بنیادی صفحہ / رشد / حق دار کا حق اور قرض دار کا قرض

حق دار کا حق اور قرض دار کا قرض

معاشرے میں یوں تو بہت سارے لوگ بہت ساری تکلیفوں سے دوچار رہتے ہیں، اور وہ سب ہمدردی کے قابل ہوتے ہیں، تاہم مجھے بہت ترس آتا ہے ان لوگوں پر جو محض اس وجہ سے شدید ذہنی اذیت سے دوچار رہتے ہیں، کہ انہوں نے کسی کی مدد کے جذبہ سے اسے قرض دے دیا ہوتا ہے، یا کسی کی مشکل آسان کرنے کے لئے ادھار مال فروخت کردیا ہوتا ہے، قرض دار تک رسائی کی زحمت، قرض واپس مانگنے کی تکلیف اور پھر بھی قرض واپس نہ ملنے کا کرب، غرض اذیتوں کا ایک طویل سلسلہ چلتا رہتا ہے، جس سے وہ لوگ قدرے محفوظ رہتے ہیں جن کے دل میں ہمدردی کا جذبہ نہیں ہوتا۔
جاننا چاہئے کہ بلاسودی قرض کا نظام مسلم معاشرہ کی خوبی اور امتیاز ہے، یہ مسلم معاشرہ پر اللہ کی خاص رحمت کا مظہر ہے۔ کسی اور معاشرہ میں ضرورت مندوں کی مدد کا اتنا اچھا انتظام شاید نہیں ہے، اس انتظام کی حفاظت ضروری ہے، اور اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ اس سلسلے کی الہی تعلیمات کا بھرپور لحاظ کیا جائے۔
قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ادھار لین دین کا سلیقہ سکھاتی ہے، اگر ہم اس کی تعلیمات سے اپنی زندگی کو آراستہ کرلیں، تو شخصیت میں حسن پیدا ہوجائے، معاشرہ کو سکون ملے اور بلا سودی قرض کے اس الہی نظام کی رحمتیں سایہ فگن رہیں۔ قرآن مجید کی یہ آیت کہتی ہے اور تاکید کے ساتھ کہتی ہے کہ ادھار کی رقم چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی واپسی کی مدت طے کرو اور مدت کے ساتھ اس کو تحریری شکل دو۔
اصولی بات ہے کہ قرض ادھار کا معاملہ کرتے وقت ہی قرض کی واپسی کے سلسلے میں یا تو مدت کا تعین ہو، یا قرض دار حق دار سے طے کرے کہ مطالبہ کے فوراََ بعد یا مطالبہ کے بعد ایک متعین عرصہ کے اندر وہ قرض لوٹادے گا۔ غرض قرض کی واپسی کے سلسلے میں وقت کا طے ہونا ضروری ہے اور پھر جو بات بھی طے ہوجائے اسے تحریر میں لانا بھی ضروری ہے۔
مدت کے ساتھ قرض کی رقم کو لکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر رقم کے سلسلے میں کسی بھول چوک کے نتیجہ میں تنازعہ پیدا نہیں ہوتا، اور کوئی کسی کا مال انجانے میں حرام طریقے سے کھانے کا مرتکب نہیں ہوتا۔ کیونکہ دوسرے کا مال حرام طریقے سے کھانا تو پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرنا ہے، اور یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔
قرض کی واپسی کی تاریخ طے ہوجانے کے بعد قرض دار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حق دار کو طے شدہ تاریخ پر بنا مانگے رقم ادا کردے، اور اگر کسی واقعی ناگزیر سبب سے وہ ادا نہیں کرسکتا ہو تو اس تاریخ کے گزرنے سے پہلے اپنی کوتاہی کے لئے معذرت خواہ ہوکر اگلی تاریخ مانگ لے۔ غرض یہ کہ کوئی قرض کتنا ہی پرانا ہوجائے مگر کبھی بھی تاریخ کے بغیر نہیں رہے، اور ہر تاریخ قرض دار خود پیش قدمی کرکے مانگے، خواہ کتنی ہی بار نئی تاریخ مانگنا پڑے۔
عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ طے شدہ تاریخ گزر جانے کے بعد قرض دار معذرت پیش کرنے اور نئی تاریخ مانگنے کی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کردیتا ہے، اور اس کے بعد جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں، حق دار کے دل میں وسوسے سر اٹھانے لگتے ہیں اور وہ قرض دار کے سلسلے میں بدگمان ہونے لگتا ہے۔ اسے یہ لگتا ہے کہ قرض دار نے اس کے قرض کو یکسر فراموش کردیا ہے، اور اگر قرض دار فون اٹھانا بند کردے تب تو حق دار کا ذہنی کرب بہت بڑھ جاتا ہے، اور اس کو اپنا حق صاف خطرے میں نظر آتا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بہترین اسوہ دیکھئے کہ ایک شخص نے وقت متعین سے پہلے ہی آپ سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا، اور سب کے سامنے سخت کلامی کی، آپؐ کے ساتھیوں کو غصہ آیا، مگر آپؐ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ یہ حق دار ہے اسے یہ حق بھی حاصل ہے، اس کے بعد اس کو اس کے حق سے بڑھا کر واپس کیا۔ حالانکہ وہ شخص ادائیگی کی طے شدہ تاریخ سے پہلے ہی مطالبہ کرنے آگیا تھا۔
ادائیگی کی تاریخ گزرجانے کے بعد اگر حق دار کو قرض دار کا تعاقب کرنا پڑے تو یہ قرض دار کے لئے بڑی شرم کی بات ہے، اور شرافت ومروت کے یکسر خلاف ہے، قرض دار کی تو اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حق دار کو کسی بھی ذہنی اذیت سے محفوظ رکھنے کا انتظام کرے، جس طرح اس نے قرض دے کر اسے ایک بڑی تکلیف سے بچالیا تھا۔ اور کیا اچھائی کا بدلہ اچھائی نہیں ہے؟ ہَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَان۔


ڈاکٹر محی الدین غازی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ایکٹویزم کی راہ میں روحانیت کی قربانی!

حمزہ جاوید خان ہاسٹل کے دنوں کی بات ہے، میں ایک معروف ...