بنیادی صفحہ / نظر / سماجی تبدیلی :سماجیاتی نقطہ نظر

سماجی تبدیلی :سماجیاتی نقطہ نظر

ڈاکٹر امتیاز احمد



’ تبدیلی (Change) ‘کا لفظ جب بھی ہم سنتے ہیں تو ہمیں کسی چیز کے تعلق سے نئے پن اور ماضی سے مختلف ہونے کا احساس ہوتا ہے۔یہ ایک مستقل ہونے والا عمل ہے۔انسان کو تبدیلی کا احساس ہو یا نہ ہو، لیکن یہ مسلسل مختلف رفتار سے جاری رہتا ہے۔انسان کی بقا کے لئے تبدیلی کا ہونا ناگزیر ہے، چونکہ انسان کی فطرت میں حرکت ہے ، جمود نہیں ہے۔انسان لامتناہی ضروریات و خواہشات رکھتا ہے، اور اپنی ذہنی و جسمانی قوتوں کے استعمال کے ذریعے وہ ان ضروریات کی تکمیل میں ہمہ تن کوشاں رہتا ہے جس کی وجہ سے تبدیلی واقع ہوتی ہے۔اسی لئے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ’تبدیلی (Change) ‘فطرت انسانی کا لازمی جز ہے۔
تبدیلی بہت وسیع و ہمہ گیر تصور ہےجس کا وقوع (Occurrence) ہمیں دنیا کی تمام چیزوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔جہاں ایک طرف ماحولیات اور انسانی حیاتیات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے ، وہیں دوسری جانب انسانی سماج میں بھی تبدیلی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ دنیا کا ہر سماج تبدیلی کے عمل سے گزراہے، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سماج کے تمام ہی اداروں میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئی ہے۔خاندان ، مذہب ، سیاست، معیشت اور شادی بیاہ کے ادارے میں بڑی نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ان سماجی اداروں میں تبدیلیاں دو نوعیت کی رہی ہیں؛ ایک ان کی شکل و صورت اور ڈھانچے(Structure) میں تبدیلی، اور دوسرے ان کی کارکردگی اور افعال (Functions) میں تبدیلی۔
اس مضمون میں ہم سماجی تبدیلی کو سماجیاتی نقطہ نظر(Sociological Perspective) سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ سماجیات میں سماجی تبدیلی کا کیا مفہوم ہے،سماجی تبدیلی کب، کیوں اور کیسے واقع ہوتی ہے، اس کی سمت اور رفتار کیا ہوتی ہے، تبدیلی کی رفتار مادی اشیاء میں تیز ہوتی ہے یا غیر مادی اشیاءمیں، ان میں سے کسی ایک میں تبدیلی کی رفتار کے سست پڑ جانے سے انسانی برتاؤ میں کیا تبدیلی رونما ہوتی ہے،سماجی تبدیلی کے حوالے سے ماہرین سماجیات کے کیا نظریات ہیں اورسماجی تبدیلی کے کیا طریق (Processes) بیان کئے جاتے ہیں۔ان تمام پر گفتگو مضمون(Discipline) کی مدد سے کی جائے گی
اولاً ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کسی بھی قسم کی تبدیلی کو ہم سماجی تبدیلی نہیں کہہ سکتے ، یعنی کسی چیز کا بڑھنا یا کم ہوجانا ، یا اس کی شکل و شباہت میں کسی قسم کے بدلاؤ کو ہم محض’تبدیلی ‘کا نام دیتے ہیں، اسے’ سماجی تبدیلی ‘نہیں کہتے ہیں،جیسے جسمانی ارتقاء یا موسموں کی تبدیلی وغیرہ۔ یہ سماجی تبدیلی کا باعث تو بن سکتے ہیں، لیکن ان میں تبدیلی کو ہم عین سماجی تبدیلی سے تعبیر نہیں کر سکتے۔سماجیات (Sociology) میں سماجی تبدیلی سے مراد سماجی رشتوں(Social Relationships) ، سماجی ڈھانچوں (Social Structures) اورکردگی (Functions)میں تبدیلی ہے۔