بنیادی صفحہ / رشد / تعدد ازواج: مَردوں کا سامان تعیش یا ایک مشروط سماجی ضرورت؟

تعدد ازواج: مَردوں کا سامان تعیش یا ایک مشروط سماجی ضرورت؟


ليلى ہاشمی


یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اک شادی شدہ مرد کو دوسری بیوی کی تاک میں رہنا چاہیے؟ بعض علماء کا یہی خیال ہے!
ہندوستان اور دنیا کے بعض دیگر معاشروں میں تعدد ازواج کے سلسلے میں اسلام کی اجازت کو (دوسری شادی کے حوالے سے) مشوروں کی بہتات، دلوں میں چور پیدا کرنے اور بھونڈے مذاق کی بنیاد بنایا جارہا ہے۔اس کی شرائط و ضوابط کو نظر انداز کرکے، اس کے اخلاقی مقاصد سے ذاتی فائدے حاصل کیے جارہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ مغرب، بہ طور خاص فیمینسٹ حلقوں کی جانب سے، اسلام کو عورتوں کے تئیں استحصالی اور مرد وادی ثابت کرنے کے لیے اس کی غلط ترجمانی کی مہم جاری ہے، اب یہ اخلاقی ضابطہ بھی مسلمان معاشروں میں مردوں کے ذریعہ،بہ شمول چند معروف علماء کے، ایک استحصالی نظام بننے کی زد پر ہے۔ اس مضمون کا مقصد کلیدی اسلامی اصولوں اور انضباطی عوامل کی روشنی میں، جن پر لازما غور کیا جانا چاہیے، اس مسئلے میں قرآنی نقطہ نظر پر گفتگو کرنا ہے۔اس میں تعدد ازواج کی اجازت کے غلط استعمال، جو کہ ہمارے معاشرے میں روز بہ روز عام ہوتا جا رہا ہے، کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی و اخلاقی نا انصافی کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
قرآن میں سورہ نساء کی آیت 3 مخصوص حالات میں ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دیتی ہے اوراس کی ضابطہ بندی بھی کرتی ہے۔ ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان میں سے دو دو، تین تین یا چار چار سے نکاح کرلو“ (سورہ النساء، آیت نمبر 03)، ایک ایسی سورہ اور ایسے سیاق میں وارد ہوئی ہے جویتیموں کی سرپرستی، وراثت اور ملکیت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہے۔ یہ مسائل جنگ کے ایک پس منظر میں بیان ہوئے ہیں، جس میں سماج کے کم زور طبقوں کو معاشی وسائل سے محروم کردیا جاتا ہے۔اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ اسلام بلا شبہ ان حالات میں،اور دلیل کی بنا پر دوسرے حالات میں بھی، ایک سے زائد بیویوں کی اجازت دیتا ہے۔تاہم، چیزوں کی صحیح معرفت کے لیے ہمیں اُس خلاف معمول صورت حال کو پیش نظر رکھنا چاہیے جس میں قرآن اس رعایت کو متعارف کرانے کا فیصلہ کرتا ہے۔قرآن ایک سے زائد بیوی کی اجازت کو اخلاقی جوا ز کے طور پر بیان کرتا ہے: یہ ایک سنگین معاشرتی ضرورت کا حل ہے۔ حتی کہ ان خلاف معمول حالات میں بھی قرآن انصاف کے سلسلے میں اپنے موقف پر مصالحت نہیں کرتا، ”لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی (بیوی)پر اکتفا کرو، یا پھر کوئی لونڈی جو تمہاری مِلک میں ہو۔نا انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب طریقہ ہے“ (ایضاً)۔ ہمیں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ایک نیک عمل کرتے ہوئے بھی ایک انسان کے حقوق کے لیے دوسرے کے حقوق تلف نہیں کیے جاسکتے۔یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ قرآن ایک بیوی کو ہی اصلی اور مثالی خاندان کی بنیاد کے طور پر دیکھتا ہے:اگر ایک شخص سنگین حالات میں بھی اور معاشرے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بھی نکاح ثانی کی شرائط بہم نہیں پہنچاتا، تو اسے دوسری شادی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ قرآن کی یہ آیت فرد سے خطاب نہیں کرتی بلکہ اس کا خطاب پورے مسلمان معاشرے سے ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ اس قسم کے معاملات میں اس زمانے میں ایک ایسا غیر جانب دار فریق ثالث ضرور موجود رہا ہوگا،خواہ وہ عدالت ہو یا کوئی اور متبادل ادارہ،جو مختلف عوامل کا لحاظ کرتے ہوئے اس عمل کو روبہ عمل لانے کے طریق کا ر کی سرپرستی کرتا ہوگا۔اس طرح کا نظام اس بات کو یقینی بناتا ہوگا کہ دیگر تمام اسلامی اصولوں کی پاس داری ہورہی ہے،اور تمام فریق ہائے متعلقہ کے حقوق کا لحاظ ہورہا ہے۔البتہ سوال یہ ہے کہ اب جب کہ ایسا کوئی نظام باقی نہیں رہا،تو اب کیا ہوگا؟
