بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / دیماپور سانحہ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا

دیماپور سانحہ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا

ذرائع ابلاغ آج کل نہ صرف رائے عامہ ہموار کرتا ہے بلکہ مسائل کی ترجیحات بھی طے کردیتاہے۔ جس مسئلہ کی جانب میڈیا متوجہ ہوتا ہے اسے ساری قوم اہم سمجھ لیتی ہے اور جس کی جانب سے وہ صرفِ نظر کرتا ہے سارے لوگ اس کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ میڈیا کی اس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے شاطر حضرات بڑی صفائی کے ساتھ اپنی دلچسپی کے مسائل کو موضوع بحث بنا دیتے ہیں اور اپنے خلاف رونما ہونے والے واقعات پر پردہ ڈالتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک وقت میں تمام اخبارات کی شاہ سرخی کسی ایک خبر کے ارد گرد گھومتی ہے۔ تمام ٹی وی چینلس پر اکثر بریکنگ نیوز یکساں ہوتی ہے۔ اس معاملے میں جہاں بھیڑ چال کا دخل ہے وہیں قارئین اور سامعین کا دباؤ بھی کارفرما ہوتا ہے کہ وہ اس خاص خبر کے علاوہ کسی اور کو نہ پڑھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور نہ دیکھنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی چینل اپنی راہ بدلتا ہے تو ناظرین اس سے رخ پھیر لیتے ہیں۔مختلف نظریات کے حامل بھانت بھانت کے افراد کے لئے کسی خاص خبر کی یکساں اہمیت غیر فطری ہونے کے باوجود عام سی بات ہے۔
کشمیر میں مسرت عالم کی عدالتی رہائی پر برپا ہونے والا ہنگامہ اور ناگالینڈکے دیما پور میں شریف الدین کے بہیمانہ قتل پر اختیار کی جانے والی خاموشی اس تلخ حقیقت کا عظیم مظہر ہے۔ عدالتی حلقوں میں بائبل کی ایک مثل بہت مشہور ہے کہ ایک ہزار قصور وارافراد کا رہا ہوجانا کسی ایک بے قصور کے تختۂ دار تک پہنچ جانے سے بہتر ہے۔یہاں اس کے برعکس ہوگیا۔ ایک بے قصور ۵؍ سال کی غیر قانونی حراست کے بعدضمانت پر رہا ہوا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے ایک ایسے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جسے خود حکومت نے بلاواسطہ تسلیم کرلیا اور اس کے مرتکب مجرمین کو کورٹ مارشل کرکے سزا سنا دی۔ مذکورہ احتجاج کو اس سختی کے ساتھ کچلا گیا کہ پتھروں کے جواب میں گولیاں برساکرتقریباً ۵۲۱؍ مظاہرین کو ہلاک کردیا گیا جن میں بڑی تعداد نوجوان طلبہ اور بچوں کی تھی۔ ایک پولس افسر نے یہ الزام تک لگایا کہ وزیراعلیٰ نے مسرت کو قتل کرنے کی پیشکش تک کی تھی۔ جب ملزم کے خلاف کوئی نیا الزام نہیں گھڑا جاسکا تو وہ رہا کیا ہو گیا کہ جموں سے لے کر دہلی تک اور سڑک سے لے کر ایوان تک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
اس کے برعکس ناگا لینڈ کے دیما پور میں ایک بے قصور شخص پر جھوٹا الزام لگا یا گیا۔ عوام کا جم غفیراسے جیل کے اندرسے نکال لے گیااور دن دہاڑے پولس اہلکاروں کے سامنے برہنہ کرکے ہلاک کردیا۔ لوگ اس کی موت کا جشن مناتے رہے۔ اس کی ویڈیو اور تصویریں لے کرسوشل میڈیا کے ذریعہ ایک دوسرے کو روانہ کرکے دادِ تحسین وصول کرتے رہے۔ ذرائع ابلاغ اس کے متعلق نت نئے جھوٹ پھیلاتا رہا۔پربھو چاؤلا جیسا سلجھا ہوا صحافی اس کی ہلاکت کو حق بجانب ٹھہرا کر اس پر تنقید کرنے والوں کو کوستا رہا۔ کوئی بنگلہ دیشیوں کے خلاف شمال مشرقی قبائلیوں کے اندر پائے جانے والے غم و غصہ کا سہارا لے کراس ظلم کو جائز ٹھہراتا رہا تو کوئی عصمت دری کے معاملے میں عدالتی سست روی کا جواز فراہم کرتا رہا۔
