بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / جمہوریت کا بدلتا منظر نامہ

جمہوریت کا بدلتا منظر نامہ

۱۶؍  16 ویں لوک سبھا کے انتخابی نتائج نے سیاسی گلیاروں میں تہلکہ مچادیا ہے۔ بی جے پی کی غیر متوقع کامیابی نے سیاسی تجزیہ نگاروں کے تمام تجزیے غلط ثابت کردیے۔ بی جے پی کی اس کامیابی نے ملک کے جمہوری نظام پر طرح طرح کے سوال کھڑے کردئیے ہیں۔ آیا کسی سیاسی پارٹی کو محض ۳۱؍فیصد ووٹ حاصل ہونے پر کیسے اکثریت حاصل ہوگئی؟ اور پھر ایک فرقہ وارانہ ذہنیت کی حامل پارٹی کیسے اقتدار میں آگئی؟ کچھ لوگ بی جے پی کی اس کامیابی کو ہندوتوا نظریہ کی کامیابی سمجھ رہے ہیں جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ کانگریس مخالف لہر نے بی جے پی کو کامیابی دلانے میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔ بی جے پی کو بہت زیادہ خوشیاں پالنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ۵۹؍فیصد ووٹرس نے بی جے پی کو رد کردیا ہے۔ بی جے پی کو جوووٹ ملے ہیں، اس میں وہ ووٹ بھی شامل ہیں جو نریندر مودی کی ترقی کے خواب کو پورا کرنے کے لیے دیئے گئے ہیں۔
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، اور کسی بھی ملک میں جمہوری اقدار کی بقاء کے لیے اقدار کا باقی رہنا ضروری ہے۔ ان دنوں ’’جمہوریت کی حقیقی تعریف‘‘ کا موضوع زیرِ بحث ہے۔ جس کے چار عناصر ہیں، جن پر گفتگو اس مضمون کا مرکز ہے: (۱) انتخابات (۲) طرزِ حکمرانی (۳) عدلیہ (۴) میڈیا۔
(۱) انتخابات:
جمہوری اقدار کی بقاء میں انتخابات ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انتخابات ہی ایک ایسا ذریعہ ہیں ، جس سے عوام اپنے نمائندے منتخب کرکے ایوان میں بھیجتے ہیں تاکہ منتخب نمائندے عوام کی صحیح نمائندگی کرسکیں، ان کے ضروری مسائل کو حل کرسکیں، ان کی ضروریات کی تکمیل کرسکیں، اور ملک میں رہنے کے لیے پُرامن اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کرسکیں، وغیرہ۔
حالیہ پارلیمانی انتخابات بھی اس کی ایک کڑی ہیں۔ رفتہ رفتہ ملک میں رائج انتخابات کی مثبت روایت بدل رہی ہیں۔ دستور ہند کی رو سے جو شخص یا پارٹی عوام کی خدمت کا حقیقی جذبہ رکھتی ہو، وہ عوام کے موجودہ مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کرکے واضح منصوبہ بناکر عوام کے سامنے پیش کرے تو اسے ہی عوام سے ووٹ مانگنے کا حق ہے۔ آزادی کے بعد ایسے ہی لوگ انتخابات میں حصہ لیتے تھے، اور وہ با اخلاق و باکردار ہوتے تھے۔ یہ عوام سے جھوٹے وعدوں پر نہیں بلکہ اپنی اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر ووٹ مانگتے تھے۔ لیکن آج جرائم میں ملوث افراد انتخابات لڑتے ہیں،اور سیاسی پارٹیاں بھی انہیں ہی ٹکٹ دیتی ہیں، اور عوام سے جھوٹے وعدے کرکے عوام کو سبز باغ دکھا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں، جبکہ کچھ تو ایسے بھی ہیں، جو نوٹ سے ووٹ خریدنے کا کام لیتے ہیں۔ ذات پات کی بنیاد پر ایک دوسرے گروہ کو آپس میں لڑا کر اور جذباتی بیان بازی سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بہت حد تک انتخابات میں دھاندلیاں اور بے جا اخراجات کی روک تھام کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود کروڑ ہا روپئے خرچ کیے جاتے ہیں۔ انتخابات میں سیٹ حاصل کرنا گویا عزتِ نفس کا مسئلہ بن گیا ہے ہر کوئی الیکشن جیتنا چاہتا ہے، اور جیت کی ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ انتخابات میں بڑے سرمایہ دار لوگ سرمایہ کاری کررہے ہیں، تاکہ نئی حکومت سے اپنے مطالبات منواسکیں۔ سرمایہ دار لوگوں کو محض اپنے نفع سے مطلب ہوتا ہے، عوام کے مسائل ان کے پیشِ نظر کوئی معنی نہیں رکھتے۔ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم میں سب سے بڑا تعاون عالمی و ملکی سرمایہ دار افرادکا تھا۔ جس کا اثر آئندہ ملکی معیشت پر بہت بری طرح پڑنے والا ہے۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ نئی حکومت ریلوے کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کا اشارہ دے چکی ہے، اور حالیہ ریلوے بجٹ میں اس کی وضاحت بھی ہے۔ ان دنوں ملک میں انتخابات نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر لڑے جارہے ہیں۔ ذاتی مفاد فرد کا بھی ہے اور پارٹی کا بھی۔ عوام کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو پر کوئی راضی نہیں ہے۔ جس کے پاس نوٹ ہے اس کی سیٹ طے ہے۔ سیاسی پارٹیاں بھی انتخابات میں امیدوار کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں کسی اقدار کا لحاظ نہیں رکھ رہی ہیں۔ نو منتخب حکومت میں ۳۰؍فیصد ایسے ممبران ہیں، جن کا کسی نہ کسی جرم کی دفعات میں کیس درج ہے۔ ایسے افراد سے ملک کا بھلا کیسے ہوگا۔ موروثی سیاست بھی جمہوریت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ موروثی سیاست نے ذات پات کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ آج کل انتخابات ذات پات کی بنیاد پر ہورہے ہیں۔ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو اکثریت محض ۳۱؍ فیصد سے ملی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بی جے پی نے ذات پات کا کارڈ کھیلا اور سیکولر ووٹوں کو تقسیم کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ ایسے اراکین پارلیمنٹ منتخب ہوئے، جو اپنے حلقے کے لیے صحیح معنوں میں غیرمعروف تھے۔
(۲) طرزِ حکمرانی:
ملک کی ترقی اور خوشحالی میں کسی بھی حکومت کے طرزِ حکمرانی کا اہم رول ہوتا ہے۔ اور طرزِ حکمرانی میں نظریات کا بڑا عمل دخل ہے۔ کوئی بھی پارٹی نظریات سے عاری دیرپا اپنی حکومت قائم نہیں رکھ سکتی۔ کیونکہ ملک کے تمام مسائل کو حل کرنے کااس کا ایک خاص طریقہ ہوتا ہے۔ نظریات سے عاری پارٹی مسائل کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ جس سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں کانگریس اور بی جے پی دو بڑی پارٹیاں نظریات کی حامل ہیں۔ لیکن ان دنوں کانگریس نظریاتی بحران کا شکار ہے۔ جس کے سبب حالیہ پارلیمانی انتخابات میں اسے بہت بری طرح شکست اٹھانی پڑی۔ دوسری طرف بی جے پی کٹر ہندوتوا نظریہ کی حامل پارٹی ہے۔ اپنی کارکردگی اور سرگرمی سے اس نے کھلے عام یہ ثابت کردیا ہے۔ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں کٹر ہندوتوا نظریہ ناقابلِ قبول ہے۔ اس بات کا احساس خود بی جے پی کو بھی ہے۔ لیکن اپنے نظریہ کی ہر قیمت پر کامیابی کے لیے بی جے پی نے عالمی اور ملکی سرمایہ دار افراد سے مفاہمت کرلی۔ اس لیے اس مرتبہ انتخابات میں ملک کے بڑے بڑے سرمایہ داروں نے بی جے پی کی انتخابی مہم کے لیے کروڑ ہا روپئے خرچ کیے۔ طرزِ حکمرانی میں انتظامیہ کا بڑا اہم رول ہے۔ اگر انتظامیہ کرپٹ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کی حامل ہوجائے تو ملک میں کوئی اسکیم یا پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی بلکہ یہ حکومتی سرگرمیوں کو کھوکھلا ہی کرے گی۔ ہندوستان میں صاف وشفاف حکمرانی کا خواب محض خواب بن گیا ہے۔ آئے دن جرائم میں ملوث حکمراں، کرپٹ سیاسی نیتا، بدعنوان انتظامیہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل لیڈروں کے اسکینڈلس نے صاف وشفاف حکمرانی کے خواب کو تار تار کردیا ہے۔
’’عوام سے، عوام کی، عوام کے لیے حکومت‘‘ محض ایک خوشنما نعرہ بن گیا ہے۔ بہتر حکمرانی کے لیے حکومت کو چاہیے کہ اپنی پالیسیوں کو عوام دوست بنائے، بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے موروثی سیاست بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ جہاں موروثی طرزِ حکمرانی ہے، وہاں کوئی ترقی نہیں ہے، کیوں کہ افسر شاہی طبقہ موروثی طرزِ حکمرانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کے خزانے کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔ آسائش و آرام اور پسندوناپسند ان کی حکومت کا محور و مرکز بنتا ہے۔ ملک میں اس وقت کوئی بھی پارٹی بہتر طرزِ حکمرانی دینے کے موقف میں نہیں ہے۔ یہ ایک بہت بڑا خلا ہے جس کو عوام اپنے شعور سے کام لے کر پُر کرسکتے ہیں۔
