بنیادی صفحہ / نظر / فیمنزم موومنٹ: تاریخ اور اثرات

فیمنزم موومنٹ: تاریخ اور اثرات

شمشاد حسین فلاحی

مصنف ماہنامہ ’حجاب اسلامی‘ کے ایڈیٹر ہیں۔

فیمنزم کی اصطلاح ۱۸۸۰ء کے اواخر میں سب سے پہلے ’ہبرٹائن آکلرٹ‘ نامی خاتون نے، سماج پر مردانہ غلبہ کے خاتمے کے خلاف اور خواتین کے ان حقوق و اختیارات کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کی، جن کی فراہمی کا فرانس کے انقلاب نے عورتوں سے وعدہ کیا تھا۔ یہ اصطلاح پہلی مرتبہ فرانس کے ایک جرنل(جریدے) میں، جس کانام La Citoyenneتھا، مذکورہ خاتون نے استعمال کی۔ ابتدائی دنوں میں یہ اصطلاح متنوع معانی و مفاہیم کے لیے استعمال ہوئی۔ مردوں کے تحت منظم سماج میں عورتوں کے حقوق و اختیارات کے حصول کی خواتین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے اسے ایک پر کشش نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ فرانس میں مخصوص سیاسی، سماجی اور مذہبی حالات میں اس اصطلاح نے خواتین کو حقوق دلانے کی کوششوں میں اہم رول ادا کیا۔ پھر بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں یہ اصطلاح برطانیہ میں متعارف ہوئی اور انگریزی زبان میں استعمال ہوئی۔ وہاں سے بیسویں صدی کے آغاز میں پہنچی۔ چند برس بعد ۱۹۲۰ء کے قریب فیمنزم کی اصطلاح فرنچ زبان کے ذریعہ ساتھ ہی مصر پہنچ کر عرب دنیا میں یا کہیے مسلم دنیا میں داخل ہوئی۔ عربی میں اس کا ترجمہ ’’نسائیہ‘‘ سے کیا گیا۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ فرنچ فیمنزم برطانوی فیمنزم نہ تھا اور نہ ہی برطانوی فیمنزم جوں کا توں امریکہ پہنچا۔ یہ اصطلاح اگرچہ خصوصاً فرانس میں ایجاد ہوئی مگر ہر جگہ اس نے مقامی حالات و کوائف اور سماجی و معاشرتی تانے بانے کی مطابق شکل و صورت اختیار کی ۔ چنانچہ جب یہ اصطلاح مصر میں متعارف ہوئی تو وہاں بھی اس کے مدعا کے تعیین میں سماجی، سیاسی اور مذہبی و معاشرتی حالات کا دخل تھا۔البتہ پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنیادی طور پر مغربی دنیا میں عورت کی مظلومیت کے ردِ عمل میں، یہ ایک تحریک کی شکل میں ابھری۔ پھر یوروپ میں اور پھر باقی دنیا میں پھیلتی گئی۔


فیمنزم تحریک کی فکرکا بنیادی عنصر سماج میں مردوں کے غلبہ کے خلاف جدو جہد ہے۔ یہ تحریک خواتین کے قانونی، معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کی خاطر برپا ہوئی ۔ پھر بہت سے موضوعات اس کا موضوع بحث بنے۔ مثلاً عورت کے لیے ملکیت کا حق، نوکریوں میں یکساں مواقع، جنسی تشدد سے تحفظ، سیاسی انتخاب میں ووٹ کا حق، بچے پیدا کرنے یا نہ کرنے کے اختیار، جنسی آزادی، اسقاطِ حمل کا حق، طلاق کا اختیار ، شادی کی لازمیت کا خاتمہ ، ہم جنسی کجروی کی آزادی۔


