بنیادی صفحہ / خبر / علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تاریخی اسٹریچی ہال میں امیر جماعت اسلامی ہند کا خطاب

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تاریخی اسٹریچی ہال میں امیر جماعت اسلامی ہند کا خطاب

جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب امیر جماعت اسلامی ہند شرکاء سےخطاب کرتے ہوئے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کی جانب سے یونیورسٹی کے تاریخی اسٹریچي ہال میں ایک اہم پروگرام ملک کا بدلتا منظر نامہ اور نوجوان کے موضوع پر منعقد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کے طور پر امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب نے شرکت کی اور طلبہ و نوجوانوں کو خطاب کیا. اس اہم پروگرام کا انعقاد طلبہ یونین کے رکن کابینہ فردوس احمد نے کیا تھا.


علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جماعت اسلامی اے ایم یو ایریا کے امیر جناب اشهد جمال ندوی نے کہا کہ “یہ تاریخی اسٹریچی ہال ماضی میں بہت سے پروگرام، جلسوں اور استقبالیہ تقریب کا گواہ رہا هے اسی اسٹریچي ہال میں تقریباً اسی سال پہلے جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی نے  طلبہ کو خطاب کیا تھا اور آج تقریباً اسی سال بعد جماعت اسلامی ہند کے چھٹے امیر سید سعادت اللہ حسینی صاحب ہمارے درمیان ہیں”. 


طلبہ یونین کے سیکرٹری حذیفہ عامر اور نائب صدر حمزہ سفیان نے کہا کہ “علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم موجودہ وقت میں دنیا کے مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں. حال ہی میں کچھ طلبہ نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا ہے. اس سلسلے کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے، اے ایم یو طلبہ یونین طلبہ کے مفاد میں ان کے ساتھ ہے اور ہر طرح کرنے کے لئے تیار ہے. 


اپنے خطاب میں امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے ماضی میں قومی و ملکی مفاد کے ضمن میں اہم کردار ادا کیا ہے. ملک اور قوم کے برے وقت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ امید کی ایک کرن بن کر ابھرے ہیں اور آگے بڑھ کر قوم کی قیادت سنبھالی آج پوری دنیا کے جو حالات بن رہے ہیں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے نئے چیلنج کے ساتھ ساتھ نئے مواقع فراہم کررہے ہیں. ضروری ہے کہ اس دور میں ایک بار پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ سامنے آئیں اور آگے بڑھ کر قیادت سنبھالیں اور ملک و قوم کی بہتری کا ذریعہ بنیں.


انہوں نے طلبہ کے سامنے تین نکاتی منصوبہ پیش کیا اور فرمایا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کو یہ تین نکاتی منصوبہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے.سب سے پہلے کہ وہ اسلام کا پیغام تمام لوگوں تک پہنچانے کا کام کریں عام انسان اور طلبہ و نوجوان جو اسلام سے ناواقف ہیں ان تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچائیں.دوسرا اہم کام یہ کہ اپنے کردار کے ذریعہ یونیورسٹی میں اسلام کا عملی نمونہ پیش کریں اور لوگوں کے سامنے یونیورسٹی کی اچھی تصویر پیش کریں.اور آخری نکتہ یہ کہ اے ایم یو کے طلبہ اپنے سامنے بڑا ہدف رکھیں، وہ جس میدان میں ہوں اس میں مہارت حاصل کریں اور نوبل انعام جیتنے کا گول اپنے سامنے رکھیں. 


پروگرام فردوس احمد ( پروگرام آرگنائزر و رکن کابینہ) کے اختتامی کلمات پر ختم ہوا. پروگرام کی نظامت کے فرائض اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق رکن کابینہ متین اشرف نے انجام دیئے. اس موقع پر اسٹریچی ہال میں طلبہ و اساتذہ کے علاوہ قرب و جوار کی ایک بڑی تعداد  موجود رہی.

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

نیوزی لینڈ میں نمازیوں پر حملہ انسانیت کی توہین ہے!: لبید شافی

نیوزی لینڈ میں جمعہ سے قبل دو مسجدوں میں ہوئے حالیہ دہشت ...