بنیادی صفحہ / ایس آئی او / ایس آئی او ناندیڑ کی شاندار پیش رفت

ایس آئی او ناندیڑ کی شاندار پیش رفت

ناندیڑ شہر کا نام ملک گیر سطح پر ہمارے تنظیمی حلقوں میں اپنی سرگرمیوں اور اپنی خدمات کی بنیاد پر اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ ناندیڑمہاراشٹر ساؤتھ زون کا ایک معروف شہر ہے۔ جس میں ۶؍یونٹس اور ۳؍سرکلس آتی ہیں۔ ایس آئی او ناندیڑ شہر کی سرگرمیاں اپنے اندر کافی حد تک جدت اور جاذبیت رکھتی ہیں۔ معمول کی سرگرمیوں کے علاوہ شہر میں اس میقات میں ہونے والی اہم سرگرمیوں میں سوشل لیگل بیداری ورکشاپ، اربکان فٹبال رالنگ ٹرافی، تزکیہ کیمپ، غیر مسلموں کے لیے افطار پارٹی، غیرمسلم پروگرامس میں بک اسٹال،دسویں اگیارہویں اور بارہویں کے طلبہ کے لیے وی آئی سی (وکیشنل اسلامک کیمپ )اور چھٹی سے نویں کلاس کے طلبہ کے لیے بی آئی سی (بیسک اسلامک کورس)، اور بلاتفریق مذہب وملت عام طلبہ وطالبات کے لیے کے ایس ٹی (نالج سیکرس ٹسٹ) کا انعقادہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی گزشتہ دنوں ۲۴؍ تا ۲۶؍جون میں طلبہ ونوجوانوں کے ذہنی وفکری ارتقاء کے لیے منعقد ہونے والا یادگار کیمپ بھی ہے۔ ایس آئی او آف انڈیا کی تاریخ میں مقام کی سطح پر ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا اور منفرد کیمپ تھا، اس کیمپ کا مرکزی عنوان تھا ’لما یحییکم‘‘، یعنی جس میں تمہارے لیے زندگی ہے، یا جو تمہارے لیے حیات بخش ہے۔
کسی بھی فکری ونظریاتی تحریک میں فرد اور فکر دونوں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان تحریکات کی پیش رفت میں افکار کے ساتھ ساتھ افراد کا بھی بہت ہی اہم رول ہوتا ہے، چنانچہ ان کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج اپنے بنیادی افکار کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے افراد کے انفرادی واجتماعی شعور کی بیداری ہے، سیاسی سطح پر بھی اور سماجی سطح پر بھی۔
کسی بھی تحریک یا سماج میں تبدیلی کا خواب رکھنے والے ادارے میں علمی وفکری کام چند افراد کے ہاتھوں آگے بڑھتے ہیں، لیکن اگر یہ علمی وفکری کام ان چند افرادکے درمیان سمٹ کررہ جائیں تو یہ اپنے آپ میں کسی بھی تحریک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ علمی وفکری پیش رفت میں تحریک کے عام وابستگان کوشریک کرنا عوامی نفوذ کی خواہش مند اور بڑے کارنامے انجام دینے کا حوصلہ رکھنے والی کسی بھی تحریک کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ معاون منتظم کیمپ برادر محمد تبارک اللہ کے بقول’’ایس آئی او کے تمام کاموں میں سب سے اہم اور فوقیت رکھنے والا کام افراد اور اذہان سازی کا کام ہے۔ یہ کام عموما علمی وفکری نوعیت کا ہونے کی وجہ سے مخصوص افراد ہی اس کے مکلف سمجھے جاتے ہیں۔ اس رویے کے برعکس موجودہ کیمپ میں ہم نے سوچنے اور سمجھنے کے عمل کو گراؤنڈ پر کام کرنے والے افراد تک پہنچانے کی کوشش کی ہے‘‘۔
