بنیادی صفحہ / صریر / جورُکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گذر گئے

جورُکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گذر گئے

(مولانا محمد عبدالعزیز صاحب کی رحلت پر)
مولانا مودودیؒ نے جس شخص کے لئے دعا کی تھی کہ اللہ جنوبی ہند میں ان سے سب سے زیادہ کام لے وہ مولانا عبدالعزیز صاحب تھے، اور میں سمجھتی ہو ں کہ مولانا مودودیؒ کی وہ دعا قبول ہوئی۔ بچپن میں ان سے پہلی ملاقات کی ہلکی سی یاد میرے ذہن میں ہے ۔ شہر سے دور تازہ آب وہوا میں پیڑ پودوں سے گھرا اِن کا گھرتھا ۔ امی اور خالہ جان کا سلام لے کر میں ان سے ملنے دوسرے کمرے میں گئی۔ انہوں نے بڑی خوش دلی سے بات چیت کی، گھر میں کہلابھیجا کہ یہ میرے عزیز دوست کے بچے ہیں۔ ان کی اچھی خاطرداری کریں۔ میرے خیال میں وہ ہر کسی سے ایسے ہی محبت سے ملا کرتے تھے۔ یہی دلنوازی کا وصف لوگوں کو ان کا گرویدہ بنادیتا تھا، جنوبی ہند کے کونے کونے میں ان کی انتھک کاوشوں اور خدمات کے نقش ہیں ؂
ہزاروں دل ہیں کہ جن کے اندر
جھلک رہا ہے دماغ اس کا
چند سال قبل اندراپارک کے جلسہ میں انہوں نے بڑی تیزی سے ایک بہترین شعر پڑھااور پھر آپ کا خطاب اپنی رفتار سے آگے بڑھتا چلا گیا، اور میں آج بھی وہ شعر ڈھونڈتی ہوں مگر میری تلاش لاحاصل ہی رہی ؂
تمہارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمہارا جواب لائے گا
امی جان اور خالاؤں سے میں نے مولانا عبدالعزیز صاحب کے متعلق اتنی باتیں سنیں ہیں کہ لگتا ہے جیسے ہم نے خود ان کے ساتھ دن گزارے ہوں۔ ہمارے یہاں سب کو عبدالعزیز صاحب بہت ہی عزیز تھے۔ آج بھی ہم سب انٹرنیٹ پر ان کی تقریریں سنتے ہیں۔ پہلے جب بھی پتہ چلتا تھا کہ کہیں قریب میں عبدالعزیز صاحب کا خطاب ہے تو ہم سب خوشی سے بھاگتے ہوئے جاتے تھے۔ مولانا محترم ایسے شخص تھے جنہیں اپنے ٹھکانے سے زیادہ جماعت کی وسعت کی فکر تھی۔ وادئ ہدیٰ کاوسیع و عریض میدان جہاں ہم گرمی کی چھٹیوں میں کھیلنے جایا کرتے تھے، یہ وادئ ہدی مولانا محترم کی بصیرت اور کاوشوں کا ثمرہ ہے ۔
ہم ایسے لوگ ہیں یارو آئے دن پید انہیں ہوتے
پھروگے ڈھونڈتے لیکن ہمیں ہرگز نہ پاؤگے
چند سال قبل دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی تھی، ہمیں دیکھ کربہت خوش ہوئے، ان کی صحت گرچکی تھی، بہت کمز ورلگ رہے تھے، ناناجان کا نام آیا، پھر پوچھنے لگے ان کے بچوں کے احوال بتائیں اور پھر رونے لگے۔ بہت تکلیف ہورہی تھی ان کی گرتی صحت دیکھ کر۔ ان کے آرام کا خیال کرکے ہم وہاں سے آگئے، مگر آج تک وہ منظر ذہن میں ہے، ہم بار بار یہی سوچتے تھے کہ کتنے سادہ اور مخلص آدمی ہیں؟! عاجزی، انکساری جیسی اعلیٰ صفات! ایسی بصیرت اور قابلیت! آخر ہم ایسے اور لوگ کہاں سے لائیں گے، اللہ ایسے لوگوں کاسایہ ہم پر تادیربرقرار رکھے۔
چند روز قبل ہم سب لوگ گھر میں بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ اچانک فون آیا، اور پھر انتقال کی خبر سنتے ہی سارے لوگ افسردہ ہوگئے۔ مرحوم عبدالعزیز صاحب ہمارے ناناجان احمد عبدالقادر خان صاحب کے بہت ہی قریبی دوست تھے، جب بھی نظام آباددورے پر آتے تھے تو ناناجان اپنے ہی گھر میں ان کے ٹھہرنے کا انتظام کرتے تھے، دونوں کی لمبی لمبی گفتگو چلتی رہتی تھی، یوں وہ امی جان اور خالہ جان وغیرہ کے لئے ناناجان کی طرح قابل قدر ہوگئے تھے۔ نظم جماعت کے متعلق دونوں کے خیالات کافی ملتے جلتے تھے۔ دونوں ہی کے نزدیکQuantityسے زیادہQualityاہمیت رکھتی تھی، وہ کہتے تھے کہ افراد بھلے ہی کم ہوں مگر وہ معیار پر پورے اُترتے ہوں ۔ اس تعلق سے ان کے متعددجملے آج بھی ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔
ملازمت سے معطلی، جیل کی صعوبتیں، مشکل ترین حالات میں جماعت کی ذمہ داریاں، بالکل جیسے کہ سر پر سخت دھوپ ہو اور جلتی زمین پر ننگے پاؤں ہنستے مسکراتے خوش مزاجی کے ساتھ سارا سفر طے کرتے ہوئے اپنی جاں جانِ آفرین کو سپرد کردی۔ بہت ہی عظمت کے مقام پر تھے مولانا عبدالعزیز صاحب۔ اللہ اس عظیم شخص کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین ثم آمین
جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گذر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم، تجھے یاد گار بنادیا
جویریہ اِرم،گرلس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا،نظام آباد

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

درس گاہوں میں نفرت

شبیع الزماں (پونہ)  ہندوستان میں فرقہ پرستی اور نفرت نے اب سیاست ...