دیما پور سینٹرل جیل کے سربراہ چبا فوم کی مرکزی حکومت کو بھیجی گئی چونکا دینی والی رپورٹ اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں کواجاگر کرتی ہے۔ فوم کے مطابق صبح ساڑھے ۱۱؍ بجے ہجوم کے جیل کے باہر جمع ہونے کی اطلاع ضلعی انتظامیہ کو دی گئی اور بتایا گیا کہ وہ جیل توڑ کر اندر گھسنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوپہر بعد جو حفاظتی دستہ پہنچا وہ ناکافی تھا۔ ان کی تعیناتی کو دیکھ کر مجمع بے قابو ہونے لگا تو انتظامیہ نے انہیں کارروائی سے روک دیا۔ اس اقدام نے بلوائیوں کے حوصلے بلند کردئیے جو جیل توڑ کر اندر داخل ہو گئے اور ایک ایک بیرک میں گھس کر شریف الدین کو تلاش کرنے لگے۔
اس کارروائی کے دوران شریف الدین تو ان کے ہاتھ نہیں آیا لیکن کئی قیدی بھاگ کھڑے ہوئے جن میں نیشنل سوشلسٹ کاؤنسل آف ناگالینڈ کے دو خطرناک باغی بھی تھے جنہیں این آئی اے کے تحت گرفتار کرکے کڑی حفاظت میں رکھا گیا تھا۔ کوئی بعید نہیں کہ قتل کے پس پردہ قیدیوں کی رہائی مقصود ہو اس لئے کہ مسرت عالم کی عدالتی رہائی پر شور و غوغا مچانے والے کسی فریق نے ان دوجنگجووں کی بزور بازو رہائی پر تشویش کا اظہار نہیں کیا بلکہ وہ اہم خبر کئی دنوں تک افواہوں کے ملبے تلے دبی رہی۔ اپنی پہلی کوشش میں جب بلوائی شریف الدین کو شناخت نہیں کرسکے تو سوشل میڈیا کے ذریعہ اس کی تصویرحملہ آوروں کو فراہم کی گئی اور وہ دوسری کوشش میں شام ساڑھے ۴؍ بجے اس پر ہاتھ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے۔
انتظامیہ کی نیت اگر ٹھیک ہوتی اور ارادہ پختہ ہوتا تو ساڑھے پانچ گھنٹے کا وقفہ بلوائیوں پر قابو پانے کے لئے کم نہیں تھا لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ کی بلوائیوں کے ساتھ ملی بھگت تھی۔ وہ اپنے سیاسی آقاوں کے اشارے پر اس ظلم کے ارتکاب میں شریک ہو گئے تھے ورنہ شریف الدین کو بچانا ایک نہایت سہل کام تھا۔ شریف الدین کی موت کے بعد جب مجمع چھٹ گیا تو انٹر نیٹ سے مار کاٹ کے صفحات ہٹانے کی درخواست کی گئی جو مجرمین کی بلاواسطہ پردہ پوشی تھی۔ جب ذرائع ابلاغ میں شور ہوا تو گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا لیکن یہ خبریں بھی آئیں کہ اکثر قاتل بے روک ٹوک گھومتے ٹہلتے نظرآئے۔ جن افسران کو معطل کیا گیا ان میں بے قصورجیلر چبا فوم بھی شامل ہے جو حملے کو روکنے کے لئے مدد کی گہار لگاتارہا۔
مرکزی حکومت نے اس اندوہناک واقعہ پرکوئی سخت اقدام کرنے بجائے گھڑیالی آنسوبہانے پر اکتفاء کیا اور وہ بھی اتنے کم تھے کہ ٹپکنے سے قبل خشک ہو گئے۔ریاستی انتظامیہ جوکام کے وقت خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی اور بعد میں اپنی بے بسی کا رونا رو رہی تھی اب تصاویر کی بنیاد پر قاتلوں کی گرفتار ی کا ڈرامہ کررہی ہے۔ لیکن ان گرفتار شدگان میں سے کسی کو سزا بھی ہوسکے گی اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ یہ حقیقت اب ہر زیدو بکر جانتا ہے کہ ہماری عدالتیں سیاسی دباؤ میں کام کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار کے بدلتے ہی کلین چٹ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔اقتدار میں آتے ہی امیت شاہ سے لے کر نریندر مودی تک سارے لوگ عدالت کو بے قصور نظر آنے لگتے ہیں۔تفتیشی ایجنسیاں ایک دم سے اپنا رخ بدل دیتی ہیں اچانک انہیں منموہن سنگھ کے ہاتھ کوئلے کی دلالی میں کالے دکھائی دیتے ہیں اور سہراب الدین وپرجا پتی کا قاتل ونجارہ کا چہرہ روشن نظر آنے لگتا ہے۔ ایسے میں شریف الدین کے کتنے قاتلوں گرفتار کیا جائے گا؟کتنوں کے خلاف شواہد پیش ہوں گے؟ اور کتنے باعزت بری ہو جائیں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
