غزل

جس کا کوئی دنیا میں ٹھکانا نہیں ہوتا
اس شخص کا دشمن بھی زمانا نہیں ہوتا

آنکھوں کو چلو آج ہی آئینہ بنا لیں
سنتے ہیں یہ آئینہ پرانا نہیں ہوتا

جینا ہے تو خوش بو کا چلن سیکھ لو ورنہ
سب کچھ تو میاں کھانا کمانا نہیں ہوتا

بس یوں ہی گزر جاتے ہیں یادوں کے سہارے
دیوانوں کا کوئی بھی ٹھکانا نہیں ہوتا

جس روز سے دیکھا ہے تباہی کا تما شہ
موسم کوئی اس دن سے سہانا نہیں ہوتا

اس شہر میں پہچان ضمیر اپنی یہی ہے
سچ کہتا ہوں کوئی بھی بہانا نہیں ہوتا

ضمیر اعظمی،دہلی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ادھورا شعر (طنز و مزاح)

زبیر اختر تذکرہ ہے شعر مکمل کرنے کا… یعنی ایک مصرع موجود ...