بنیادی صفحہ / صریر / حیات جس کی امانت تھی اس کو لوٹا دی

حیات جس کی امانت تھی اس کو لوٹا دی

سابق مدیر ماہنامہ رفیق منزل مولانا طارق فارقلیط فلاحی کے سانحۂ ارتحال پر خصوصی تحریر
مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی ،رکن مرکزی مجلس شوریٰ ،امیر حلقہ اترپردیش مشرق

یوں تو مولاناطارق فارقلیط فلاحی صاحب مرحوم مجھ سے عمر میں تقریباً 17،18؍سال بڑے تھے۔ لیکن ہم دونوں آپس میں اتنے بے تکلف ہو گئے تھے کہ ایک دوست کی طرح رہتے تھے۔ مجھے کوئی بات کھٹکتی تو ان سے بے جھجھک پوچھتا اور اگر انہیں کبھی کوئی چیز محسوس ہوتی تو بے دھڑک مجھ سے کہتے ۔مجھے جب امیر حلقہ مقرر کیا گیا تو وہ بنارس کے ناظم علاقہ تھے۔ میں نے ان کو بلا کر اپنے کمرے میں کہا کہ مولانا! مجھے آپ کی ضرورت ہے۔ آپ لکھنؤ تشریف لایئے اور حلقہ کو سنبھالنے اور اسے منظم کرنے میں میری مدد کیجئے۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ بس وہ دن اور انتقال کا آخری دن ،انھوں نے اپنے وعدے کو نبھانے میں اپنی آخری سانس تک لگا دی۔ افطار کٹ کی تقسیم اور غرباء ومساکین کی مدد میں وہ آخری دن بھی مصروف رہے۔
میری ان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مجلہ حیات نو کے ایڈیٹر تھے۔ میں جامعۃ الفلاح میں زیر تعلیم تھا۔ نشست وبرخواست اور کردار وگفتار میں نستعلیقی انداز۔اپنے کام سے کام ۔ وہ زیادہ کسی سے بولتے نہیں تھے۔ مجلہ حیات نو کو منظم کرنے اور اسے ایک معیار دینے میں ان کا خاص رول رہا۔ انھوں نے مجلہ حیات نو کے خاص نمبر نکالے جس سے اس کی وقعت میں کافی اضافہ ہوا۔
مولانا طارق فارقلیط صاحب، بچپن سے ہی کافی ذہین تھے۔ ان کے اساتذہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے مقابلہ میں نسبتاً زیادہ اچھے سوالات کرتے۔ مطالعہ کرکے کلاس میں آتے اور نوٹس کو سلیقہ سے تیار کرنے کا ان کا مخصوص ذوق تھا۔ ان کے انتقال کے بعد میرے پاس بے شمار تعزیتی فون آئے۔ بیرون ملک سے ایک صاحب نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ طارق صاحب پڑھنے میں بہت اچھے تھے انھوں نے بعض بزرگ اساتذہ کی تدریس کا نوٹ بڑے سلیقہ سے تیار کررکھا تھا۔ ان کے ذخیرہ کتب میں موجود ہوگا۔ پچپن ہی میں ان کے رکھ رکھاؤ اور نستعلیقی انداز کی وجہ سے ان کے بعض سینئر ساتھی طالب علمی کے دور ہی میں ان کو ’’مولانا‘‘کہہ کر پکارتے تھے۔
فراغت کے بعد چند سال انھوں نے کرناٹک ،ہاسن کے علاقہ میں تدریس کا فریضہ انجام دیا۔ جناب رفیق احمد صاحب،مرکز نے بتایا کہ وہاں کثیر تعداد میں مرد وخواتین ان کے شاگرد موجود ہیں جنہوں نے مولانا سے استفادہ کیاہے۔ اصلاحی اور تربیتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ جمعہ کا خطبہ بھی دیتے تھے جس سے کافی تعداد میں لوگ فائدہ اٹھاتے۔
