جنسی جرائم کے مکمل تدارک کی ایس آئی او تلنگانہ کی مانگ

ایڈمن

حال ہی میں پیش آنے والے واقعہ جس میں ایک نوجوان خاتون کو حیدرآباد میں عصمت دری کے بعد شعلہ پوش کرکے قتل کردیا گیا؛ اس پر اپنے شدید غم اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ایس آئی او کے ریاستی صدر ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین نے سماج کی سوچ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا.

متوفی کے خاندان کو تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کیس میں فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ سے متاثرہ کو فوری انصاف فراہم کرنے کی مانگ کی.


ڈاکٹر طلحہ نے مزید کہا کہ واقعہ کے بعد ہونے والی تگ و دو سے ایسے واقعات کا مکمل تدارک ممکن نہیں کیونکہ اخلاق و اصولوں سے عاری معاشرہ میں ایسے واقعات ہونا لازم امر ہے. حکومتوں کو ایک اخلاقی معاشرہ کی تعمیر میں نااہلی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ محض قانون سازی کی بنیاد پر ایسے جرائم کی روک تھام ممکن نہیں. ایک ایسا معاشرہ جو بے حیائی، برہنگی اور نشہ میں دھت ہے وہ معیاری شہری فراہم نہیں کرسکتا.


معاشی فوائد کے لیے خواتین کو استعمال کی چیز کی حیثیت سے جب پیش کیا جاتا ہے تو گمراہ ذہنوں میں خواتین کی حیثیت ہوس پرستی تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے. ان حالات میں کیونکر جنسی جرائم کا تدارک ممکن ہے. ڈاکٹر صاحب نے مطالبہ کیا کہ حکومت نوٹ لے قبل اس کے کہ صورتحال کنٹرول سے باہر نکل جائے

جاری کردہ
شعبہ میڈیا
ایس آئی او، تلنگانہ

نومبر 2019

مزید

حالیہ شمارہ

فلسطینی مزاحمت

شمارہ پڑھیں

رفیقِ منزل – دسمبر 2023

شمارہ پڑھیں