بنیادی صفحہ / نظر / فسادات کے علاوہ بھی فرقہ واریت کے کئی روپ: انل چمڑیا

فسادات کے علاوہ بھی فرقہ واریت کے کئی روپ: انل چمڑیا

انل چمڑیا دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر، اور معروف صحافی وسماجی کارکن ہیں۔ موصوف میڈیا اسٹڈی گروپ کے ڈائرکٹر ہیں، آپ نے ملکی میڈیا پر کافی اہم اور تحقیقی کام کیا ہے۔ گزشتہ دنوں شارق انصر سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا، اور طیب احمد ، معاون مدیر ہندی ماہنامہ چھاترومرش نے موصوف سے ایک ملاقات کی، جس میں ملک کے اندر بڑھتے فرقہ واریت کے رجحانات سے متعلق چند اہم امور زیر بحث آئے، افادہ عام کے لیے اس کے اھم نکات شامل اشاعت کئے جارہے ہیں۔ (ادارہ)
n فرقہ واریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ملک کی اکثریتی واقلیتی آبادی کے تناظر میں آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ھیں؟
ہندوستان میں دو طرح کی آبادیاں ہیں، ایک اقلیتی آبادی اور دوسری اکثریتی آبادی۔ اکثریتی آبادی میں ہندو طبقہ آتا ہے، جن کی آبادی تقریبا اسی فیصد ہے، جبکہ اقلیتوں میں مسلم، سکھ، عیسائی، بودھ، پارسی، اور جین طبقے کے لوگ آتے ہیں، اور ان میں بھی مسلم ملک کی آبادی کا لگ بھگ پندرہ فیصد ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں اگر فرقہ واریت کو سمجھا جائے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک کے اکثریتی طبقے کے مخصوص افرادکا مقصد ہے کہ اس کو (ہندوستان) ہندوراشٹر بنانا ہے۔ اس کے لیے وہ لوگوں کے اندر ہندتو کے جذبات کو مشتعل کرکے، ان کو اپنے فکری دائرے میں لانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اقلیتوں کے خلاف مختلف طرح کے پروپیگنڈے پھیلاتے ہیں، اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ان پر حملے کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ حملے کرتے ہیں، فسادات کراتے ہیں، تبھی ہم ان کی اس حرکت کو فرقہ واریت کا نام دیتے ہیں، جبکہ وہ پروپیگنڈہ کے لیے کتنے ہی دوسرے گندے طریقوں کا استعمال کیوں نہ کریں، کسی کی نظر میں وہ فرقہ واریت نہیں ہوتی۔ لڑنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، ایک جسمانی اور دوسرا ثقافتی۔ فسادات وغیرہ تو بعد کی چیزیں ہیں، اولا تو یہ ثقافتی روپ سے ہی لڑتے ہیں، لوگوں کو ورغلاتے ہیں، اور ان کے ذہن ودماغ میں زہر گھولتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں کئی یونیورسٹیوں وکالجز میں گیا، میں نے وہاں کے طلبہ وطالبات سے پوچھا کہ علامہ ڈاکٹر اقبال کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ ان کا جواب تھا کہ انہوں نے ایک ترانہ لکھا تھا، ’سارے جہاں سے اچھا۔۔۔‘، میں نے ان سے دوسرا سوال کیا کہ ان کے بارے میں اور کیا جانتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد وہ پاکستان چلے گئے تھے۔ میں حیران تھا کہ کس طرح اقلیتوں کے خلاف ذہنوں کو تبدیل کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں۔ وہ اقبال جو پاکستان بننے سے ایک دہائی پہلے ہی یہ دنیا چھوڑچکا ہے، وہ بھلا پاکستان کا باشندہ کیسے بن سکتا ہے!!فسادات کے علاوہ فرقہ واریت کے دیگر چہرے بھی بہت خطرناک ہیں۔
n ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت کس طرح گھر کر رہی ہے؟
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فرقہ واریت کو مختلف پہلوؤں سے پھیلایا جارہا ہے، اقلیتوں کے خلاف ورغلانے، ان کے خلاف بھڑکاکر، اور ان کے جذبات کو مشتعل کرکے نفرت پھیلا نے کا کام ہر سطح سے کیا جارہا ہے، اور یہ آج سے نہیں، بلکہ دہائیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ کبھی اندرا گاندھی کو درگا کے بھیس میں دکھا کر کہ وہ پاکستان اور مسلمانوں کو اپنی طاقت کے آگے مسمار کرسکتی تھیں، یا پھر نریندر مودی کو ہندوستان کے مستقبل کے طور پر دکھا کرمعاشرتی سطح پر ان کو مشتعل کرنے کا کام مستقل جاری ہے۔ یہ لوگوں کی اشتعال انگیزی کو اپنی اسٹریٹجی کے مطابق نافذ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں فسادات رونما ہوتے ہیں، اور جب فسادات ہوتے ہیں، تبھی ہم اس کو فرقہ واریت کہتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں فرقہ واریت کے خاتمے کو لے کر چوکنا رہنا پڑے گا۔ اور ہمیں اس کو روکنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
