بنیادی صفحہ / نظر / رمضان، تقویٰ اور سماج

رمضان، تقویٰ اور سماج

ڈاکٹر محمد رفعت

ارکانِ اسلام کی اہمیت سے سب واقف ہیں۔ اسلام کے نظام میں ان کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”اسلام کی بنیاد، پانچ امور پر ہے۔ گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد(ﷺ) اس کے رسول ہیں، نمازقائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کی ادائیگی اور رمضان میں روزے رکھنا۔“

یہ پانچ اساسی امور ایسے ہیں کہ ان کا تعلق، ہر صاحبِ ایمان کی انفرادی زندگی سے بھی ہے اور پورے سماج سے بھی۔ ہر رکن اسلام کی اپنی معنویت ہے جو اس کے فیوض و برکات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ صومِ رمضان کا خاص فیض یہ ہے کہ اس سے اہلِ ایمان کو تقویٰ کی کیفیت حاصل ہوتی ہے (اگر وہ اس کے لیے ضروری کوشش کریں اور اللہ کا فضل بھی ان کے شاملِ حال ہو)۔ رمضان اور تقویٰ کے اس تعلق کے نشاندہی قرآن مجید میں اس طرح کی گئی ہے:

(البقرۃ:381) .یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْاْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ   

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔“

مسلم سماج اور رمضان:

رمضان کی آمد کے وہ سب لوگ منتظر ہوتے ہیں جو اپنی تربیت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ رمضان کے دنوں میں اللہ کی عبادت کرکے توقع رکھتے ہیں کہ ان کا ایمان تازہ ہوگا اور تقویٰ کی کیفیت ان کو حاصل ہوگی۔ ان کا یہ ذوق و شوق بہت مبارک ہے اور ان کے ایمان کی علامت ہے۔ البتہ ایسے نیک افراد کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ خود رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ، پورے مسلم سماج کو رمضان کے فائدوں میں شریک کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے دو کام ضروری ہیں۔ پہلا کام، رمضان کا استقبال ہے جس کا منصوبہ بند اہتمام ہونا چاہیے۔ دوسرا ضروری کام یہ ہے کہ رمضان کے پورے مہینے میں احترامِ رمضان کی تاکید کی جاتی رہے۔ ہر خاص و عام کو یاد دلایا جائے کہ یہ دن رمضان کے ہیں اور پورے مسلم سماج پر نیکی کی کیفیت چھا جانی چاہیے۔ اگر معقول عذر کی بنا پر کوئی روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو وہ بھی برسرِ عام کھانے پینے سے باز رہے۔ اسی طرح برائیاں سماج سے مٹ جائیں یا کم از کم علانیہ ان کا صدور نہ ہو۔ نیک افراد، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کااہتمام کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اندیشہ ہے کہ مسلم سماج کا قابلِ لحاظ حصہ، رمضان کی برکتوں سے محروم رہ جائے گا۔

 استقبالِ رمضان کے معنیٰ یہ ہیں کہ رمضان کی ابتدا سے چند دن قبل، مسلمانوں کو رمضان کے بارے میں بتایا جائے، اس کی اہمیت یاد دلائی جائے اور اس کے اندر انجام دیے جانے والے اعمالِ خیر کا تذکرہ کیا جائے۔ خود نبی کریم ﷺ نے استقبالِ رمضان کا اہتمام کیا ہے۔

استقبالِ رمضان کا خطبہ:

ماہِ رمضان کے شروع ہونے سے چند دن پہلے، نبوی نمونے کی پیروی میں، مسلمانوں کے ذمہ داروں کو رمضان کے استقبال کا اہتمام کرنا چاہیے۔ نبی ﷺ کے خطبہ کا ذکر اس حدیث میں ہے:

حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ دیا اور فرمایا:

”اے لوگو! تمہارے اوپر ایک بڑا بزرگ مہینہ سایہ فگن ہوا ہے۔یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے۔اس کی ایک رات ایسی ہے کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اللہ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اس شخص کے مانند ہے، جس نے دوسرے دنوں میں کوئی فرض ادا کیا۔جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ستر فرض ادا کیے۔رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ایک دوسرے سے ہمدردی کا مہینہ ہے۔اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔اگر کوئی شخص، اس مہینے میں کسی روزے دار کا روزہ کھلوائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنا اس روزہ دار کے لیے روزہ رکھنے کا ہے، بغیر اس کے کہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی واقع ہو۔ (راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کو یہ وسعت حاصل نہیں ہے کہ کسی روزے دار کا روزہ کھلوائے۔“ جواب میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:)

اللہ تعالیٰ یہ اجر اُس شخص کو بھی دے گا جو کسی روزدے دار کو دودھ کی لسی سے روزہ کھلوادے یا ایک کھجور کھلادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے۔اور جو شخص کسی روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ اس حوض سے پانی پی کر پھر اسے پیاس محسوس نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔یہ وہ مہینہ ہے جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے۔جس نے رمضان کے مہینے میں اپنے غلام سے ہلکی خدمت لی، اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔“

یہ خطبہ بہت جامع اور مؤثر ہے۔ اس میں رمضان کے مہینے کی اہمیت کے خاص پہلو یہ بتائے گئے کہ یہ برکت والا ہے خصوصاً لیلۃ القدر برکت والی رات ہے۔ اس میں نیکیوں کا اجر غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے۔ اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس میں رحمت و مغفرت ہے اور جہنم سے رہائی کا سامان ہے۔

رمضان کی اِن برکات کی نشاندہی کے ساتھ آپﷺ نے اس قیمتی خطاب میں رمضان کے اعمالِ خیر کی طرف توجہ دلائی: روزے (جو فرض ہیں)، راتوں میں قیام، اہلِ ایمان کے ساتھ ہمدردی، روزے دار کا روزہ کھلوانا، غلام (یا ملازم) سے ہلکی خدمت لینا۔

اِن اعمالِ خیر کے علاوہ دو اہم عبادتوں کا ذکر دیگر احادیث میں ہے یعنی آخری عشرے میں اعتکاف (جو فرضِ کفایہ ہے) اور صدقہ فطر کی ادائیگی (جو استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے)۔

روزے کا ظاہر:

حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی، دس گنی اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزے دار اپنی شہواتِ نفس اور اپنے کھانے پینے کو میرے لیے چھوڑتا ہے۔“ (یہ حدیث کا ابتدائی حصہ ہے)

حدیثِ نبوی کے مندرجہ بالا حصے میں صوم کی تعریف بیان ہوئی ہے یعنی ”اللہ کی رضا کے لیے کھانے پینے کو اور خواہشِ نفس کی تسکین کو چھوڑ دینا۔“

روزے کی روح:

روزے کے اس ظاہر کے ساتھ اُس کا ایک حقیقی مقصود ہے جس کو جاننا چاہیے۔ نبی ﷺ نے مندرجہ بالا ارشاد کے آخر میں فرمایا:

”روزہ ڈھال ہے، پس جب کوئی شخص، تم میں سے، روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ نہ اس میں بدکلامی کرے اور نہ دنگا فساد کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑے تو وہ اس سے کہہ دے کہ بھائی، میں روزے سے ہوں۔“

اس تنبیہ سے معلوم ہوا کہ روزے کے ظاہر کے ساتھ، اس کی روح پر توجہ ضروری ہے یعنی برائیوں سے بچنا (خصوصاً زبان کے غلط استعمال سے، مخلوقِ خدا کو تکلیف دینے سے اور سوءِ خُلق سے)۔ روزے کی اس اسپرٹ کی وضاحت ایک دوسری حدیث کرتی ہے:

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اگر کسی شخص نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔“

اس ارشادِ نبوی کا حاصل یہ ہے کہ روزے کا ظاہر تو اس لیے فرض کیا گیا تھا کہ روزے دار اس ظاہری شکل (یعنی کھانے پینے اور خواہش کی تسکین چھوڑ دینے) کے ذریعے اپنے نفس کو اللہ کی فرماں برادری کا عادی بنالیں۔ اب اگر نفسِ انسانی کی یہ تربیت نہ ہوئی اور انسان برائیاں کرتا رہا تو محض کھانا پینا چھوڑ دینے سے کیا فائدہ ہوا؟

روزے کی یہ روح (یعنی تقویٰ کا حصول) سامنے آجانے کے بعد ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ روزے کا حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کی تدبیر ”عزمِ صادق“ یعنی پختہ ارادہ ہے۔ اس قوت ارادی کو بیدارکرنے میں نیک لوگوں کی صحبت مددگار ہوتی ہے۔ اللہ کے مخلص بندوں کے حالات کا تذکرہ بھی صحبتِ صالحہ کا بدل ثابت ہوتا ہے۔ روزے کی برکات حاصل کرنے کی دوسری تدبیر، قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر تدبر ہے۔

قرآنِ مجید سے وابستگی:

انسان کی سعادت اس میں ہے کہ وہ اللہ پر مخلصانہ ایمان لانے کے بعد اُس کی اطاعت و فرماں برداری کا پکا ارادہ کرے اور راہِ حق پر یکسوئی و ہمت کے ساتھ چل پڑے۔ پھر یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم اور نفس کو اللہ کی بندگی کا عادی بنائے اور اس سلسلے میں اپنے آپ کو ذرا ڈھیل نہ دے۔ ضبطِ نفس کے ساتھ اُسے اپنے افکار، خیالات اور اندرون کی دنیا پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ وہ فلاح اسی وقت پا سکے گا جب وہ باطل افکار سے نجات پالے اور اللہ کی ہدایت کی روشنی میں زندگی گزارے۔ اندھیروں سے روشنی میں آنے کے لیے، اللہ کی کتاب — قرآنِ مجید سے وابستگی ضروری ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے روزے کی عبادت کے لیے اس مہینے (رمضان) کا انتخاب کیا، جس میں قرآن کا نزول ہوا۔ رمضان کی آمد اہلِ ایمان کو یاد دلاتی ہے کہ اب ان کو روزے رکھنے چاہئیں اور اسی طرح یہ بات بھی اہلِ ایمان کو یاد دلاتی ہے کہ اُن کو قرآن کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضاً أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوْا اللّٰہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo

                                                                                                             (سورہ البقرہ:185)

”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اَب جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تم کو بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔“

عظمتِ رمضان کے تقاضے:

رمضان کے مہینے کی عظمت کا راز یہ ہے کہ اس میں کتابِ ہدایت نازل ہوئی، یہ عظمت، اہلِ ایمان سے کچھ تقاضے کرتی ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں بیان کیا گیا ہے:

(الف)     اس مہینے کے روزے رکھیں۔

(ب)       نعمتِ ہدایت کا شکر ادا کریں یعنی ہدایت پر عمل کریں۔

(ج)        اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کریں یعنی دنیا میں حق کی آواز بلند کریں۔ جب خود حق سے آشنا ہوجائیں تو اسے چھپا کر نہ رکھیں بلکہ انسانوں کو اس سے واقف کرائیں۔ نبی کریم ﷺ کو یہ ہدایت، ان الفاظ میں دی گئی:

  یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَأَنْذِرْ o وَرَبَّکَ فَکَبِّرْo           (سورہ مدثر: آیات 1تا 3)

”اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے! اٹھو اور خبردار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔“

یہ سہ گانہ تقاضے اس وقت پورے ہوسکیں گے جب اہلِ ایمان، قرآن سے واقف ہوں۔ رمضان اس کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کو فرداً فرداً قرآن مجید پڑھنے کا اور اس پر غور کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ نمازِ تراویح میں اُن کو پورا قرآن سننا چاہیے تاکہ ان کے ذہن اور قلب، کتابِ ہدایت کی روشنی سے منور ہوسکیں۔ خود اللہ کے نبی ﷺ کو ہر سال قرآن سنایا جاتا تھا۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ”نبی ﷺ کے سامنے ہر سال (ماہِ رمضان میں) ایک مرتبہ قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا مگر جس سال آپ نے انتقال فرمایا، اس میں آپ کو دو مرتبہ قرآن مجید سنایا گیا۔ اور آپ ہر سال دَس دِن اعتکاف کیا کرتے تھے مگر جس سال آپ کی وفات ہوئی، اس میں آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔“

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ، بھلائی کے معاملے میں تمام انسانوں سے زیادہ فیاض تھے اور خاص طور پر آپ رمضان میں بے انتہا فیاض ہوتے تھے۔ جبریل علیہ السلام، رمضان کے دوران ہر رات کو رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے اور حضور انہیں قرآن مجید سناتے تھے۔ جب جبریل آپ سے ملتے تھے تو حضور بھلائی کے معاملے میں چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے۔“

نبی کریم ﷺ کا حضرت جبرئیلؑ کو قرآن سنانا اور حضرت جبرئیلؑ کا حضورﷺ کو قرآن سنانا،یہ دونوں کام مذکورہ بالا احادیث میں مذکور ہیں۔ مسلمان سماج کو یہ نمونہ سامنے رکھنا چاہیے اور رمضان المبارک میں قرآن سننے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے اور سنانے کا بھی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

شکستہ ناؤ سہی بادبان باقی ہے

صباء آفرین، جگتیال زندگی میں روز ایک نئے محاذ کا سامنا ہوتا ...