ادوار


اس تحریک کی تاریخ لکھنے والوں کے مطابق اسے تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے جسے وہ ’’ویو‘‘ یا لہر کا نام دیتے ہیں۔ اس کی پہلی ’لہر‘ کو وہ ابتدائی دور سے بیسویں صدی کے ۱۹۶۰ء تک شمار کرتے ہیں۔۱۹۱۸ء میں جب یہ نظریہ امریکہ پہنچاتو وہاں کی معروف قانون داں، سوشلسٹ لیڈر اور صحافی خاتونCrystal Eastmanنے ایک مضمون لکھا۔ اس نے لکھا کہ برتھ کنٹرول (ضبط ولادت)عورت کا بنیادی حق ہے جو اسے بہ ہرحال ملنا چاہیے تاکہ وہ جدید دنیا میں پوری طرح سے اپنی شرکت کو یقینی بناسکے۔ اس مضمون میں اس نے امریکی خواتین کو للکارا کہ اس نے کہا ہے کہ فیمنزم باشعور، حوصلہ مند، اور ذہین لوگوں کے مطالبات کا حامی ہے تو یقینا اسے خواتین کی حمایت حاصل ہوکر رہے گی۔ اس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے کے پرانے قوانین کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔ ان کے اس مضمون نے امریکی خواتین میں مقبولیت حاصل کی خصوصا برتھ کنٹرول کے موضوع پر زبردست حمایت ملی اور پھر قوانین میں تبدیلی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وہ خاتون امریکہ میں فیمنسٹ تحریک کی پائینر(روح رواں) تصور کی جاتی ہے۔ ۸؍جولائی ۱۹۲۸ء کو انتقال ہوا۔


دوسری ’لہر‘ کا دور ۱۹۶۰ء سے ۱۹۹۰ء تک کا کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اس تحریک کو نظریاتی بنیادیں بھی فراہم ہوئیں اور سیاسی، سماجی اور معاشی و معاشرتی حلقوں میں سازگار ماحول میسر آیا۔ اس مدت میں عورتوں کو یکساں معاشی مواقع ملنے شروع ہوئے اور صنفی تفریق کا قانونی طور پر خاتمہ شروع ہوگیا۔ اس دوران یہ نظریہ قائم کیاگیا کہ مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے اور انسانی پیدائش کا جو طبعی نظام عورت کے ساتھ لگا ہے وہ بھی صرف اس وجہ سے ہے کہ سماجی اور تہذیبی اعتبار سے اس کام کو کرنے کے لیے عورت کو تیار کیا گیا ہے یعنی Conditioningکی گئی ہے۔ اس کی تائید میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بعض تدابیر کو پیش کیا گیا اور کہا گیا جہاں مرد بھی عورت کی طرح معمولی جسمانی تبدیلی کے ساتھ بچے پیدا کرسکتے ہیں ۔ گویا سائنسی و تکنیکی طریقوں سے مرد کو عورت اور عورت کو مرد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔


اس تحریک کی تیسری لہر ۱۹۹۰ کے بعد کا دور ہے جو ہنوز جاری ہے۔ اس دور میں پہلے دور کی حصول یابیوں کے منفی اثرات کی تلافی کی کوشش کی گئی۔ پرانے نظریات کے ساتھ کچھ نئے خیالات بھی شامل ہوئے۔ عورت کے بچے پیدا کرنے کے اختیار جیسے مسائل پر زور دیا جا تا رہا۔ اس کے ساتھ ہم جنس پرستی اور کج روی کی آزادی شامل ہوگئی ۔جنس کی مکمل تفریق کے خاتمے کا خیال پیش کیا گیا۔ معاشی حقوق اور سماجی انصاف کے لیے لڑائی بھی ایجنڈے میں شامل ہوگئی۔