اس کیمپ میں شریک ہونے والے ساتھیوں کے انتخاب کا پروسیس بھی کافی منظم تھا۔ اس کے لیے ایک پروفارما تیار کیا گیا، جس سے ساتھیوں کی ذہنی وفکری سطح کا اندازہ لگایا جاسکے۔ کیمپ میں شریک ہونے والے ساتھیوں کا انتخاب اس پروفارما کے ذریعہ حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس کے علاوہ طلبہ ساتھیوں کو کیمپ سے قبل اسائینمٹس بھی دئیے گئے، جن پر ساتھیوں نے کام کیا۔
اس کیمپ میں سابق صدر تنظیم ایس آئی او آف انڈیا وامیر حلقہ مہاراشٹر جناب توفیق اسلم صاحب کے علاوہ سابق صدر تنظیم ایس آئی او آف انڈیا جناب محمد اظہرالدین صاحب، جناب غلام صمدانی صاحب، سابق صدور حلقہ مہاراشٹر ساؤتھ فہیم الدین فلاحی، سید معزالرحمن، صدر حلقہ مہاراشٹر ساؤتھ وسی اے سی ممبر ایس آئی او آف انڈیا ڈاکٹر سلمان مکرم، سی اے سی ممبر خان یاسر، مدیر رفیق منزل ابوالاعلی سید سبحانی وغیرہم نے مختلف علمی وفکری موضوعات پر خطاب کیا۔ کیمپ کے موضوعات کچھ اس طرح تھے: ’مقصد زندگی کا اسلامی تصور، دین میں ترجیحات، اسلامی نظام زندگی، قرآن سے استفادہ کی عملی شکلیں(مذاکرہ)، جدید تعلیمی نظام: تعارف وتبصرہ، جدید فقہی مسائل اور ہمارا مطلوبہ رویہ، اخوان المسلمون کی داستان عزیمت، علم حدیث کا تعارف، تاریخ جدوجہد آزادئ ہند: گمنام گوشے، قرآن سے استنباط(ورک شاپ)، تحریک اسلامی کی علمی ضروریات، ہندوستان میں دعوت دین کی تاریخ، مہاراشٹر کا مخصوص سماجی ومذہبی منظرنامہ، ہندوستان میں دعوت دین کی صورتحال: مسائل اور امکانات، دعوت دین اور اس کا طریقہ کار، مطالعہ اہمیت اور طریقہ کار، معاصر نظریات: سیکولرزم اور جمہوریت، قومیت اور فسطائیت، تعمیر اخلاق کے لوازم، اقبالیات: جواب خضر، احیائے دین کی کوششیں اور جہات، empowerment of muslim ummah through entreneurship, efforts of developing islamic economic system in india، سوشل میڈیا: تعارف واستعمالات۔ ‘
ایس آئی او ناندیڑ کی یہ سرگرمیاں یقیناًلائق تحسین بھی ہیں، اور لائق تقلید بھی۔ ملک کے مختلف اطراف میں پھیلی ہوئی مختلف یونٹس کے لیے یہ ایک مثال اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضرورت ہے کہ اپنی تمام ہی معمول اور غیر معمول کی سرگرمیوں میں اسی طرح بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر جدت، مقصدیت اور انفرادیت پیدا کی جائے، اس سے ذہن میں وسعت آتی ہے اور حوصلوں کو زندگی ملتی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہماری ان کوششوں کو شرف قبولیت عطافرمائے،آمین یا رب العالمین

اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینی جیالوں کے حق میں ایس آئی او کے مظاہرے

ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے فلسطین بالخصوص غزہ میں چل رہی اسرائیلی جارحیت کے خلاف سخت احتجاج درج کرایا گیا۔ جہاں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کی تفریق کے بغیر عام شہریوں پر اسرائیلی بمباری مستقل جاری ہے اور جس میں شہیدہونے والوں کی تعداد سیکڑوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔ ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے یہ احتجاجی مظاہرے ملک کے مختلف گوشوں میں ہوئے۔ شمال مشرق سے لے کر تمل ناڈو اور کیرلا تک ان مظاہروں کی گونج سنی گئی۔ ملک کی ہر ہر ریاست اور ہر ریاست کے تقریبا تمام ہی معروف شہروں اور مقامات پر یہ احتجاجی مظاہرے منعقد کرانے کی کوشش کی گئی۔
مرکز ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے پر بھی اس مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔ چنانچہ ۱۴؍جولائی کو ایس آئی او آف انڈیا نے دیگر طلبہ تنظیموں جے این ایس یو، آئسا وغیرہ کے ساتھ مل کر اسرائیلی سفارت خانے پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں جنرل سکریٹری اور دیگر ایس آئی او کے ذمہ داران کے علاوہ مدیر رفیق منزل اور معاون مدیر چھاتر ومرش بھی شریک ہوئے۔
۱۶؍جولائی یوم الفرقان کے موقع پر ایس آئی او ہیڈکوارٹر میں معروف ملی رہنما صدر مسلم مجلس مشاورت ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا ایک خطاب رکھاگیا، جس میں انہوں نے مسئلہ فلسطین اور غزوہ بدر کے درمیان موجود یک گونہ مشابہت کو بیان کرتے ہوئے نوجوانوں کو حقیقی صورتحال سے متعارف کرایا۔
۱۸؍جولائی کو ایس آئی او آف انڈیا نے ملک کی ملی تنظیموں کے ساتھ اسرائیلی سفارت خانے پر دوبارہ مزید تیاری کے ساتھ حصہ لیا۔
مریم رمضان کی ایس آئی او ہیڈکوارٹر آمد
معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر طارق رمضان حال مقیم لندن کی صاحبزادی گزشتہ دنوں ہندوستانی دورے کے موقع پر ایس آئی او ہیڈکوارٹر بھی تشریف لائیں، اس موقع پر جنرل سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا جناب سرورحسن صاحب اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ مریم رمضان کے ساتھ ایس آئی او کے ذمہ داران نے مختلف عالمی اور تحریکی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

ایس آئی او ہیڈکوارٹر کی جانب سے افطار پارٹیاں

ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے ہرسال کی طرح امسال بھی افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا گیا:(۱) مرکز جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ: ایس آئی او آف انڈیا نے اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے مرکزی ذمہ داران کو ہیڈکوارٹر میں مدعو کیا۔ اس موقع پر مختلف اشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا، ایس آئی او آف انڈیا کی اہم سرگرمیوں کو بھی سامنے لایا گیا۔ محترم امیر جماعت ، محترم قیم جماعت اور دیگر ذمہ داران جماعت نے ایس آئی او کی سرگرمیوں کے متعلق غیر رسمی طور سے کچھ اظہار خیال بھی کیا۔ (۲) ایس آئی او دہلی زون کے ممبران کے ساتھ بھی ایس آئی او ہیڈکوارٹر میں ایک افطار کا اہتمام ہوا، جس میں زون کی خالی زیڈ اے سی نشست کو بھی پر کرایا گیا، اور پھر دیگر امور بھی زیر بحث آئے، اس موقع پر جناب سرور حسن صاحب جنرل سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا نے خطاب کیا۔ (۳) ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے امسال انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک اعلی درجہ کی افطار پارٹی کا نظم کیا گیا۔ جس میں مولانا اسرار الحق قاسمی ممبر آف پارلیمنٹ ، سراج الدین قریشی، صدر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، اعجاز احمد اسلم صاحب سکریٹری جماعت اسلامی ہند، صفدر ایچ خان سابق صدر دہلی مائنارٹی کمیشن ، ایڈوکیٹ مشتاق احمد سپریم کورٹ، نوید حامد، پروفیسر وکاس گپتا، ڈاکٹر مدھو پرساد، برجو نائک اور جے این یو اور دہلی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے لیڈرس نے شرکت کی۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ایس آئی او افلو انتظامیہ کے طلبہ مخالف اقدام کی مخالفت کرتی ہے.

  اشفاق علی ایک پارٹ ٹائم طالب کا کیمپس میں داخلہ بغیر ...