بنیادی صفحہ / ذکر / درجات کی بلندی

درجات کی بلندی

ڈاکٹر وقار انور

عن ابی ہریــرۃؓ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ: إن الرجل لیکون لہ عنداللّٰہ المنزلۃ فما یبلغہا بعمل فلا یزال اللّٰہ یبتلیہ بما یکرہ حتی یبلغہ ایاہا۔ (السلسلۃ الصحیحۃ،حدیث نمبر:۳۶۵۱)

’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن آدمی کااللہ تعالیٰ کے یہاں ایک مرتبہ اور درجہ ہوتا ہے، جس پر وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسے ایسی چیز کے ساتھ جسے وہ ناپسند کرتا ہے، آزماتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اسے اس درجہ پر پہنچا دیتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر بندہ مومن کو ایک ایسا مقامِ بلند عطا کرنے کا ارادہ کیا ہے جسے وہ خود اپنے عمل سے حاصل نہیں کرسکتا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ خود اپنے عمل سے حاصل ہونے والے معمول کے مقام سے زیادہ عطا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ بندوں کو امتحان میں مبتلا کرتا رہا ہے اور اس طرح سے ہر امتحان میں کامیاب ہوتے ہوتے بندہ اس اونچے مقام تک پہنچ جاتا ہے جس کا اللہ نے اس کے حق میں ارادہ کرلیا ہوتا ہے۔

اس طرح اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بندہ مومن کو اپنی دنیا کی زندگی میں جن آزمائشوں سے گزرنا ہوتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کے تحت ہے کہ وہ ان سے کامیاب گزر کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرلے اور بہترین اجر کا مستحق ہوجائے۔ حدیث میں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ آزمائشیں بندہ مومن کو بظاہر ناگوار گزرتی ہیں لیکن وہ حقیقتاً اس کے حق میں ہوتی ہیں۔

حدیث میں جو باتیں بتائی گئی ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ زندگی میں آنے والی مصیبتوں سے انسان گھبرا نہ جائے بلکہ اسے اس بات کا اطمینان حاصل ہو کہ ساری مشکلات اس ربِ کائنات کی اذن سے ہیں، جو ان کے ذریعے اسے اپنے سے زیادہ قریب کرنے کا موقع دے رہا ہے تاکہ جنت میں اس کا درجہ بہت زیادہ بلند ہو۔

دیگر احادیث کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جنت کا حصول کسی بندے کے صرف اپنے عمل سے ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے اعمالِ صالحہ کو قبول کرکے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس میں برکت دیتا ہے اور وہ جہنم کی آگ سے بچ کر جنت کے باغوں تک پہنچ جاتا ہے۔ درج بالا حدیث میں اس حقیقت سے آگے کی بات بتائی گئی ہے کہ بندئہ مومن جنت میں بھی اعلیٰ تر مقام تک پہنچ سکتا ہے اگر اس نے دنیا کی زندگی میں آنے والی مصیبتوں اور امتحانات کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا ہوگا۔

دراصل یہ حدیث مسلمانوں کے لیے تسلی کا باعث ہے۔ جب ایک شخص یہ دیکھتا ہے کہ اپنے ایمان کے درست ہونے اور عمل صالحہ پر کاربند ہونے کے باوجود دنیا میں وہ پریشان ہے اور دوسری طرف وہ لوگ جنھیں ایمان و عمل کی دولت نصیب نہیں ہے، خوش و خرم ہیں، تو ایک بندئہ مومن کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ کہیں اس کا خدا اس سے ناراض تو نہیں ہے اور اس طرح سے اس کا ایمان و عمل ضائع تو نہیں ہورہا ہے۔ اس طرح کا خیال اگر ایک انسان کو اپنے ایمان کو مزید پختہ کرنے اور عمل کو مزید بہتر بنانے کی طرف راغب کردے تو یہ خیال مطلوب ہے لیکن اگر اس طرح کے خیال سے مایوسی پیدا ہوتی ہو تو یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ یہ حدیث ایسے موقع پر انسان کو تسلی دیتی ہے کہ اس کا خدا اس کے ساتھ ہے اور جو پریشانیاں اور مشکلات درپیش ہیں وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں ہیں، جن سے اگر وہ حسنِ عمل کے ساتھ گزرگیا تو یہ اس کے لیے توشہِ آخرت ہوں گی۔

یہ حدیث اور اس مفہوم سے مماثل قرآنی آیات اور دیگر احادیث مسلمانوں کو ہمت دلاتی ہیں کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید کے ساتھ ہر طرح کے حالات میں ثابت قدم رہیں۔ دنیا کی یہ پریشانیاں بظاہر جتنی بھی سخت محسوس ہوتی ہوں لیکن ہیں وہ چند روزہ زندگی کے چھوٹے موٹے واقعات۔ آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کے موازنے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور پھر جو بھی واقعات پیش آرہے ہیں وہ از خود نہیںہورہے ہوتے ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتے ہیں اور اس کی مشیت کا جزء ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

بعد والے

ڈاکٹر وقار انور عن ابی ذر قال: قال رسول اللہ ﷺ اشد ...