ہندوستان جیسے ملک میں شادی بیاہ اور تعدد ازواج کی نگرانی کرنے والا کوئی نظام اب باقی نہیں رہا۔نہ صرف یہ کہ کوئی اسلامی عدالت یا ضابطہ اخلاق موجود نہیں ہے بلکہ ایسا کوئی معاشرتی نظام بھی مفقود ہے جس کی ایک منصفانہ اور اسلام سے باخبر اخلاقی بنیاد موجود ہو۔ماضی میں خاندان اور برادری کے معاشرتی دباؤ بعض ناانصافیوں کو روکنے میں کامیاب ہوتے تھے، کیوں کہ روایات اور ثقافتی ضوابط کی خلاف ورزی کسی شخص یا خاندان کے عز و شرف کو نقصان پہنچاسکتی تھی۔مثلاً، بیوی کے خاندان کی طرف سے شدید رد عمل کے سبب برادری سے بے دخل کردیے جانے کا خوف ایک دولتمند زمیندار کو بھی دوسری شادی سے باز رکھنے کا کام کرتا تھا۔اور اس کے نتیجہ میں اس کی بیوی کے جذباتی اور معاشی حقوق محفوظ رہتے تھے۔تاہم، سماجی دباؤ پر مبنی ضابطے منصفانہ ہوتے ہیں نہ اخلاقی، اور بسا اوقات یہ دیگر ناانصافیوں کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ان پر غالب اکثریت کے خیالات کی حکمرانی ہوتی ہے۔اگر معاملہ یہ ہو تو پھر سماج میں یتیم بچے اور اکیلی مائیں بہت سارے وسائل سے محروم ہوجاتے ہیں۔چنانچہ ہم نے ثقافتی عوامل کی وجہ سے ہند وستان جیسے ملک میں ایک قسم کی انتہا پسندی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ایسی صورت حال میں اصلاح کی کوئی کوشش یقینا قابل توجہ ہے، تاہم فی الحال معاشرے میں اس بات کو لے کر کوئی فکری ہم آہنگی موجود نہیں ہے کہ تعدد ازواج کی روایت اور رویے کو کیسے منظم کیا جائے،اگر یہ فی الواقع سماج کے مسائل کا حل ہے۔
فی الحال ایسے بعض علماء موجود ہیں جواپنے اپنے حلقوں میں نوجوانوں کو عقد ثانی کی ترغیب دیتے ہیں اور ’وسیع تر مفاد‘ کی آڑ لے کر اس کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ابھی تک یہ عمل تعدد ازواج کی مخالفت کے خلاف جدوجہد کی ایک مؤثر کوشش کے طور پر نہیں سامنے آیا ہے، بلکہ اس طور پر سامنے آیا ہے کہ یہ محض چند افراد ہیں جو اپنے حلقہ رسوخ میں لوگوں کو دوسرا نکاح کرنے پر ابھارتے ہیں۔وہ معاشرے کے ان مسائل کو نمایاں کرتے ہیں جن کاسامنا خواتین کررہی ہیں اور مردوں کو اس بات کا قائل کرتے ہیں کہ ان کے عمل کو تائید الہی حاصل ہوگی۔در حقیقت یہ علماء قرآن کے اُس ضابطہ اخلاق کو جس کا خطاب پورے معاشرے سے ہے،ایسے کسی بھی ادارے کی غیر موجودگی میں جو کہ اگر حقوق کی تلفی کا اندیشہ ہو تو وہ حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے سکے، ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں لوگوں کوان کے خاندان پر پڑنے والے تباہ کن ذہنی، جذباتی اور سماجی اثرات کو نظر انداز کرکے دوبارہ شادی کرنے کی ترغیب کی راہ ہموار ہوتی ہے۔شوہر کے دوسری عورت سے شادی کرنے پر بیوی کو پہنچنے والا صدمہ سفاک ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے ایک عورت اپنی اہمیت، زندگی میں اپنے مقام و مرتبہ، معاشرے میں اپنی حیثیت اور ایک خوش حال خاندان کی تعمیر کے لیے کی گئیں کوششوں پر سوالات کھڑے کر سکتی ہے۔رشتے کے بربادہونے کے علاوہ،جذباتی اثرات اس کی جسمانی صحت کو متاثر کریں گے۔ ساتھ ہی ان بچوں کی فلاح و بہبود بھی متاثر ہوگی جو ماں کی محبت اور نگہداشت پر انحصار کرتے ہیں۔مرد ہمیشہ یہ کہہ کر اپنے عمل کا جواز پیش کریں گے کہ وہ دونوں بیویوں کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کے ساتھ معاملات کریں گے، اور یہ کہ ان کی پہلی بیوی اس عمل پر راضی تھی۔تاہم، ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کو محدود معاشی و سماجی آزادی حاصل ہے، یہ ’اتفاق‘ اکثر جبری اور مجبورانہ ہوتے ہیں۔ ایک طرف شوہر اپنے ساتھیوں سے ملنے والی مبارک باد پر باغ باغ ہوتا ہے، دوسری طرف اس کی بیوی کے پاس، اگر وہ محسوس کرے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، کوئی فریق ثالث موجود نہیں ہوتا جو اس کے شوہر کا محاسبہ کرسکے۔
مسلم معاشرے میں عورتوں اور تعدد ازواج کو تفریح کا موضوع بنانے کا رجحان پایا جاتا ہے اور اسے بے ضرر سمجھا جاتا ہے۔اس عمل سے خواتین کے جذبات کی تحقیرہوتی ہے، ان کے حقوق کی ناقدری ہوتی ہے اور بہ حیثیت شوہر مرد کی ذمہ داریوں کی بھی نفی ہوتی ہے۔اس قسم کے مذاق کو خواتین کے اعتراضات کو ’جذباتی رد عمل‘ قرار دے کر ان سے صَرف نظر کرلینے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔یہ رویہ اس غلط فہمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے کہ دوسری شادی کرنا مرد کاخداداد حق ہے۔ در آں حالیکہ قرآن اسے شرائط کے ساتھ مربوط کرکے اسے مخصوص حالات میں ایک رعایت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایسی رعایت جس کا بس یوں ہی مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔مردوں کے ذریعے اس غلط فہمی کا استعمال عورتوں پر اس بات کا دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ’شومی قسمت‘ کو تسلیم کرلیں۔مذہبی جذبات بھڑکائے جاتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اس ’حق‘ کو تسلیم کرلیں۔اس عمل کو کسی بھی انسانی معاشرے میں نفسیاتی زیادتی اور کسی بھی فرد کے خلاف جرم ہی تسلیم کیا جائے گا۔
قرآن نے چار خواتین تک شادی کرنے کی جن شرائط کو نمایاں کیا ہے وہ محض مالی صلاحیت اور غیر جانب دارانہ سلوک ہی تک محدود نہیں ہیں۔نہ ہی انہیں خلا میں پیش کیا گیا ہے، بلکہ اسلامی اقدار، ہمدردی، کشادہ ظرفی، دیانت داری اور وفاداری کے عمومی اخلاقی اصولوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔لہذا،خاندان کے استحکام،پہلی بیوی کی جذباتی، نفسیاتی اور جسمانی صحت، اور بچوں پر اس کے اثرات وغیرہ عوامل کا لحاظ کیے بغیر تعدد ازواج نہیں ہونا چاہیے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی انضباطی نظام کی عدم موجودگی میں ان تمام عوامل کو نظر انداز کیا جاناممکن ہوجاتا ہے۔ملیشیا جیسے ملک میں جب مرد تعدد ازواج کے لیے درخواست دیتے ہیں تو ریاست کی شریعہ کورٹ ان تمام عوامل پر غور کرتی ہے۔اگر پہلی بیوی کے معاشی تحفظ کے حقوق کو خطرہ لاحق ہو، یا دوسری شادی کو قبول کرنے کے لیے اس پر دباؤ ڈالا گیا ہو تو عدالت اس شادی کے حق میں فیصلہ نہیں سنائے گی۔وہ اس بات کی تحقیق کرتے ہیں کہ وہ شخص اپنی بیوی کی ضروریات اور اپنے بچوں کے جذباتی و تعلیمی تقاضوں، ایک ایسا مسئلہ جس کا آج بہت سارے معاشروں میں بحران ہے، کو پورا کرنے کی کس حد تک استطاعت رکھتا ہے۔