بنیادی صفحہ / شرر / تبدیلی مذہب کی بحث

تبدیلی مذہب کی بحث

مبشر الدین فاروقی

زندگی کی معنویت کی تلاش انسان کو اپنے عقائد،فکر اور طرز عمل کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک بیدار مغز انسان کی زندگی محض لذتوں کے حصول اور خواہشوں کی تکمیل کے اطراف نہیں گھومتی بلکہ زندگی کی معنویت اور مقصد کی تلاش اسے بے چین رکھتی ہے۔مادی تقاضوں سے اوپر اٹھ کر وہ روحانی ضروریات کی تکمیل کے لئے سرگرداں ہوتا ہے۔ وہ اپنے اعمال،رویےاور طرز زندگی کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔”حق” کی تلاش میں اگر وہ مخلص ہو تو ہدایت کی روشنی سے اسے سرفراز کیا جاتا ہے ۔اس صورت میں وہ باطل عقائد اور طرز عمل کو چھوڑ کر دین حق کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔عقائد کی تبدیلی کا یہ فیصلہ بہت بلند اور ارفع ہے،یہ ناممکن ہے کہ انسان یہ فیصلہ مادی فائدوں کے حصول کے لئےیا کسی کے دباؤ کے ماتحت کرے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا،”دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔اب جو کئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا ،اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا ،جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں،اور اللہ(جس کا سہارا اس نے لیا ہے)سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔”(البقرہ: 256)
قرآن کہتا ہے کہ ابتداء میں تمام انسانوں کا دین ایک ہی تھا،بعد میں لوگوں نے مختلف طریقے ایجاد کرلیے۔ اور چونکہ ابتداء کا دین ہی درست اور فطرت سے کامل مطابقت رکھنے والا تھا اس لیے قرآن تمام انسانوں کو اپنی فطرت کو سمجنے اور اس پر قائم ہونے کی دعوت دیتا ہے. کہا گیا،”قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے ،اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی ،یہی بالکل راست اور درست دین ہے،مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔”(روم: 30)
ایک حدیث میں بھی یہ بات کہی گئی کہ “ہر بچہ فطرت (اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے۔پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں….۔” اسلام چونکہ فطرت کی آواز ہے اس لئے ابتداء ہی سے لوگوں نے آبائی مذہب کو ترک کرکے اسلام کو اختیار کیا ہے ۔ اسلام تا قیامت انسانوں کے لئے واحد صحیح راستہ ہے اس لئے دیگر مسلمانوں کی جانب سے دعوت دئیے جانے یا/ اور ذاتی غور و فکر کے نتیجے کے طور پر افراد حلقہ اسلام میں مستقل شامل ہوتے آرہے ہیں۔
تبدیلی مذہب کا فیصلہ انسان اپنی صوابدید پر کرتا ہے۔ یہ اس کی ضمیر کی آزادی کا حصہ ہے۔ایک ترقی پذیر معاشرہ کی علامت یہ ہے کہ اس کے افراد غور و فکر کی صلاحیتوں کو صحیح طور پر بروئے کار لائیں ۔زندگی کی مادی ترقی سے اوپر اٹھ کر مقصد ،معنی اور اقدار کے حوالے سے سوچیں۔ تمام ہی افکار کا کھلے ذہن کے ساتھ تجزیہ کریں اور درست فکر کو نہ صرف قبول کریں بلکہ دیگر انسانوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ بصورت دیگر ایسا معاشرہ فکری جمود کا شکار ہوجاتاہے جہاں افکار، اعمال اور طرز زندگی کے تئیں تجزیاتی نقطہ نظر کے بجائے اندھی تقلید کا رویہ عام ہو اور “طرزکہن” پر اڑنا ہی مثالی قرار دیا جائے۔ افکار اور اعمال کا بے لاگ محاسبہ افراد اور اقوام دونوں کو حقیقی معنوں میں زندہ رکھتا ہے۔ دباؤ کے مختلف حربے استعمال کرکے افراد کی قوت فکر اور آزادی عمل پر قدغن لگانے کی کوشش فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔
ملک کی مختلف ریاستوں میں “لوجہاد” کے نام پر ایسے قوانین نافذ کئے گئے ہیں جو مذہب کی تبدیلی کے عمل کو مشکل بنارہے ہیں۔ان ظالمانہ قوانین کے خلاف سیاسی و قانونی لڑائی کی ضرورت سے تو کسی کو انکار نہیں ۔لیکن علمی حلقوں میں بھی تبدیلی مذہب کے معاملہ کو مطالعہ اور گفتگو کا موضوع بنانے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی مذہب کی بحث کو اس وقت تک ٹھیک سے نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کہ انسانی زندگی میں مذہب کی معنویت و اہمیت کو نہ سمجھا جائے۔ ہمارے سماج میں عام طور زندگی کے انفرادی و اجتماعی معاملات میں رہنمائی کے لیے مذہب کو بنیاد نہیں بنایا جاتا۔ افراد کی ذاتی زندگیوں میں تو پھر بھی مذہب کی معنویت کسی قدرنظر آتی ہے لیکن معاشرتی سطح پر اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ دانشوران اور اسکالر حضرات زندگی کے معاملات و مسائل کو ٹھیک سے سمجھنے اور مناسب حل تلاش کرنے کے لیے خوب مطالعہ و تحقیق کرتے نظر آتے ہیں لیکن وہ بھی مجموعی حیثیت میں مذہب سے اعراض ہی برتتے ہیں۔ مذہب سے تنفر کا یہ عمومی رویہ فرد اور معاشرہ کے لیے کافی نقصاندہ ہے۔ تبدیلی مذہب سے متعلق مختلف سوالات جیسے “کیا مذہب کو تبدیل کرنا ایک غلط عمل ہے؟” یا “ایک افرد اپنا مذہب کیوں تبدیل کرتا ہے؟” وغیرہ کو سمجھنے کے لیے نہ صرف ان عوامل کا تجزیہ ضروری ہے جو تبدیلی مذہب پر منتج ہوتے ہیں بلکہ انسانی زندگی میں مذہب کے مقام اور اس کی ضرورت کا صحیح اندازہ ہونا بھی ضروری ہے-
ضمیر کی آواز قوانین کے ذریعے دبائی نہیں جاسکتی۔ان قوانین کے ذریعے تبدیلی مذہب کے عمل کی حوصلہ شکنی ضرور کی گئی ہے۔ لیکن انسانی ذہن فطری طور پر آزاد ہے اور آزادی کو ہی پسند کرتا ہے۔ بندشوں اور جبر و تشدد کے ذریعے اذہان کو غلام نہیں بنایا جاسکتا۔ان قوانین کے ذریعے دین کی تبلیغ کے کاموں میں مزید مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن دعوت دین کے کاموں میں آزمائشوں کا در آنا، نئی بات نہیں ہے۔ اس صورت میں صبر، ہمت و حوصلہ، توکل اور حکمت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

سعود فیروز عورت اور مرد انسانی سماج کی بنیادی اکائی ہیں۔یہ دونوں ...