بنیادی صفحہ / متفرق / غضِ بصرکے دس فائدے

غضِ بصرکے دس فائدے

فائدہ اول:۔یہ اللہ کا حکم ہے اور جو بھی انسان فلاح پاتا ہے وہ اللہ کا حکم مان کر ہی فلاح پاتا ہے،وہ حکم الہی مان کرہی فلاح پاتا ہے اور جو ناکام ہوتا ہے،وہ حکم نہ ماننے کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے۔
فائد ہ دوم:۔نامحرم پرکی جانے والی نظر جو زہر آلود تیر تمھارے دل تک پہنچا کرتمھارا دل ہلاک کرتی ہے،آنکھ کی حفاظت سے وہ تیر تمھارے دل تک نہیں پہنچے گا۔
فائدہ سوم:۔نظرکی حفاظت سے دل میں پوری توجہ سے اللہ کی محبت پیدا ہوتی ہے ورنہ جن لوگوں کی نگاہ آزاد اور آوارہ رہتی ہے ان کا دل منتشر رہتاہے،آزاد نگاہی بندے اور اللہ کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔
فائدہ چہارم:۔آنکھ کی حفاظت سے دل مضبوط اور پر سکون رہتاہے اور آذاد نگاہی یعنی ہر غلط چیز یا نامحرم کو دیکھ لینے سے دل مغموم رہتا ہے۔
فائدہ پنجم:۔نگاہ ــ”پست”رکھنے سے دل میں ــ”نور”پیدا ہوتا ہے۔کیا تم نے غور نہیںکیاکہ سورہ نور میں اللہ نے غضِ بصرکی آیت کے بعد ہی آیت نور پیش کی ؟کیونکہ دل میں نور نظروں حفاظت سے داخل ہوتا ہے اور جب دل نورانی ہوجائے تو ہر طرف سے خیر اور بر کت اُس انسان کی طرف دوڑتی ہے اور جن کے دل اندھیر ہوںان کو شر اور تکالیف کے بادل گھیرے رہتے ہیں۔
فائدہ ششم:۔تم اللہ کا اصول جانتے ہو،اس کے لئے جو چھوڑوگے وہ اس سے بہتر عطا کریگا،وہ تمھیں بصیرت دیگا،فہم و فراست کی نگاہ عطاکریگااور تمھاری فراست کبھی خطا نہیں ہوگی کیونکہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
فائدہ ہفتم:۔آزاد نگاہی سے انسان ذلیل ہوتا ہے اپنے نفس کے قدموں میں خود کو رو ل کرآپ اپنی ذات بے توقیر کردیتا ہے مگر جو نگاہ کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالی اسے لوگوں میں بھی عزت دیتا ہے اور فرشتوں میں بھی،دنیا میں بھی عزت دیتا ہے اورآخرت میں بھی۔
فائدہ ہشتم:۔نگاہ کے ذریعہ شیطان اتنی تیزی سے دل میں جاپہنچتا ہے جتنی تیزی سے کسی خالی جگہ میں خواہشات بھی نہیں پہنچ سکتیں،وہ امیدیں دلاتا ہے،توجیہات پیش کرتاہے اور انسان گناہ کی آگ میںایسے جلتا ہے جیسے کسی بکری کو تنور کی آگ میںڈال کر بھو نا جائے،اسی لئے شہوت پرستوںکو قیامت کے دن آگ کے تنوروں میں ڈالا جائیگا۔
فائدہ نہم:۔غضِ بصرسے دل کو قرآن پر غورو فکر کرنے کا موقع ملتا ہے ورنہ جن کی نگاہیں آوارہ ہوں ان کے دل اتنے الجھے ہوئے اور پھنسے ہوئے ہوتے ہیںکہ قرآن پر غوروفکر کرنے کی سعادت انکامقدر نہیںہوسکتی۔
فائدہ دہم:۔آخری فائدہ یہ ہیکہ انسان کے دل اور آنکھ کے درمیان ایک سوراخ ہے،ایک راستہ ہے۔جس کام میں آنکھ مشغول اسی کام میں دل مشغول ہوتا ہے،ایک کی اصلاح سے دوسرے کی اصلاح ہوتی ہے ایک کے فساد سے دوسرے کا فساد ہوتا ہے اس لئے اپنی نگاہ کو صاف رکھو،اس شخص کو نہ دیکھو جس کی طرف دل ہمکتا ہے کیونکہ یہ تمھارے لئے حرام ہے

(نمرہ احمد کے ناول ـ”نمل”سے ماخوذ)

مراسلہ: فرح ارم

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

غزل

خان حسنین عاقبؔ علامہ اقبال ٹیچرس کالونی، مومن پورہ، واشم روڈ، پوسد  ...