مثال کے طور پر ، انسان کے آپسی تعلقات، معیارات (Norms)، اقدار (Values)،حیثیت(Status) اور رول(Role) میں تبدیلی،اسی طرح سماجی اداروں کی شکل اور ڈھانچے میں تبدیلی جیسے خاندان کے ادارے میں مشترکہ خاندان سےنیوکلیئر خاندان(Nuclear Family) میں تبدیلی اور سماج کے تئیں اداروں کی کارکردگی میں تبدیلی کو سماجی تبدیلی کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔غرض یہ کہ سماجی تبدیلی کے معنی لوگوں کےملنے جلنے کے طور طریقوں میں تبدیلی،سماجی اقدار و معیارات میں تبدیلی ، انسانی تہذیب و معاشرت میں تبدیلی، سماجی درجہ بندی (Social Stratification) میں تبدیلی، سماجی اداروں اور تمدنی عناصر میں تبدیلی ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ سماجی ڈھانچے کے عناصر میں تبدیلی ہی سماجی تبدیلی ہے۔
ماہرین سماجیات کے مطابق سماجی تبدیلی کا مطالعہ دو سطح پر کیا جاتا ہے؛ ایک کو میکرو(Macro)اور دوسرے کو مائیکرو(Micro) کہتے ہیں۔وہ تبدیلی جو ساختیاتی (Structural) اور بڑے پیمانے پر ہوتی ہے، اور مجموعی طورپر سماج کے ہر حصے کو متاثر کرتی ہے وہ میکرو سطح کی تبدیلی کہلاتی ہے۔ مثلاً ، صنعتیانا (Industrialization) اورشہریانا(Urbanization) ساختیاتی تبدیلی ہے جس کا حلقہ اثر کافی وسیع ہے اور سماج کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس پر اس کے اثرات نہ ہوتے ہوں۔ اسی ضمن میں تہذیبی تبدیلی (Cultural Change)کو بھی شمار کیا جاتا ہے، جس سے مراد اقدار اور سماجی حیثیت میں تبدیلی ہے۔مثال کے طورپر ، خواتین کی حیثیت میں تبدیلی، ان کے تعلق سے سماج کے رویوں میں تبدیلی اور ذات پات کی شدت میں تبدیلی ہے۔اس کے بر عکس وہ تبدیلی جو چھوٹے پیمانے پر ہوتی ہے اور جس کےاثر ات محدود ہوتے ہیں۔ مثلاً ہمارے آپسی ملنے جلنے کے طور طریقوں اور رہن سہن میں تبدیلی وغیرہ مائیکرو(Micro) سطح کی تبدیلی کہلاتی ہے۔
سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کی نوعیت بھی ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی۔یہ ہمیشہ آہستہ اور ایک رخی نہیں ہوتی ہیں، بلکہ اس کا وقوع اچانک اور کئی رخی بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ملک کی سیاسی ساخت میں اچانک کوئی بڑی تبدیلی رونما ہو جس کے اثرات سماج کے تمام ہی اداروں پر پڑتے ہوں۔ اسی طرح ضروری نہیں ہے کہ مادی اور غیر مادی عناصر میں تبدیلی کا عمل ایک ساتھ ہو، چونکہ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ غیر مادی اشیاء جیسے کہ سماجی اقدار و معیارات کے مقابلے میں مادی اشیاء جیسے کہ تکنیکی آلات وغیرہ میں تبدیلی کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ جب ایسی صورتحال پیش آتی ہے تو سماج کا نظم و استحکام متاثر ہوتا ہے۔ مثلاً،شروع میں جب کمپیوٹر ، موبائل فون اور دیگر تکنیکی آلات سماج میں آئے تو اس وقت کے سماجی اقدار و معیارات لوگوں اس بات کی اجازت نہیں دے رہے تھے کہ وہ انھیں با آسانی قبول کر لیں، چونکہ مادی اشیاء میں تبدیلی کی وجہ سے سماج میں نئی چیزیں آئیں ، لیکن غیر مادی اشیاء میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے انھیں سماج میں قبولیت حاصل کرنے میں اور ان کے بہترین طریقہ استعمال کو سیکھنے میں بہت وقت لگا، جس کی وجہ سے سماج کی مادی اشیاء اور غیر مادی اشیاء میں پہلے جیسا توازن برقرار نہیں رہا۔لہٰذا اس دوران کئی قسم کے سماجی مسائل پیدا ہوئے۔دونوں مادی اور غیر مادی اشیاء میں اسی عدم توازن کو ولیم آگبرن کلچرل لیگ (Cultural Lag) کہتا ہے۔
سماجی تبدیلی کے تعلق سے مذکورہ بالا بنیادی گفتگو کے بعد اب ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ماہرین سماجیات نے اس حوالے سے کیا نظریات پیش کئے ہیں۔ اس ضمن میں ہم سماجی تبدیلی کا ارتقائی نظریہ، تصادم کا نظریہ، اور متدائر نظریہ کا مختصراً ذکر کریں گے۔