(۳) عدلیہ:
کسی بھی ملک میں عدلیہ ایک امید اور بھروسے کا نشان ہوتی ہے۔ جسے انصاف کا مندر بھی کہا جاتا ہے۔ کیا آج عدلیہ عدل و انصاف کے معاملے میں اپنی ذمے داری اداکررہی ہے؟ انصاف میں سب سے بڑی رکاوٹ عدالتی نظام ہے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ تاکہ انصاف بروقت مل سکے۔ جبکہ موجودہ عدالتی نظام میں انصاف ملنے تک سالوں لگ جاتے ہیں۔ گواہیوں کی ہیئت اور حالات بدل جاتے ہیں، بلا وجہ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے۔ Justice Delay – Juctive Denie اس کے علاوہ تشویشناک پہلو عدلیہ میں کرپشن کا ہے۔ کئی ایک اہم معاملوں میں عدلیہ میں کرپشن کے اسکینڈلس سامنے آچکے ہیں، گواہوں کو بیچا اور خریدا جاتا ہے۔ فیصلوں میں الٹ پھیر ہوتی ہے۔ عدلیہ میں فیصلے گواہیوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔لیکن کچھ فیصلے جذبات میں بہہ کر بھی دیے جارہے ہیں، جو کہ بالکل غلط ہے۔ اس سے ظالم کو چھوٹ اور مظلوم کو سزا ملے گی۔ عدلیہ کو چاہیے کہ جذبات سے اوپر اٹھ کر حق و صداقت اور گواہیوں اور ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ سنائے۔ عدلیہ کی سیاسی معاملات میں دخل اندازی بھی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ کئی ایک معاملوں میں عدلیہ نے اپنے حدود کو پار کرتے ہوئے سیاست میں دخل اندازی کی ہے۔ ایک اور تشویشناک امر عدلیہ میں آگیا ہے، فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل افراد کو باقاعدہ اونچے عہدے دیے جاتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اپنی مرضی سے فیصلہ کرانا چاہتی ہے۔ عدلیہ کی اس بے راہ روی سے عوام کا عدلیہ پر سے بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔ یہ صحت مند جمہوریت کے لیے اچھی علامات نہیں ہیں۔ جمہوریت کی بقاء کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ پر حکومت کا دباؤ ختم ہو اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔
(۴) میڈیا:
میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں میڈیا کے رول کا انکار ممکن نہیں۔ میڈیا حق و صداقت، اطلاع و معلومات، بے لاگ تجزیے اور مختلف نقاط نظر کو عوام تک پہنچانے کا اور رائے عامہ بنانے کا اہم ذریعہ ہے۔ بدلتے حالات کے تناظر میں اگر میڈیا کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو آج میڈیا جانبدار ہوچکا ہے۔ کسی خاص نظریہ کے فروغ یا کسی خاص فرد کی تعریف و توصیف یا کسی خاص اشیاء یا کمپنی کی تشہیر تک محدود ہوگیا ہے۔ غیر ضروری چیزوں کو ضروری بناکر پیش کرنا میڈیا کی عادت بن چکی ہے۔ کسی کے خلاف مہم چلانا اور اس کی کردار کشی کرنا میڈیا کا پیشہ بن گیا ہے۔ کسی غیر اہم مسئلہ کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کردیا جاتا ہے کہ اس کو سچ مان لیا جاتا ہے۔
