بنیادی صفحہ / صریر / دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

نسیم احمد غازی فلاحی، مدھرسندیش سنگم، نئی دہلی

(۱)
یوپی کے ایک شہر کے تعلیم یا فتہ ہندوخاندان کی ایک لڑکی کا لج میں اپنی مسلم سہیلیوں کے رابطے میں آکر اسلام سے متعارف ہوئی اور آخر ایک دن اس نے قبول اسلام کا ارادہ کر لیا۔ اپنے اس ارادے کا تذکرہ اس لڑکی نے اپنے باپ سے کیا۔ باپ کو اس خبر سے دلی شاک لگا مگر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اپنی اندرونی کیفیت کے برعکس اپنی بیٹی کی قابلیت کی تعریف کرتے ہوئے اس سے کہا کہ بیٹی! مجھے تمہاری عقل و دانش پر بھر وسہ ہے۔ میں نے تمہیں تعلیم اسی لیے دلائی ہے کہ تم جو فیصلہ کر و گی سوچ سمجھ کر صحیح فیصلہ کرو گی۔ اگر تم نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ تم نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔ ہماری خوشی تمہاری خوشی میں ہے اور ہم تمہاری خواہش اور خوشی کی تکمیل میں مزاحم نہیں بن سکتے۔ ہمیں تم سے دلی محبت ہے، تم ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو اس لیے ہم تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہیں۔
لڑکی نے باپ کی زبان سے اپنے بارے میں یہ کلمات سن کر اطمینان کی سانس لی اور وہ خوش ہو گئی کہ وہ اپنے ارادے کی تکمیل اب بآ سانی کر سکے گی۔
اس لڑکی کے باپ نے دکھانے کے لیے تو یہ حوصلہ افزا باتیں اپنی بیٹی سے کہہ دیں مگر وہ اندر ہی اندر بے چین اور فکر مند ہو گیا۔ اس نے بیٹی کے مستقبل کے لیے جو حسین خواب دیکھے تھے اسے وہ سب چکنا چور ہو تے نظر آرہے تھے۔ نیز سماج اور خاندان میں رسوائی کا اندیشہ الگ تھا۔ اس کے خیال میں اگر لڑکی مسلمان ہوگئی تو سماج میں اس کی ناک کٹ جائے گی اور عزت خاک میں مل جائے گا۔ اس لیے اس کے دن کا چین اور رات کی نیند جاتی رہی۔ مگر بیٹی کے سامنے اپنی اس بے چینی اور اضطراب کو بالکل ظاہر نہ ہونے دیا۔ البتہ بیٹی کو اس ’’گمراہی‘‘ سے بچانے کی تدبیر برابر سو چتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اسے زور زبردستی سے اس ’حرکت‘ سے باز نہیں رکھ سکتا۔ اس کے لیے توکوئی نفسیاتی اور حکیمانہ تدبیر ہی کا رگرہو سکتی ہے۔
ایک روز اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ جب وہ کالج سے واپس آئے تو فلاں مارکیٹ سے پانچ کلو آم لیتی آئے۔ بیٹی بائک سے کالج آتی جاتی تھی، چنانچہ باپ کے کہنے کے مطابق شام کو وہ آم لے کر گھر آگئی۔ اس کے باپ گھر پر موجود تھے، انہوں نے بیٹی سے کہا کہ ان آموں کو پانی کی بالٹی میں ڈال دو تا کہ وہ ٹھنڈے ہو جائیں۔ بیٹی نے فوراً آم کی تھیلی پانی کی بالٹی میں الٹ دی۔ اس نے جیسے ہی آم بالٹی میں ڈالے وہ چونک پڑی اور باپ سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ میں نے تو یہ آم چھانٹ کر تھیلی میں ڈالے تھے مگر کیا دیکھتی ہوں کہ اس میں آدھے سے زیادہ آم خراب ہیں۔ یہ تو بڑا دھوکہ ہو گیا۔ یہ کہہ کر بیٹی اپنے کو مجرم سمجھتے ہوئے خاموش ہو گئی۔ اس کے باپ نے اس سے دریافت کیا کہ اس نے یہ آم کہاں سے خریدے ہیں؟ بیٹی نے بتایا کہ آپ کی بتائی ہوئی مارکیٹ سے ایک میاں جی کی دوکان سے خریدے ہیں۔ یہ سن کر باپ نے اس سے کہا کہ بیٹی! یہ آم لے کر فوراً بائک سے چلی جاؤ اور انہیں واپس کر کے دوسرے آم لے آؤ۔ لڑکی وہ آم لے کر اسی دوکاندار کے پاس گئی جس سے اس نے آم خریدے تھے اور اس سے آم خراب ہونے کی بات کہی۔ دوکاندار نے اس پر حیرت اور ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اس بات کا سرے سے انکار ہی کر دیا کہ اس نے یہ آم اس کی دوکان سے خریدے ہیں۔ وہ لڑکی اس جواب سے ہکا بکا رہ گئی اور مایوس ہو کر گھر واپس آگئی۔ گھر پہنچ کر پوری بات اس نے اپنے باپ کو بتائی اور اداس ہو کر ایک طرف بیٹھ گئی جیسے اس سے کوئی جرم سرز دہو گیا ہو۔ اس کے باپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے لیے بالکل دلبر داشتہ نہ ہو اور اس بات کو اپنے ذہن سے بالکل نکال دے۔ اس طرح کے چھوٹے موٹے نقصانات تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اس لیے اسے اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
بات آئی گئی ہو گئی اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ ایک دن رات کو حسب معمول اس لڑکی کے باپ سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ اسی کمرے میں قریب ہی وہ لڑکی بھی سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ کچھ رات گزرنے کے بعد اس لڑکی نے محسوس کیا کہ اس کے باپ کروٹیں بدل رہے ہیں اور کبھی کبھاران کی زبان سے بے چینی کے ساتھ کچھ الفاظ بھی نکل رہے ہیں۔ لڑکی نے سمجھا کہ شاید ان کی طبیعت خراب ہے، اس لیے وہ بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔
اس نے اپنے باپ سے ان کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے البتہ نیند نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے لڑکی سے یہ بھی کہا کہ وہ آرام سے سو جائے اور ان کی فکر نہ کرے۔ جب نیند آئے گی تو وہ سو جائیں گے۔ لڑکی اپنے بستر پر واپس چلی گئی۔ اس کے باپ کی بے چینی اور بے قراری اور زیادہ بڑھنے لگی اور وہ پہلے سے زیادہ کراہنے کی آواز نکالنے لگے اور کروٹیں بدلنے لگے۔ لڑکی آواز سن کر پھر ان کے پاس گئی اور ان سے ان کی تکلیف معلوم کی۔ باپ نے پھر وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا اور لڑکی پھر اپنے بستر پر آگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر وہی کراہنے اور بے چینی کے ساتھ کروٹیں بدلنے کی آواز آئی تو لڑکی پھر اپنے باپ کے پاس گئی اور ان سے باصرار اپنی پریشانی بیان کرنے کی درخواست کی تاکہ اگر ضرورت ہو تو کسی ڈاکٹر سے رابطہ کیا جا سکے۔ اب اس کے باپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اسے اپنے ساتھ ڈرائنگ روم میں لے گئے۔ اسے اپنے پاس بٹھایا اور بڑے ہی دردبھرے انداز میں اپنی بیٹی سے اپنی بے چینی اور بے قراری کی وجہ بتاتے ہوئے کہا :
’’بیٹی! مجھے تم سے بے حد محبت ہے۔ تم میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہو۔ تمہیں میں نے بڑے لاڈ پیار سے پالا ہے۔ اسی لیے میں تمہاری ہر خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ جب چند روز قبل تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تم مسلمان ہو نا چاہتی ہو تو میں نے تمہاری خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے تمہیں اس کی بخوشی اجازت دے دی تھی۔ مگر آم والا جو واقعہ تمہارے ساتھ پیش آیا تو اس نے مجھے بے چین کر دیا اور میری راتوں کی نیند اڑا دی۔‘‘
