بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / طلبۂ مدارس اور ہم نصابی سرگرمیاں

طلبۂ مدارس اور ہم نصابی سرگرمیاں

عمار جاوید خان، جامعۃ الفلاح، بلریاگنج۔اعظم گڑھ

نگر نگر گلی گلی جہاں دیکھو مدارسِ اسلامیہ کا ایک جال بچھا ہوا ہے، ان مدارس میں ہزاروں ہزارکی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ہرسال بے شمار طلبہ عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں، اس کے باوجود اس دور میں جس قدر قحط الرجال عام ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں مدارسِ اسلامیہ کے نصاب ونظام میں کمزوری ضرور ہے۔
جب ہم مدارس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور بغور جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر طالب علم مشین کے پرزوں کی طرح کام میں لگا ہوا ہے، نہ کوئی شعور نہ کسی طرح کی روحانیت، سب کے سب صرف اعلی درجات اور ڈگری حاصل کرنے کے لیے سال بھر کام پر لگے رہتے ہیں، اور اپنے اس سطحی مقصد کو حاصل کرکے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ طلبہ مدارس اسلامیہ سے گوہرِ کم یاب اور امت کا روشن مستقبل بن کر نکلیں تو ہم کو تعلیم اور مقصد تعلیم کا گہرا شعور پیدا کرنا ہوگا، اور نصابی مشغولیات کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں پر بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی۔
ہم نصابی سرگرمیوں سے میری مراد اس طرح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے جو ہمارے فکرونظر کو وسعت دیں ، ہمارے عزائم اورمقاصد کو بیدا ر کریں، ہمیں اپنے اندر مخفی لعل وگہر کو پہچاننے میں مدد کریں، اورصحیح سمت میں متوجہ کرکے بذات خود ہمارے اندر دین ودنیا میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، اور ہمیں دوسروں کے لیے بھی ہدایت وکامیابی کا ذریعہ بننے میں مدد کریں۔
ہم نصابی سرگرمیوں کو کسی حال میں نصابی مصروفیات سے کم اہمیت دینا مناسب نہیں، کیونکہ ہم نصابی سرگرمیاں انسان کو ہمت وحوصلہ سے سرشار کرتی ہیں، طلبہ کے اندر جرأت اور بولڈنس پیدا کرتی ہیں، اور یہ وہ اوصاف ہیں جو ایک مثالی اور کامیاب طالب علم کے لیے ناگزیر ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مدرسے میں آنے کے بعداوّل سال ہی میں ہمارے پاس ہم نصابی سرگرمیوں کی مکمل منصوبہ بندی ہونی چاہیے تاکہ ان کو عملی جامہ پہنانے میں آسانی ہو ، اور اس طرح کی سرگرمیوں کے لیے ضروری ہے کہ ہماری یہ سرگرمیاں شرعی حدود کے دائرہ میں رہتے ہوئے دلچسپ اور پرلطف طریقہ سے سامنے آئیں، ہماری تہذیب اور ہمارے تمدن کی آئینہ دار ہوں، اور ان کے ذریعہ ہم اپنا پیغام لوگوں تک ان کی دلچسپیوں کا لحاظ کرتے ہوئے پرکشش طریقے سے پہنچا دیں، چونکہ عمومی طور سے طلبہ اور عام نوجوان اس قسم کے پروگرامس کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں، اس لیے اگر ہمارے پروگرامس خشک خشک سے رہیں گے، اور ہماری سرگرمیوں میں کوئی کشش اور زندگی نہیں محسوس ہوگی، تو کسی حال میں ہم طلبہ کو اپنی جانب مائل اور اپنا پیغام سنانے پر آمادہ نہیں کرسکیں گے۔
ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور زیادہ سے زیادہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ذیل میں کام کا ایک خاکہ پیش کیا جارہا ہے، یہ خاکہ ایک مثال کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اس خاکے کو سامنے رکھ کر مختلف مدارس کے طلبہ اپنے یہاں موجود مواقع اور امکانات کی روشنی میں اپنے طور سے پلاننگ کرسکتے ہیں:
اسپیچ فورم؍بزم خطابت: جامعۃ الفلاح میں بزم خطابت، دارالعلوم ندوۃ العلماء میں بزم سلیمانی اور دیگر مختلف اداروں میں طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے الگ الگ ناموں سے بزم یا فورم قائم ہیں، اس فورم کے تحت مختلف ایکٹوٹیز کے ذریعے طلبہ ساتھیوں کی پوشیدہ تقریری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور مخاطب کے سامنے بہتر سے بہتر انداز میں اپنی بات رکھنے کی ٹریننگ ہوسکتی ہے، اگر ہم اس کے تحت ہرسال طلبہ کی ایک تعداد کو اس میدان کے لیے تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آگے چل کر ہم اپنے زورخطابت کے ذریعہ مؤثر طریقے سے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
