بنیادی صفحہ / فکر / سوشل میڈیا اور ہماری فعالیت
Google.com

سوشل میڈیا اور ہماری فعالیت


محمد آصف اقبال


میڈیا اور ماس میڈیا کا اطلاق ذرائع ابلاغ پر ہوتا ہے۔اگر اس کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تخلیق انسانی سے ہی اس کا رشتہ جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے،یہ الگ بات ہے کہ ہر دور میں ابلاغ کے طریقے مختلف رہے ہیں۔میڈیا اور ماس میڈیا دونوں انگریزی لفظ ہیں ۔میڈیا کے لغوی معنی ذریعہ اور ماس کے معنی لوگ ہوتے ہیں۔البتہ ماس میڈیا کے معنی ذرائع ابلاغ کے ہوتے ہیں۔اصطلاحی اعتبار سے حقائق،اخبار،اور آراء کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ لوگوں تک پہنچانے کے عمل کو میڈیا کے نام سے موصوم کیا جاتا ہے۔موجودہ دور میں اس کے لیے پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پیغام رسانی کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔اس کی ابتدا ٹیلی گراف،ٹیلی فون اور وائر لیس سے ہوئی،پھر ریڈیو،اس کے بعد فوٹو گرافی سے فلم،سنیما اور ٹیلی ویژن کی شروعات ہوئی اور آج الیکٹرانک میڈیا ترقی کرکے موبائل،انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع تک پہنچ چکا ہے۔

ریڈیو کی ایجاد امریکہ میں 1906ء میں ہوئی۔ٹیلی ویژن پر تجربات کا آغاز 1927 سے شروع ہوا، پہلے صرف تصاویر، پھر آواز، پھر نقل و حرکت، اس طرح ہوتے ہوتے1989میں ڈائریکٹ ٹیلی کاست تک پہنچا۔ پرنٹ میڈیا کی تاریخ بہت قدیم ہے، البتہ 1665 میں باقاعدہ مشینی پرنٹ میڈیا کا آغاز ہوا۔انٹرنیٹ کی ایجاد کا آغاز1969میں ہوا،اور1983تک کمال کو پہنچا۔آج صورتحال یہ ہے کہ لوگوں تک اپنی بات پہنچانے، ان کی فکر کو متاثر کرنے،رائے عامہ ہموار کرنے اور انہیں مقصد خاص کے لیے استعمال کرنے میں میڈیا دور جدید کا طاقتورترین ہتھیار ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر افراد اور گروہ اس کے استعمال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منزل مقصود کے حصول میں سرگرداں ہیں۔

اسی لیے مشہورِ زمانہ مستشرق ارجب کہتا ہے کہ لوگوں کے افکار کو بدلنے کے لیے صرف مغربی انداز کی تعلیم اور مغربی نظریات کا پڑھا دینا کافی نہیں ہے، بلکہ تعلیم تو صرف پہلا زینہ ہے۔ اصل تو ذرائع ابلاغ ہی ہے، کیوں کہ اس سے ہر کس وناکس، عالم و جاہل، پڑھا لکھا و اَن پڑھ، سب مستفید ہوتے ہیں، لہٰذا سب سے زیادہ محنت ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ہی کی جانی چاہئے، تا کہ لوگ مغرب کے دلدادہ ہو جائیں۔ اور آج صرف مغرب ہی نہیں بلکہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے طاقتور ترین ممالک،نظریات اور افکارکے حاملین سب بڑھ چڑھ کے میڈیا کے ذریعہ فائدے اٹھانے کے خواہش مند ہیں اور بھر پور فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔


اگر آپ مضمون کے عنوان کو دیکھیں گے تو اس میں آپ کو تین باتوں کا تذکرہ نظر آئے گا۔اول، سوشل میڈیا،دوم،لفظ’ہم’اور سوم، ’فعالیت‘۔لہذا کوشش کریں گے کہ ان تین نکات کے ارد گرد ہی بات کو آگے بڑھایا جائے اور عنوان کی روشنی میں کچھ باتیں واضح ہوجائیں۔سب سے پہلے ہمیں دیکھنا ہے کہ سوشل میڈیا کیا ہے؟اس کے دائرہ عمل میں کون کون سی چیزیں آتی ہیں؟آپ جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں سمارٹ فون،ٹیبلیٹس،لیپ ٹاپ کا استعمال عام بات ہو چکی ہے اور تمام ہی telecommunication devices میں انٹرنیٹ باآسانی میسر ہے۔دنیا میں کسی بھی جگہ رابطہ اب عام بات ہے۔انٹرنیٹ کی فراوانی نے ایک شخص کو اس کے گھر اور خاندان والوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ محلہ،قصبہ،شہر،ملک اور دنیا کے ہر کونے میں اس کی پہنچ آسان بنادی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مواصلاتی خلا کو پورا کرنے کے لیے نت نئی ایپلیکیشنز وجود میں آرہی ہیں جو رابطوں کو بہتر بنانے میں مدد گارہیں

۔لوگوں کے باہم روابط کے حوالے سے انٹرنیٹ کی دنیا میں دو اصطلاحات مقبول عام ہیں۔ ایک سوشل میڈیا اور دوسری سوشل نیٹ ورکنگ۔سوشل نیٹ ورکنگ عموما اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں انسان ایک خاص حلقہ سے مخاطب ہوتا ہے۔ اس میں براہ راست روابط ضروری ہوتے ہیں۔ جب کہ سوشل میڈیا سے مراد انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بات پہنچانا ہے۔ آپ چاہے بلاگ لکھیں، اپنی ویب سائٹ بنائیں، کسی اور ویب سائٹ کے ذریعہ اپنے کاروبار کی تشہیر کریں یا فاصلاتی تعلیم دیں۔ یہ سب سوشل میڈیا کا حصہ ہے۔اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹ ورکنگ کا حصول ممکن ہے۔ تاہم چند ایک دیوقامت کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ ذیل میں ہم ان کے مقاصد پر مختصرا روشنی ڈالیں گے تاکہ صارفین کو یہ تعیین کرنے میں آسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔


1)فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے۔ آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں۔ چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو؍ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔

2)ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ280 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل ،فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں،آج یہ ابلاغ کا مؤثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے اور اہم شخصیات اس کو استعمال کرتی ہیں

۔3) سنیپ چیٹ نوجوانوں میں بے حد مقبول ہوچکا ہے۔ اس میں آپ ویڈیو اور تصاویر کے ذریعہ چیٹ کر سکتے ہیں۔ اس کی مقبولیت کی بنیادی وجہ اس کا’’سیلف ڈسٹرکٹیو‘‘ فیچر ہے۔ یعنی یہ پیغام پڑھ لینے کے بعد خود ہی اس کو حذف کر دیتا ہے بعینہ اس طرح جیسے فون میں فلیش میسج ہوا کرتے تھے۔ آپ عارضی طور پر آف لائن تصاویر یا ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو سنیپ چیٹ ایک بہترین ذریعہ ہے۔ بھیجنے والا جیسے ہی پیغام کھول کر دیکھے گا، چند سکنڈ میں وہ پیغام غائب ہوجائے گا۔ لوگوں نے پیغامات محفوظ کرنے کے چور دروازے دریافت کیے ہیں لیکن ہر نئی اپ ڈیٹ کے ساتھ وہ غیرموثر ہوجاتے ہیں۔ مثلا اگر آپ کے پیغام کا سکرین شاٹ لیا جاتا ہے تو سنیپ چیٹ خود کار طریقہ سے آپ کو بتا دے گا کہ آپ کے پیغام کا سکرین شاٹ لے لیا گیا ہے۔ لیکن بہرحال انٹرنیٹ کی دنیا میں آپ کسی ایپ پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ لہذا ایسی چیز کبھی مت بھیجیں جو بعد میں آپ کے لیے مسئلہ بن جائیں

