بنیادی صفحہ / فکر / فکر اسلامی: کچھ تعارفی باتیں

فکر اسلامی: کچھ تعارفی باتیں


ذوالقرنین حیدر سبحانی


فکر اسلامی کیا ہے اور یہ کیسے وجود میں آتی ہے؟ کیا فکر اسلامی ایک متعین اور فکسڈ چیز کا نام ہے یا اس میں تغیر کا امکان رہتا ہے اور اگر یہ امکان رہتا ہے تو کس حد تک؟ یہ اور ان جیسے کچھ بنیادی سوالوں کے مختصر جواب دینے کی اس مضمون میں کوشش کی جائے گی۔
فکر اسلامی کو سمجھنے کے لئے بہتر ہوگا کہ ہم یہ سمجھیں کہ فکر کیا ہے اور اس کی تشکیل کیسے ہوتی ہے۔
فکر دراصل انسانی غور و فکر کے نتیجے کا نام ہے۔ انسان جب بھی غور و فکر کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچتا ہے تو وہ اس کی فکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ فکر کی تشکیل میں دو چیزیں بنیادی ہوتی ہیں جو اس فکر یا نتیجہ فکر کی شناخت فراہم کرتی ہیں۔ ایک وہ موضوع جس پر غور و فکر کرکے انسان کسی نتیجہ تک پہنچا ہو اور دوسری وہ بنیاد اور وہ مرجع جس پر غور و فکر کی پوری عمارت قائم کی گئی ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے سیاست سے متعلق غور و فکر کر کے اپنا کوئی نتیجہ اور خلاصہ پیش کیا ہو تو اسے اس شخص کی سیاسی فکر کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے معاشی مسائل سے متعلق غور و فکر کے نتیجے میں کوئی فکر پیش کی تو اسے معاشی فکر کے زمرے میں رکھا جائے گا۔ اسی طرح ثقافتی فکر، تربیتی فکر، تہذیبی فکر اور مذہبی فکر وغیرہ کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔ اور اس غور و فکر کے لئے اس نے جن مصادر کا استعمال کیا ہو وہ اس کی نسبت کے طور پر استعمال ہوگی۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے یونانی مصادر معرفت پر پورا انحصار کیا ہو تو اسے یونانی سیاسی فکر کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یا اسی طرح اگر کسی نے جدیدیت کے فریم ورک میں غور و فکر کا پورا عمل انجام دیا ہو تو اسے جدید سیاسی فکر کے زمرے میں رکھا جائے گا۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ فکر دراصل ایک انسانی عمل ہے جو اس کی عقل کے استعمال اور اس کے غور و فکر کے نتیجے میں سامنے آتا ہے۔ لیکن یہ غور و فکر دو حوالوں سے ایک قسم کی حد بندی میں ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ غور و فکر کسی نا کسی موضوع یا مسئلے سے متعلق ہوگا یا دوسرے لفظوں میں وہ مخصوص حالات اور مخصوص تناظر میں کیا جائے گا یا یوں بھی کہیں کہ غور و فکر میں انسان کے حالات اور مسائل کا کردار بہت اہم اور ضروری ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر انسان غور و فکر کرنے کے لئے کوئی نا کوئی فریم ورک اور مصدر معرفت کا استعمال ضرور کرے گا۔
فکر کی تعریف اور اجزائے ترکیبی سمجھنے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ اسلامی فکر کیا ہے؟ اسلامی فکر کو دو پہلوؤں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مشہور اسلامی مفکر فتحی حسن ملکاوی کے لفظوں میں: “اسلام اللہ کا بھیجا ہوا واحد وہ دین ہے جو اللہ کے یہاں قابل قبول ہے اور تمام رسول اسی دین کو لے کر اپنی اپنی قوم میں آتے رہے۔ البتہ مسلمان اسلام کے احکام پر اپنے کم یا زیادہ علم کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ علم دراصل اللہ کے بھیجے ہوئے کلام کے تعلق سے ان کا بشری فہم ہوتا ہے یا ان علماء کا فہم ہوتا ہے جن کے ذریعے ان تک دین کا یہ علم پہنچا ہے۔ یہ فہم نصوص پر غور و فکر کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ایک فہم ہوتا ہے اور اس میں صحیح اور غلط کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ دین اس معنی میں کہ اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے اور تدین اس معنی میں کہ اس دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی انسانی کوشش ہے، دونوں کے فرق کو ملحوظ رکھنا بہت اہم ہے”۔ گویا اسلام کو سمجھنے کے لئے جو بھی کوشش ہوگی وہ اسلامی فکر کے زمرے ہی میں رکھی جائے گی ۔ یہ اسلامی فکر کا ایک پہلو ہوا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی بھی مخصوص تناظر میں کسی مخصوص موضوع پر غور و فکر کرتے ہوئے اگر کسی نے اپنے فریم ورک اور مصادر معرفت کے طور پر اسلامی مصادر یعنی قرآن و سنت کا انتخاب کیا ہے تو اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی فکر کو بھی اسلامی فکر کے زمرے میں رکھا جائے گا۔