مولانا طارق فارقلیط صاحب sioکے تاسیسی ممبر تھے۔وہ sioاترپردیش کے تیسرے صدر حلقہ منتخب کئے گئے۔ اس وقت پورا یوپی ایک تھا بلکہ یوپی کے ساتھ دہلی بھی ہوا کرتا تھا۔ مولانا نے کافی محنت کی۔پوری یوپی کا منظم اور تفصیلی دورہ کیا۔ تقریباً ہر اہم مقام پر تنظیم کی شاخ قائم کی۔ ان کے زمانے میں بڑے پیمانے پر یوپی میں توسیع کا کام ہوا۔ وہ ہر مقام پر تنظیم کو منظم کرنے کیلئے کوشش کرتے، ذمہ داروں کو متعین کرتے، وہاں کی تفصیلی چیزیں اپنی ڈائری میں قلمبند کرتے اور بعد میں ذمہ داروں سے مستقل ربط رکھتے ۔ ان کا دور sioیوپی کی تاریخ میں سنہرے دور سے یاد کیا جائے گا۔
رفیق منزل دہلی کی ادارت کی ذمہ داری بھی ان پر ڈالی گئی جسے انہوں نے بحسن وخوبی نبھایا۔ وہ دہلی منتقل ہو گئے اور یکسوئی کے ساتھ رفیق منزل کی خدمت کی۔ چونکہ ان کا مطالعہ اچھا تھا اور لکھنے پڑھنے کا ذوق پرانا تھا لہٰذا انھوں نے رفیق منزل کو بنا نے اور سنوارنے میں بہترین رول ادا کیا۔ ان کی کوششوں اور محنتوں سے رفیق منزل کے وقار میں اضافہ ہوا۔
جناب مولانا محمد رفیق قاسمی صاحب(سکریٹری مرکز)اس وقت امیر حلقہ تھے۔ مولانا نے طارق فارقلیط صاحب کو لکھنؤ بلالیا۔ مولانا قاسمی صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ رہی کہ آپ نے اپنے دور امارت میں افراد کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ انھیں جماعت کیلئے فراہم کرنے کا گراں قدر کام انجام دیا۔ مولانا قاسمی صاحب نے طارق صاحب کو آگے بڑھایا۔ کچھ دنوں وہ قاسمی صاحب کی ہدایت پر حلقہ سے خبر نامہ نکالتے رہے اور اس کے بعد جھانسی علاقہ کے ناظم بنا دیئے گئے۔
مولانا طارق صاحب نے جھانسی جیسے سخت علاقہ میں کام کیا۔ سخت آب وہوا کے لحاظ سے بھی کہ گرمی اور ٹھنڈک کے موسم اپنی انتہاء کو پہنچتے ہیں نیز اس علاقہ میں پانی کی بہت قلت ہے اور جماعتی پہلو سے بھی بہت سخت کہ مسلمانوں کی آبادی کا تناسب اس علاقے میں بہت کم ہے اور ارکان اور جماعتوں کی تعداد بھی محدودہے۔ مولانا طارق صاحب نے بڑی محنت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور نئے نئے مقامات پر کام کا تعارف کروایا۔اس علاقہ میں ریلیف ورک بھی کافی سلیقہ سے کیا۔ آج بھی اس علاقہ کے رفقاء واحباب مولانا کو یاد کرتے اور ان کا ذکر خیر کرتے رہتے ہیں۔
جناب نصرت علی صاحب (قیم جماعت)کی امارت حلقہ کے زمانے میں بنارس کو نیا علاقہ بنایا گیا۔مولانا طارق صاحب کو اس نئے علاقہ کا ناظم مقرر کیا گیا۔ مولانا نے اس علاقہ میں بھی کافی محنت سے کام کیا اور اس علاقہ کی توسیع واستحکام میں اپنی توانائیاں لگائیں۔اسی وجہ سے علاقہ بنارس میں بھی ہر مقام پر رفقاء واحباب ان کو یاد کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا کا گاؤں بہت دیہات میں ہونے کے باوجود علاقہ بنارس کے دور دراز کئی مقامات سے رفقاء ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔
جب ان کو سکریٹری حلقہ مقرر کیا گیا تو بعض بزرگ احباب کو اندیشہ تھا کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کیا یہ بڑی ذمہ داری نبھا پائیں گے ؟ لیکن اپنی صلاحیت ،سوجھ بوجھ اور جماعتی وفکری پختگی کی وجہ سے نہ صرف انہوں نے ذمہ داری سنبھالی بلکہ سکریٹری کے فرائض کو بحسن وخوبی انجام دیا۔ رپورٹ کی تیاری،نظماء علاقہ سے روابط ،ان سے رپورٹ اور گوشوارہ کی وصولیابی،بیت المال کے حسابات کی نگرانی اور دفتر حلقہ کے انتظام وانصرام کو انہوں نے بڑے سلیقے سے انجام دیا۔ جب مجھے امیر حلقہ مقرر کیا گیاتو ذمہ داران حلقہ اورنظماء علاقہ کے درمیان میں سب سے کم عمر تھا،اس کے باوجود مولانا نے ہمیشہ منصب کا خیال رکھااور نظم کے تقاضوں کوپورا کیا۔یہ ان کابڑکپن تھا۔کبھی کبھی ان کے بے جا احترام پرمجھے شرمندگی ہوتی ۔نظماء علاقہ ان کی ان ساری صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اورآج جب مولانا ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ہم میں سے ہر شخص کو مولانا کی کمی کا احساس ستاتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کاا ندازہ مزید بڑھ کر سامنے آتا ہے۔
مولانا طارق فارقلیط صاحب کی ایک بڑی خوبی ان کی مردم شناسی تھی۔ وہ تھوڑی دیر کی ملاقات میںآدمی کو پہچان جاتے تھے۔ بعض لوگوں کے بارے میں صرف حلیہ اور قیافہ سے ہی اندازہ لگالیتے تھے کہ یہ شخص کیسا ہے۔ مجھے متعدد بار بڑی حیرت ہوئی کہ مولانابہت سارے لوگوں سے بے ربط رہنے کے باوجود ان کے بارے میں بھی اپنی رائے رکھتے ہیں۔ میری معلومات میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے کہ مولانا نے کسی شخص کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کی ہو اور بعد کے ایام میں ،تجربہ نے اسے ثابت نہ کر دیا ہو۔
مولانا طارق صاحب ہر مسئلہ میں اپنی ایک رائے رکھتے تھے۔ یہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے کہ ہاؤس کارخ دیکھ کر اپنی رائے بنائیں یا لوگوں کا ڈسکشن سن کر اپنا موقف متعین کریں۔ ہر مسئلہ میں اپنی سوچی سمجھی رائے ان کا امتیاز تھا۔ وہ اپنی بات دلائل کی بنیاد پر رکھتے تھے۔ لوگوں کی باتیں غور سے سنتے اور اپنی بات سلیقہ سے رکھتے ۔ان کو ان کے طے شدہ موقف سے ہٹانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
مولانا کثیر المطالعہ شخص تھے۔ ہر موضوع پرکچھ نہ کچھ مطالعہ انھوں نے کر رکھا تھا۔ وہ عالم دین تھے۔ کتاب وسنت پر گہری نظر تھی۔ فقہی امور ومسائل کے بارے میں کافی معلومات رکھتے تھے۔ تحریکی لٹریچر کا مطالعہ کافی عمیق تھا۔ مذاہب پر ان کا مطالعہ کافی اچھا تھا۔ ہندودھرم پر وہ خاص طور پر تیارتھے۔
حالات حاضرہ پر بھی ان کی نظر بہت گہری تھی۔ صبح درس قرآن کے بعد پابندی کے ساتھ اخبارات کا مطالعہ کئی گھنٹے کرتے ۔ہم جیسے لوگ تو صرف سرخیوں پر اکتفا کر لیتے یابعض خبریں تفصیل سے پڑھتے ہیں لیکن وہ تقریباً ہر خبر اور تجزیہ بغور پڑھتے ۔اس کی وجہ سے ہندوستانی سیاست،سیاسی ،ملی اور ملکی جماعتوں اور افراد پر ان کی گہری نظر تھی اور ان کا تجزیہ اکثر اوقات درست ہوتا۔اس ضمن کے مختلف امور ومسائل میں ہم لوگ مولانا سے اہتمام کے ساتھ رجوع کرتے۔