ذرا تصور کریں کے اگر یہ واقعہ کسی مسلم ملک میں رونما ہوا ہوتا ، اس کا شکار ہونے والا فرد مسلم کے بجائے عیسائی یا ہندو ہوتا، اس پر حملہ کرنے والا مجمع عیسائی کے بجائے مسلمان ہوتا تو شور شرابہ کی نوعیت کیا ہوتی؟ مسلمانوں کی نفسیات اور مسلم معاشرے کی سفاکیت پر کس کس زاویہ سے اظہار خیال ہوتا؟ مسلم ممالک میں امن و سلامتی کی صورتحال اور مسلم تہذیب و تمدن پر کس طرح تنقید وتنقیص کے تیر برسائے جاتے؟ اسلامی تعلیمات کو کس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا اوراس کا الزام کس خوبی کے ساتھ قرآن و حدیث پر مڈھ دیا جاتا؟ امت سے کیسے صفائی طلب کی جاتی اور ہمارے علماء و دانشور کس طرح بلاوجہ کی مدافعت پر مجبور کئے جاتے یا اور کس طرح اس کارِ خیر میں شریک کرلئے جاتے ؟ لیکن اس بار صورتحال یہ تھی کہ صحافی حضرات مظلوم سے ہمدردی کرنے کے بجائے ظلم کا جواز پیش فرمارہے تھے۔
اس بابت سب سے پہلی افواہ تو یہ اڑائی گئی کہ مہلوک بنگلہ دیشی ہے۔ اگر یہ بات درست بھی ہوتی تو کیا کسی غیر ملکی ملزم کا جیل سے نکال کر ہلاک کردیا جانا درست ہے؟ کیا انتظامیہ کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ مشتعل ہجوم کو اس کام سے روکے؟ لیکن یہاں تو پتہ چلا کہ خود پولس بلوائیوں کی شریکِ کار ہے۔ بعد میں یہ راز افشاء ہوا کہ شریف الدین کا تعلق بنگلادیش سے نہیں بلکہ پڑوس کی ریاست آسام سے ہے۔ اس کے والد ائیر فورس میں تھے اوراس کی والدہ کو ہنوز فوج سے پنشن ملتی ہے۔ اس کاایک بھائی کارگل کی جنگ میں کام آچکا ہے اور دوسرا بھائی اب بھی آسام رجمنٹ میں برسرِ ملازمت ہے۔جس شخص کا پورا خاندان فوج میں ہو وہ بھلا اچانک بنگلہ دیشی کیسے ہوگیا اور اس کا قتل کیونکرجائز ہوگیا؟ حکومت نے اس غلط فہمی کو دور کیوں نہیں کیا؟ ذرائع ابلاغ نے بغیر تحقیق کے اسے نشر کیوں کیا؟
اس ظلم کاارتکاب کرنے والے یا اس کی حمایت کرنے والے عوام کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پر اس قدر جنون کیونکر طاری ہوگیا کہ وہ کھلے عام کسی کو قتل کرنے پر تل گئے؟ ان لوگوں نے جیل توڑکرکسی ملزم کوسرِعام پھانسی دینے جرأت کیسے کرڈالی؟ قانون اور نظم و نسق کا خوف کہاں غائب ہوگیا ؟ ضمیر کے اندر پائی جانے والی انسانیت کہاں مرگئی؟اس سوال کا جواب قوم پرستی کے نظریے میں پنہاں ہے۔ جب یہ نظریہ تمام حدود قیود سے نکل کر بامِ عروج پر پہنچتا ہے تو دیو استبداد میں تبدیل ہو جاتاہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ معصوم لوگ اسی سفاک نظریے کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ دونوں جنگ عظیم کے پیچھے یہی فتنہ کارفرما تھا۔ اس کے مقابلے جب اہل ایمان خدا پرستی کی دعوت دیتے ہیں تو انہیں قوم دشمن یا غدار وطن قرار دے دیا جاتا ہے۔حالانکہ وطن دوستی یا وطن سے محبت اور وطن پرستی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک صلہ رحمی اور انسانیت سکھاتی ہے اور دوسری انسان کو ایک خونخواردرندے میں تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے۔