۔4) انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات کی فہرست طویل ہے جو علیحدہ مضامین کی متقاضی ہے۔ یہاں ہم اختصار سے یہ بتاتے چلیں گے کہ جیسے ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا کو بھی پرکھا جاتا رہتا ہے۔


سوشل میڈیا کے فوائدکا اگر تذکرہ کیا جائے توسب سے اہم بات جو آپ کے سامنے آئے گی وہ اس کارابطہ کا آسان اورسستا ترین ذریعہ ہے، آسان ذریعہ معلومات ہے، تعلیمی میدان میں بہت حد تک مددگار ہے،باہم دلچسپی کے موضوعات پر ہم خیال لوگوں سے بات چیت کا ذریعہ ہے۔فوائد کی طرح چند نقصانات کا بھی تذکرہ مناسب ہوگا۔ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں موجود خبریں،چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں،ان میں غلطی کے حد درجہ امکانات موجود ہیں ، غلط فہمیاں پھیلانے کا تیز ترین اورآسان ترین ذریعہ ہے۔ساتھ ہی سوشل میڈیا کا نشہ ہونے کی بدولت صرف وقت کا ضیاع ہی نہیں ہوتا بلکہ انسان نفسیاتی اور جسمانی ہر دو اعتبار سے نقصان سے دوچار ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب دہلی کے AIIMSہاسپٹل میں social media addictedلوگوں کے لیے sychiatric clinic for cyber addicts کھول دیا ہے،جہاں کافی تعداد میں ہر دن مریض بھرتی کیے جاتے ہیں۔لہذ ا ہمیں چاہیے کہ ہم سوشل میڈیا کو اس طرح نہ استعمال کریں کہ ہم اس کے نشہ میں مبتلا ہوجائیں یا وہ ہم پر نشہ کی طرح طاری ہوجائے۔


واقعہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا سے پہلے ویب سائٹس اور ای میل کو زیادہ مقبولیت حاصل تھی۔ اب دیکھا جائے تو غیر تکنیکی لوگ انٹرنیٹ پر فیس بک وغیرہ تک ہی محدود ہوتے ہیں اور انہیں ای میل کا استعمال تک نہیں آتا۔ اس پہلو سے ان کے لیے فیس بک ہی انٹرنیٹ ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں سے اُن کی تمام معلومات فیس بک پر موجود ہوتی ہیں۔ اسی طرح کی مثال بلاگ کی لیجیے۔ بلاگز کی دنیا میں ٹمبلر، ورڈ پریس،بلاگ اسپوٹ مشہور ہیں جو مفت بلاگ کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔ ویڈیوز کی دنیا میں یوٹیوب، تصاویر کے لیے انسٹا گرام، فلکر، پن ٹرسٹ وغیرہ بھی مناسب پلیٹ فراہم کرتے ہیں۔لیکن ہندوستان میںعام لوگ سب سے زیادہ فیس بک ہی استعمال کرتے ہیں۔وہیں یہ بات بھی عیاں ہے کہ انٹرنیٹ پر چند بڑی کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ جو تمام صارفین کا ڈیٹا جمع کر تی رہتی ہیں- تکنیکی اعتبار سے یہ ڈیٹا سینٹرلائزڈ (centralized) ہوچکا ہے جو اچھی علامت نہیں ہے۔ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی ہر ایک کے لیے اوپن ہے اور رہنی چاہیے۔ اس کے باوجود ان کمپنیز کی بدولت اب یہ اوپن نہیں رہی۔ آپ کا ڈیٹااُس وقت تک آپ کا ہے جب تک آپ کسی سوشل سائٹ پر نہیں ہیں۔لیکن جیسے ہی آپ نے اپنا ڈیٹا نشر کیا وہ آپ کی پہنچ سے باہر ہوگیا۔ چاہے آپ اس کو حذف کر دیں، وہ کمپنی کی ملکیت میں ہی رہے گا۔ اور کمپنیاں حکومتوں کے تابع ہوتی ہیں، وہ جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں استعمال کرسکتی ہیں۔ ویب کے موجد، سر ٹم-برنرز – لی کو بھی اس حوالے سے تشویش ہے اور وہ اس کا مختلف مواقع پر اظہار کر چکے ہیں۔اور دیگر سوشل ایکٹوسٹ کا بھی خیال ہے کہ ویب کو پھر سے ڈی سینٹرلائز کرنے کی ضرورت ہے۔