مولانا طارق صاحب کو ہومیوپیتھی سے بہت شغف تھا۔ ہومیوپیتھی کی بہت ساری کتابیں ان کے پاس تھیں۔ مختلف لوگوں کو دوائیں بھی تجویز کرتے تھے۔ ان کے پاس ہومیوپیتھی دوائیں اس قدر تھیں کہ دفترحلقہ میں آنے والے بعض مہمان ان کو ڈاکٹر سمجھتے تھے۔ ویسے وہ ایک حد تک ڈاکٹر بھی تھے۔ تجربہ کی روشنی میں یونانی اور ہومیوپیتھی کے بہت سارے نادر نسخے ان کے پاس موجود تھے۔ جس سے لوگوں کو شفاء ہوتی۔ ہومیوپیتھی کی دوا ان کو بہت سوٹ کرتی ۔وہ مجھ سے کہا کرتے تھے کہ میرا جسم ہومیوپیتھی کیلئے ہی بنا ہے۔ جب کہ مجھ جیسے لوگوں کو بڑی مشکل سے شاید ہی ہومیوپیتھی کی کوئی دوا فائدہ کرتی ہو۔
ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی مزاجی کیفیت تھی ۔ لوگوں کو اس سلسلے میں ان سے شکایت رہتی تھی۔ بعض لوگ تو ان سے بہت گھبراتے تھے ۔اصل بات یہ تھی کہ وہ جس چیز کو صحیح سمجھتے تھے اس کو برملا اور بے لاگ کہہ دیا کرتے تھے۔ قطع نظر اس کے کہ اس سے کسی کو تکلیف ہوگی یا خوشی یا اس سے نفع ہوگا یا نقصان۔ جب ان کو احساس ہوتاتو فوراًمعافی بھی مانگ لیتے ۔ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کے سامنے اگر کوئی اپنی علمی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتا تو اسے وہ ہرگز نہیں بخشتے تھے۔ اپنی غلطی اورکمی کو تسلیم کرنے کے بجائے اگر کوئی اس کی تاویل کرتا یا اس پر اصرار کرتا تو وہ سخت لہجے میں اس سے پیش آتے ۔ہم میں سے کون ہے جس کے اندر کمیاں نہیں ہیں، بے عیب تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے۔ یہ کمی اب ان کے انتقال کے بعد مجھے خوب محسوس ہوتی ہے کہ اکثر لوگ مصلحتوں کے شکار نظر آتے ہیں۔ کوئی صحیح بات بھی اس خوف سے نہیں کہہ پاتا کہ کہیں اس کا کچھ نقصان نہ ہو جائے۔ ویسے وہ اپنے جماعتی بزرگوں اور ذمہ داران کا بہت ادب کرتے تھے اور اپنے ماتحت لوگوں سے شفقت ومحبت سے پیش آتے تھے۔ طارق صاحب اپنی اس مخصوص مزاجی کیفیت کی وجہ سے جماعتی حلقہ میں بہت دور دور تک مشہور تھے۔ وہ کسی مجلس میں پہنچتے تو ہلچل مچ جاتی۔ لوگ مسکرانے لگتے ۔جماعتی رفقاء بھی ان سے کافی محبت کرتے تھے۔ ہمارے یہاں یہ بات بطور مزاح مشہور ہو گئی تھی کہ کوئی فرد اگر جماعتی تقاضوں کو پورا نہیں کرتایا اس سے لاپرواہیوں کا صدورہوتا اور توجہ دہانی کے بعد بھی خاطر خواہ اصلاح حال نہیں کرتا تو اس سے کہا جاتا کہ’’ سنبھل جاؤ ورنہ طارق صاحب کو بھیج دیں گے‘‘اور طارق صاحب بھی محظوظ ہوتے۔
شعروسخن کا ایک صاف ستھرا ذوق ان کو میسر تھا۔ وہ اردو ادب کے طالب علم تھے۔ استاد شعراء کے کلام انھیں یاد تھے۔ اجتماعات کے موقع پر چھوٹی بڑی ادبی نشستوں کا اہتمام کرواتے۔ اچھے اشعار کا احترام کرتے اور واجبی قسم کے اشعار پر تفریحی ہوٹنگ بھی کرتے تھے۔ اکثرلوگوں کو ان کا انداز داد بہت پسند آتا تھا۔ بعض لوگوں کو ناگوار بھی گزرتا ۔ اس سلسلے میں ان کے مؤیدین ومداحین ملک کے طول وعرض میں کثرت سے موجود ہیں۔ ایسے مواقع پر ان کی یاد بہت ستائے گی۔
