بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / وطن / خاندانی عدم توازن معاشرتی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کے لئے خطرناک

خاندانی عدم توازن معاشرتی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کے لئے خطرناک

سید اظہر الدین

انصاف پر مبنی معاشرے کی تعمیر نو اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں پارلیمنٹ میں زیادہ تر جو بل پیش کیے جارہے ہیں وہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف ہیں چاہے وہ کسان بل ہوں جو صرف کسان مخالف ہی نہیں بلکہ غریب مخالف بھی ہیں یا وہ شہریت سے متعلق ترمیمی ایکٹ ہو جو اپنے ہی شہریوں کے خلاف ہے اور امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ انصاف پسند لوگ ان قوانین کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں لیکن پھر بھی اقتدار میں بیٹھے لوگ اس طرح کے مزید فیصلہ کن بلوں کے لئے تیار ہیں جو آنے والے دنوں میں معاشرے میں مزید انتشار پیدا کر سکتے ہیں۔
معاشرے کی تعمیر نو میں جہاں ایک طرف نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے( جبکہ ہندوستان نوجوانوں کی آبادی کی صورت میں بہت بڑےانسانی وسیلے سے مالامال ہے ) اسی طرح خواتین کا بھی اس میں اتنا ہی اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ اگر کسی خاندان کی عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو آئندہ نسلیں بھی خواندہ ہوں گی۔ لیکن مختلف ذرائع کے مطابق اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حکومت “آبادی ریگولیشن بل ” لانے کے لئے تیار ہے جو سنہ 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا ، اگراسے مستقبل قریب میں منظور کیا گیا تو اس کی براہ راست متاثرین خواتین ہوں گی اور مستقبل میں اس سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی ترقی متاثر ہوگی۔ کیونکہ ہماری قوم کے زیادہ تر ہنر مند شہری دنیا کے متعدد ممالک کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
نیانتارا شیوران آپلٹن ( جوکہ مرکز برائے سائنس ان سوسائٹی، وکٹوریہ یونیورسٹی نیوزی لینڈ میں فیکلٹی ہیں ) دی وائر میں شائع ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں “مجوزہ بل ( آبادی ریگولیشن بل 2019) کا سب سے بڑا شکار ہندوستانی خواتین کی موجودہ نسل کے ساتھ ساتھ آئندہ نسلیں بھی ہوں گی ۔ بہت ساری خواتین پہلے ہی شادی سے انکار کرنے یا بچہ پیدا کرنے کے اختیارات سے محروم ہیں اور انہیں غیر رضاکارانہ طور پر برتھ کنٹرول کے اقدامات پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ ’’ رویے ‘‘ اس قانون کے تحت صرف شدت ہی اختیار کریں گے جس میں جبراًنسبندی ، آئی یو ڈی منصوبے اور ہارمونل مانع حمل( یہاں تک کہ جب وہ طبی لحاظ سے ممنوع ہو) کے استعمال سمیت غیر قانونی طور اقدامات کو قانونی حیثیت حاصل ہوجائےگی ۔ اور اس طرح ممکنہ طور پر (مادر رحم میں )لڑکیوں کی ہلاکت میں مزید تیزی آئےگی اور فی ہزار مرد پیدائشوں میں 909 خواتین پیدائشوں کا موجودہ تناسب مزید خراب ہوجائےگا ۔ نتیجتاً ، یہ بل عوامی زندگی سے خواتین کو مسلسل دور رکھنے اور انھیں مزید پسماندہ کرنے کو یقینی بنائے گا۔ مزید ان کی تجویز ہے کہ ایسے بل جس کے ذریعے لوگوں کو ناکردہ جرائم کی سزا دی جائے ،کے بجائے صحت عامہ پر خرچ کو بڑھانا چاہئے ۔ ایسے اقدامات خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور صحت مند آبادی میں معاون ثابت ہوں گے۔
آبادی پر قابو پانے والے بلوں کے بجائے ، ہندوستان کو ایک ایسے آبادی میں سرمایہ کاری کرنے والے بل پر غور کرنا چاہئے جو اپنے شہریوں کی صحت ، تندرستی اور تعلیم کو سنجیدگی سے ایڈریس کرے۔ یو ایس انڈیا پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے کسی قوم کی آ بادی میں کمی واقع ہونے کے حوالے سے چنداہم پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے ۔ (ایک رپورٹ میں )اس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ “پوری دنیا میں آبادیاتی تبدیلیوں کے ریکارڈوں نے کم پیدائش، کم اموات اور مزید تر جینے کی توقع جیسےرجحانات کو جنم دیا ہے ۔ صدی کے آخری دو تہائی ، خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیاکی آبادی میں اضافے ، استحکام اور کم پیدائش کے انقلابی رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ یورپ ، جاپان ، امریکہ ، آسٹریلیا اور کینیڈا کےبشمول بیشتر ممالک متبادل پیدائش کی کم شرح ، شرح اموات کی کم سطح اور مزید تر جینے کی توقع کو ریکارڈ کر رہے ہیں۔ انسانی آبادی کو برقرار رکھنے کے لئے شادی شدہ جوڑے کی زندگی میں کم سے کم دو بچے پیدا ہونے چاہیے ، یا فی عورت 2.1 پیدائشیں ہوں ۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آبادی کے عدم توازن کے تین مضبوط مضمرات یہ ہیں:
(الف) مزدوری کی قلت؛
(ب) جنسی تناسب سے خواتین کی حیثیت متاثر ہوتی ہے اور خاندانی تناؤ بڑھتا ہے۔
اور(ج) بزرگوں کے انحصار کے تناسب میں اضافہ۔
شرح نمو میں تیزی سے کمی ،عمر بڑھنے کی توقع کے ساتھ بزرگ افراد کا بڑھتا ہوا تناسب اور بزرگ والدین اور بالغ بچوں کے درمیان تناسب میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ بڑھاپے کی پنشن کی عدم موجودگی میں تقریباً 70 فیصد بزرگ اپنی اولاد پر معاشی طور پر انحصار کرتے ہیں۔ چین میں ، اس مسئلے کو “4: 2: 1” کے رجحان کا نام دیا گیا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ایک جوڑا (دو) ایک بچے اور چار والدین کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں۔ حکومت نے سرکاری پنشنوں تک رسائی میں آسانی پیدا کردی ہے اور 4: 2: 1 کے رجحان کو کم کرنے کی کوشش میں نجی پنشنوں کی بچت کی حوصلہ افزائی کے لئے اسکیمیں شروع کیں ہیں۔ اس کے علاوہ ، شہری جوڑے کو جو دونوں خود ہی بچے ہیں اب ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اجازت ہے۔ اس کے باوجود حالیہ پالیسی صرف دو بچوں کو ہی اجازت دیتی ہے! اس تحقیق میں ثابت تمام باتیں واقعی آنکھ کھول دینے والی ہیں جو نہ صرف معاشرے کو تباہ کرسکتی بلکہ ہندوستان کے خاندانی نظام کو بھی بہت زیادہ متاثر کرسکتی ہے جو مختلف برادریوں کی ثقافت اور روایات کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بیان کی گئی صورتحال تو صرف چین کی ہے لیکن اگر آبادی کے ریگولیٹری بل کو منظوری دی جاتی ہے تو پھر اس کا اثر دوسرے ممالک کے مقابلے کم یا زیادہ بہتر ہماری قوم کے خاندانی نظام پر پڑےگا ۔
دی لائیو منٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ، پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا (PFI) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ، ” عدم غربت کی اسکیموں کے تحت جاری فوائد سے نکارے جانے سے، جیسے پبلک ڈسٹریبیوشن کے ذریعہ سبسڈی والے غذائی اجزاء کو روک دینے سے سب سے غریب اور پسماندہ طبقات ہی متاثر ہوں گے اور ان کی غربت میں مزید اضافہ ہوگا ۔،آبادی ریگولیٹری بل “گمراہ کن” ہے اور ہندوستان کی آبادیاتی خطوط کی غلط بیانی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ، “2018 کے معاشی سروے میں بتایا گیا ہے کہ بیٹے کی ترجیح (سن میٹا پریفرنس) یعنی مرد کی اولاد کی خواہش ہندستان میں 21 ملین ان چاہی بیٹیوں(unwanted girls) کی صورت میں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ “دو بچوں کی پالیسی کا اطلاق جنسی انتخاب اور جبراً نس بندی کے ذریعہ خواتین پر بوجھ میں اضافہ کرے گا۔ اس سے آبادی کے استحکام کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے جیسا کہ 1970 کی دہائی کے وسط میں ایمرجنسی کے دوران ہوا تھا۔ پالیسی سازوں ، ممبران پارلیمنٹ اور حکومت کو خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق حقوق پر مبنی نقطہ نظر کے بارے میں ہندوستان کے اس اقدام کی توثیق کرنی چاہئے۔ حکومت کو بجٹ میں مختص رقم بڑھانا چاہئے تاکہ پیدائش میں تاخیر اور وقفہ کاری کے لئے توسیع شدہ مانع حملات کو یقینی بنایا جاسکے اور نوجوانوں کیلئے صحت کی بہتر رسائی اور معیار کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس سے نہ صرف صحت بہتر ہوگی ، بلکہ تعلیمی نتائج میں بھی نمایاں بہتری آئے گی ،پیداواری صلاحیت اور كام میں شراکت داری کا اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں گھریلو آمدنی اور ملک میں معاشی نمو میں اضافہ ہوگا۔”
مذکورہ بالا نتائج سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ بہترین اور مضبوط معاشرے کے لیئے ہمیں ایک مضبوط اور صحتمند خاندانی نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف آنے والی نسلوں کے اخلاقیات کا تحفظ کرتا ہو بلکہ اقوام کو اخلاقی اور معاشی طور پر ترقی دینے میں بھی مدد کرتا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.