اسلامی فکر کی تشکیل کیسے ہوتی ہے؟ اسلامی فکر کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ اسلامی فکر کو کسی بھی پہلو سے دیکھیں تو اس میں تین اہم اجزاء ہیں جو اسلامی فکر کی تشکیل کو ممکن بناتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک اسلامی مفکر اسلامی فکر کی تشکیل اور پیشکش کے حوالے سے تین محاذوں پر غور و فکر اور اجتہاد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک طرف اس کو سیاق اور حالات کو مکمل طور سے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ دوسری طرف اس کو نصوص کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی ضروری ہے کہ نصوص کے سمجھنے میں اختلاف کا ہونا طبیعی بھی ہے اور یقینی بھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن وسنت کا اکثر حصہ اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے ظنی ہے یعنی اس میں متعدد مفہوم اخذ کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے اور کبھی یہ متعدد مفہوم آپس میں ایک دوسرے سے تکامل کی نسبت رکھ سکتے ہیں اور کبھی باقاعدہ تضاد یا اختلاف حقیقی کے بھی امکانات ہوتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ہونے والے اختلافات جن کے باعث ہر شعبے میں متعدد مسالک اور مدارس منظر عام پر آئے اسی کا نتیجہ ہیں۔ اور ان اختلافات کی ایک اہم وجہ یہ بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ نصوص کو سمجھنے کے لئے مختلف فریم ورک اور منہج استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک منہج یہ تھا جس میں روایات کو بقیہ تمام دلائل پر یک گونہ فوقیت دی گئی تھی۔ ایک فریم ورک وہ تھا جس میں نصوص کو سمجھنے کے لئے مقاصد کواصل بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا یا اسی طرح ایک منہج یہ رہا جس میں نصوص بالخصوص قرآنی نصوص کو سمجھنے کے لئے نظم قرآن کو بنیاد بنایا گیا اور ان تمام مناہج کا نصوص کے فہم میں براہ راست اثر پڑا۔ خلاصہ یہ کہ نصوص کو سمجھنا بھی ایک محنت طلب کام ہوتا ہے جو ایک مجتہد اور مفکر کے لئے کرنا لازمی ہوتا ہے۔ تیسرا اہم حصہ کسی بھی مخصوص تناظر میں کسی بھی مخصوص نص یا اسلامی تعلیم کو تطبیق دینے اور نافذ کرنے سے متعلق ہے۔ مشہور اسلامی مفکر سلمان عودہ اس پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “فقہ التنزیل “یعنی احکام کو نافذ کرنے کی سمجھ اپنے آپ میں ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل چیز ہے اور ایسا ممکن ہے کہ کوئی نص اپنے معنی میں بالکل واضح ہو لیکن فقہ التنزیل کے ذریعے یہ واضح ہو کہ یہ حکم ابھی عمل میں لانا مناسب ہے کہ نہیں۔
اسلامی فکر سے متعلق اس گفتگو کے بعد یہ سمجھنا آسان ہے کہ اسلامی فکر دراصل ایک انسانی کوشش کا نتیجہ ہے جن میں اسلام کو مرجع کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ البتہ اس سے یہ مطلب نکالنا غلط ہوگا کہ اسلام اور اسلامی تعلیمات مکمل طور سے انسانی کوشش کا نتیجہ ہیں چنانچہ اس میں غلط اور صحیح دونوں کا امکان ہے۔ بلکہ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کی حیثیت بنیاد کی ہے اور اس پر مسلم علماء اور مفکرین کا اتفاق ہے یا وہ مسلمانوں کے درمیان مسلمات اور قطعیات سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ساتھ ایک بڑا حصہ ان چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے جو انسانی فہم اور انسانی تفکیر پر منحصر ہوتا ہے چنانچہ اس میں اختلاف کی بھی پوری گنجائش ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس میں ارتقاء اور تبدیلی کے بھی پورے امکانات ہوتے ہیں۔ اسلامی تاریخ اور اسلامی لٹریچر کی تاریخ کے سرسری مطالعے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کا بڑا حصہ ان چیزوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق انسانی کوششوں سے ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے جیسا کہ اوپر ہوئی گفتگو سے بھی واضح ہے کہ اسلامی فکر کے تین اجزاء میں سے تینوں اجزاء میں اختلافات کی پوری گنجائش موجود ہے اور یہ اختلافات ایک وقت میں مختلف غور و فکر کرنے والوں کے درمیان بھی سامنے آسکتے ہیں اور وقت کی تبدیلی کے ساتھ حالات کو سمجھنے اور نصوص کو سمجھنے میں بھی اختلافات سامنے آسکتے ہیں گویا یہ اختلافات افقی بھی ہوسکتے ہیں اور عمودی بھی۔
ایسے میں یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ اس لچک کے غلط استعمال کے بھی امکانات موجود ہوتے ہیں اور غیر ارادی طور پر بھی غلط افکار کے پنپنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل صرف اور صرف مکالموں، گفتگو اور بحث و مباحثہ کے صحت مند ماحول میں پوشیدہ ہے۔ خوبصورت ماحول میں آزاد گفتگو کے نتیجے میں افکار کے درمیان موازنہ اور بالآخر بہتر افکار تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

کرونا وائرس : مُلا کی نظر نورِ فراست سے ہے خالی

محمد عارف الدین الیاس / عمیر صدیقی کسی بھی  مضمون کی شروعات ...