خطوط

ماہ اکتوبر کا رفیق نظر نواز ہوا
ماہ اکتوبر کا رفیق منزل نظرنواز ہوا، سرورق پر چھپی تصویر مظفرنگر میں ہوئے خون آشام واقعات کی ترجمانی کررہی تھی۔ ملک میں بڑھتی فرقہ واریت کی آندھی نے ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک پر سیاہ داغ لگایا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ان فسادات کے رونما ہونے سے قبل اس پر قابو کیوں نہیں پاتی۔ ایسے میں جب کہ ہمارے ملک میں فسطائی طاقتیں منافرت کا بازار گرم کرکے ہندومسلم بے گناہوں کو اپنے شوق کی بھینٹ چڑھارہی ہیں، خفیہ ایجنسیوں کا کردار مشکوک کیوں ہے، جس کے نتیجے میں ہندومسلم آپس میں دشمن بنتے جارہے ہیں۔ ان حالات میں ہم سبھی کو اپنی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دینا ہوگا، جس کا تذکرہ ڈاکٹر سلیم الدین صاحب نے کیا ہے۔
سابق صدرتنظیم جناب محمد اظہرالدین صاحب کے خصوصی مضمون نے ہمیں بھولا سبق یاددلانے میں مدد کی، کہ ہماری نسبت واقعی سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملتی ہے، لیکن ہم نے قربانی کے جذبے، جو اللہ کو مطلوب ومقصود ہے، کو فراموش کردیا، جس کے سبب امت مسلمہ کا عظمت ووقار پارہ پارہ ہوکر رہ گیا۔
شکیل احمد، شاہ آباد، ہردوئی
مظفر نگر فساد پر اہم مضامین
رفیق کا تازہ شمارہ دیکھنے کو ملا، سرورق کی کہانی اور اس سے متعلق موضوعات کافی اہم ہیں، کافی اچھا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سلیم الدین صاحب کا تو پورا مضمون ہی کافی اہم ہے، اس پر تفصیلی تحریریں آنی چاہئیں، ان کی یہ بات کافی اہم معلوم ہوتی ہے کہ ’’امت مسلمہ کے یہاں داعیانہ کردار کے فقدان کی وجہ سے بھی بہت سی غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد ملت کی ایسی ہے، جو وطنی بھائیوں کو اسلام کی دعوت دینے کے سلسلے میں غفلت بلکہ پہلو تہی اختیار کرتی ہے۔ ایک بہت بڑی تعداد وطنی بھائیوں کی نفسیات، ان کے عقائد اورنظریات سے واقفیت نہیں رکھتی۔
جب ملک میں مخصوص ذہنیت کے حامل افراد کی جانب سے فرقہ وارانہ فسادات کرائے جاتے ہیں، ان مواقع پر مسلمان عموماََ بہت ہی صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں، مگر کچھ نوجوان ہمارے یہاں ایسے بھی پائے جاتے ہیں، جو ان حالات میں جذباتیت سے مغلوب ہوکر حکمت سے عاری ہوکر صبر وتحمل کا دامن چھوڑ دیتے ہیں، جس سے فسطائی طاقتیں فائدہ اٹھا کر اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل میں کامیابی حاصل کرلیتی ہیں۔‘‘
اس کے علاوہ باقی مضٓامین بھی اہم ہیں۔ علم اللہ اصلاحی صاحب کے قلم سے مظفر نگر کا آنکھوں دیکھا حال پڑھ کر آنسو قابو میں نہ رہ سکے، یقیناًبڑی ہی دردناک کہانی ہے، اس قسم کے واقعات آئندہ رونما نہ ہوں، اس کے سلسلے میں ملت کے قائدین کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
عدنان شفیق، نئی دہلی
ملک کی گرتی معیشت پر ڈاکٹر وقار انور کا مضمون 
رفیق منزل پابندی کے ساتھ موصول ہورہا ہے۔ مضامین کافی پسند آتے ہیں، گزشتہ شماروں میں مصر اور عالم عرب کے حالات بہت ہی بے لاگ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ مدیر رفیق منزل ابوالاعلی سید سبحانی کی تحریریں مصر کے موضوع پر پڑھنے کے لائق ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ماہ اگست کے شمارے میں رابعہ عدویہ کا خوش نصیب میدان کے عنوان سے محی الدین غازی صاحب کا مضمون بھی بہت ہی دلچسپ اور پڑھنے کے لائق ہے۔ خاص طور سے اس کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے تربیتی پہلو کا جائزہ لینا ہوگا۔
تازہ شمارے میں ویسے تو تمام ہی مضامین اچھے لگے، لیکن ڈاکٹر وقار انور صاحب کا مضمون بہت ہی پسند آیا، ہمیں اسی انداز سے ملک کی سیاسی، سماجی، اور معاشی صورتحال کا تجزیہ پیش کرتے رہنا چاہئے۔ ڈاکٹر وقار انور صاحب کی یہ بات پڑھنے کے لائق ہے کہ
’’زرمبادلہ کی مذکورہ بالا خرابیوں کے علاوہ معیشت سے متعلق دیگر امور بھی اس کی مسلسل بگڑتی ہوئی حالت کاپتہ دے رہے ہیں۔ مثلاً قیمتوں میں اضافہ روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔ اور ان اضافوں کی کوئی توجیہ معاشی عمل سے ممکن نہیں ہے۔ یعنی اگر قیمتوں کے بڑھنے کی یہ وجہ ہوتی کہ مذکورہ اشیاء بازار میں کم ہوگئی ہوں تو اسے اس کی فطری وجہ قرار دے دیا جاتا۔ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ قیمتوں کے مسلسل بڑھنے اور بازار میں اشیاء کے فراہم ہونے کے درمیان کوئی رشتہ نہیں رہ گیا ہے۔ بازار اور معاشی عمل کے درمیان منقطع یہ رشتہ دراصل آج کے دور کی معیشت کی بہت بڑی خرابی ہے۔ فطری معاشی عمل یہ ہے کہ انسانوں کی ضروریات کے لئے اشیاء اور خدمات تیار کی جائیں اور فراہم کی جائیں اور دیگر معاشی امور انہیں کے گرد گردش کریں۔ اس طرح معیشت انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے پیداوار و خدمات کا حسین عمل بن جائے کی۔‘‘
میرے خیال سے معاشی موضوعات پر مستقل مضامین آنے چاہئیں۔ ملک کی معاشی صورتحال، مسائل، چیلنجز، اورحل وغیرہ۔ اس سے اسلام کے معاشی نظام کے تعارف کا اچھا موقع ملے گا۔
محمد ثاقب، علی گڑھ

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

عمارت کی کرسی عمارت کی کرسی کی بات ایسی ہے جسے کوئی ...