ارتقائی نظریہ : (Evolutionary Theory)سماجی تبدیلی کو مختلف ماہرین سماجیات نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ایک گروہ نے اس کی تشریح ارتقائی حوالے سے کی ہے۔ اس گروہ کا کہنا ہے کہ سماج میں تبدیلی اچانک واقع نہیں ہوتی ، بلکہ بتدریج اور مرحلہ وار شکل میں ہوتی ہے۔ سماجیات کا بانی اگست کومٹ اور معروف ماہر سماجیات ہربرٹ اسپینسر(Herbert Spencer) اس فکر کے زبردست حامی تھے۔ اسپینسر چارلس ڈارون کے حیاتیاتی ارتقائی نظریے سے بہت متاثر رہاہے، اور سماجی علوم میں حیاتیاتی ارتقائی سوچ کا فروغ اسی کے رہین منت ہے۔ اسپینسر نے ڈارون کے حیاتیاتی ارتقائی نظریے کی طرح سماجی علوم میں بھی اس اصول کو فروغ دینے کی کوشش کی کہ جس طرح سے حیاتیاتی اجسام مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ایک مضبوط اور مکمل شکل اختیار کر تے ہیں، بالکل اسی طرح سماج اور تہذیب بھی انھیں اصولوں کے تحت بتدریج ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔
اسپینسر کے کہنا ہےکہ ابتداء میں انسانی سماج کی شکل بالکل سادہ (Simple) تھی ۔ آہستہ آہستہ اس میں تنوع اور پیچیدگی بڑھتی گئی ہے۔ اس کے مطابق ارتقائی مراحل کے دوران جہاں سماج میں بہت قسم کی تفریقات (Differentiations) کا عمل مستقل جاری رہتا ہے، وہیں یکجہتی اور استحکام کا طریق بھی چلتا رہتا ہے۔یعنی جیسے جیسے سماج بڑھتا ہے اسی طرح سماج میں مختلف نوعیت کی پیچیدگیاں (Complexities) ،اور تفریقات (Differentiations) کے ساتھ ساتھ یکجہتی (Integration) کا عمل بھی چلتا رہتا ہے۔
اس نظریے کے مطابق تبدیلی لازمی اور قطعی واقعہ ہے، اسے کسی بھی صورت میں روکا نہیں جا سکتا اور یہ بتدریج ارتقاء کی طرف بڑھتی ہے۔نیز اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ سماج خواہ کسی بھی طرح کا ہو آج اس کی جو موجودہ شکل ہے وہ اپنے ماضی کی شکل میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔انسان کو سماجی تبدیلی کے لئے کوشش نہیں کرنی ہے ، کیونکہ تبدیلی کی قوتیں اشیاء کے اندر بذات خود موجود ہوتی ہیں جو وقت معین پر تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔
ارتقائی نظریے کا دوسرے اہم حامی اگست کومٹ ہے جسے سماجیات کا بانی کہا جاتا ہے۔کومٹ کے مطابق نہ صرف انسانی سماج ، بلکہ علم و تہذیب بھی تین ارتقائی مراحل سے گزرے ہیں:مذہبی مرحلہ(Theological Stage)، ما فوق الفطری مرحلہ(Metaphysical Stage) اور سائنسی مرحلہ (Positive Stage)۔ کومٹ کےمطابق دنیا کے تما م ہی سماج انھیں تین مراحل سے گزے ہیں ،اور انھیں مرحلوں سے گزرتے ہوئے سماج میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ امائل درکھائم نے میکانکی اتحاد (Mechanical Solidarity) اور نامیاتی اتحاد (Organic Solidarity) اورفرڈیننڈ ٹونیس نے جیمائن شافٹ(Gemeinschaft) اور جسیل شافٹ(Gesellschaft) کے حوالے سے سماجی تبدیلی کو ارتقائی نقطہ نظر سے واضح کیا ہے۔
الغرض سماجیات کے شروعاتی دور کے مفکرین میں یہ فکر غالب رہی ہے کہ سماج اور انسان دونوں متعینہ ارتقائی مراحل سے ہوتے ہوئے مزید پیچیدگی کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس سوچ کے حاملین میں مذکورہ بالا مفکرین کے علاوہ مارگن(Morgon)، ٹائلر(Tylor) اور ہاب ہاوس(Hobhouse) بھی ہیں۔ ان سب نے سماجی تبدیلی کے مراحل کو اپنے مخصوص مفروضات کی بنیاد پر الگ الگ ناموں سے تعبیر کیا ہے، لیکن سبھی نے اسے ارتقائی نقطہ نظر سے ہی دیکھا ہے۔