عنوان کے دوسرے حصے پر آئیے کہ یہاں’ہم ‘سے کیا مراد ہے؟اس کے دو مفہوم لیے جا سکتے ہیں۔ایک،ہم مسلمان ہیں اور بحیثیت مسلمان ہماری زندگی کا ہر لمحہ اس مالک برحق کے سامنے جوابدہ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔اسی میں یہ بات بھی شامل کر لیجئے کہ اگر ہم نے سوچ سمجھ کے بحیثیت مسلمان جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان کی ادائیگی کے لیے کسی تحریک سے وابستگی اختیار کی ہے تو اس تحریک کے جو حقوق ہم پر عائد ہوتے ہیں ان کو بحسن و خوبی انجام دینا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ہم انسان ہیں اور ہمارے خالق نے ہمیں انسان پیدا کرکے بے شمار خوبیوں سے مزین کر دیا ہے۔لہذا بحیثیت انسان اُن خوبیوں کو اختیار کیا جائے جس کے اختیار کے نتیجہ میں ہمیں انسان کہا جاسکتا ہے ۔باالفاظ دیگر ہم انسانی بنیادوں پر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو قول و عمل اور فکر و نظر کی روشنی میں صحیح راستہ دکھانے والے، ان کے کام آنے والے،ان کی پریشانیوں ،دکھ اور تکلیفوں میں مددفراہم کرنے والے،ان کی خوشیوں میں شریک ہونے والے اور جن مسائل وچیلنجز میں وہ آج مبتلا ہیں، ان کا حل پیش کرنے والے بن کے دنیا کے سامنے آئیں۔اس لحاظ سے پہلے مرحلے میں ہمیں اپنی حیثیت کا صحیح صحیح علم ہونا چاہیے۔کیونکہ خود شناسی ہی خدا شناسی کا ذریعہ ہے اور خود شناسی ہی کسی بھی بڑے اور مثبت کام کو انجام دینے کے لیے پہلی اور ابتدائی منزل ہے۔برخلاف اس کے نہ ہم کوئی مثبت کام انجام دے سکتے ہیں،نہ لوگوں کی بھلائی اور نجات میں معاون بن سکتے ہیں،نہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کے لیے ہم کوئی اہمیت کے قابل ٹھہر سکتے ہیں۔


اس سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام حیات ہے جو زندگی گزارنے کے لیے ایک متوازن راستہ کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔اسلام انسانی زندگی کے تمام شعبہ حیات میں زندگی بسر کرنے اور سرگرمی انجام دینے کی ہدایت کرتا ہے ۔جیسے انسانی جسم کے مختلف اعضاء مل جل کے انسان کو وجود میں لاتے ہیں اوراسے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کوئی کام انجام دے سکے۔ٹھیک اسی طرح اسلام بھی تمام شعبہ ہائے حیات کو اختیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے، ان سے فیض یاب ہونے اور دوسروں کو فیض یاب کرنے کا حکم دیتا ہے۔اِس کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جسم کاایک حصہ اگر بے کار ہو جائے، بیمار ہو جائے تو یہ پورے جسم کو متاثر کرسکتا ہے،ناکارہ بنا سکتا ہے۔اُسی طرح اسلامی تعلیمات ،احکامات اور قوانین انسانی زندگی کو انفرادی اور اجتماعی ہر دو حیثیتوں سے امن و امان اور سکون و خوشحالی فراہم کرتا ہے ۔برخلاف اس کے انسان اور انسانوں کا گروہ اسلام سے فیض یاب ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ مکمل نظام حیات کے طور پر اسلام کو اختیار نہ کیا جائے۔