اس تحریک کو نظریاتی بنیادیں فراہم کرنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے میں کلیدی رول فرانسیسی ’’مفکر و مصنف‘‘ خاتون سائمن دی بوائر (Simone De Beavoir)نے ادا کیا۔ اس کی کتاب ’’دی سکینڈ سیکس‘‘ دوسری جنس نے تہلکہ مچادیا جو ۱۹۴۹ء میں لکھی گئی۔ مذکورہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۹۵۳ء میں انگریزی میں ترجمہ کے ساتھ سامنے آئی۔ اس کتاب میں مصنفہ نے اپنے خیال میں، ان عوامل پر بحث کی جو مردوں کے مقابلے میں باصلاحیت خواتین کی مسابقت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہی پیشہ یا کام میں عورت کو کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ اس پر گھریلو ذمہ داریاں ہیں۔ معاشرے کی جانب سے باصلاحیت خواتین کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ خواتین کی کامیابی کی صورت میں شوہر سے مخاصمت ہوتی ہے۔ عورت اپنی مرضی کے شوہر کا انتخاب نہیں کر پاتی۔ یہ سب عورت کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بوئرا نے خواتین کو یہ بات پُرزور انداز میں بتائی کہ عورت اس لیے مرد سے پیچھے رہ جاتی ہے کیوں کہ اس میں حوصلے کی کمی ہوتی ہے ، اس کا سبب وہ سماجی و معاشرتی حالات ہیں جن میں وہ پرورش پاتی ہے۔ لڑکی کو بتایا جاتا ہے کہ اسے اپنی ماں کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں اور لڑکوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے باپ کے نامکمل مشن اور ذمہ داریوں کی تکمیل کرنی ہے۔


سائمن دی بوائر کی کتاب اور دیگر سماجی، سیاسی اور معاشرتی عوامل نے مل کر ان خیالات کو ایک باقاعدہ تحریک کی شکل دی جو Le Mouvent de Liberation des Femmesکے نام سے جانی گئی۔ اس کا ترجمہ ہم دی وومنس لبریشن موومنٹ کے نام سے کرسکتے ہیں۔ اس تحریک کے بانیان میں سائمن دی بوار کے علاوہ کرسٹن روک فرٹ، کرسٹن ڈیلفی اور اینے ٹرسٹان شامل ہیں۔ پرعزم خواتین کے اس گروپ نے نظریات کو عمل میں تبدیل کرنے کی جدوجہد شروع کردی ۔ چنانچہ ایک باضابطہ فیمنسٹ موومنٹ کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج ہم مشرق و مغرب میں دیکھ رہے ہیں۔ اس تحریک کے نتیجے میں اس زمانے میں خواتین کو مردوں کے مساوی چند حقوق ملے۔ مثلاً مردوں کے مماثل یکساں تعلیم کا حق، کام کرنے کا حق اور ووٹ کا حق ۔ لیکن اس تحریک کے سامنے بڑا مسلہ یہ تھا کہ اسقاط حمل پر پابندی تھی اور موانع حمل کے ذرائع کے استعمال پر پابندی تھی۔ اس تحریک نے اس چیز کو عورت کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ انھوںنے ایک اعلامیہ جاری کیا جس کا نام ‘Le Manifests de 343’تھا۔ اس میں ۳۴۳ خواتین کے دستخط تھے۔ انھوںنے اعلان کیاکہ انھوںنے غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کرایا ہے۔ یہ اعلامیہ ۵؍اپریل ۱۹۷۱ء کو فرانس کے دو مشہور اخبارات میں شائع ہوا۔ اس اعلامیہ کی اشاعت کے نتیجے میں اس گروپ کو زبردست حمایت حاصل ہوئی اور ۱۹۷۵ء خواتین کو اسقاط حمل کرانے کی آزادی کا قانون پاس کردیا گیا۔


خواتین کی اس تحریک نے مغربی معاشرے کو تبدیل کرنے کا عمل شروع کردیا۔ اس کے نتیجے میں خواتین کی پریشانیوں (Sufferings)میں کمی آئی، طلاق کی کاروائی عورت کی جانب سے شروع کیے جانے کی قانونی اجازت ملی، اسے حق ملا کہ وہ بلا کسی وجہ (No Fault Divorce)کے بھی شوہر سے طلاق لے سکتی ہے۔ اسی طرح وہ بچہ پیدا کرنے یا استقرار حمل کے لیے بھی آزاد ہوگی۔ اب بچہ پیدا کرنا یا نہ کرنا اس کا انفرادی فیصلہ تھا ۔ اس کے لیے وہ تمام ذرائع اور وسائل کے استعمال کے لیے آزاد تھی جو اس راہ میں اس کی معاونت کریں۔ ساتھ ہی اسے جائیداد رکھنے کا حق یعنی حق ملکیت ملا، نوکریوں کے یکساں مواقع ملے اور مردوں کے قریب قریب تنخواہیں ملنے لگیں ۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز تک عورتوں کی رسائی آسان ہوگئی۔


