بنیادی صفحہ / نظر / تحریک نسواں: جدید تاریخ اور ادب کی روشنی میں

تحریک نسواں: جدید تاریخ اور ادب کی روشنی میں

ناز آفرین

عالمی یومِ خواتین بین الاقوامی سطح پر 8 مارچ کو منا یا جاتا ہے۔جس کامقصد مردوں کو خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ ان کے درمیان خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے بیداری لانا ہے۔ سماج کو ان کے حقوق دینے کے لیے ابھارنا ہے۔ سب سے پہلے بین الا قوامی یوم خواتین 19 مارچ  1911 میں منایا گیا۔ سنہ 1977میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ بِل پاس کیا کہ خواتین کا بین الاقوامی دن ہر برس 8 مارچ کو با قاعدہ طور پر منایا جائے گا۔

تحریک حقوقِ نسواں، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہر سال عورت پرجسمانی تشدد، نفسیاتی استحصال، غصب شدہ حقوق پر صنفی مساوات اور عدل و انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کے لیے عظیم الشان فائیو اسٹار ہوٹلوں میں پُر تکلف سمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اخبارات میں بے شمار رنگین ضمیموں کی اشاعت ہوتی ہے۔ کانفرنسوں اور سمپوزیم میں بے نتیجے مباحثے کرائے جاتے ہیں۔ ہر برس نئی قراردادیں لائی جاتی ہیں۔ سفارشات ہوتی ہیں۔ یہی نہیں 1980 سے 2000کا وقفہ International Women’s Decadeکہلاتا ہے۔ ان میں پانچ برس سے دس برس کے درمیان خواتین و بچیوں کے حقوق کے سلسلے میں نظر ثانی ہوتی ہے۔ حقوق کے نفاذ کی کوششیں ہوتی ہیں۔ پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ان کوششوں کی بازگشت ’تحریک نسواں،آزادیئ نسواں، حقوقِ نسواں، تانیثی تحریک، ناری وَاد اور فیمی نزم کے نام سے سنائی دیتی ہے۔اس کے باوجود عالمی سطح پر خواتین و بچیوں پر جرائم کے سارے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔

تحریکِ نسواں صنفی امتیازات و استحصال کے خلاف ایک شعوری احتجاجی تحریک ہے۔ اسی مناسبت سے Feminismکا لفظ 1871میں انگلینڈ میں خواتین کے مساویانہ حقوق کی لڑائی میں پہلی بار استعمال ہوا۔ابتداً لفظ تانیثیت حقوق نسواں کا ترجماں نہیں تھا۔بعد ازاں اصطلاح بنا کر Feminismسے جوڑدیاگیا۔ میری وُول اسٹون کرافٹ نے Vindication of the right of women (1790)میں سوال اٹھایا کہ  ”کیا انسانی حقوق و آزادی صرف مردوں کے لیے ہیں؟“ تحریک نسواں کا ہدف دونوں جنسوں کے امتیازات مٹا کر تمام اختلاف کا بدل یا اہداف ہے۔ سمون دِی بوائر اپنی تصنیفx  The Second Se (1949)میں مردوں کے خیال و نفسیات کو واضح کرتی ہیں۔”عورت پیدائشی طور پر ہمارے طے کردہ صفات کی حامل نہیں ہوتی بلکہ پدری معاشرہ میں عورت بنا دی جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ خود کو اُن ہی صفات سے متصف سمجھنے لگتی ہے جو مردوں کی طرف سے اُن کے ساتھ وابستہ کر دی گئی ہیں۔“  ۱

؎خواتین معاشرتی سطح پر اپنے حقوق سے عدم واقف رہتی ہیں۔ نکاح،مہر،طلاق،خلع،وراثت،ولادت،تقسیم جائیدادوغیرہ ان میں خصوصی طور پر شامل ہیں۔ ان تمام مسائل کی براہ راست آگہی کے لیے یورپ میں گذشتہ دوصدی سے زائد عرصے سے سماجی،ادبی،معاشی اور سیاسی تحریکیں وجود میں آتی رہی ہیں۔ جس کا مقصد معاشرتی سطح پر خواتین کا مقا م متعین کرنا ہے۔ مرد کی بیجا اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہے۔ خواتین پر ہو رہے مظالم و استحصال کے ردعمل پر ہی تانیثیت کا ظہور ہوا۔ یہ تحریک بالخصوص استقامت کے ساتھ اپنا اِثبات چاہتی ہے۔ اِس فکر کوفروغ دینے میں ژولیا کرستیوا، سمن دی بوائر،اِیلی سیزو،ژاوئیے گوئٹے،وَرجینیا وُولف،ایسا سِسکن آسٹرائیکر،ماریا انٹونی اوراِیون جودِتھ وغیرہ نے آواز اٹھائی۔تانیثیت کے تصور کی شروعات مرد کا جبر،جنس کی بنیاد پر عورتوں کی ثانوی حیثیت،صنفی تفرقہ،استحصالی رشتے،ظلم و وراثت اور شخصی محرکات سے ہوئی۔تانیثیت نے روایتی سماج سے مرد اور عورت کے سماجی،تہذیبی و مذہبی حیثیت کے متعلق بہت سے سوالا ت کیے۔Bellington Greigکے مطابق ”یہ ایک خواتین کی تحریک ہے۔جو انسانی رشتوں کی دوبارہ ترتیب کو تلاش کرتی ہے۔“  ۲؎