مولانا طارق فارقلیط صاحب تقریباً25؍سال سے شوگر کے مریض تھے۔ بلڈپریشر ، دل کی بیماری اور گال بلیڈر میں پتھری وغیرہ نے انھیں گزشتہ کئی سالوں سے پریشان کر رکھا تھا۔ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر بہت گہرا تھا۔وہ بے خوف رہا کرتے۔بیماری سے کبھی نہیں گھبراتے ۔البتہ محتاط رہتے اور دوائیں بالکل وقت پر لیتے ،کافی منضبط زندگی گزارتے۔ بیماری کے باوجود وہ جماعت کے کاموں میں کوئی کمی نہیں واقع ہونے دیتے۔میٹنگوں کے موقع پر کام کا کافی بار ان کے اوپر ہوتا لیکن انھوں نے کبھی بھی بیماری کا عذر نہیں کیا۔ بسااوقات لمبے لمبے سفر بھی کرتے۔ جماعت کے لئے ہمیشہ متفکر رہتے۔وہ جماعت کی مجلس نمائندگان اور حلقہ کی مجلس شوریٰ کے کئی میقاتوں سے رکن چلے آرہے تھے۔ان کا گھرانہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتاتھا۔لیکن جماعت میں آنے کے بعدانھوں نے اپنے متعلقین کی اصلاح کی۔ان کو اس سلسلے میں کافی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
جب وہ دہلی چیک اپ کے لئے گئے تو ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ آپ جتنی جلد ممکن ہو آپریشن کروالیں۔ اس لئے کہ ان کے دل کی چاروں اہم رگیں متأثر تھیں۔ انھوں نے مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے کہا مولانا آپ ڈاکٹرکے مشورہ پر عمل کریں اور فوراً آپریشن کروالیں۔ لیکن انھوں نے کہا کہ نظماء کی میٹنگ ہے۔ اس کے بعد شوریٰ کا اجلاس ہے۔ میں رپورٹ وغیرہ مرتب کرکے اور سالانہ گوشوارہ بنواکر نیزدیگر کام نپٹا کر شوریٰ کے بعد آپریشن کرواؤں گا۔ میرے اصرار پر بھی وہ نہیں مانے اور کام مکمل کر کے وہ آپریشن کیلئے دہلی گئے۔ مئی2014 ؁ء میں اسکارٹ ہاسپٹل میں الحمدللہ ان کا کامیاب آپریشن ہوا۔ کچھ دن وہ مرکز دہلی میں مقیم رہے پر ڈاکٹر کے مشورے سے گھر چلے گئے۔ بفضلہ تعالیٰ ان کی صحت کافی تیزی کے ساتھ بہتر ہو رہی تھی۔ آپریشن کو تقریباً ڈھائی ماہ ہوگئے تھے ۔ رمضان المبارک میں وہ دفتر حلقہ بھی تشریف لائے تھے۔ کچھ دفتری کام بھی انھوں نے انجام دیا۔ وہ اپنی صحت کے تعلق سے بہت خوش تھے۔ بظاہر ان کو دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان کا آپریشن ہی نہیں ہواہے۔ 24؍جولائی 2014 ؁ء کو وہ لکھنؤ سے گھر گئے۔ گھر بھی ہشاش بشاش تھے۔ افطار کی تقسیم اور غرباء ومساکین کی امداد میں لگے ہوئے تھے کہ 28؍جولائی2014 ؁ء کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے اچانک ان کی حالت خراب ہوئی اور ایک بجے ان کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔جس کو جہاں اطلاع ہوئی پریشان ہو گیا۔ تدفین دن میں دو بجے طے ہوئی۔رمضان کا آخری دن تھا۔اگلے روز عید متوقع تھی۔جماعتی احباب کی عیدپھیکی ہوگئی ۔ بڑی تعداد میں لوگ ان کے جنازے میں شریک تھے۔ تقریباً دو تہائی افراد جماعت ہی کے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے،پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے ،ان کے مسائل حل کرے اور جماعت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

درس گاہوں میں نفرت

شبیع الزماں (پونہ)  ہندوستان میں فرقہ پرستی اور نفرت نے اب سیاست ...