اسلام اقتصادی ،معاشی ،معاشرتی اور سیاسی ہر میدان میں راہنمائی کرتا ہے جس کے نتیجہ میں ایک مثبت معاشرہ تشکیل میں آتا ہے ۔اسلامی عبادات انجام دینے کا طریقہ،شہری حقوق کی ادائیگی،ضابطہ اخلاق،ضابطہ لباس،کھان پان،شادی بیاہ کے راہنما اصول،طلاق اور وراثت کے قوانین،جنگ و امن کے اصول ،معاش اور تجارت کے اصول،غرض زندگی کے جملہ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملات میں اسلام ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ساتھ ہی اسلام یہ بھی بتاتا ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے خالق کا حق کیسے ادا کرناچاہیے؟بچوں،بڑوں،رشتہ داروں،پڑوسیوں،مہمانوں وغیرہ کے حقوق کیا ہیں اور انہیں کیسے ادا کیا جانا چاہیے؟ہم جس ماحول میں رہتے ہیں اُس ماحول کے ہم پر کیا حقوق و فرائض عائد ہوتے ہیں۔ یعنی ماحولیات کے تعلق سے بھی اسلام ہماری بھر پور راہنمائی کرتا ہے،اِسے خوشنما بنانے اور اُس سے خود کواور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے سلسلے میں بھی اسلام ہماری راہنمائی کرتا ہے۔یہاں تک کہ دنیا میں موجودہر جاندار و بے جان چیز کو ہم کیسے اور کس حد تک استعمال کریں اور انہیں کس طرح فائدہ پہنچائیں نیز انہیں نقصان سے کس طرح بچایا جاسکتا ہے؟اس سلسلہ میں بھی اسلام ہماری راہنمائی کرتا ہے۔


گفتگو کے پس منظر میں ہمارے اور آپ کے ذہنوں میں یہ سوال لازماً اٹھنا چاہیے کہ اگر اسلام زندگی کے تمام شعبہ حیات میں راہنمائی کرتا ہے تو اس راہنمائی سے کیسے فیض یاب ہوا جا سکتا ہے؟اور اس کے لیے ہمیں اپنی زندگی میں کیا کچھ تبدیلی لانی ہوگی؟نیز یہ بات بھی کہ ہماری زندگی کا مقصد و نصب العین کیا ہوناچاہیے؟اور اس مقصد و نصب العین کو کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟اس سلسلے میں سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نصب العین کے حصول کے لیے ایک بامقصد اور منظم گروہ لازماً ہونا چاہیے جو طے شدہ اہداف کے ساتھ میدان عمل میں داخل ہو۔تحریک اسلامی ہندوستان میں اس ضرورت کو ایک طویل عرصہ سے پورا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔اس نے نہ صرف مقاصد طے کیے ہیں،نصب العین طے کیا ہے،اہداف طے کیے ہیں بلکہ طریقہ کار بھی طے کیا ہے۔ساتھ ہی ایک مکمل منصوبہ کے ساتھ پالیسی اور پروگرام بھی تشکیل دیا ہے۔ضروری ہے کہ ان چیزوں کا سب سے پہلے شعوری طور پر مطالعہ کیا جائے،جو چیزیں ہم پر واضح نہیں یا جہاں اشکالات پیدا ہوتے ہیں، انہیں سمجھا جائے اور اشکالات کو دور کیا جائے۔اور پھر پوری تند دہی،توجہ،شعور کی انتہائی بلندی اور مثبت حوصلوں اور امنگوں کے ساتھ میدان عمل میں داخل ہوا جائے۔اور اس درمیان جو مسائل پیش آئیں انہیں پورے صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے منزل مقصود کی جانب گامزن رہا جائے۔