دعوۃ فورم: دینی تعلیم کا ایک بنیادی مقصد دین کا فہم اور شعور حاصل کرنا ہے، نہ صرف فہم اور شعور حاصل کرنا ہے، بلکہ اس کو عام بھی کرنا ہے، یہ امت اسلامیہ کی منصبی ذمہ داری بھی ہے۔ طلبہ مدارس کو اس کے لیے علمی اور عملی دونوں محاذ پر تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ حسن البنا شہید بیسویں صدی کے ایک عظیم داعی ہیں ، جنہوں نے بہت ہی قلیل مدت میں ایک حیرت انگیز تحریک دعوت وعزیمت کی بنیاد ڈال دی، اور اس کو ان کے شاگردوں نے عالم اسلام کے چپے چپے تک پہنچا دیا۔اس فورم کے تحت ہم ساتھیوں کے ساتھ مل کر دعوتی محاذ پر علمی وعملی تیاری کا کام کرسکتے ہیں، تاکہ جب ہم عملی میدان میں قدم رکھیں تو لوگوں کو اپنے افکار سے واقف کرانے اور اپنی دعوت عام کرنے میں ہمیں کسی طرح کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دراصل بات یہ ہے کہ کسی بھی کام کو انجام دینے کے لیے مخصوص صلاحیت اور مہارت درکار ہوتی ہے ، چنانچہ اگر ہمیں کوئی کام کرنا ہے تو اس کے لیے ہمیں مطلوبہ صلاحیت بھی پیدا کرنی ہوگی، ورنہ اسی طرح ہزاروں ہزار کی تعداد میں طلبہ مدارس کے سرٹیفکٹ لے کر گھوما کریں گے ، اور خود اپنے ہی کام نہ آسکیں گے، دوسروں کی تو بات ہی چھوڑئیے۔
اسٹڈی سرکل: آج اس دور میں اگر ہم کو کسی تک اپنی باتیں پہنچانی ہیں تو ہمیں دلائل وبراہین کا سہارا لینا ہوگا، کیونکہ یہ دور علم وتحقیق اور دلائل کے ذریعہ بات کرنے کا ہے، اور زمانے سے بحث ومناظرہ کرنے کے لیے دلائل صرف اور صرف کثرتِ مطالعہ اور ذہن وفکر کو استعمال کرنے سے حاصل ہوسکتے ہیں، چنانچہ ہم اپنے مطالعہ کو وسعت دینے کے لیے (سید ابوالاعلی مودودی اسٹڈی سرکل) بنا سکتے ہیں۔
قرآن اسٹڈی سرکل:قرآنی تعلیمات سے باقاعدہ منسلک رہنے اور منصوبہ بند طریقے سے قرآن کے ذریعہ اپنی روحانی غذا کی حصولیابی کے لیے ہم (علامہ فراہی قرآن اسٹڈی سرکل)قائم کرسکتے ہیں، اس کے ذریعہ ہم روزمرہ کی تیز رفتار اور مادہ پرست زندگی میں قرآن مجید سے جڑے رہیں گے، اس میں ہم غیر مسلم بھائیوں کو بھی بلا سکتے ہیں اور ان کو بھی قرآنی تعلیمات سے آگاہ کرکے دھیرے دھیرے اپنے قریب لاسکتے ہیں، لیکن اگر خود ہمارا ہی تعلق قرآن سے کمزور ہوجائے گا تو ہم دوسروں کو کیا دے سکیں گے اور ان کے کیا کام آسکیں گے حالانکہ قرآن کے مطابق ہم کو تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں ہی کے لیے برپا کیا ہے۔(سورۃ آل عمران:۱۱۰)
رائٹرس فورم: تحریر اور تقریر میں ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ تقریر اپنی حددرجہ تاثیر اور افادیت کے باوجود وقتی چیز ہوتی ہے، جبکہ تحریروں کے ذریعہ وہ کام کیے جاسکتے ہیں، جو صدیوں تک باقی رہتے ہیں اور لوگوں کے لیے مشعل راہ کا کام کرتے ہیں۔ اپنی تحریروں کے ذریعے ہم پورے ملک میں ایک پرامن، تعمیری اور مثبت تبدیلی کے لیے افراد اور ذہنوں کی تیاری میں کامیاب ہوسکتے ہیں، اور اپنے افکار ونظریات تحریر اور اس کے مختلف جدید وسائل کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیلاسکتے ہیں، چنانچہ اپنی تحریری صلاحیت کو پروان چڑھانے اور اس ہتھیار کا استعمال کرنے کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ہم (سید قطب شہید رائٹرس فورم) تیار کرسکتے ہیں۔
تزکیہ فورم: جس طرح ہمارے جسم کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ہماری روح کو بھی غذا درکار ہوتی ہے اور اپنی روح کے لیے روحانی غذا حاصل کرنے کے لیے ہم (تزکیہ فورم) قائم کرسکتے ہیں جس کے تحت ہم ہفتہ یا مہینے میں ایک دو دن انفرادی یا اجتماعی روزوں کا اہتمام کرسکتے ہیں ، نمازوں کا باقاعدہ اہتمام کرسکتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کرانفرادی واجتماعی تزکیے کا کام کرسکتے ہیں۔
