بنیادی صفحہ / نظر / “اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے”

“اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے”

ڈاکٹر حسن رضا، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی

“امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے” “اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے” 

          آج ہندوستان کی پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں میں حکمراں جماعت نے تین طلاق کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے مسئلے کو بڑا چڑھا کر ایک سیاسی ایجنڈا بنا یا اور پھر اکثریت کے زعم میں شریعت اسلامی کے اندر من مانی مداخلت کی جسارت کرڈالی اس طرح اسلامی شریعت کی روح کے خلاف اپنی لولی لنگڑی تاویل کے ذریعے قانون سازی کرکے مسلم ملت کے سواد اعظم کی مخالفت کے علی الرغم ان پر تھوپ دیا.    ہندوستانی مسلمانوں کے لئے یہ ایک عظیم تاریخی سانحہ ہے اور غور کیجئے تو دینی نقطہ نظر سے یہ بابری مسجد کے انہدام سے زیادہ بڑا سانحہ ہے 1857 کے بعد انگریزوں کے دور غلامی میں بھی ہمارے عایلی قوانین محفوظ رہے انہوں نے فوجداری قانون کو بدلا کیوں کہ اس کے نفاذ کی ذمہ داری سلطنت کی تھی جو کمزور ہو کر بالآخر شکست کھا چکی تھی لیکن مسلم عوام کی ایمانی قوت اور علماء حق کی دینی حمیت اتنی مضبوط تھی کہ انگریزی حکومت یہ ہمت نہیں کرسکی، اگر یہ جسارت وہ کرتی تو ہندوستان میں زیادہ دنوں تک پیر نہیں جما سکتی تھی.افسوس آج مسلم ملت 72 سالہ آزادی کے بعد ایسی بدترین بے وقعتی اور سیاسی یتیمی کی شکار ہوگئی ہے کہ اسلامی شریعت کی تعبیر، تاویل اور اس پر اپنے گھر آنگن میں عمل کرنے کی آزادی سے آہستہ آہستہ محروم کی جارہی ہے.

ہمارے یہاں تو آزادی کا تصور یہی ہے کہ خدا کی شریعت کے جتنے حصے پر ہم عمل کرنے میں آزاد ہیں اتنا ہی حقیقی طور پر آزاد ہیں. ہمیں تو آزادی اپنی جان سے زیادہ عزیز اسی لئے ہے کہ خدا کی بندگی وغلامی اور شریعت محمدی کی اطاعت کی آزادی ہمارے لئے اصل حیات اور حقیقی آزادی ہےان الصلوَتی ونسکی ومحیای ومماتی لللہ رب العالمين. سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ حادثہ تو اب ہوگیا ہمارے ملک کے نادان وطن پرستوں نے مسلم دشمنی میں وہ قدم اٹھا دیا جس کےبعد اب ان کا قدم رکنے والا نہیں ہے جب تک وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق آخری قدم نہ اٹھا لیں. امتحان ہمارا ہے. میرے خیال میں موجودہ حکومت کے خلاف سیاسی اور حریفانہ کشمکش یا ماتم، مرثیہ یا ہائے ہو اور واویلا مچانے سے زیادہ اہم اور ضروری ہے کہ پوری ملت، اس کے سماجی، ملی اور مذہبی قائدین مختلف تنظیموں کے ذمہ داران خود پرسنل لا بورڈ کے ارباب حل وعقد اپنا اپنا بے لاگ جائزہ لیں کہ ان سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں. ایک دوسرے کا جائزہ نہ لیں اپنا اپنا جائزہ لیں اجتماعی فورم میں بھی سب مل احتساب کر یں. اس لئے کہ گزشتہ پچاس برسوں سے یعنی شاہ بانو کیس کے وقت سے پرسنل لا کے تحفظ کی مہم چل رہی ہے پٹنہ میں اس وقت اسی سلسلے میں گولی چلی تھی اور مسلم نوجوان زخمی بھی ہوئے تھے ہم لوگ اس کے گواہ ہیں اس کے بعد سے نشستوں، جلسوں خطابات عوامی پروگراموں مقدمات کی پیروی، وفود کی ملاقاتوں اور میمورنڈم کا ایک سلسلہ ہے ان سب کے باوجود آج مسلمانوں کے خاندانی نظام پر شریعت کی اسپرٹ کے خلاف من مانی طریقے سے ایک قانون بناکر تھوپ دیا گیا ہے.