میڈیا میں کچھ عناصر فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل بھی ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً اپنی گندی ذہنیت کی عکاسی کرتے رہتے ہیں۔ کسی خاص گروہ بالخصوص مسلمانوں کی غلط صورت گری میڈیا کا شیوہ بنا ہوا ہے۔ کسی فرد کو محض شک کے دائرے میں پولیس گرفتار کرتی ہے تو میڈیا اسے مجرم بناکر پیش کردیتا ہے۔ کسی کو بے قصور اور کسی کو مجرم قرار دینا تو میڈیا کا معمول ہوچکا ہے۔ آج تقریباً پورا میڈیا پیڈ ہے۔ خبریں بنتی نہیں بنائی جاتی ہیں۔ میڈیا آج پوری طرح سے سرمایہ دار لوگوں کے ہاتھوں میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ لوگ جو چاہتے ہیں وہی چھپتا ہے اور وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں، وہی دکھایا جاتا ہے۔ سرمایہ دارطبقہ بڑی کمال ہوشیاری سے فحاشی و عریانیت کو فروغ دے رہا ہے۔ کاسمیٹک اور عارضی خوبصورتی کے نت نئے فارمولے بناکر بھولی بھالی عورتوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ میڈیا عام آدمی کے مسائل کو کم لکثرری لائف اسٹائل کو زیادہ فروغ دے رہا ہے۔ میڈیا کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت نے حق و صداقت کو سمجھنے میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔ حکومت اور ذی شعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ میڈیا کے اس جانبدارانہ رویہ کو کنٹرول کرے۔
جمہوریت کے اس بدلتے منظر نامے کے تحت مسلمانوں کو اس ملک میں باوقار زندگی گزارنے کے لیے ایک منظم لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے مسلم قیادت کو محض کانفرنسوں اور جلسے و جلوس سے آگے بڑھ کر آئندہ مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو ا س ملک میں باوجود اس کے کہ بے شمار مسائل درپیش ہیں، لیکن یہ ملک مسلمانوں کے لیے ایک پرامن جگہ ہے۔ یہاں ہمیں آئینی تحفظات حاصل ہیں، اپنی شکایات کے ازالے کے لیے کمزور اور ناقص ہی سہی لیکن ایک غیرجانبدار میکانزم موجود ہے۔ عدالتی نظام موجود ہے۔ احتجاج کے لیے قانونی طریقے موجود ہیں۔ اپنی آواز کو بلند کرنے کے لیے میڈیا موجود ہے۔ انصاف پسند غیرمسلم بھائیوں کی ایک معتد بہ تعداد موجود ہے۔ ہندوستان کے باہر ہماری اکثریت کو یہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ لہٰذا ان تمام سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں ایک منصوبہ بند کوشش کرنی چاہیے۔ ذیل میں کچھ تجاویز غور طلب ہیں:
(۱)ہندوستان میں مسلمانوں کو اب اقتدار کی سیاست کی طرف بڑھنا چاہیے۔ ذات پات کی سیاست سے اٹھ کر ہم خیال اور دیگر سیکولر طبقہ کو ساتھ لے کر اقتدار کی سیاست کے لیے کوشش کرنی چاہیے تاکہ اس سے مسلم مخالف پالیسی یا اقلیت مخالف ذہن کے خلاف ایک پریشر گروپ تیار کرسکیں۔
(۲) مسلمانوں کے لیے اس ملک میں جودستوری او رجائزحق حاصل ہیں، ان کے حصول کے لیے سماجی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جب تک ہمارا جائز حق ہمیں نہیں ملے گا، تب تک جدوجہد کرنے کا میکانزم بنانا چاہیے۔ مثلاً رگھوناتھ مشرا کمیشن نے اقلیتوں کے لیے ۱۵؍فیصد تحفظات دینے کا مطالبہ کیا اور اس میں مسلمانوں کو ۱۰؍ فیصد تحفظات دینے کی سفارش کی ہے۔ جب کہ مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے یہ معقول مطالبہ ہے۔ اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
(۳) تعلیم خیالات کو بدلنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس مرتبہ نئی حکومت تعلیم کا بھگوا کرن کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی۔ تو ہمیں چاہیے کہ حکومت کو تعلیم کا بھگوا کرن کرنے سے روکیں۔
(۵) میڈیا اور سوشل میڈیا میں باقاعدہ اہم ڈسکشن میں حصہ لینا اور نئے موضوعات کو ڈسکشن کے ذریعہ آگے بڑھانا چاہیے۔ کیونکہ ملک کابالخصوص نوجوان طبقہ سوشل میڈیا سے جڑ گیا ہے۔ اس ذہن کو متاثر کرنے کے لیے ذہن سازی کا ٹھوس لائحۂ عمل ہونا چاہیے۔
(۶) دہشت گردی کا الزام مسلمانوں پر لعنت بن کر گشت کررہا ہے، ہزاروں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے واقعات میں مشتبہ بتاکر جیلوں میں بندکردیا گیاہے۔ ان کی قانونی امداد اور رہائی کا نظم ہونا چاہیے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

“کشمیر رک سا گیا ہے” – ملک معتصم خان

کشمیر کے حالات بچشم سر دیکھنے کے بعد ماہنامہ رفیق منزل سے ...