خواتین کا پہلا حقوق نسواں کنونشن سینیکا فالز (امریکہ)میں 1884ء منعقد کیا گیا۔ اس کنونشن نے متوسط طبقے کی خواتین کو ایک عوامی فورم مہیا کیا۔ اسی کنونشن میں حقوق ِنسواں کا بنیادی تصور جاری کیا گیا۔ اِس علامیہ میں خواتین کے خلاف نا انصافی کے خاتمے اور متحدہ ریاست ہائے امریکہ کی شہری ہونے کی حیثیت سے مکمل حقوق کے حصول کا مطالبہ تھا۔خواتین نے مرد اساس نظام و اقدار کو چیلنج بھی کیا۔طبقہ نسواں کی آزادی کی وکالت کی۔اسٹوارٹ خواتین کی آزادی اور حق رائے دہندگی تو چاہتا تھا لیکن شوہراور بیوی کے رشتے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں چاہتا تھا۔ ایسے میں تانیثی فکر صنف اور جنس کی لڑائی بن کر رہ گئی تھی۔ وُول اسٹون کرافٹ خواتین کو با اعتماد،با کردار اورمتحرک بنانا چاہتی تھیں۔ وہ عورتوں کو جسمانی طور پر نازک مانتے ہوئے عقلی طور پر مرد سے بالا تار سمجھتی ہیں۔ان کا ماننا تھا کہ صنفی بنیاد پر سماج انھی کمزور مانتا ہے۔ اس لیے خواتین تعلیم حاصل کر کے عقل مند، ذہین، سمجھداراور ذمہ دار شہری بنیں۔اپنے اندر کی غلامانہ ذہنیت کو ختم کریں۔ اپنی،شخصیت،صلاحیتوں اور قابلیتوں کو سماج کے سامنے پیش کریں۔

ان حالات میں ازسرنو آزادیِ نسواں کے لیے باقاعدہ بین الا قوامی سطح پر شعور ی بیدار ی تانیثیت کی معتبر مفکروں نے International Women’s Conferencesکیے۔تانیثیت کے اثرات عالمی علوم و فنون پر مرتب ہو رہے تھے۔ اسے منظم کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے بڑے پیمانے پر چار کانفرنس منعقد کیا۔ یہ کانفرنس پانچ سے دس برس کے وقفے سے ہوتی ہیں۔ جن کامقصد خواتین کے ساتھ تمام شعبہ جات میں مساوات کو قائم کرنا اور فروغ دینا تھا۔”کانفرنس نے خواتین کو اپنے حقوق کے تئیں بیدار کیا۔ان کے شعور و ادراک میں حقوق کی حصولیابی کے لیے راہیں ہموار کیں“۔

پہلی بین الاقوامی کانفرنس: یہ میکسیکو میں 1975میں منعقد ہوئی۔جس میں 313 سرکاری کارندے شامل ہوئیں۔مختلف غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے چھ ہزارنمائندے شریک ہوئے۔خواتین کے ساتھ نا روا سلوک کے خاتمے کے لیے غور و فکر کیا گیا۔ کئی اہم نکات پر کام کرنے کا عملہ وجود میں آیا تاکہ خواتین کو مساوی حقوق مل سکیں۔

دوسری عالمی کانفرنس: یہ کانفرنس کوپن ہیگن میں 1980 میں منعقد ہوئی۔اس کا عنوان “World Conference of the United Nation Decade for Women”تھا۔اس کانفرنس کا مقصدمیکسیکو میں ہوئی منصوبہ بندی کے نفاذکا جائزہ لینا تھا۔جس کا موضوع خواتین کے لیے معاش، صحت اور تعلیم تھا۔دوسرا پروگرام بھی منعقد ہوا۔اس کا مقصد  “Women right to inheritance women ownership child custody   کو مضبوط کرنا تھا۔