شریف الدین کے معاملے میں کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا ہے کہ یہ سانحہ کسی غلط فہمی کے سبب رونماہوگیا۔ وہ دیما پور میں تقریباً دس سال سے مقیم تھا۔ اس کا اپنا کاروبار تھا۔ اس نے ایک قبائلی عورت سے شادی کررکھی تھی اور وہ اپنے بچے کے ساتھ وہاں رہ رہا تھا اس لئے دیماپور میں شریف الدین کوئی غیر مانوس اجنبی ہر گز نہیں تھا۔ اگر ایسا ہے تو یہ سانحہ کیوں رونما ہوگیا؟ اوراس عصمت دری کے واقعہ کی حقیقت کیا ہے؟ یہ دو سوالات اہم قرار پاتے ہیں۔ جو حقائق جستہ جستہ سامنے آرہے ہیں ان کے مطابق ناگا لینڈ میں حکومت کے علاوہ علیحدگی پسند تنظیموں کی متوازی سرکار ہے۔ وہ لوگ عوام سے یعنی کاروباری حضرات سے زبردستی روپیہ (جسے غیر دستوری ٹیکس کہا جاسکتا ہے) اینٹھ کر اپنا کام چلاتے ہیں۔ ان لوگوں نے واردات سے قبل شریف الدین سے ایک خطیر رقم کا مطالبہ کیا اور چونکہ وہ ادائیگی نہیں کرسکا اس لئے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تاکہ دیگر بیوپاریوں کو یہ پیغام دیاجائے کہ اگر انہوں نے بھی حکم عدولی کی جرأت کی تو انہیں بھی اپنی جان گنوانی پڑے گی اور کوئی ان کی مدد کے لئے نہیں آئے گا۔
دوسرا سوال عصمت دری کا ہے جس کا انکار شریف الدین نے موت سے قبل اپنے بیان میں کردیا تھا جبکہ ریاستی سرکار میڈیکل رپورٹ کو پردے میں رکھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس بابت یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طبی رپورٹ اس بات کی تصدیق تو کرسکتی ہے کہ زنا ہوا یا نہیں ؟ لیکن یہ پتہ لگانا کہ یہ زنا بالرضا تھا یا زنا بالجبرتھا علم طب کے بس کے باہرکی بات ہے۔ اگر کسی فریق نے مزاحمت کی ہو اور وہ زخمی ہوا ہو تو قیاس کیا جاسکتا ہے لیکن حتمی طور سے اس نتیجے پر پہنچنا کہ وہ زخم کب لگے۔مشکل امر ہے یعنی اس حالت میں مدعی اور شواہد کا بیان فیصلہ کن ہوگا۔
ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ جس لڑکی نے یہ الزام لگایا وہ شریف الدین کی اہلیہ کی رشتہ دار ہونے کے سبب اس کی شناساتھی۔ وہ لوگ ایک ساتھ کسی ہوٹل میں گئے تھے اور ہوٹل کے سی سی ٹی وی کیمرے کی تصاویر کے مطابق جب وہ دونوں ایک ساتھ واپس ہوئے تو ان میں کوئی ناراضگی یا کشیدگی نہیں تھی۔ ان تصاویر کو اگر طبی رپورٹ اور مدعی و مدعا علیہ کے بیان سے ملاکر دیکھا جائے تو یہ بات کھل جاتی ہے کہ زنا اگر ہوا بھی تھا تو وہ بالجبر کے زمرے میں نہیں آتا۔ اب صورتحال نہایت دلچسپ بن جاتی ہے۔ اسلام جب زنا بالرضا اور بالجبر کے درمیان فرق کئے بنا دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کا مطالبہ کرتا ہے تونام نہاد روشن خیال حضرات اسے قدامت پرستی قرار دیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ برضا و رغبت اس ارتکابِ گناہ سے معاشرے اور خاندان میں کیسا فساد برپا ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے اس میں عبرت کا یہ پیغام ہے کہ اگر ہم قانون کی چھوٹ کا فائدہ اٹھا کر اسلامی حدود قیود سے نکل جائیں تو اس کا خمیازہ ہمیں نہ صرف آخرت بلکہ اس دنیا میں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
