بنیادی صفحہ / رزم / جے این یو طلبہ یونین انتخاب”اگرجے این یو سماجی انصاف کا علمبردار ہے، تووسیم آر ایس کو ووٹ دے!”

جے این یو طلبہ یونین انتخاب”اگرجے این یو سماجی انصاف کا علمبردار ہے، تووسیم آر ایس کو ووٹ دے!”

بالا کرشنن پدماوتی (ریسرچ اسکالر، جے این یو)

جےاین یوکے طلبہ یونین انتخابات میں اب میری کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ تاہم میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ انتخاب جے این یو کی تاریخ کا نمایاں ترین انتخاب ہے کیوں کہ اس انتخاب میں پہلی مرتبہ مسلم طلبہ تنظیمیں جے این یو کے سیاسی گلیارے میں انتخابی مداخلت کررہی ہیں۔باجود اس کے کہ مین اسٹریم لیفٹ طلبہ تنظیمیں کیمپس میں مسلم مسائل کی کامیاب پیروی میں متعدد مرتبہ ناکام ہوچکی تھیں، جے این یو میں ‘مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن’ کی تشکیل ایک ناممکن امر تھا۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی تھیں؛ یاتو “ترقی پسند سیاست کی ٹھیکیداری” (کیوں کہ ہم اپنی سیکولر ہندو سوچ کے مطابق مسلمانوں کو ترقی پسندی کا متضاد سمجھتے ہیں) کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ ملک کی راجدھانی جہاں جے این یو واقع ہے، کو بڑی حد تک فرقہ پرستی کے زہر سے زہرآلود کیا جا چکا ہے۔اس وجہ سے دلت طلبہ کے ذریعے ‘دلت اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن’ کی تشکیل سے زیادہ پر عزیمت کام مسلم طلبہ تنظیموں کا انتخابی سیاست میں شرکت کرنا تھا۔

میں ان وژنری مسلم طلبہ لیڈرس کا شکریہ ادا کرتا ہوں،جن کے ساتھ رہنے اور تبادلہ خیال کرنے کا مجھے جے این یو میں موقع بھی ملاہے، جنہوں نے 2019 ہی میں سہی،لیکن اس انقلابی جست کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جے این یو،نجیب احمد کے جے این یو، میں مسلم سیاست کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی، تو وہ ایس آئی او کے مسٹر وسیم آر ایس، خود ایس آئی او، فریٹرنٹی موومنٹ اور وائے ایف ڈی اے کے تذکرہ کے بغیر نامکمل ہوگی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ کیسے اس نوجوان (وسیم آر ایس) اور اس کے ساتھیوں نے “ترقی پسند” جے این یو کو مسلم آواز سننے پر مجبور کردیا تھا۔ ٹیپوسلطان،ناصر مدنی اور دیگر مسلم/ اسلامی سیاست کے نمائندوں کو جے این کی سیاسی دیواروں پرآویزاں کرنے کی محنت اور لگن مجھے اب بھی یاد ہے۔ اگر جے این یو تمام طبقات کی نمائندگی اور سماجی انصاف کا علم بردار ہے،اگر جے این یو میں ہندو فاشزم کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت ہے، تو اسے اپنا قیمتی ووٹ وسیم آر ایس کو دینے میں ہچکچانا نہیں چاہیے۔ کیوں کہ وسیم آر ایس ایک ایسے ایکٹیوسٹ ہیں جن کی سیاسی عہد بستگی اور پر اعتمادی پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ اس الیکشن کو یاد رکھنے کی ایک دوسری وجہ یہ بھی ہوگی کہ انڈین یونین مسلم لیگ کی طلبہ تنظیم مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن MSF نے بھی شعبہ سماجی علوم، جسے جے این یو کا ‘سب سے سیاسی شعبہ’ کہا جاتا ہے، کے کاؤنسلر کی پوسٹ کے لیے اپنے امیدوار احسان الاحتشام کو میدان میں اتارا ہے۔ان مسلم طلبہ کی امیدواری کا گرمجوش استقبال کیا جانا چاہیے۔کیوں کہ ان کے اندر جے این کی تنگ ترقی پسند سیاست کو،جو برہمن ہندو فاشزم اور سیکولر برہمن ازم کے

درمیان دب کر رہ گئی ، کشادہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجودہے۔نوٹ: وسیم آر ایس جے این یو میں ریسرچ اسکالر ہیں. جے این یو میں معروف ایکٹیوسٹ مانے جاتے ہیں. خاص طور سے نجیب احمد کی بالجبر گمشدگی کے ایشیو پر ملک گیر تحریکیں چلانے میں آپ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے. جے این یو کے حالیہ طلبہ یونین انتخاب میں فریٹرنٹی موومنٹ اور باپسا (BAPSA) کے اتحاد کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل سکریٹری کی پوسٹ کے امیدوار ہیں.

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اسلامیات کا مطالعہ۔ موجودہ ہندستان میں

شاہ اجمل فاروق ندوی علوم اسلامی کے ارتقاء میں ہندستان کا کردار ...