n ترقی کا نعرہ دے کر فرقہ وارانہ طاقتیں کس طرح لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں اور نوجوان بھی ان کی اس اسٹریٹجی سے متأثر ہوتے ہیں؟کیا یہ فرق وارانہ طاقتیں واقعی ترقی کے نام پر سیاست کررہی ہیں؟
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں یہ فرقہ وارانہ طاقتیں سیدھے طور پر تو معاشرے کو تقسیم کرنے والے وسائل کا استعمال نہیں کرسکتیں، البتہ اپنی اسٹریٹجی، اور اپنے ایجنڈے کو مختلف طریقوں سے منوا سکتی ہیں۔ انہی طریقوں میں ایک طریقہ ہے راشٹرواد (قومیت) کا۔ قومیت کا خواب دکھا کر یہ طاقتیں حقیقت میں اس قومیت میں بہت باریکی سے فرقہ پرست راشٹر کو بھی شامل کرلیتی ہیں، ٹھیک اسی طرح کا معاملہ ہے ترقی کا۔ ترقی کے دل کو لبھانے والے وعدے کیے جاتے ہیں، اور خواب دکھائے جاتے ہیں، لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ ترقی پورے ملک کی ترقی ہے، تب یہ پھنس جاتے ہیں، کیونکہ ان کو تو ایک خاص طبقے کی ہی فلاح سوجھتی ہے۔ یہ پورے ملک کے باشندوں کی ترقی کے بارے میں کہاں سوچیں گے۔ اور پھر چھتیس گڑھ کی تو ترقی ہوسکتی ہے، لیکن چھتیس گڑھ کے باسیوں کی نہیں۔ گجرات کی ترقی تو ہوسکتی ہے لیکن گجراتیوں کی نہیں۔ کیونکہ سب سے کم تر مزدوری، سب سے زیادہ بیماریوں کے شکار بچے، سب سے زیادہ غیرمحفوظ باشندے(اقلیتوں، نکسلیوں اور آدی واسیوں کے لیے) جیسے اعدادوشمار تو یہ پیش کرتے نہیں۔ اس لیے لوگ اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ پارٹی جو کہہ رہی ہے وہی صحیح ہے، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوتا ہے کہ حقیقت تو کچھ اور ہی تھی۔ یہ تمام لوگوں کی ترقی کی بات نہیں کرتے۔ ان کی یہ ترقی کے نام پر سیاست محض ڈھکوسلے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
n سماج میں اس کے اثرات کو روکنے کے لیے کام کرنے والے لوگوں، اور سوشل ورکرس کو کس طرح کے چیلنجز اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
دیکھئے، سیدھی سی بات ہے کہ جب آپ کسی کے مقصد کی راہ میں روڑا بنیں گے تو وہ آپ پر پلٹ کر حملہ ضرور کرے گا، ٹھیک اسی طرح جب خدمت خلق یا سوشل ورک کرنے والوں، یا دیگر لوگوں کی جانب سے فرقہ واریت مخالف مہم چلائی جاتی ہے تو یہی قومیت کا نعرہ لگانے والے لوگ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کو دھمکیاں دیتے ہیں، اور ان کو زدوکوب کرتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ اس راہ میں مشکلیں بہت آتی ہیں، لیکن ثابت قدمی سے کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے، یہ بھی سچ ہے کہ فرقہ واریت کا جواب فرقہ واریت سے نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے لیے، بلکہ اس کے خلاف ہمیں امن واستقلال کے ساتھ لڑنا ہوگا۔
n تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ ونوجوانوں کے ذہنوں کو فرقہ وارانہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، اس چیلنج کا کیسے سامنا کیا جاسکتا ہے؟