سیاسی سطح پر یہ سانحہ بہت سارے روایتی مفروضات کی بیخ کنی کرتا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ ہندوستان کی حد تک ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے دشمن ہیں اور وہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول یعنی انتخابی کامیابی کی خاطر دنگا فساد کرواتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف ہندو عوام کو مشتعل کرتے ہیں۔ یہ خیال بھی عام ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ اور علاقائی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے تئیں اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرتی ہیں لیکن ناگالینڈ میں بالکل مختلف صورتحال سامنے آئی ہے۔ وہاں پر ہندووں کی نہیں بلکہ عیسائی اکثریت آباد ہے۔ اس لئے یہ خیال بھی غلط ثابت ہو گیا کہ عیسائیت قبول کر لینے کے بعد عوام کے اندر انسانی ہمدردی پیدا ہوتی اور وہ زیادہ مہذب ہوجاتے ہیں بلکہ یہ ثابت ہو گیا کہ قبائلی عصبیت کا فتنہ قومیت کے نظریہ سے کم مہلک وخطرناک نہیں ہے۔
سیاسی منظر نامہ اس طرح ہے کہ ناگا لینڈ کے اندر فی الحال جمہوری ناگا محاذ کی حکومت ہے۔ وہ گزشتہ ۱۱؍ سالوں سے برسرِ اقتدار ہے۔ اس کی سربراہی ایک علاقائی ناگا پیوپلس فرنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ اس جماعت نے گزشتہ سال ۶۰؍ میں سے ۳۸؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی اس لئے آئندہ ۴؍ سالوں تک اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ناگا محاذ کے حامی ارکان اسمبلی کی تعداد۶۰؍ میں سے۵۲؍ ہے۔بی جے پی کو اقتدار میں شامل ہونے کے باوجود صرف ایک نشست پر کامیابی ملی اس سے پتہ چلتا ہے کہ سنگھ پریوار کے اثرات نہایت محدود ہیں، بعد میں این سی پی کے ۳؍ منتخب ارکانِ اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو گئے جس سے یہ تعداد۴؍ پر پہنچ گئی۔ بی جے پی چونکہ ریاستی حکومت کا حصہ ہے اس لئے اپنی ہی سرکار کو مصیبت میں ڈالنے کے لئے وہ فساد کرانے کی حماقت نہیں کرسکتی اس کے باوجود شریف الدین کا عوام کے ہاتھوں اس طرح قتل ہوجانا اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ امت کا واحد دشمن سنگھ پریوار نہیں ہے بلکہ اگر کہیں وہ نہایت کمزور ہو تب بھی ملت مصائب وآلام کا شکار ہو سکتی ہے اس لئے دوسروں پر تکیہ کئے بغیر خود اپنے آپ کو اخلاقی اور سماجی سطح پر اس قدر مستحکم کرنا ناگزیر ہے کہ کوئی ہماری کمزوری کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔
دیماپور میں رونما ہونے والا سانحہ جہاں ایک طرف ہندوستانی معاشرے کو آئینہ دکھاتا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ حکومت ، انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے وہیں ملت اسلامیہ کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے من حیث الامت اپنی امر بالمعروف و نہی المنکر کی ذمہ داری سے روگردانی کی۔ خیر کو اپنانے کے بجائے خود بھی برائیوں میں ملوث ہو گئے تو اس کے انجامِ بدسے قیامت سے قبل اسی جہاں میں دوچار ہو جائیں گے۔ اگر ہم نے برائیوں کے بڑھتے سیلاب پر بند باندھنے کی کوشش نہیں کی تو ہم اپنے آپ کو بھی اس کے تیزبہاؤ سے نہیں بچا پائیں گے اور جب اللہ کا عذاب آئے گا تو اس درمیانی گروہ کی مانند اس کا شکار ہو جائیں گے جو برائیوں میں ملوث تو نہیں تھا مگر اس کے روک تھام کی سعی بھی نہیں کررہا تھا۔

ڈاکٹر سلیم خان، معروف سیاسی تجزیہ نگار

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

“کشمیر رک سا گیا ہے” – ملک معتصم خان

کشمیر کے حالات بچشم سر دیکھنے کے بعد ماہنامہ رفیق منزل سے ...