تیسری عالمی کانفرنس: یہ کانفرنس 1985میں نیروبی میں منعقد ہوئی۔یہ کانفرنس “World conference to review and appraise the achievement of the United

 Nation decade for women” کے زیر عنوان منعقد ہوئی۔کانفرنس کا بنیادی مقصد گذشتہ دس سالہ نکات پر غور و فکر تھا۔ جس میں حقوق ِ نسواں کے حصول میں آنے والی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔1900 وفد اور 157ریاستوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ حکومت نے “Nairobi forward looking strategy “کو منتخب کیا۔جس میں قومی سطح پر جنسی مساوات پر خواتین کی کارکردگی کو فروغ دینا طے پایا۔

چوتھی عالمی کانفرنس:

اس کا انعقاد 1995میں بیجنگ میں ہوا۔اس نے خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والی کانفرنسوں میں تبدیلی لائی۔صنفی مساوات ایک عالمی مدعا بنا۔ اس کانفرنس میں “Beijing declaration and the platform for action”بھی شامل تھا۔جسے 189 ملکوں نے قبول کیا۔بیجنگ کانفرنس میں سات ہزار مندوبین نے شرکت کی۔جس میں چھ سونمائندے حکومت کے تھے۔چار ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے شامل ہوئے۔چار ہزارمیڈیا کے لوگ شامل ہوئے۔مذکورہ کانفرنس کے علاوہ ملکی پیمانے پر حقوق نسواں کے عملی اقدام 2000،2005  اور2015  میں ہوئے۔ ایک وفد کا قیام عمل میں آیا۔ Beijing+20کے نام سے اس نے تمام نشستوں کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس کے لیے بہ اعتبار ضرورت اصول مرتب کیے۔“ ۳؎

ہندوستانی ناولوں میں بھی تانیثی فکر کی جہات قدیم زمانے سے ہیں۔صنعتی عہد نے انہیں نیا رخ عطا کیا۔ اس کی پہلی بازگشت فرانس،برطانیہ، شمالی امریکہ، ریاست ہائے متحدہ اور کنیڈا وغیرہ میں ملتی ہے۔اردو ادب کے تانیثی فکر کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نعرے بازی کرنے کے بجائے منظم طریقے سے احتجاج کرتاہے۔ اس کا مقصد خواتین کو حق و انصاف دینے کا مطالبہ کرنا ہے۔ رشید جہاں اورعصمت چغتائی نے پہلے پہل تانیثی فکری جہات پیش کیے۔ فطری طور پر مرد قوی اور عورت نازک ہوتی ہے۔ ہر اعتبار سے جنس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ سماج انہیں تہذیب و تمدن کے اصول قرار دیتا ہے۔ ان کا الگ الگ مقام متعین کرتا ہے۔ ان کے افعال و کردار مخصوص کیے جاتے ہیں۔ صنف کی شناخت ہمارے سماج میں اس طرح کی جاتی ہے کہ مرد آزاد،با اختیار،حاکم اور قوی ہے۔ وہیں عورت نرم و نازک، کمزور،صابر، فرمانبرداراور ماتحت ہوتی ہے۔ا ن کی تقسیم جنس کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ مرد اپنے گھرکا سردار اور عورت گھر کی نگراں ہے، بعض گھروں میں محکوم مانی جاتی ہے۔تمام گھریلوامور،بچوں کی پرورش و نگہداشت، تعلیم و تربیت، بڑوں کی خدمات، شوہر کی اطاعت شعاری،مہمان نوازی سب عورت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔مرد صرف باہر کے امور انجام دیتا ہے۔ گھریلوں امور میں اس کی شرکت نہیں ہوتی۔ان امتیازات کی وجہ سے عورت کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ایسا باور کرایا گیا کہ اس وجہ سے عورت میں احساس کمتری پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ خاندان کی بنیاد انھی ذمہ داریوں پر مستحکم ہوتی ہیں۔

اکثر خاندانوں میں لڑکی کی پیدائش ایک المیہ سمجھا جاتا ہے۔ گھر میں پہلے لڑکی پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ دار عورت قرار دی جاتی ہے۔ لڑ کی پر اخراجات گنوائے جاتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کو موضوع بحث بنا کر عورت کو پریشان کیا جاتاہے۔اس کے برعلس لڑکے کے بارے میں تصور یہ ہوتا ہے کہ اس کی تعلیم و تربیت پر روپے خرچ ہونے سے واپس بھی آئیں گے۔ شادی میں جہیز ملے گا۔بیٹابوڑھے ماں باپ کا سہارا ہوتا ہے۔ گویا کہ دونوں کی پیدائش سے ہی ایک خاص قسم کاامتیازی برتاؤ جنسی بنیاد پر روا رکھا جاتا ہے۔

