قراردادیں

ایس آئی او آف انڈیا کی کل ہند طلبۂ مدارس کانفرنس بتاریخ ۱۱؍اپریل ۲۰۱۴ ؁ء بمقام جامعۃ الفلاح، بلریاگنج اعظم گڑھ درج ذیل قراردادیں منظور کرتی ہے:
(۱) مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک قرآن وحدیث کو بنیاد بناکر جملہ علوم کی تعلیم وتدریس اور ان کے فروغ واشاعت کی سرگرم کوششیں، نیز طلبہ مدارس اسلامیہ کی ذہنی، فکری اور سلوکی تربیت ہو۔
(۲) مدراس اسلامیہ کے بنیادی مقاصد میں دعوت دین کو باقاعدہ شامل کیا جائے، اور اس کو محوری مقام دے کر نصاب تعلیم اور نظام تربیت مرتب کیا جائے، نیز دعوت دین کے لیے عملی طور پر طلبہ کو تیار کیا جائے۔
(۳) مقاصد واہداف کا اتحاد عملی اتحاد کو مستلزم ہے، جملہ مداس اسلامیہ کے ارباب حل وعقد سے ہماری پرزور اپیل ہے کہ مدارس اسلامیہ کا ہندوستان پیمانے پر ایک وفاق جلد از جلد قائم کیا جائے اور اس کے لیے ناگزیر اقدامات کئے جائیں، ہماری بقا اور تحفظ کے لیے بھی یہ ضروری ہے۔
(۴) کانفرنس اس الزام کی شدید مذمت کرتی ہے کہ مدارس اسلامیہ ہندوستان میں فتنہ وفساد اور افتراق بین الناس کا سبب بن رہے ہیں، مدارس اسلامیہ کو اپنے سلسلے میں، ملت اسلامیہ کے سلسلے میں، اور حق وانصاف کے سلسلے میں تیار کی گئی سازشوں اور مؤامرات کو اچھی طرح سمجھ کر انہیں ناکام بنانے کے لیے ناگزیر اقدامات کرنے چاہئیں۔
(۵) مدراس اسلامیہ فی زمانہ مسلمانوں کی اجتماعیت کی فعال عملی اکائیاں ہیں، معاشرے میں عملی سطح پر تعلیم وتدریس کے علاوہ اصلاح ودعوت کے محاذ پر بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
(۶) شرعی قوانین اور جزئیات کی تعبیر، تشریح، توجیہ اور تخریج موجودہ دور کی ایک ناگزیر ضرورت ہے، حالات پر شرعی قوانین کا انطباق ہمارے معاشرے کی فوری ضرورت ہے، مدارس اسلامیہ کو ایسے شرعی ماہرین کی تیاری کے لیے ہرممکن اقدام کرنا چاہئے۔
(۷) اہداف ومقاصد کی روشنی میں ایسے جامع، شامل اور کامل نصاب تعلیم کو جلد از جلد تیار کرنا چاہئے، جو موجودہ دین ودنیا کی تفریق کو مٹانے والااور ہماری ضروریات کے لیے خودکفیل ہو۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اقلیتی ادارے میں اردو کی زبوں حالی نامنظور؛ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ ’باب صدی‘ کا نام اردو رسم الخط میں درج کرے : طلحہ منان

اس جمہوری ملک ہندوستان کے آئین کے تحت اقلیتوں کو اپنی تہذیب ...