بیٹی نے فوراً کہا کہ پاپا وہ تو چند روپیوں کا نقصان تھا، اس پر آپ اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں؟ اس پر اس کے والد نے آہ بھر تے ہوئے جواب دیا، بیٹی! چند روپیوں کے نقصان پر میں پریشان نہیں ہوں بلکہ میری پریشانی کی وجہ کچھ اور ہے۔ یہ کہہ کر لڑکی کے والد رونے لگے۔ لڑکی نے انہیں چپ کرایا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی پریشانی اس سے بلاتکلف بیان کریں۔ باپ نے بڑے ہی درد بھرے انداز میں آہیں بھرتے ہوئے کہا کہ بیٹی! دراصل یہ بات مجھے پریشان کر رہی ہے کہ صرف کچھ آموں کے لیے ایک مسلمان نے تمہیں دھو کہ دیا۔ پہلے تو اس نے آنکھیں بچا کر گلے سڑے آم تمھیں دے دئیے اور جب تم انھیں بدلنے کے لیے اس کے پاس گئیں تو اس نے جھوٹ بول کر صاف انکار کر دیا کہ وہ آم تم نے اس سے خریدے ہیں۔ اس واقعہ سے مجھے اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں مسلمان بن جانے کے بعد مسلمان تمہارے ساتھ دھوکہ نہ کردیں۔ تمہارا استحصال کر کے تمہیں مکھی کی طرح دودھ سے نکال کر پھینک نہ دیں۔ مسلمان بھروسے کے قابل نہیں ہیں۔ اس کا مشاہدہ تم نے خود کر لیا۔ میری پیاری بیٹی! چند کلو آم کا نقصان میرے لیے کوئی نقصان نہیں ہے البتہ اگر تمہارے ساتھ کوئی دھوکہ ہو گیا تو اسے میں برداشت نہیں کر پاؤں گا۔ بس انہیں باتوں کو سوچ سوچ کر میں پریشان ہو رہا ہوں اور اسی بات نے میری نیند اڑادی ہے۔ یہ کہتے کہتے اس لڑکی کے باپ پھر آبد یدہ ہو گئے اور ماحول کافی جذباتی ہو گیا۔
اسلام اور مسلم سماج کے بارے میں اس لڑکی کا کوئی وسیع مطالعہ نہ تھا، اس لیے باپ کی گفتگو سے وہ متأثر ہو گئی اور اسے بھی باپ کی بات میں وزن نظر آنے لگا اور وہ بھی اس اندیشے کا شکار ہو گئی جس کی طرف اس کے باپ نے بڑے ہی جذباتی اور ڈرامائی انداز میں اس کی توجہ دلائی تھی اور پھر اس نے اسلام قبول کرنے کا اپنا ارادہ ترک کر دیا۔
یہ عبرت ناک واقعہ میرے ایک دوست نے مجھے سنایا تھا۔ یہ بات کسی شک وشبہ کے بغیر کہی جا سکتی ہے کہ انسان کا اچھایا برا عمل اپنے مثبت یا منفی اثرات رکھتا ہے۔ جہاں کسی مسلمان کے ایک اچھے عمل سے متأثر ہو کر کسی کی زندگی کی گاڑی صحیح راستے پر آسکتی ہے وہیں دوسری طرف کسی کے برے عمل کے اثر سے کوئی راہ حق پر آتے آتے اس سے برگشتہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے نبیؐ کی حکیمانہ تعلیم یہ ہے کہ کسی برائی کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ جو مسلمان اپنا سامان فروخت کر تے وقت دکھاتے اچھا ہیں اور دیتے گھٹیا یا خراب ہیں، ان کے بارے میں اللہ کے نبیؐ نے فرمایا ہے کہ ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے لوگوں سے نبیؐ کی بیزاری کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس طرح کی بدعملی اور بد کرداری سے وہ کچھ وقتی فائدہ تو ضرور حاصل کر لیتے ہیں مگر دراصل وہ اسلام کو نقصان پہنچا نے اور بند گان خدا کو دین حق سے باز رکھنے کے مجرم ہیں۔قرآن مجید میں بھی اللہ کے راستے سے روکنے والوں کے لیے بڑی وعید آئی ہے۔ لوگوں کو ان کے مال میں گھاٹا دینا، ڈنڈی مارنا اور دھوکہ اور فریب دینا وغیرہ غلط کاموں کو دنیا و آخرت میں خسارے کا سودا قرار دیا گیا ہے۔ کیا مسلمان قرآن و حدیث کی ان ہدایتوں پر توجہ کرے گا؟
(۲)
اس عبرت ناک واقعے کے برعکس ایک دوسرا واقعہ جو خود ہمارے مشاہدے میں آیا ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح ایک مسلمان کی ایمانداری اس بات پر منتج ہوئی کہ کئی لوگوں نے دین حق قبول کر کے اپنے رب کی ہدایت کا راستہ اپنا لیا۔