ساتھ ہی فکر و نظراور عمل کا دائرہ دن بہ دن وسیع سے وسیع تر کرنے کی مخلصانہ کوشش کرتے رہیں،یہ کوشش اس طرح کی جائے کہ اس میں ریا اور ہر قسم کے شرک سے محفوظ جدوجہد سامنے آئے،اور بڑے پیمانہ پر برادارن وطن اور مسلمان دینی بھائیوں کو شامل کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کو بھی مقصد و نصب العین کے لیے کارگربنایا جائے،انہیں مختلف محاذوں میں شامل کرتے ہوئے ان کی فکری و عمل کی کوتاہیوں کو دورکیا جائے۔اور ایک ایسی فضاپروان چڑھائی جائے جہاں محبت ہو،ہمدردی ہو،بھائی چارہ ہو،ایک دوسرے کے مسائل اور پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے قربانیاں دینے کا جذبہ ہو،جہاں قول و عمل میں تضاد نہ محسوس کیا جاتا ہو،جہاں چلتے پھرتے اور منسلک افرادلٹریچر میں موجود خوبیوں کے عکاس ہوں۔اور یہ سب اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ہماری تمام تر قوت ہمارا نظریہ حیات اسلامی تحریک انقلاب ہے، اس قوت کو روبہ عمل لانے کے لیے ہمیں اس نظریہ و تحریک کے علمبرداروں کی زیادہ سے زیادہ اور روز بروز بڑھتی ہوئی تعداددرکار ہے۔

اس تعداد کے حصول میں اگر ہم کوتاہ رہتے ہیں تو سارا کھیل خراب ہوتا ہے، اگر ناجائز طریقوں سے حاصل کرتے ہیں تو درحقیقت ہم مخالف اسلام قوت ہی کا کام کرتے ہیں اور اگر ہم دعوت حق کے راستے سے، شدید جانفشانی کرکے اسے حاصل کرتے اور بڑھاتے ہیں، تو یہ عین ممکن ہے بازی ہمارے سر ہوسکتی ہے۔کچھی یہی بات طویل عرصہ قبل مولانا مودودیؒ نے بھی کہی تھی۔’’اربوں انسانوں کو ہمارے پیغام سے واقف ہونا چاہیے۔ کروڑوں کو کم از کم اس حد تک متاثر ہونا چاہیے کہ وہ اس چیز کو حق مان لیں جس کو ہم لے کر اٹھ رہے ہیں۔ لاکھوں انسانوں کو ہماری پشت پر اخلاقی تا ئید کے لیے آمادہ ہونا چاہیے اور ایک کثیر تعداد ایسے سرفروشوں کی تیار ہوجو بلند ترین اخلاق کے حامل ہوں اور اس مقصد کے لیے کوئی بھی خطرہ، نقصان یا مصیبت برداشت کر سکیں‘‘(سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)۔


آئیے اب ہم آخری بات کی جانب بڑھتے ہیں کہ سوشل میڈیا میں فعالیت سے کیا مراد ہے؟اس میں فعال کردار کیسے ادا کیا جاسکتا ہے؟اور ہمیں اس سلسلے میں کس سطح کی تیاری کرنی چاہیے؟یہاں اس مرحلہ میں یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ سوشل میڈیا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جو عام طور پر کسی بھی قسم کی رقم ادا کیے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے،ہر شخص کی پہنچ میں ہے اورہر مقام پر موجود ہے۔یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ میڈیا اورسوشل میڈیا کا آج کے دور میں کیا مقام اور کیا حیثیت ہے۔نیز ہم کیا ہیں؟ہمارامقصد ،نصب العین اور منزل مقصود کیا ہے؟کن افراد کے درمیان ہمیں کام کرنا ہے یعنی ہمارا target audianceکون ہے اور کس طرح ہم ان کی صلاحیتوں کو مثبت طور پر استعمال کرسکتے ہیں؟جس کے نتیجہ میں عوام و خواص اور ہر انسان فائدہ حاصل کر سکتا ہے،امن و سکون اور اطمینان و خوشی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ان تمام باتوں کی وضاحت کے بعد آخری بات یہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا کا کس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں یا ہمیں سوشل میڈیا کس طرح استعمال کرنا چاہیے؟