سائمن دی بوئرا جو ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء کو پیرس میں پیدا ہوئی ۔وہ اس تحریک کی روح رواں قرار پاتی ہے۔اس نے نہ صرف نظریاتی بنیادیں فراہم کیں بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے مغرب و مشرق میں اپنے نظریات پر مبنی خواتین کے حقوق کے لیے مضبوط کار تحریک برپا کی۔ اس کے اثرات سے مغرب تو تبدیل ہوا ہی مشرق بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ ۱۴؍اپریل ۱۹۸۶ء کو جب پیرس میں اس کا انتقال ہوا تو پوری دنیا پر اس کے اثرات پھیل چکے تھے۔ اس کی سب سے تہلکہ خیز کتاب سکنڈسیکس تھی جس کا اوپر تذکرہ ہوا اس کے علاوہ بھی اس نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں درج ذیل کتابیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتابیں فیمنسٹ موومنٹ کو مضبوط تحریک بنانے میں کامیاب ہوئیں۔
(1) Ethics of Ambiguity
(2) Feminist Ethics
(3) Existencial Feminism


جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ فیمنسٹ تحریک انقلاب فرانس کے بعد ابھرنی شروع ہوئی۔ امریکہ و برطانیہ ہوتے ہوئے اس کے اثرات پوری دنیا میں نظر آنے لگے لیکن یہ تحریک ہر جگہ اپنے سماجی، معاشرتی و تہذیبی و سیاسی ماحول میں پروان چڑھی۔ دوسرا دور ایسا ہے جہاں نظریات اور اشوز (مسائل)کو مربوط کیا گیا۔ مغرب کے ترقی یافتہ ہونے کا باعث نظریاتی تیزی سے پھیلے۔ مغرب کے سامراج نے آدھی سے زیادہ دنیا کو اپنی سیاسی و تہذیبی گرفت میں لے رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے چین دنیا کا وہ خطہ رہا ہے جو بیرونی سیاسی و ثقافتی اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہا ہے لیکن وہاں بھی اس تحریک کے اثرات تھے اور آج بھی ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چائنا میں فیمنسٹ موومنٹ وہاں کی اپنی پیداوار ہے اور وہاں پر اس کی شروعات مغرب کی تحریک سے پہلے ہی ہوچکی تھی۔ اس کی جڑیں مورخین ۱۷۹۱ء میں تلاش کرتے ہیں۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں پر یہ تحریک خواتین کے بجائے مردوں کے ذریعے شروع ہوئی۔ اس سلسلہ میں انیسویں اور بیسویں صدی میں کئی چینی فیمنسٹ مصنّفین کا نام لیا جاتا ہے۔انھوں نے خواتین کو ایسے راستے اور طریقے سجھائے جو انہیں مردوں کے مقابل یکساں مواقع فراہم کرکے انہیں مردوں کے تسلط سے آزاد کراسکیں۔ان مصنّفین میں لن زونگ سو، ہی زھین اور جین زی فِن کے نام لیے جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چینی معاشرے میں آج بھی مردو عورت کے درمیان وہ کشمکش نہیں ہے جو مغربی دنیا میں ہے۔ مغرب میں خاندان کا ادارہ پوری طرح تباہی و بربادی کے دہانے پر ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صنعتی ترقی میں مرد و خواتین کے یکساں طور پر شامل ہونے کے سبب کچھ نہ کچھ نقصان چین میں بھی خاندان کے نظام کو جھیلنا پڑرہا ہے۔


مذہب پر اثرات:


فیمنسٹ تحریک جس خطے میں برپا ہوئی وہاںچرچ کا مذہبی نظام معاشرے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا۔ یہاں مذہب کی اجارہ داری تھی اور خواتین کے بنیادی انسانی حقوق تک مذہب کے نام پر غصب کیے گئے تھے۔ بعض لوگ فرانس کے انقلاب کو مذہب کے خلاف بغاوت تصور کرتے ہیں۔ وہاں کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی و معاشرتی حالات کے اعتبار سے یہ درست تجزیہ ہے۔ فیمنسٹ تحریک نے مذہبی نظریات پر کاری چوٹ لگائی اور اس مذہبی و تہذیبی نظام کو بھی متاثر کیا جو اس وقت رائج تھا۔ اس تحریک کے اثرات بنیادی طورپر مذہب مخالف تھے، اس نے عوام خصوصاً خواتین کو پاپائی نظام کی گرفت سے آزاد کرانے میں اہم رول ادا کیا اور مذہبی روایتی نظام میں تبدیلی کی ابتدا کی۔ عوام میں مذہب کی پابندیوں سے آزاد ہو کر سوچنے کا خیال پیدا ہوا۔ مذہب کے شارحین نے بھی عورت کو یکے بعد دیگرے مختلف النوع آزادیاں دینی شروع کردیں۔ اکیسویں صدی کی آمد سے کے ساتھ یوروپی دنیا میں چرچ میں خواتین کو وہ عہدے دیے جانے لگے جو پہلے صرف مردوں کے لیے خاص ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح یہودیت کے نظام میں بھی خواتین کو ربّی اور کینٹرس کے درجے دیے جانے لگے جو پہلے صرف مردوں کو دیے جاتے تھے۔ اس کی مثال ہندوستانی سماج میں بھی ملتی ہے جہاں خواتین کو بہت سارے مندروں اور عبادت گاہوں میں جانے کی اجازت نہ تھی لیکن اب وہاں خواتین بھی جاتی ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال کیرلا کے سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کی اجازت ہے جو سپریم کورٹ نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں دی ہے۔


خواتین پر مذہب کے تسلط کو رد کرتے ہوئے امریکی خاتون الیزابیتھ کیڈی اسٹانٹن نے مذہب خصوصاً عیسائیت پر تیزو تند حملے کیے۔ وہ ایک ماہر قانون دان، سوشلسٹ لیڈر اور سماج سیوک تھی۔ اسٹانٹن نے اپنی کتاب ’’دی وومنس بائبل‘‘ خواتین کی بائیبل جو ۱۸۹۵ء میں لکھی گئی، میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عیسائیت نے عورت کو قیدی بنایا ہے۔ اب اسے چاہیے کہ وہ مرد اور عورت کو یکساں قرار دے۔ انھوںنے دنیا کو یہ رائے دی کہ مذہبی کتابوں اور مذہب کی تعلیمات کو عورت کے نقطۂ نظرکے مطابق پڑھا جانا چاہیے اورعورت سے ہمدردانہ حامی جذبات کے ساتھ نئے انداز سے انھیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس تحریک کی وہ پہلی مفکر آئیڈیالاگ ہے۔اس نے کہا کہ مذہبی روایات، اعمال اور تعلیمات کو جب تک خواتین کے نقطۂ نظر سے نہیں پڑھا جاتا اس وقت تک عورت مذہب کی رسیوں سے نہیں نکل سکتی۔ الیزابیتھ کیڈی اسٹانٹن کا ۱۹۰۲ء میں نیویارک میں انتقال ہوا۔ انھوں نے اس تحریک کے لیے بڑا نظریاتی لٹریچر چھوڑا ہے جس میں درجنوں کتابیں شامل ہیں۔


اسلامک فیمنزم:


۱۹۹۰ء کی دہائی میں مسلم دنیا میں بھی اسلامک فیمنزم کی اصطلاح استعمال ہونی شروع ہوگئی۔ سب سے پہلے یہ ترکی میں استعمال ہوئی اس کے بعد ایران اور پھر سعودی عرب میں ۱۹۹۶ء میں اس وقت سامنے آئی جب سعودی خاتون ماعی یمانی نے اپنی کتاب Feminism and Islamشائع کی۔ جنوبی افریقہ کی مشہور خاتون شمیمہ شیخ نے بھی اس اصطلاح کا استعمال اپنی تقریروں اور تحریروں میں کرنا شروع کردیا اور اب تو لوگ اس لفظ کو استعمال کرتے وقت غوروفکر بھی نہیں کرتے اور عورت کے سلسلے میں اسلام کے نظریے کو مغربی فیمنزم کے بالمقابل پیش کرنے کے لیے اس اصطلاح کا استعمال بے دریغ استعمال کر ڈالتے ہیں۔


جن لوگوں نے اسلام کے نظریے کی تفہیم کے لیے اس اصطلاح کو وضع کیا اور اس کے استعمال کو رائج کیا ان کے بارے میں یہ کہنے کی تو ہم جرأت نہیں کرسکتے کہ وہ عورت کے بارے میں اور اس سلسلہ کی قرآن و حدیث کی تعلیمات سے ناواقف رہے ہوںگے مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ انھوںنے رائج الوقت فیمنسٹ موومنٹ کے سامنے اسلام کا نظریہ پیش کرنے کے لیے انہی کی اصطلاح کو آلہ کے طور پر استعمال کیا۔ یہ ان کی نیک نیتی بھی ہوسکتی ہے اور سادہ لوحی بھی مگر اتنا تو واضح ہے کہ جن مسائل اور حقوق و اختیارات کے تناظر میں فرانس، برطانیہ، امریکہ اور پورے مغرب میں یہ تحریک شروع ہوئی وہ تمام کے تمام مسائل اسلام اس تحریک سے بارہ صدیاں قبل ہی حل کر چکا تھا۔


فیمنزم کی اس بحث میں اس بات کا موقع نہیں کہ اسلام کے ان حقوق و اختیارات کی وضاحت کی جائے جو اس نے عورت کو دیے ہیں۔ جبکہ مغرب کی عورت دو صدیوں پر محیط طویل جدوجہد کے بعد ان کے حصول میں کامیاب ہوئی اور وہ بھی ناقص صورت میں۔ مغرب میں اس تحریک کے نتیجے میں مرد و عورت جو ایک دوسرے کا تکملہ یا کمپلیمنٹ ہیں وہ ایک دوسرے کی ضد اور مدِمقابل بن گئے اور اس کے نتیجے میں سماج اور معاشرہ انتشار کا شکار ہے، اسلام کا معاشرہ اس سے یکسر محفوظ رہا۔ اسلام نے مرد وعورت کے حقوق و اختیارات کو مردوعورت کے درمیان کشمکش اور جنگ کا سبب بنائے بنا انہیں اولیاء بعضہم ببعض بناکر ایک مثالی معاشرہ بنادیا۔ یہاں عورت گھر کی تنظیم و ترتیب میں مثالی نظر آتی ہے تو میدان جنگ میں اپنا رول بھی نبھاتی نظر آتی ہے۔ وہ معاشی جدوجہد میں بھی شریک ہے اور تعلیم اور سماجی خدمت کے میدان میں بھی اس کا گراں قدر رول ہے۔


اب ہمارے لیے دو باتیں توجہ طلب ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسلام کے عورت کو عطاء کردہ حقوق اور اختیارات کو ہمارے معاشرے میں بھی عملاًچلتا پھرتا نظر آنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام کی تعلیمات کو جو عورت سے متعلق دی گئی ہیں انہیں موجودہ تحریک سے مرعوب و متاثر ہوئے بنا لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ جان سکیں گے کہ موجودہ دور کی عورت نے طویل جدوجہد کے بعد جو کچھ پایا ہے وہ بہت معمولی ہے، لیکن اس نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ اسلام نے اسے بلا کوئی قیمت وصول کیے حقوق سے نوازا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مودی حکومت: ’اچھے دن‘ دوبارہ کبھی نہ آئیں!

عبد الباری مسعود ’’ تعلیم ایسی ہو کہ جو ذہن کو توہم ...