مرد و عورت کے درمیان حیاتیاتی فرق جنس کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر صنف کی تشکیل ہوتی ہے۔صنف کا تصور 1970ء کے دہے میں منظر عام پر آیا۔ یہ حیاتیاتی جنسی تفرقہ کو ظاہر کرتا ہے۔جو مرد و زن کے تصور کو نمایا ں کرتا ہے۔بعض فیمنسٹ خیال خواتین کا کہنا ہے کہ یہ فرق دراصل پدرسری(Patriachal) نظام کی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ عورت کی ماتحتی میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ پدر سری نظام کی ایک اہم صورت عورت پر تشدد ہے۔ دنیا کے مختلف سماجوں میں عورتوں پر مظالم کی مختلف صورتیں رہیں ہیں۔ اس تشدد کے خلاف” International Women’s Movement “میں بحث کے دوران یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تشدد کے مختلف طریقے صدیوں سے سماج میں رائج  ہیں۔ جن میں ستی پرتھا، دیوداسی نظام، لڑکیوں کے پاؤں باندھنے کی رسم، عورتوں کو جادو کے لیے ذبح کرنا، لڑکیوں کے اعضاء مخصوصہ کو کاٹ ڈالنا، گائناکولوجی کے لیے عورتوں کو ہلاک کرنا،زنا بالجبر،بچیوں کے ساتھ گھریلو تشدد اور جسمانی اذیت وغیرہ خاص ہیں۔  اس سلسلے میں درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو:

”مغرب میں خاندان کا شیرازہ پوری طرح بکھر چکا ہے۔مرد و عورت کے پُر شور اور ہیجان انگیز وصال کا معاملہ پرانا ہو چکا۔ سماج میں Gayism اور Lesbianism جیسے تصورات جڑپکڑ رہے ہیں۔انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے قوانین وضع ہو رہے ہیں۔مردوں کی مردوں سے شادیاں ہو رہی ہیں۔ عورتیں عورتوں سے شادی کر رہی ہیں۔ بات Nuclear Family سے Single Parentاور Testube Babyسے Sperm BankاورCloning تک جا پہنچی ہے۔ رحم کرائے پر مل رہے ہیں اور بچے جنسی عمل کے بغیر بھی وجود میں آ رہے ہیں۔ایسی گمبھیر اور الجھی ہوئی حالت میں ”خاندان“ کا ادارہ بھلا کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟“۴؎ 

راشد الخیری عورت کو خاندان میں مرکزی کی حیثیت دیتے ہیں،اگر وہ اپنی جگہ سے اکھڑ گئی تو خاندان کا شیرازہ بکھر جائے گا۔اسی لیے وہ عورت کے ’اسلامی حقوق‘ کی بحالی کے لیے ہر وقت سرگرم تھے،ان کا کہنا تھا کہ ”مسلمان اگر اب تک نہیں سمجھے تو اب سمجھ لیں کہ آج عورت1857کی عورت نہیں،وہ 1934کی عورت ہے۔اس وقت مسلمانوں نے ٹھنڈے دل سے اس کے حقوق واپس نہ کیے جو اسلام اس کو دے چکا ہے تو ارتداد کیسا؟ وہ اسلام سے ہی کنارہ کش ہو جائے گی۔“  ۵؎  ’تپاح حوتپ‘ جسے دنیا کا سب سے پہلا معلوم ”معلم اخلاق“ کہا جاتاہے، ساڑھے چار ہزار سال پہلے لکھتا ہے کہ”اگر تو دولت مند ہے تو ا پنے لیے بیٹا حاصل کر…….اگر تو صاحب حیثیت ہے تو اپنا گھر بنا اور گھر میں اپنی بیوی سے محبت کر کیوں کہ وہ اس کی مستحق ہے۔اس کا پیٹ بھر۔اس کی کمر کپڑے سے ڈھانک،اس کے بدن پر خوشبو مل،جب تک زندہ ہے اس کا دل خوش رکھ کیوں کہ وہ (بیوی)اپنے مالک کے لیے سود مند زمین (کھیتی)ہوتی ہے۔ جو کچھ تیرے پاس ہے اس سے اس کے دل کو تسکین پہنچا۔ اس طرح وہ تیرے گھر میں رہے گی۔اگر تو اسے دھتکارے گا تو وہ رونے لگے گی۔“ ۶؎  