تعلیمی اداروں میں ذہن تبدیل کرنے کا کام نہیں چل رہا ہے، کیونکہ اس میں اب اس طرح کا ماحول بھی نہیں ہے، ذہن بنانے کا کام تعلیمی اداروں سے ایک سازش کے تحت الگ کردیا گیا ہے، اس کام کو معاشرتی سطح پر ہی انجام دیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر مجھے بچپن میں ایک کہانی سنائی جاتی تھی جو کہ ایک مکڑی اور گرگٹ پر مبنی ہوتی تھی، ا س میں مکڑی مسلمان اور گرگٹ ہندو ہوتا تھا، اس کہانی کو سننے کے بعد جہاں بھی مکڑی دکھائی دیتی تھی، اس کو مارتے تھے۔ اصل میں وہ مکڑی کو مارنا نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کو مارنے کا ریہرسل تھا۔ جس کے لیے بچپن سے ہی ذہن سازی کی جاتی تھی۔ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے سماج میں اس طرح کی دیگر غلط مثالوں کو ، جو پھیلائی گئی ہیں، ان کی لسٹ بنائی جائے اور پھر ان غلط فہمیوں کی حقیقت کیا ہے، اور ان کے ازالے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے، اس پر ہمیں کام کرنا چاہئے۔
n موجودہ سیاسی منظرنامہ بالخصوص دہلی سمیت پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کو آئندہ کے پارلیمانی انتخاب کا سیمی فائنل مانا جارہا تھا، کیا واقعی ان نتائج میں فرقہ وارانہ طاقتوں کو عوامی سپورٹ ملا ہے؟
دراصل اس میں سیمی فائنل جیسا کچھ ہوتا نہیں ہے، اور یہ صرف میڈیا کے ذریعہ ہی بنایا جاتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ جن ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں، ان میں تیسری کوئی سیاسی جماعت لڑائی میں نہیں تھی۔ اور یہ آج سے نہیں بلکہ ۱۹۵۲ ؁ء کے انتخابات سے چلا آرہا ہے، بی جے پی یا کانگریس۔ جہاں عوام کو تیسرا متبادل نظر آیا، وہاں عوام نے بی جے پی کو نہیں چنا، دہلی کے انتخابی نتائج اس کا ثبوت ہیں۔ صحیح معنوں میں اس کا پیغام کیا ہے؟ کیا بی جے پی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے؟ کیا بی جے پی کو ووٹ زیادہ ملے ہیں؟ نہیں، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر گزشتہ انتخابات سے موازنہ کیا جائے تو ان انتخابات میں ووٹ کا تناسب بڑھتا تو بات سمجھ میں آتی کہ مودی فیکٹر کامیاب ہورہا ہے، عوام میں آپ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، یا آپ کی اپیل کامیاب ہوئی ہے۔ میزورم میں تو دوتہائی اکثریت سے کانگریس پھر برسراقتدار آئی ہے، لیکن میزورم کو آپ گنتی میں نہیں لائیں گے۔ البتہ، یہ تو ہے کہ کانگریس کی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے پریشان کن ہوگئی تھیں، مہنگائی آسمان چھورہی تھی، اور ان سب اشوز سے کانگریس کی اَن دیکھی وغیرہ فیکٹرس کام کررہے تھے، جس کی وجہ سے پارٹی کو دھول چاٹنی پڑی، لیکن عوام کے سامنے بھی ان کے متبادل کے طور پر بی جے پی کے علاوہ کوئی نہیں تھا، لہذا عوام نے کانگریس کی پالیسیوں سے تنگ آکر بی جے پی کو چنا ہے۔ اس میں مودی لہر کا کوئی اثر نہیں ہے، اور نہ مستقبل میں ایسی کوئی امید نظر آتی ہے۔ ایک اہم بات جو ان انتخابات میں دیکھنے کو ملی ہے کہ پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کے ووٹوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں بالخصوص دلتوں کو فرقہ واریت کے رنگ میں بہت تیزی سے رنگا جارہا ہے، اس کے لیے آپ پچھلے فرقہ وارانہ فسادات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ دلت اور پسماندہ طبقات کو کس طرح فرقہ وارانہ طاقتوں کے ذریعہ استعمال کیا جارہا ہے۔ اور یوپی انتخاب ہارنے کے بعد مایاوتی کے بیان کو بھی سامنے رکھ سکتے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی حمایت نہ ملنا ہار کا سب سے بڑا سبب ہے۔
n ان انتخابی نتائج کے بعد سال ۲۰۱۴ ؁ء کے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے فرقہ وارانہ طاقتیں اب پہلے سے زیادہ متحرک ہوں گی، آگے کس طرح کی تبدیلیاں ہونے کے امکانات ہیں؟
میں نے جو اشارہ کیا ہے کہ پسماندہ، دلت، اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کی جارہی ہے، اور نریندر مودی کو جس روپ میں پیش کیا جارہا ہے، کہ وہ پچھڑوں کے نیتا ہیں وغیرہ، ان چیزوں کو ضرور سامنے رکھنا ہوگا۔ حقیقت میں یہ پسماندہ طبقے کی قیادت نہیں ہے، بلکہ وہ برہمن واد کو ہی فروغ دینے کے لیے میدان میں لایا گیا ہے، اور مجھے نہیں لگتا کہ ان انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی کی حمایتی جماعتوں میں پارلیمانی انتخابات میں اضافہ ہوجائے گا، ایسی امیدیں نہ کے برابر ہیں، کیونکہ سبھی سیاسی جماعتیں حقیقت کو دیکھ رہی ہیں، شرد پوار، ونتیش کمار کے بیانات اس کی مثال ہیں۔ ۲۰۱۴ ؁ء میں بھی اسی طرح کی کامیابی بی جے پی دہرائے گی ، یہ ناممکن ہے۔ اس کے پیچھے کچھ اسباب ہیں: ایک یہ کہ پارلیمانی انتخابات میں اشوز الگ ہوتے ہیں، سیاسی منظرنامہ مختلف ہوتا ہے۔ دوسرے ان انتخابات میں عوام کے سامنے کئی متبادل موجود ہوں گے۔ تیسرے ہندوستان کے بیشتر پارلیمانی حلقوں پر تو بی جے پی کا وجود ہی نہیں ہے۔ بہرحال، مجھے نہیں لگتا کہ بی جے پی ۲۰۱۴ ؁ء میں برسراقتدار آسکے گی۔
n پہلے سے ایک رائے بنائے ہوئے میڈیا بالخصوص کارپوریٹ میڈیا میں بھی فرقہ وارانہ طاقتیں حاوی ہیں، کیا وہاں بھی ذات پات کا فیکٹر کام کررہا ہے؟
میڈیا میں ذات پات کا غلبہ ہے، اور یہ آج سے نہیں بلکہ جب سے اس ملک میں پریس کی بنیاد ڈالی گئی، تب سے ایسا ہی ہے۔ اس کو توڑنے کی ضرورت بھی کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ اب یہ آواز پہلی بار اٹھائی جارہی ہے، کتنے سالوں کے بعد! اب جاکر میڈیا کے جانبدارانہ کردار پر سوال کھڑے کیے جارہے ہیں۔ جب ہندوستان میں انگریزوں کا تسلط تھا، تب بھی میڈیا کا یہی سلوک تھا۔ اونچی ذاتوں کے حق میں میڈیا ہمیشہ غلامانہ کردار ادا کرتا آیا ہے۔ اس زمانے سے لے کر اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کوئی فرق نہیں آیا ہے، مسلموں کے بارے میں یا آدی واسیوں اور پچھڑوں کے بارے میں۔ گویا ۱۸۵۷ ؁ء کے بعد کی وہی پالیسی آج بھی قائم ہے۔ میں نے ۲۰۰۶ ؁ء میں ایک اسٹڈی کی تھی ، جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہندوستانی میڈیا اونچی ذاتوں کے حق میں ہی کام کرتا ہے،اور میڈیا میں کام کرنے والے لوگوں میں ۸۵؍ فیصد لوگ برہمن طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
n آئی آئی ایم سی، اے جے کے ماس کمیونی کیشن جیسے ملک کے اہم میڈیا اداروں کو ایسا کیا کرنا چاہئے کہ جس سے یہاں سے نکلنے والے طلبہ کا رجحان سماج کی خدمت کی جانب بھی ہو، اور وہ سماج کے تئیں اپنی ذمہ داری بھی محسوس کریں؟
دراصل ہمارے یہاں جوصحافی تیار کیے جاتے ہیں، وہ سماج یا ملک کے لیے تیار ہی نہیں کیے جاتے ہیں، بلکہ وہ تو حکومت وکارپوریٹ گھرانوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جمہویت کو آپ نے اس سے جوڑا ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ طلبہ کو جمہوریت کے لیے نہیں، بلکہ حکومت اور سرمایہ داروں کے لیے تیار کرتے ہیں۔ اس جانب بھی ہم لوگوں کو ہی پہل کرنی ہوگی، کیونکہ سرمایہ داروں کے ہاتھ میں کھیلتی حکومت تو یہ کبھی نہیں چاہے گی۔
n اس پورے منظرنامہ کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ ونوجوانوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
نوجوان کا مطلب ایک خاص عمر سے ہے۔ اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ نوجوان سماج کا ہی ایک حصہ ہیں، اور تیسرے یہ کہ اس میں ہندو بھی ہیں، اور مسلم ودیگر مذاہب کے نوجوان بھی شامل ہیں، کسان اور مزدور کا بیٹا بھی ہے اور سرمایہ داروں کا بھی۔ میڈیم کلاس کے نوجوان بھی ہیں اور غریب نوجوان بھی۔ ہندوستانی سماج میں رنگارنگی پائی جاتی ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک صحت مند سماج کی تعمیر نو میں ان نوجوانوں کو اپنا کردار بہت مضبوطی سے ادا کرنا ہوگا۔ ان کو کسی بھی طرح کی خرافاتی ذہنیت سے محفوظ ہوکر حقیقت کو انگیز کرنا ہوگا۔ ان کو فرقہ وارانہ طاقتوں کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہئے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

محمد ﷺ مرد ربانی

قسط: 03 مصنف: سید حسین نصرمترجم: اسامہ حمید نزولِ وحی کی ابتدا ...