قانون ایسا بنایا گیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں پھنسانے اور الجھاکر غریب مسلمانوں کو آئے دن پریشان کرنے کی ایک راہ نکال لی گئی ہے تین طلاق کے غلط استعمال سے گھر یلو زندگی اور خاندان کی تباہی میں جو کسر رہ جاتی تھی یہ قانون اس کسر کو پورا کردے گا اصلاح احوال کی جو صورتیں بچ جاتی تھیں یہ قانون اب اس کو ختم کردے گا اس کے بعدکتنے مسلم خاندان تھانہ پولیس اور مقدمات کے چکر میں تباہ ہوجائیں گے کہنا مشکل ہے.لھذا اب ملت اسلامیہ کی ایمانی قوت، دینی حمیت، ملی اجتماعیت، اجتماعی بصیرت اور اتحاد کی قوت کے ساتھ سیاسی سوجھ بوجھ سب کا امتحان ہے. ایسا نہیں ہے کہ مسلمان قوم بانجھ ہوگئی ہے ملت کے اندے بے شمار ادارے، انجمنیں، تنظیمیں، جماعتیں، نمایاں شخصیتیں اور مشترکہ پلیٹ فارم غرض ہر طرح کے اثاثے موجود ہیں. اصل مسئلہ یہ ہے کہ سب کے اپنے اپنے پروگرامس، راستے اھداف اور ترجیحات ہیں اور ان کے ذریعے روزی روٹی شہرت ناموری، کرسی لیڈری راجیہ سبھا کی ممبری حج کمیٹی، اقلیتی کمیشن کی چیرمین شپ سے لے کر ثواب کمانے، حصول جنت اور رضائے الٰہی کے دعوے بہانے اور داستانیں ہیں.

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ خدا کے واسطے فی الحال سب کے پروگرام خاص وقت تک کے لئے ایک نکاتی ہوجائں. یعنی اسلام کے عایلی قوانین کا مسلم معاشرے پر نفاذ. اس ھدف کو سامنے رکھ کر ایک مختصر المدتی منصوبہ بنےاسکے لیے بھی پالیسی وضع کی جائے حکمت عملی طئے کی جائے. اسلامی معاشرے کے قیام میں اس ھدف کو فوکس کیا جائے پوری ملت فوکس کرے. غیر مسلموں پر بھی اس قانون کی حکمت واضح کیا جائے. ریسرچ بھی ہو کاونسلنگ سنٹر بھی بنے مدارس سہ ماہی کورس چلائیں. بستی بستی محلے محلے علاقے علاقے ملت کو اس کام میں لگایا جائے پروگرام کی کمی نہیں ہے اصل مسئلہ عملی اقدام کا ہے”پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے”     ایک آخری بات یہ احتیاط بھی رہے کہ حالات سے فائدہ اٹھا کر کوئی ایک مسلک کوئی خاص گروہ کوئی حلقہ اپنی لیڈری یا امام الہند بننے کی سازش نہ کرے. قوموں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ جیسے جیسے اقتدار کھوتی جاتی ہے ویسے ویسے اس میں اقتدار کی ہوس بھی بڑھتی جاتی ہے پھر ایثار قربانی ٹیم اسپرٹ للہیت بے غرضی ختم ہوتی جاتی ہے . اور یہی خوبیاں کسی قوم کے اقبال کے لیے درکار ہیں بڑے بڑے جلسے میں ڈایس کی کرسی صدارت کے لئے جب ملت کے بڑے لوگوں میں ہوس دیکھتا ہوں اور بازو میں بیٹھے لوگوں کو کہنیوں سے ٹھوکر لگاتے ہوئے پاتا ہوں تو جی بیٹھنےلگتا ہے کہ یہ سب باتیں کہیں زینت فیس بک ہوکر ہی نہ رہ جائیں . لیکن نہیں “ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”

تعارف: admin

ایک تبصرہ

  1. ریاض رعنا نورانی

    اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
    اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے بہت ہی اچھی تجاویز پیش کی گئی ہیں ہمیں محلہ محلہ مہم چلانے کی ضرورت ہے قرآن کریم کا وہ تصور طلاق پیش کیا جائے اور اسے ہر فرد ملت تک پہنچا یا جاے اور یہ کام تحریک اسلامی احسن طریقے سے انجام دیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

نرم قوم پرستی

نمتانشو سنگھ ہندوستان کی دانشورانہ اور سیاسی زندگی میں قوم پرستی ایک ...