ایک ایسا مثالی نظام جس کی بنیاد مرد یا عورت میں سے کسی ایک کی برتری و بالا دستی پر مرکوز ہونے کی بجائے مساوی و یکساں اقدار پر قائم ہو۔ تانیثیت مرد اساس نظام و اقدار کی نہ صرف نفی کرتی ہے بلکہ اس کے بالمقابل مکمل مساوات پر مبنی ایک نئے نظام کی تعمیر و تشکیل کا عزم بھی ظاہر کرتی ہے،جس کے لیے متعصبانہ ذہنیت و امتیازی سوچ کے حامل افراد کی ذہن سازی ناگزیر ہے۔تانیثی فکر کے علم برداروں کا عقیدہ ہے کہ مروجہ ادبی اقدار، معیار اور پیمانے پدرسری نظام کے پروردہ و پرداختہ ہیں۔ لہذٰا امتیازات و تعصبات پر مبنی عورت کی آزادانہ وجود کی نفی کرتاہے۔ ان کے تخلیقی جوہر کی سرکوبی سے عبارت ہے۔جن کے موضوعات جذباتی اور نفسیاتی رد عمل کا مظہر ہیں۔پدر سری نظام نے بیوی،بہن،بیٹی اور کی ماں کی حیثیت سے انھیں پہچانا لیکن انسانی حقوق سے دست بردار رکھا۔ایسے حالات میں تحریکِ نسواں سے جڑی قلم کار خواتین اپنے جذبات، احساسات،تخیلات،انانیت،اخلاص،ایثار،محبت،شگفتگی اور دل آویزی کے ساتھ اس تحریک کو فروغ دیتی آرہی ہیں۔

عصر حاضر میں تانیثیت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ادب و ثقافت کے شعبے میں بھی نہ صرف نمایاں ہے بلکہ وہ عصر جدید میں ادبی و تخلیقی اظہار اور ڈسکورس کا ایک توانا جزو بن چکی ہے۔ یہ ڈسکورس اتنا وقیع اور ہمہ گیر ہے کہ اسے نہ تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی خارج کیا جا سکتا ہے۔زندگی کے دیگر شعبے کی طرح تانیثیت ادبی و تخلیقی سطح پر بھی ان تمام ادبی معیار و اقدار اور تصورات کو رَد کرنے پر مصر ہے جو مرد اساس نظام اور اقدار کی زائیدہ اور پروردہ ہیں۔ جس کے اثرات علوم و فنون کے ہر شعبوں پر مرتب ہوئے۔ بالخصوص اردو ادب کی خواتین قلم کاروں نے اس تحریک کو عملی جامہ پہنایا۔جن میں رشید جہاں، عصمت چغتائی،فہمیدہ ریاض،قرۃ العین حیدر،کشور ناہید،شہناز نبی، فرخندہ نسرین، شفیق فاطمہ،ساجدہ زیدی،ترنم ریاض سارہ شگفتہ،بلقیس ظفیرالحسن،رفیعہ شبنم عابدی،خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور،صالحہ عابد حسین اور عنبری رحمن وغیرہ نے تحریکِ نسوں کو اپنی اپنی تحریروں کے ذریعے فروغ دیا۔اسی وجہ سے موجودہ تمام اصنافِ ادب میں تانیثی فکر نمایاں طور پر نظر آرہی ہیں۔

حوالاجات

 ۱؎  اردو ریسرچ جرنل دہلی،تانیثیت:چند بنیادی مباحث، از ڈاکٹر جاں نثار معین،اگست 2016،ص:56

۲؎  مطالعات نسواں، ڈاکٹرآمنہ تحسین، عفیف آفسیٹ پرنٹرس،دہلی،2008 ص: 97

۳؎  تانیثیت اور ادب، انور پاشا،عرشیہ پبلی کیشن،نئی دہلی، ص:323، 2014

۴؎  اردو ادب اور پدر سری خاندان، از زاہدہ حنا،تانیثیت اور ادب،عرشیہ پبلی کیشن،نئی دہلی،2014،ص:310

  ۵؎  اردو ادب اور پدر سری خاندان،تانیثیت اور ادب،عرشیہ پبلی کیشن،نئی دہلی،2014،ص:300

  ۶ ؎   بارشِ سنگ،جیلانی بانو،اردو مرکز،حیدر آباد،۵۸۹۱ء

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

تبدیلی مذہب مخالف قوانین صرف مسلم یا عیسائی مخالف نہیں ،بلکہ ہرانسان کے ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے: فواز شاہین

(حالیہ دنوں میں ملک کی کئی ریاستوں میں تبدیلی مذہب کے متعلق ...