یہ بات اوپر درج کردی گئی ہے نیز اس کی بہت حد تک وضاحت بھی ہو گئی ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں اب تک اسلام کے علاوہ جو نظام بھی رائج ہوئے ہیںیا موجود ہیں یا پھر رائج ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،بالمقابل اُن کے اسلام ایک متبادل نظام حیات پیش کرتا ہے۔لیکن یہ متبادل نظام اس وقت تک اپنے آپ کو بطور متبادل پیش کرنے میں ناکام رہے گا جب تک کہ موجودہ نظام کی خرابیوں اور ناکامیوں کو لوگوں پر پوری طرح واضح نہ کر دیا جائے۔پھر اس وضاحت کے مختلف stagesہیں،کہیں یہ قول کی شکل میں ہوگا،کہیں تنقید کی شکل میں،کہیں تقابل کی شکل میں،کہیں نظریات کی شکل میں ،کہیں چھوٹے یا بڑے ماڈل کی شکل میں ہوگا۔لیکن دشواری یہ ہے کہ آج دنیا ہر موضوع پر بات کرنے کے لیے آمادہ ہے اس کے باوجود نظریاتی گفتگو سے پرہیز کرتی ہے،خصوصاً اسلامی نظریاتی پر مبنی گفت و شنید اور بحث و مباحثہ سے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ نظریات پر مبنی گفتگو ،تقابل اور متبادل پیش کرنے والوں کی ہر دو محاذ پرحددرجہ کمی پائی جاتی ہے،وہیں اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آج کا انسان مادیت کا پوری طرح شکار ہوچکا ہے۔چونکہ معاشی نظام سود پر مبنی ہے،لہذا سودی کاروبار اور اس استحصالی نظام سے ہر شخص فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔انتہا یہ ہے کہ موجودہ دور سودی نظام پر مبنی معاشی نظام اور اسلام کے معاشی نظام کی گفتگو سے وہ لوگ ،افراد اور حکومتیں بھی پرہیز کرتی ہیں،جن کے ہاتھ میں مسلم ملکوں کی باگ دوڑ ہے۔

اسی طرح دیگر نظریات کا بھی تقریباً یہی معاملہ ہے۔اس سب کے باوجود میڈیا اور سوشل میڈیا میں ان باتوں کو دلائل کی روشنی میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔اور یہ کام چائے اور پان کی دکان پر بیٹھے افراد کے ہاتھ میں اسمارٹ فون، یا گیم کھیلتے اور ذہنی عیاشیوں میں مصروف نوجوانوں کے ذریعہ یا پھر غیر شعوری اور بلا منصوبہ بندی کیے اور اس کے لیے بنا تیاری کیے لوگوں کے ہاتھوں نہیں ہوسکتا ہے۔یہ کام اتنا آسان نہیں ہے کہ چلتے پھرتے فوٹوز ،کارٹونز اورویڈیوز کو شیئر کرنے سے ہو جائے۔یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ ایک خاص دائرہ کا انتخاب کرتے ہوئے ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ،دائرہ عمل ،دائرہ فکر ونظر،اور دائرہ نظام بطور متبادل ،علمی ارتقاء کی منزلیں نہ طے کر لی جائیں۔اس میں ایک وقت خاص بھی درکار ہے،منصوبہ بھی چاہیے،وقتاً فوقتاً ذاتی احتساب کی بھی ضرورت ہے،مسائل کو دور کرنے کے لیے زبان،قلم،اور رویوں میں نرمی لانے کی بھی ضرورت ہے،اڑیل پن،ضد،اور ہٹ دھرمی سے باز آنے کی بھی ضرورت ہے اور اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ اپنی کوتاہیوں پر نظر رکھی جائے،اپنی کمیوں کو قبول کیا جائے اور بتدریج انہیں دور کرنے کے ساتھ ساتھ مقصد اور نصب العین پر نظر رکھتے ہوئے اپنی ذات کو ارتقائی بلندیوں سے سرفراز کیا جائے اور اس کے لیے سنجیدہ جدوجہدکی جائے۔ممکن ہے یہ کام سب نہ کر سکیں لیکن بڑا گروہ اس کے لیے ضرور تیار ہونا چاہیے،جو بہت غور و خوض کے ساتھ مقاصد کے حصول کے لیے سوشل میڈیا میں سرگرم کردا ر اداکرنے کی خواہش رکھتا ہو۔