یہ صرف غیر جانب دار فریق ثالث ہی ہے جو تعدد ازواج کی رعایت کو انصاف کے ساتھ نافذ کرسکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں کا تنقیدی جایزہ لینا اورقرآن و سنت کی روشنی میں ان کا معقول حل تلاش کرنا مسلم مرد اور عورت دونوں کی ذمہ داری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسی بیوہ، سرپرستی سے محروم اور دیگر خواتین موجود ہیں جنہیں ہمارا معاشرہ خاندانی استحکام اور دیکھ بھال فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔چنانچہ ایک سے زیادہ بار نکاح کرنے کی قرآن کی رعایت کو اس مسئلے کے حل کے طور پر دیکھنا چاہیے،اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کے خیال کو ممنوع نہیں سمجھنا چاہیے۔تاہم، یہ بہت ضروری ہے کہ ہم پہلے درست طریقے سے اس بات کی نشان دہی کریں کہ اعداد و شمار کے مطابق ان مسائل کی موجودہ صورت حال کیا ہے، پھر پس پردہ موجود ان کے اسباب تلاش کریں۔ہوسکتا ہے ایسے پوشیدہ مسائل ہمارے سامنے آئیں جنہیں پہلے حل کرنا ضروری ہو۔ کیا معاشرے میں ایسے مرد موجود ہیں جن کے نکاح کا انتظام نہیں ہوپارہا ہے؟کیا یہ ممکن ہے کہ ان کی شادی کا انتظام کردیا جائے، بجائے اس کے کہ پہلے سے شادی شدہ افراد کو دوسری شادی پر اکسایا جائے؟ کیا ہمیں غیر شادی شدہ افراد کو یہ تحریک دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی پہلی شادی میں ہی بیواؤں،مطلقہ اور غریب عورتوں کو ترجیح دیں؟اگر ہم واقعی اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کے دعوی دار ہیں،جن کی پہلی شادی بچوں والی بیوہ سے ہوئی تھی اور جن کے اصحاب ؓ نے(بہ شمول بہت سے نوجوانوں کے) اپنی پہلی شادی کے لیے ایسی ہی عورتوں کو پیش کش کی تھی، تو ہمیں اپنے طرز فکر میں اصلاح کرنی ہوگی۔
ہمارے معاشروں میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کی اصلاح کی جا سکتی ہے، اور بہت سارے حل ایسے موجود ہیں جن پر باہمی ہم آہنگی ہوسکتی ہے۔ بہر حال لاعلمی یا صحیح طریق کار کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے مستحکم خاندانوں میں انتشار پیدا کرنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ مخصوص افراد،جو اپنے قول و عمل سے اس کی تائید کرتے ہیں،کے ذریعے پیدا ہونے والا یہ انتشاراور بھی سنگین نتائج پیدا کرسکتا۔اگر تعدد ازواج کے لیے دی گئی قرآن کی اجازت کو غلط استعمال کیا جائے تو اُن تنظیموں کو اس مسئلے کا غلط استعمال کرنے کا ایک اور موقع ہاتھ آجائے گا جو پہلے ہی اسلام اور مسلمانوں کی غلط تصویر پیش کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔اگر تین طلاق کے مسئلے کی طرح اس مسئلے میں بھی علماء ہم آہنگی پیدا کرنے،اور تعدد ازواج کی رعایت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضوابط فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان تنظیموں کو اسلام کی غلط تصویر پیش کرنے کا ایک اور موضوع فراہم کردیں گے۔اگر علماء اور دانش ور حضرات تعدد ازواج کو فی الواقع سماج کے مسائل کا حل مانتے ہیں تو انہیں مرد و خواتین دونوں کے اشتراک عمل سے، لازما ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ذمہ داری اپنے سر لینی چاہیے جو اس کی سرپرستی و نگہبانی کرے۔جب وہ شادی شدہ مَردوں کو انفرادی حیثیت میں دوسری شادی پر ابھارتے ہیں، تو انہیں یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ وہ نہ صرف اس خاندان کو پہنچنے والی تکلیف اور ناانصافی کے ذمہ دار ہیں بلکہ طویل المیعاد میں وہ اوربھی بڑے انتشار کو جنم دینے رہے ہیں۔اگر مخصوص ایجنڈوں کے ساتھ دوسرے افراد اور تنظیمیں اس مسئلے کا غلط استعمال کرنے اور ’مسلم خواتین کو آزاد‘ کرنے کے لیے آگے آتے ہیں، تو ان خواتین کے بے غیرت مرد ہم منصبوں کی لاپروائی ہی ایک مرتبہ پھر اس کی ذمہ دار ہوگی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

دور حاضر میں نوجوانوں کی ترجیحات

محمد آصف ا قبال کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوان ...