بنیادی صفحہ / ایس آئی او / ”تاریخ کی بازیافت، شناخت کی بحالی“ ایس آئی او کی جانب سے ”جنوبی ہند ہسٹری کانفرنس“ کا اعلان

”تاریخ کی بازیافت، شناخت کی بحالی“ ایس آئی او کی جانب سے ”جنوبی ہند ہسٹری کانفرنس“ کا اعلان

نئی دہلی: تاریخ، مطالعات کا ایک مستقل ارتقاء پذیر شعبہ ہے، جو وقت بہ وقت مختلف حرکی تجربات اور تحقیق سے گزرتا رہتا ہے۔وسیع علاقائی سیاست سے متعلق تاریخی مطالعات کے ادراک کی عالمانہ کوششیں ہر دورمیں کی گئی ہیں۔ لیکن سیاسی سرحدوں کی مستقل تغیر پذیر فطرت اور سیاسی حد بندی کا عمل، اصحاب اقتدار کے مفادات کی خدمت کے پیش نظر، ہر خطہ کی تاریخ نویسی کو متاثر کرتا ہے۔ سرحدوں کاتعین بذات خود ایک پیچیدہ عمل ہے کیوں کہ انسانوں کی وضع کردہ سرحدیں سیاسی تبدیلیوں کے شانہ بہ شانہ مستقل اور تیزی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر کوئی سرحد دیرپایا مستقل ہوسکتی ہے، تو وہ جغرافیائی سرحدیں ہیں، اگرچہ کہ خود ان کے بھی ماحولیاتی تبدیلی کے ذریعے کسی نہ کسی درجہ میں تبدیل ہونے کا اندیشہ موجود رہتا ہے۔ خاص طور سے عوام، ایک مخصوص خطہ کو مرکز حوالہ کے طور پر پیش کرنے لگتے ہیں۔ تاریخی ارتقاء کے مطالعہ میں ایک ‘خطہ’ کی تعریف (Definition)میں مختلف پہلوؤں سے تعلق باہمی کو ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔


معاصر ہندوستان میں علمی حلقوں میں اور سماجی-سیاسی تناظر کے طور پر ‘علاقائی تاریخ نویسی ‘ بہت زیادہ معنویت و مقبولیت حاصل کررہی ہے۔ سرزمین ہند کا متنوع مزاج، مختلف خطوں،عوام اور طبقات کی فراموش کردہ اور حاشہ پر کردی گئی تاریخوں کی بازیافت کے لئے انتہائی ہدف بستہ علمی کاوشوں کا تقاضا کرتا ہے۔ ”جنوبی ہند” کی اصطلاح ایک انتہائی متنازعہ اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح کے ذریعے اکثر مختلف طبقات اور علاقوں کے تاریخی ورثہ اور رنگا رنگ بیانیوں کے محو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ اس اصطلاح کے معنی کو محض ایک خطہ ارضی تک محدود کردیا جائے جو بر صغر ہند کے شمال میں واقع ہے۔ اگرچہ ہندوستان میں تاریخ نگاری کا موجودہ طریقہ ہمشہ پورے ہندوستان کی تاریخ پر انحصار کرتا ہے، تاہم ایک خطہ کا مرکز حوالہ کے طور پر اعتراف اس کے علمی اور سیاسی شعور میں ایک علاحدہ شناخت رکھتا ہے۔ چوں کہ تاریخ کو حال کے تناظر میں ماضی کا مطالعہ سمجھا جاتا ہے، یہ معاصر مسائل و حادثات کو حق بجانب قرار دینے (Justification) اور جواز دہی (Legitimization) کے دام تزویر میں پھنس جاتی ہے۔ ٹھیک اسی وقت، فراموش کر دیے گئے علاقوں اور حاشہ پر کردیے گئے طبقات کے لئے اپنی تاریخ، اپنی امید اور صدیوں پر محیط اپنی اذیتوں کے بیان کو زندہ رکھنا نا ممکن ہوجاتا ہے۔

ہم عام طور پر ‘جنوبی ہند’ کی اصطلاح کو (اس اصطلاح کی تمام تر محدودیت کے اعتراف کے ساتھ) تامل ناڈو، کیرلا،کرناٹک، گوا، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور مہاراشٹر کی وقاقی ریاستوں میں منقسم کرتے ہیں۔ یہ ریاستی سطح کی درجہ بندیاں اکثر علمی اور پالیسی سازی کے محاذ پر موضوع کی پیچیدگی کے وسیع تر تناظر میں ادراک کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ اس کوشش کے مد مقابل، روایتی شاکلوں سے ماوراء، تاریخ نویسی کے نئے افق کی دریافت اور نظرانداز و فراموش کردہ علاقوں اور طبقات کی تاریخ کی بازیافت پر ہم محققین اور ریسرچ اسکالرز کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم تاریخ کو مزید اشتمالی، قابل اور قابل رسائی بنانے کے لیا جرات مند محققین کا استقبال کرتے ہیں۔

علمی مقالات مطلوب ہیں:


علاقائی تاریخ میں تحقیق کرنے والے باعزم محققین اور ریسرچ اسکالرس کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کی غرض سے سینٹر فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (CERT) نے اسٹوڈینٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا(SIO) کے اشتراک سے ”تاریخ کی بازیافت، شناخت کی بحالی” کے عنوان سے تاریخ پر مختلف علاقائی کانفرنسیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سیریز کی پہلی کانفرنس ”جنوبی ہند ہسٹری کانفرنس” کے عنوان سے 13-14 اکتوبر 2019 کو بمقام حیدرآبا،ریاست تلنگانہ میں منعقد ہوگی۔ہم درج ذیل عناوین پر علمی و تحقیقی مقالات کا استقبال کرتے ہیں:


مرکزی عناوین:
ہندوستانی تاریخ نویسی کا تنقیدی جائزہ: منہج تحقیق کے متبادل اصولوں کی دریافت
تاریخ نویسی میں مرکز پرستی کا رجحان: مختلف طبقات کو الگ تھلگ اور نظر انداز کرنے کی کوششیں
تاریخی مباحث میں ‘ہندوی’ اور ‘غیر ہندوی’ کی تقسیم کی رد تشکیل
مقامی/علاقائی تاریخ کا بیان: افراد اور علاقوں کی تاریخ
تسلط اور قبضہ: ماضی کی تعبیر نو
ذات پات کی تعدیم: ذات پات مخالف تحریکوں کا سفر
اختلاف رائے کی تاریخیں:ریاست، ترقی اور آدیباسی مزاحمتیں
تسلط،جبری نقل مقانی اور گمشدگی:محکومی اور حاشیہ پر کردیے جانے کا جائزہ
سامراجیت، فرقے اور نیشن اسٹیٹ: تعلقات اور مزاحمت
انڈین یونین کی تشکیل اور الحاق کا عمل
وفاقی ریاستوں کی تشکیل اور لسانی قوم پرستی

اہم تاریخیں:
تلخیص مقالہ جمع کرنے کی تاریخ:15 ستمبر 2019
قبولیت کی اطلاع:18 ستمبر 2019
مکمل مقالہ جمع کرنے کی تاریخ:10 اکتوبر 2019
مزید تفصیلات کے لیے: www.UStories.in
شعبہ ذرائع ابلاغ، ایس آئی او آف انڈیا
ای میل: [email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

آرٹیکل370 کو ختم کرنا ہندوستانی جمہوریت اور آئین پر ایک طمانچہ ہے: ایس آئی او

نئی دہلی (پریس ریلیز) آرٹیکل 370 اور کشمیری عوام کو حاصل خصوصی ...