تصادم کا نظریہ : (Conflict Theory)اس نظریے کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ سماج میں ہمیشہ دو قسم کے گروہوں کے درمیان تنازع اور ٹکراؤ کی کیفیت رہتی ہے جس کی وجہ سے سماج میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔اس نظریے کے مؤیدین کا کہنا ہے کہ گروہوں کے مابین تصادم اور ٹکراو سماجی تبدیلی کی ایک اہم ضرورت ہے۔نیز اس نظریے کے مطابق پوری انسانی تاریخ باہمی تنازع اور ٹکراؤ کی تاریخ رہی ہے، دنیا کے ہر سماج میں گروہوں کے مابین ٹکراؤ کا عنصر ہمیشہ سے موجود رہاہے اور آج بھی ہے، جس کی وجہ سے سماج میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ آج تک سماج تبدیلی کے جن مراحل سے ہوتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہے وہ صرف اور صرف ٹکراؤ (Conflict) کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکاہے۔
اس نظریے کا سب سے بڑے مؤید کارل ماکس ہے۔اس کے مطابق انسانی سماج ہمیشہ سے دو گروہوں میں منقسم رہا ہے۔ایک وہ جو ذرائع پیداوار کا مالک ہوتا ہے ، اور دوسرا جو اس سے محروم ہوتا ہے۔ اول الذکر کو Haves اور ثانی الذکر کو Have Nots سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مارکس کے مطابق سماج میں تبدیلیاں معاشی تبدیلی کے باعث واقع ہوتی ہیں جو ان دونوں سماجی گروہوں کے درمیان تصادم کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مارکس کے نزدیک انسانی تاریخ گروہوں کے باہمی تصادم کی تاریخ ہے۔ تاریخ میں جتنے بھی ادوار گزرے ہیں خواہ وہ قدیم سماج (Ancient Society) ہو، جاگیردارانہ سماج (Feudal Society)یا آج کا سرمایہ دارانہ سماج (Capitalist Society)تمام ہی اسی تصادم اور ٹکراؤ کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ اور ٹکراؤ کا یہ سلسلہ جاری رہےگا یہاں تک کہ کمیونزم کا قیام ہوجائے ۔ مختصر یہ کہ اس نظریے کے مطابق گروہوں کے درمیان تصادم اور ٹکراؤ کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے جو سماجی تبدیلی کے لئے لازمی اور واحد عنصر ہے۔
متدائر نظریہ (Cyclical Theory) :سماجی تبدیلی کے حوالے سے یہ نظریہ کافی مقبول ہے۔اس نظریے کے حاملین میں اوس والڈ اسپنگلر(Oswald Spengler) ، آرنالڈ۔ جے۔ ٹو ائنبی (Arnold J. Toynbee) ،امریکی ماہر سماجیات پی۔اے۔سوروکن (P.A.Sorokin) اور ولفریڈو پریٹو ہیں۔
یہ نظریہ سماجی اور تمدنی تبدیلی کو انسان کی زندگی سے مشابہت دیتا ہے۔جس طرح انسان کی پیدائش ہوتی ہے، پھر اس کا نشو نما ہوتا ہے، عنفوان شباب کو پہنچتا ہےاور پھر بڑھاپے کے دنوں میں اس کے اعضاء کمزور ہوجاتے ہیں اور وہ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے،اسی طرح کسی سماج، قوم اور تمدن میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔کوئی بھی تمدن اپنے ابتدائی مراحل سے ہوتے ہوئے بام عروج کو پہنچتا ہے، پھر وہ زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔ یعنی تمدن کی ابتداء، عروج اور پھر زوال ہوجانے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔اسی لئے اسے متدائر نظریہ کہتے ہیں۔اسپینگلر نے مغربی تہذیب اور ٹوائنبی نے مصری تمدن کے تعلق سے کہا ہے کہ دنیا کے تمام تمدن کی طرح یہ بھی وجود اور ترقی کے مرحلے سےگزر کر اپنے اختتام کو پہنچے ہیں ۔ اس نظریے کے مطابق تمدن میں تبدیلی ہمیشہ اسی طرح اور انھیں مراحل کو طے کرتے ہوئے رونما ہوتی ہے ، اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔
ان دو مفکرین کے علاوہ مشہور ماہر سماجیات پی۔اے۔سوروکن(P.A.Sorokin) اورولفریڈو پریٹو (Vilfredo Pareto) کا نظریہ بھی سماجی تبدیلی کا متدائر نظریہ کہلاتا ہے۔ سوروکِن نے سماجی تبدیلی کا ’ پنڈولر نظریہ ‘ (Pendular Theory of Social Change) پیش کیا ہے۔ اس نے سماجی تبدیلی کو پنڈولم سے مشابہت دی ہے، اور پریٹو نے سرکولیشن آف الیٹ (Circulation of Elite) کا نظریہ پیش کیا ہے جس کے مطابق سماجی تبدیلی سماج کے معززین (Elites) کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے۔سماج میں تبدیلی کا یہ سلسلہ ہمیشہ اسی طرز پر جاری رہتا ہے۔اسی لئے ان نظریات کو متدائر نظریات (Cyclical Theories) کہتے ہیں۔
سماجیات میں سماجی تبدیلی کو مختلف طریق(Processes) کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے، اور یہ مانا جاتا ہے کہ یہ طریق سماجی تبدیلیوں کے باعث ہیں۔ اس ضمن میں ہم سب سے پہلے سنسکرتیانا (Sanskritization) کے تصور کو لیتے ہیں جسے ایم۔این۔سری نواس نے استعمال کیا۔ اس اصطلاح سے مراد نچلی ذات سےتعلق رکھنے والوں کا اعلیٰ ذات والوں کے عادات و رسومات کو اپنانا ہے تاکہ وہ ذات کی درجہ بندی میں اونچا مقام حاصل کر سکیں۔ یہ طریق ہندوستانی سماج کی تہذیبی تبدیلی کو سمجھنے میں بہت معاون ہے۔ملک کے تقریباً ہر حصے میں اس طریق کا عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس طریق کے ذریعے اگرچہ ذات پات کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، لیکن نچلی ذات والوں کے طور طریقے میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔
صنعتیانا (Industrialization) کے طریق کا استعمال بھی سماجی تبدیلی کو بیان کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس طریق کی وجہ سے زرعی معیشت ،صنعتی معیشت میں بدلی۔ لوگ روزگار کی تلاش میں گاؤں سے شہروں کی طرف منتقل ہوئے جس کے نتیجے میں سماج میں مختلف قسم کی تبدیلی واقع ہوئی۔ اس کے علاوہ بہت سے طریق ہیں ، مثلاً شہریانا، جدید یانا، مغربیانا وغیرہ جو ہندوستانی سماج میں تبدیلی کا باعث بنے ہیں۔ ان طریق کے علاوہ سماج میں تبدیلی کے مختلف اسباب و عوامل ہیں ،مثلاً طبیعاتی اور ماحولیاتی اسباب، سائنسی اور تکنیکی اسبا ب، تعلیمی ، تہذیبی ، سیاسی اور معاشی اسباب وغیرہ۔
سماجی تبدیلی ہمیشہ سے سماجیات کا ایک اہم موضوع رہا ہےجسے ہر وقت کے ماہرین سماجیات نے اپنے مخصوص طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے، اور آج بھی اس میدان میں مطالعہ و تحقیق کا عمل جاری ہے۔اس مضمون میں ہم نے سماجی تبدیلی کے حوالے سے سماجیات میں جو بنیادی مباحث ہیں اسی کا تذکرہ کیا ہے، اور حتی الامکان یہ کوشش کی ہے کہ اس عنوان کو ایک مضمون (Discipline) کے نقطہ نظر سے ہی بیان کیا جائے۔
(مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدر آباد میں بحیثیت فیکلٹی خدمات انجام دے رہے ہیں۔)

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اصلاحی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے سماجی تبدیلی کی سائنس کی سمجھ ضروری ہے: سید سعادت اللہ حسینی

(نوٹ : رفیق منزل کے حالیہ شمارہ کے نظر کا موضوع “سماجی ...