شعبہ خدمت خلق: لوگوں کو اپنے افکار ونظریات سے متاثر کرنے کا سب سے کارگر ذریعہ خدمت خلق ہے ، خدمت خلق کے ذریعہ ہم بآسانی لوگوں تک اپنی بات پہنچاسکتے ہیں اور ان کا دل جیت سکتے ہیں، چنانچہ یہی وہ طریقہ تھا جس کو اختیار کرکے عیسائیوں نے پوری دنیا میں اپنے افکار ونظریات عام کیے اور چپہ چپہ میں اپنا مذہب پھیلانے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ خدمت خلق کی تربیت حاصل کرنے، اس کا مزاج پروان چڑھانے اور اس کلچر کو عام کرنے کے لیے ہم (شعبہ خدمت خلق) قائم کرسکتے ہیں، اس شعبہ میں متعددطلبہ ساتھی جمع ہوکر فارغ اوقات میں قریب کی بستیوں میں جاکر غریبوں محتاجوں کی مدد کرکے، یا بااثر لوگوں کے ذریعے ان کو امداد فراہم کراکے باقاعدہ اس میدان میں عملی تجربات حاصل کرسکتے ہیں۔
میڈیا گروپ: میڈیاکی اہمیت کا اندازہ ہم میں سے ہرکسی کو ہوگا، کوئی اس کی طاقت کا منکر نہیں۔ آج میڈیا پراسلام دشمن یا تخریبی ذہن رکھنے والے افراد کا تسلط اور غلبہ ہے، اس میڈیا کے ذریعہ آج پورے پورے ملک اور پوری پوری قوم کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کسی کو اٹھا یا جاتا ہے اور کسی کو گرایا جاتا ہے، اس کا واضح ثبوت مصر کے گزشتہ دو تین سال کے سیاسی حالات ہیں۔ اسی طرح میڈیا آج ایک ایسی طاقت بن کر سامنے آیا ہے جس کا استعمال کرکے ہم دنیا بھر کے حالات سے واقفیت بھی حاصل کرسکتے ہیں، اور اپنی بات اور اپنی خیالات کو عام بھی کرسکتے ہیں، چنانچہ ہم کو اس میدان میں بھی اپنے شہسوار دوڑانے ہوں گے اور اپنے شہسواروں کی مکمل اور منصوبہ بند تربیت وٹریننگ کے لیے ہم ایک (میڈیا گروپ) بناسکتے ہیں۔
آئیڈیالوجکل فورم: مدارس میں ہاسٹلس کے اندر مختلف ذہنوں کے اور مختلف افکار ونظریات کے حامل طلبہ ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتاً مختلف نظریات پر بحث ومباحثہ بھی ہوتا رہتا ہے، کچھ علمی اور فکری موضوعات ہوتے ہیں، اور کچھ عملی اور دعوتی موضوعات۔ مثال کے طور پر الیکشن کے زمانہ میں جمہوریت سے متعلق مختلف اُمور ومسائل پر نظریاتی بحثیں ہوتی رہتی ہیں، چنانچہ ہمارے درمیان ایک ایسا گروپ ہونا چاہئے ،جو اس طرح کے نظریاتی مباحث پرنظر رکھے اور وقت آنے پر ساتھیوں کے درمیان مکمل دلائل وبراہین کی روشنی میں صحیح خیالات کو عام کرنے کی کوشش کرے، چنانچہ اس کام کو منصوبہ بند اور منظم طریقہ سے انجام دینے کے لیے ہم مثال کے طور پر(پروفیسر عبدالحق انصاری آئیڈیالوجکل فورم) تیار کرسکتے ہیں۔
فرینڈس کلب: کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہر عمر کے ساتھی ہوتے ہیں، اور کم عمر کے ساتھی بڑوں کی جانب سے رہنمائی اور توجہ کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں، ضروری ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی رہیں، اپنے کیمپس کے ابتدائی درجات کے ساتھیوں کی ذہن سازی اور ان کی صحیح خطوط پر نشوونماکی کوشش کریں۔ مائل خیرآبادی اردو زبان کے واحد فرد ہیں، جنہوں نے کم عمر طلبہ کے لیے زبردست لٹریچر کی تیاری کا کام کیا ہے، مائل صاحب کی شاہین سیریزکم عمر ساتھیوں کے لیے ایک بہت ہی قیمتی تحفہ ہے۔ مائل خیرآبادی فرینڈس کلب کے ذریعے ہم چھوٹے ساتھیوں کے درمیان ان کے ذہن اور ان کی عمر کو پیش نظر رکھتے ہوئے اچھا لٹریچر عام کریں، ان کے درمیان پڑھنے کا رجحان عام کریں، اور ان کی تربیت کے لیے وقتا فوقتا ان کے ذوق وشوق کا لحاظ کرتے ہوئے مختلف سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
کھیل وتفریح کلب: پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود کی اہمیت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا ، اگر کھیل کود نہ ہو تو اچھی طرح پڑھائی کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ کھیل کود کے ذریعہ انسان کا دماغ بھی تروتازہ رہتا ہے اور جسمانی تندرستی بھی حاصل ہوجاتی ہے، چنانچہ اس کے لیے ہم (کھیل وتفریح کلب) کا قیام کرسکتے ہیں، اس طرح کے کلب سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسرے طلبہ بھی آپ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
اپنی ہم نصابی سرگرمیوں کو دلچسپ اور پرکشش بنانے کے لیے ہم تفریحی پروگرامس، سیاحت کے ٹورس اور مختلف النوع مقابلوں اورمسابقوں کا انعقاد بھی کرسکتے ہیں ، واضح رہے کہ جتنا زیادہ پرکشش پروگرام کرنے میں ہم کامیاب ہوں گے نتیجہ اتنا ہی اچھا ہوگا۔ اسی طرح ہم مورل فورس Moral Force تیار کرسکتے ہیں جو کہ اعلی اخلاق کی حامل ہوگی اور لوگوں کو اسی اعلی تہذیب وثقافت کی دعوت دے گی۔Anti Eve-teasing Cell, Anti Ragging Cell, Forum for Clean & Honest

Education

system جیسے فورمس بھی ہماری کامیابی کی راہ کے نقوش ثابت ہوں گے۔
چنانچہ اگر ہم اس طرح اپنی سرگرمیوں کو مجتمع اور بامقصد بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے، اور باقاعدہ منصوبہ بند طریقہ سے کام کرنے کے عادی ہوجائیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جب ہم اپنی عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو ہر طرح سے تیار ،ہر کام کے لیے مستعد اور زندگی کی ہرسیڑھی چڑھنے کے قابل ہوسکیں گے اور اگر ہم ان سب مراحل میں کامیاب وکامران رہے تو خود کو بھی دین ودنیا کی دولت سے مالا مال کرسکیں گے اور دوسروں کے بھی کام آسکیں گے بلکہ امت مسلمہ کا منور مستقبل بن کر ظاہر ہوسکیں گے۔
اس وقت تعلیمی اداروں بالخصوص دینی مدارس کے سلسلے میں جس بے مقصدیت اور جمود کی بات کہی جاتی ہے، اور تعلیم وتربیت کے ماحول میں جس قسم کی کمزوریوں کا ذکر کیا جاتا ہے، ان تمام کا ایک فوری اور طلبہ کی جانب سے پیش کیا جانے والا حل یقیناًطلبہ کی جانب سے ہونے والی ہم نصابی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں، طلبہ کے درمیان اس رجحان اور اس رجحان کی افادیت کوعام کرنا ہوگا، اور ذمہ داران مدارس کو بھی اپنی بھلائی اور اپنے فائدے کے لیے اس قسم کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

گنگناتا جارہا تھا ایک فقیر، دھوپ رہتی ہےنہ سایہ دیر تک

ڈاکٹر سلیم خان ساکشی مہاراج نے کہا تھا  ’’مودی راج بھوج ہیں ...