یوپی ہی کے ایک شہر میں ایک ٹریفک انسپکٹر جنہیں لوگ بابو جی کہتے تھے سائیکلوں پر ٹوکن چیک کر رہے تھے۔ جن سائیکلوں پر ٹوکن نہیں تھے ان سے پیسے وصول کر کے ٹوکن دئیے جار ہے تھے اور اگر کوئی سائیکل والا پیسے جمع کرنے سے معذور تھا تو اس کی سائیکل ضبط کی جا رہی تھی۔ یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ ایک داڑھی والے مسلمان (ملاّجی) کی سائیکل کا رندوں نے چیک کی۔ اس پر ٹوکن نہیں تھا۔ ان سے پیسے جمع کرانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے پیسے جمع کرانے سے معذرت ظاہر کی۔ اس پر کارندوں نے ان سے سائیکل جمع کرنے کے لیے کہا۔ ملاَّجی قریب ہی کرسی پر بیٹھے بابوجی کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ ان کے پاس ٹوکن بنوانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ان کی سائیکل چھوڑدی جائے۔ وہ چوڑیاں فروخت کرنے کے لیے جارہے ہیں۔ جیسے ہی چوڑیاں فروخت ہوں گی وہ فوراً رقم ادا کر کے ٹوکن بنوالیں گے۔
بابو جی نے ملاّجی سے کہا کہ جناب ہم نہ جانے کتنے لوگوں کو اس وعدے پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ بعد میں آکر ٹوکن بنوالیں گے مگر ہمارے مشاہدے میں یہی آیا ہے کہ کوئی واپس آکر ٹوکن نہیں بنواتا۔ ملاّجی نے عرض کیا کہ جناب میں مسلمان ہوں، میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ چوڑیاں فروخت ہوتے ہی آپ کے پاس آکر ٹوکن بنوالوں گا۔ بابوجی نے ملاجی کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور چھوڑ دیا۔ ملاجی شکریہ ادا کر کے اپنی سائیکل لے کر چلے گئے۔ کچھ ہی دیر کے بعد ملاجی کی کچھ چوڑیاں فروخت ہو گئیں اور وہ فوراً ٹوکن بنوانے کے لیے بابوجی کے پاس آگئے اور ان سے ٹوکن بنوانے کی درخواست کی۔ بابوجی اعلیٰ ذات کے ہندو خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور مسلمانوں کے سلسلے میں ان کی رائے اچھی نہیں تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ ملاّجی تو بڑے سچے ثابت ہوئے اور حسب و عدہ پیسے ملتے ہی ٹوکن بنوانے آگئے، جب کہ ان کے تجربے اور مشاہدے کے مطابق اس سے قبل جن لوگوں کو بھی چھوڑا گیا وہ وعدے کرنے کے باوجود واپس نہیں لوٹے۔ بابوجی کے مشاہدے میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ کوئی چھوٹنے کے بعد ٹوکن بنوانے کے لیے آیا تھا۔ انہیں اس بات سے مزید حیرت ہوئی کہ یہ کردار پیش کیا تو ایک مسلمان نے جس سے انہیں اس ایمانداری کی توقع نہ تھی ۔
بابوجی اس بات سے بے حدمتأ ثر ہوئے۔ حالانکہ بات چند پیسوں کی تھی۔ مگر کردار کر دار ہوتا ہے اس کے حصے بخرے نہیں ہوتے۔ انسپکٹر صاحب نے ملاّجی کو بڑے ادب سے پاس رکھی کرسی پر بیٹھایا اور ان کا ٹوکن بنوادیا۔ رسماً ان کی تعریف کے چند کلمات کہے اور ان کا نام وپتہ دریافت کیا۔
یہ ملاّجی جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے اور بابوجی کے مکان کے قریب ہی رہتے تھے۔ بلکہ ان کو اپنے گھر جانے کے لیے انسپکٹر صاحب کے مکان کے سامنے سے ہی گزرنا پڑتا تھا۔
بابوجی اکثر اپنے گھر کے سامنے چارپائی یا کرسیاں ڈال کر بیٹھتے ۔ ان کے دوست و احباب اور دیگر لوگ جو اپنے کسی کام سے بابوجی کے پاس آتے تھے، ان کی مجلس بھی جمتی۔ بابوجی کے گھر کے سامنے سے گزرتے وقت ملاّجی کی نظر بابوجی پرپڑتی تو وہ ان کو سلام کرکے گزر جاتے۔ بابوجی ان کے سلام کا جواب دیتے۔ بابوجی چونکہ ملاّجی کے کردار سے متأثر تھے اس لیے ان سے ایک طرح کی انسیت بھی ہو گئی تھی۔ کردار اپنا نقش لازماً چھوڑ تا ہے۔یہ سلسلہ کئی روز تک چلا۔ ایک روز ملاّجی حسب معمول بابوجی کے گھر کے سامنے سے ان کو سلام کرتے ہوئے گزر رہے تھے تو بابوجی نے ان سے بیٹھنے کی درخواست کی۔ملاَّ جی مصافحہ کرکے پاس ہی رکھی کرسی پر بیٹھ گئے۔ بابو جی نے ان کی خیریت معلوم کی اور چائے وغیرہ سے ان کی تواضع کی۔ اب اس طرح کی مجلسوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور پھر شروع ہوگیا دین حق اسلام پر گفتگو، اسلامی کتابیں پڑھنے پڑھانے اور سوال و جواب کا سلسلہ۔ اسلام کے بارے میں نہ صرف بابوجی اور ان کے اہل خانہ کی غلط فہمیاں دور ہونے لگیں بلکہ وہ اسلام سے متأثر بھی ہونے لگے۔ زندگی کی پہیلی حل ہونے لگی۔ دنیا میں آنے کا مقصد اور انسان کی حقیقی منزل آخرت کا تصور دل و دماغ میں راسخ ہونے لگا۔ قصہ مختصر یہ کہ ربِ کریم کے بھیجے ہوئے دینِ رحمت اسلام نے اپنا اثر اور کرشمہ دکھایا اور بات اس حد تک پہنچ گئی کہ بابوجی کے خاندان کے پندرہ افراد نے آگے پیچھے اسلام قبول کر کے اپنے رب کی صراط مستقیم کو پالیا۔ اس طرح ایک مسلمان کا اسلامی کردار متعدد افراد کی جہنم سے نجات اور حصول رضائے رب (جنت) کا ابتدائی ذریعہ بن گیا۔(ان شاء اللہ العزیز)
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے عروج اور اسلام کی اشاعت میں دراصل اسلامی کردارہی کارفرما ر ہا ہے۔ یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جو اپنا اثر ہر طرح کے دور اور ہر حالات میں دکھاتا رہے گا۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے عزت وسر بلندی کی آرزور کھنا اور اشاعت دین حق کے خواب دیکھنا ہم مسلمانوں کی نادانی کے سوا کچھ نہیں۔ ابھی حال ہی میں ہم نے اسی کر دار کا ایک شاندار کر شمہ دیکھا کہ مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانے والا اور ان کا ایک کٹر دشمن، جو مسلمانوں کی تباہی کے الزام میں جیل میں بند تھا، اس کے ساتھ ایک مسلم نوجوان قیدی کے حسن سلوک نے اس دشمن اسلام کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس نے اپنے ضمیر کی آواز پر اپنے جرم کو قبول کیا اور اس طرح مسلمانوں پر قیامت ڈھانے والا یہ شخص مسلمانوں کے لیے عافیت کا سبب بن گیا۔ میرا اشارہ سوامی اسیمانند اور کلیم کی طرف ہے۔ سوامی اسیمانند کو مالیگاؤں بم دھماکوں کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس حادثے میں متعد د مسلمان زخمی اور شہید ہو گئے تھے۔ کلیم کو بھی اسی الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ کلیم نے اس بات کی پر واہ کئے بغیر کہ سوامی اسیمانند کی مذموم اور سنگد لانہ حرکت کی وجہ سے ہی اسے ناکردہ گناہ کی سزا دی گئی ہے، اس مسلم نوجوان نے اپنے دشمن اسیمانند کی خوب خدمت کی اور اس کے سامنے اسلامی کردار پیش کرتا رہا۔ اس کے حسن سلوک نے سوامی جی کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور سوامی جی نے اپنے ظالمانہ اور بہیمانہ جرم کو مبینہ طور پر قبول کر لیا اور بر ملا اس مسلم نوجوان کی ستائش بھی کی۔ مسلم نوجوان کلیم نے جو کردار پیش کیا وہ دراصل قرآن کی تعلیمات کے مطابق تھا۔ اللہ نے قرآن مجید میں دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے سلسلے میں مسلمانوں کو واضح طور پر یہ ہدایت دی ہے کہ تم برائی کا بدلہ بہترین حسن سلوک سے دو۔ اس کے نتیجے میں تم دیکھو گے کہ جس سے تمہاری دشمنی اور عداوت تھی وہ تمہارا جگری دوست بن گیا ہے۔ (قرآن،۴۱:۳۴) قرآن کی اس ہدایت کا اثر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ جس دن مسلمان صحیح معنوں میں اسلامی کردار کے حامل بن جائیں گے اسی دن سے اس کے شاندار نتائج ان کے سامنے آنے لگیں گے اور اس طرح نہ صرف یہ کہ وہ اپنے لیے عافیت و سلامتی و اخروی نجات کا سامان کریں گے بلکہ عام بندگان خدا کے لیے بھی سلامتی وہدایت کا ذریعہ بن جائیں گے۔ حفیظ میرٹھیؒ نے کیا خوب کہا ہے۔
تحریرسے ممکن ہے نہ تقریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

درس گاہوں میں نفرت

شبیع الزماں (پونہ)  ہندوستان میں فرقہ پرستی اور نفرت نے اب سیاست ...