروفیسر جاگ اٹھا۔ ’’بالکل بیٹے، جو کام تلوار نہیں کر سکتی قلم وہ کام کر سکتا ہے، قلم کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کو پلٹا جا سکتا ہے، تلوار ڈر کا ماحول پیدا کرتی ہے جب کے قلم دلائل سے سامنے والے کو مطمئن کردیتا ہے۔‘‘
شیخ نے دھیرے دھیرے اپنی بات کہی۔ ’’مگر، ہم کو لگتا ہے چچا ایسا نہیں ہے‘‘۔
’’کیوں؟‘‘ اس طرح کی تردید بھلا ایک ‘استاد کہاں برداشت کرتا۔’’کیوں نہیں لگتا تمہیں؟‘‘
’’جس نے بھی یہ کہا ہے کہ جو کام تلوار نہیں کر سکتی وہ قلم کر سکتا ہے، اس نے تلوار سے لکھنے کی کوشش کی ہوگی اور صفحہ پھٹ گیا ہوگا۔‘‘ نوجوان سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے بولا۔
’’کیوں بدتمیزی کرتا ہے!‘‘ شیخ صاحب کا پارا چڑھ رہا تھا۔
’’اب بتائیے اگر آپ مجھے ایک بار ادھار دےکر پھنس چکے ہوں تو کیا مجھے آپ دوبارہ کوئی رقم دیں گے۔‘‘
’’تمہیں تو پہلی بار بھی پیسہ نہیں دوںگا نالائق‘‘۔
’’اگر میں کوئی عرضی پیش کروں تب بھی نہیں؟‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘
’’ اگر میں انشاء کی زبان میں لکھوں تب بھی نہیں‘‘۔
’’سنو! تم شورش کی زبان میں بھی خط لکھ کر گزارش کرو گے نا تب بھی نہیں، اب وقت برباد نہ کرو دفعہ ہوجاو‘‘۔
شیخ صاحب زور زور سے ہاتھ ۔ہلاتے ہوئے بولے۔’’اور اگر اس کی دوگنی رقم میں تلوار کی زور پر مانگوں تب؟‘‘۔
یہ کہتے ہوئے نوجوان نے ایک چاقو نکال کر شیخ صاحب کی گردن کے سامنے رکھ دیا۔
’’اے یہ ک ۔ک۔ کیا کر رہے ہو ‘‘ وہ ہمت جٹا کر بولے ’’چلو ہٹاو‘‘۔
’’چلو ہٹا لیا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے نوجوان پیچھے ہٹ گیا۔
شیخ صاحب زور زور سے چیخنے لگے ۔ ’’ارے کوئی ہے بچاو بچاو‘‘۔
بغل سے گھڑی والے حامد بھائی بھاگتے ہوئے اندر آئے۔’’ارے کیا ہوا شیخ صاحب‘‘
انہوں نے گھبراہٹ میں پوچھا ’’ارے بیٹے تم بھی آواز سن کے آئے ہو کیا‘‘ حامد بھائی نوجوان سے پوچھنے لگے۔
’’ تم اسے جا۔جا۔ جانتے ہو‘‘ شیخ صاحب نے ہکلاتی ہوئی آواز میں کہا۔
’’ارے بھانجہ ہے اپنا، چھٹیوں میں آیا ہے۔۔۔۔ اب آپ ٹھیک ہیں شیخ صاحب؟‘‘
’’جی جی‘‘۔ شیخ صاحب پانی پیتے ہوئے بولے۔
’’چلو عبید، ویسے ہوا کیا تھا؟‘‘ حامد بھائی نے چلتے ہوئے پوچھا۔
’’کچھ نہیں چچا قلم کی طاقت بتا رہے تھے‘‘۔حامد دروازے سے باہر نکلتا ہوا بولا۔
’’مردود ۔ ۔۔!‘‘ شیخ صاحب سانس درست کرتے ہوئے بڑبڑائے۔’’اب قلم کی حفاظت کے لئے چاقو رکھنا پڑے گا۔‘‘

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

حیا ہی زندگی ہے

(ان نوجوانوں کے نام جو فحاشی اور عریانیت کے دلدل سے نکلنے ...