سوشل میڈیا پر مقاصد کے پیش نظر جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان تیاریوں کو کرتے ہوئے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ایک ترتیب کے ساتھ ایک دائرہ خاص میں اپنی بات کو پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔موجودہ نظام کی اخلاقی ،خاندانی،معاشرتی، معاشی،تعلیمی اورسیاسی منفی پالیسوں کو دلائل کے ساتھ سامنے لایا جائے، ساتھ ہی اسلام جو متبال نظام پیش کرتا ہے اسے پوری قوت کے ساتھ انسانوں کے دلوں میں پیوست کرنے کی جدوجہد کی جائے۔نیز نظام عدل و قسط کا ناقص نظام،حکومت کے عوام الناس کے تعلق سے ہونے والے غلط فیصلے،لا اینڈ آڈر کے نفاذ میں متعصب ذہنیت کا پایا جانا اور اس کا تدارک ،وغیرہ جیسے ایشو ز پر بھی سوشل میڈیا میں مثبت اور سود مند بحثوں کو دلائل کی روشنی میں اور اسلامی نظام حیات کے پیمانوں کی روشنی میں پیش کرنے کا آغاز کیا جائے۔ساتھ ہی مقاصد کے حصول کے لیے سوشل میڈیا پر مقامی،ضلعی،ریاستی اور ملکی ہر سطح پر لوگوں کو منظم کیا جائے،تاکہ وہ بھی بھلائی اور امن و امان کے ماحول کو پروان چڑھانے میں معاون و مددگار ہوں۔

اس موقع پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ چونکہ آپ کا مقصد سوشل میڈیا پر سرگرمی انجام دیتے ہوئے صرف یہی ہے کہ امن و امان اور بھائی چارے کا ماحول پروان چڑھے،عوام الناس جن مسائل سے دوچار ہیں، ان کے سامنے آپ ایک متبادل نظام کا تعارف اور ماڈل پیش کرنے کی پوزیشن میں آئیں۔لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر انسان کی عزت نفس اور مقام و حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے،اس کو کسی بھی سطح پر ٹھیس نہ پہنچنے دیں،اسے غیر ضروری طور پر تنقید کا نشانہ ،نہ بنائیں،اس کی تحقیر میں آپ خوشی نہ محسوس کریں،اسے آپ اپنا حریف نہ سمجھیں اور نہ ہی ایسے حالات پیدا کریں جس کے نتیجہ میں وہ آپ کا حریف بن جائے،غیر ضروری بحث و مباحثہ سے پرہیز کریں،غیر ضروری میسیجز بھیجنے سے پرہیز کریں،وقت کا ضیاع نہ کریں،حقیقی رشتوں کی حق تلفی اورمصنوعی رشتوں میں فرق کریں،اسلامی اخلاقیات و حدود کا اپنے قول و عمل،انداز گفتگو،بحث و تکرار،تمام ہی مرحلوں میں لحاظ رکھیں، اسے ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔دوسرا شخص چاہے کس قدر بھی آپ کو ورغلائے، مشتعل کرے،آپ مشتعل نہ ہوں بلکہ اس پر پھول برسائیں،اس سے ہمدردی کا اظہار کریں،اس کی باتوں کو نظر انداز کریں،اور اُس سے اِس قدر ہمدردی حاصل کرلیں کہ وہ آپ کو اپنا مخلص محسوس کرے،آپ کو اپنا خیر خواہ ماننے لگے۔ان حالات ہی میں ممکن ہے کہ سوشل میڈیا کا ہم بہتر استعمال کر تے ہوئے اس میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بن پائیں گے!

MOAHAMMAD ASIF IQBAL
Media Secretary
JIH Delhi & Haryana
Email:maiqbaldelhi.blogspot.com

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اسلامی آئیڈیالوجی۔ تفہیم و انطباق

ڈاکٹر محمد رفعت 22؍ جون 2018کو یہ تقریر ایس آئی او کے ...