غزل

راہ وفا! کرے گی کب! تو! اپنے وجود سے گریز
خوابوں نے بھی ہے کرلیا، آنکھوں میں بود سے گریز
اب تو اسے بناہی لے، جائے قیام زندگی!
یوں ہی کرے گی کب تلک، میرے وجود سے گریز
ذوق جبین سائی کو، ملتا ہو جس جگہ سکوں
اس در نہ ہو قیام کیوں، کیوں ہو قعود سے گریز
لا کر پٹک دیا کہاں، اس اک ہوائے شوق نے
کرتے رہے تمام عمر، گو ہم وفود سے گریز
دنیا کو سونپ ہی نہ دوں، کیوں چوب ہائے خواہشات
آخر کروں میں کس قدر، نار وقود سے گریز
خاموشیاں ہیں منہمک، کار فروغ میں، مری
مجھ کو ازل سے ہے رہا، نام ونمود سے گریز
صارم نہ دور رکھ سکے ہم کو جو منکرات سے
ایسی نماز سے مفر، ایسے سجود سے گریز
ارشد جمال صارم، بنگلور

دیکھ مومن ہوں میں…….

دیکھ مومن ہوں میں،دیکھ مسلم ہوں میں ،میری توبس یہی اصل پہچان ہے
سچ ہے میرعرب ہیں میرے رہنما ،میری ہستی کا دستور قرآن ہے

میں ہوں بندہ خدا کا خدا کے لیے، میرا جینا بھی ہے میرامرنا بھی ہے
تاج خوشنودی رب ہو حاصل مجھے ،میرا سب سے بڑابس یہ ارمان ہے

خیرامت کہاہے خدانے جسے، میں اسی کا ایک ادنیٰ سا ہوں رکن بھی
امر معروف اور نہی منکر کروں، میرا مطلوب ہر ایک انسان ہے

مجھ کوپابند نہ کر مرے مہرباں، میری پرواز ہے از کراں تاکراں
ابررحمت ہوں برسوں گامیں ہرجگہ، اس سے قطع نظر چیں ہے جاپان ہے

سارے انسان بندے خداہی کے ہیں ، ایک ماں باپ ہی کی سب اولاد ہیں
جوڈرے رب سے اپنے وہی محترم ،رب کاباغی بنا جو وہ شیطان ہے

چھوڑکر لازوال وحسیں نعمتیں ،لذت چند روزہ پہ مرتا ہے جو
ساری دنیا سمجھتی ہے دانا تو کیا ،میرے رب کی نظر میں وہ نادان ہے

ڈاکٹر ضیاء الرحمن فلاحی،
جامعہ اسلامیہ، شانتا پرم۔ کیرلا

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ادھورا شعر (طنز و مزاح)

زبیر اختر تذکرہ ہے شعر مکمل کرنے کا… یعنی ایک مصرع موجود ...