بنیادی صفحہ / ایس آئی او / ایس آئی او آف انڈیا کے وفد کی اروند کیجریوال سے ملاقات

ایس آئی او آف انڈیا کے وفد کی اروند کیجریوال سے ملاقات

جنرل سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا برادرسرورحسن کی قیادت میں ایس آئی او آف انڈیا کے ایک وفد نے معروف سماجی کارکن اور سیاسی رہنماجنابِ اروند کیجریوال سے ملاقات کی۔ وفدجنرل سکریٹری کے علاوہ مرکزی سکریٹری برادر مسیح الزماں انصاری، ایڈیٹر رفیق منزل ابوالاعلی سید سبحانی، اور سابق مدیر معاون چھاترومرش برادر کاشف احمد پر مشتمل تھا۔ اس موقع پر اروند کیجریوال کے سامنے ایس آئی او آف انڈیا کی نارتھ انڈیا ایجوکیشن موومنٹ کا تعارف کرایا گیا، اور انہیں اس موومنٹ کے اختتامی پروگرام میں شرکت کے لیے ۱۹؍اکتوبر کو لکھنؤ آنے کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر اروند کیجریوال جی نے طلبہ اور تعلیمی اداروں سے اپنے دلی تعلق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر وہ دہلی سے باہر جانے سے معذور ہیں، البتہ دہلی میں ایس آئی او کا کوئی پروگرام ہوتا ہے تو وہ اس میں شرکت کی ضرور کوشش کریں گے۔ اس موقع پر ایڈیٹر رفیق منزل ابوالاعلی سید سبحانی کے ہاتھوں کیجریوال جی کو کچھ اسلامی لٹریچر بھی پیش کیا گیا۔
راجستھان اسٹوڈنٹس کانفرنس کا شاندار انعقاد
۲۷؍ ستمبر ۲۰۱۴ کو جے پور کے کربلا میدان میں ایس آئی او حلقہ راجستھان کی جانب سے Restoring Studenthood Shaping The Change کے نعرے کے ساتھ ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں راجستھان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اور نوجوان شریک ہوئے ۔اس کانفرنس میں مولانا سید جلال الدین عمری صاحب (سرپرست اعلی ایس آئی او آف انڈیا)،جناب مسیح الزماں انصاری (نیشنل سکریٹری ایس آئی او)، شاہنواز علی ریحان (ریسرچ اسکالر آکسفورڈ یونیورسٹی ،یو کے وسابق سی اے سی ممبر ایس آئی او) اور مطلب مرزا (صدر حلقہ، ایس آئی او راجستھان ) نے خطاب کیا ۔
صدر حلقہ نے افتتاحی گفتگو میں ایس آئی او کی سرگرمیوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ بے مقصد جوانی بڑھاپے کی مانند ہے۔ جوانی عمر سے نہیں مقصد اور حوصلے سے طے کی جاتی ہے۔شاہنواز علی ریحان نے نظام تعلیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک طرف جہاں الحادی نظام تعلیم ہمارے لئے مسئلہ ہے وہیں تعلیم کا بھگواکرن بھی بڑا چیلنج ہے، جس کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں بہت ہی علمی وفکری تیاری کی ضرورت ہے‘۔ مسیح الزماں انصاری نے کانفرنس کے مرکزی عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’تعلیم جب فاشسٹ ہو جاتی ہے تو نسلیں بھی فاشسٹ ہی تیار ہوتی ہیں، یہ ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے ایک اہم سوال ہے۔آخر میں سرپرست اعلی مولانا سید جلال الدین عمری نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ جماعت اسلامی ہند نے جو پودھا آج سے تین دہائی پہلے لگایا تھا اس کے برگ و بار آج دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ طلبہ ملک کے عام طلبہ سے مختلف ہیں اور جس سنجیدگی سے یہ ملک کے مسائل پر سوچ رہے ہیں، شاید ہی ہندوستان میں کوئی اور طلبائی گروہ اس سنجیدگی کے ساتھ سوچتا ہوگا ۔کانفرنس کی شروعات ایک اسٹوڈینٹس ریلی سے ہوئی، اس موقع پربرادر مسیح الزماں کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی ۔
الجامعہ اردو یونٹ نے شاندار اسٹوڈنٹس ڈے منایا
۱۹؍اکتوبر بروزاتوار ایس آئی او آف انڈیا کے یوم تاسیس کی مناسبت سے الجامعہ اردو یونٹ شانتاپرم کیرلا کی جانب سے اسٹوڈنٹس ڈے منایا گیا، اس موقع پر ایک خصوصی خطاب بھی رکھا گیاجناب ایم ساجد صاحب کا، موصوف ایس آئی او آف انڈیا کے سابق سکریٹری اور میڈیا ون چینل کے ڈپٹی سی ای او ہیں، آپ کا موضوع تھا ’’ایس آئی او آف انڈیا تابناک ماضی سے روشن مستقبل کی طرف‘‘۔ موصوف نے اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ ایس آئی او کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے بہت ہی ولولہ انگیز گفتگو کی، جس میں آپ نے ایس آئی او کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے طلبہ ونوجوانوں کو آنے والے کل اور تحریک اسلامی کے مستقبل کی تیاری پر زور دیا۔ آپ نے شخصیت کی تعمیر اور صلاحیت کے ارتقاء پر توجہ مبذول کراتے ہوئے اپنی سرگرمیوں میں وسعت لانے اور سماج میں نفوذ کی حکمت عملی کے تحت کام کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر اور بھی مختلف پروگرامس کئے گئے، ایریا کنوینر کے ہاتھوں اردو وملیالم طلبہ کی موجودگی میں پرچم کشائی کی گئی، اس موقع صدر اردو یونٹ ذوالقرنین حیدر سبحانی نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ سابق مدیر ماہنامہ رفیق منزل واستاذ الجامعہ شانتاپرم جناب سدیدازہر فلاحی کی صدارت میں تفہیم دستور کا پروگرام رکھا گیا، جس کے بعد تمام ہی ممبران نے صدریونٹ ذوالقرنین حیدر سبحانی کے ذریعے تنظیم سے وابستگی ، اورنئے عزم اور حوصلوں کے ساتھ فکری وعملی سطح پر مقاصد تنظیم کو بروئے کار لانے کے لیے جدوجہد کرنے کا عہد تازہ کیا۔
بسمت یونٹ میں دعوتی مہم
ایس آئی او حلقہ مہاراشٹر ساؤتھ زون کی دعوتی مہم ’’ ہمارا تصور ترقی‘‘ کے دوران ایس آئی او بسمت یونٹ نے شہر کے مختلف مراٹھی میڈیم کے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے ساتھ ترقی کے اسلامی ماڈل پرگفتگو کی ۔ اسی ضمن میں بسمت شہر کے بہیرجی کالج کے پرنسپل نؤناتھ لوکھنڈے اور راؤ صاحب پتنگے کالج کے پرنسپل پانچاڑے سر سے ایس آئی او ساؤتھ مہاراشٹر کے زونل جوائنٹ سیکریٹری برادر شیخ انور صاحب نے وِکاس اور اسلام کے ترقیاتی رول ماڈل پر، ایک اللہ پر ایمان رکھنے اور مرنے کے بعد احتساب اور آخرت کی زندگی پر گفتگوکی، ساتھ ہی انھیں مراٹھی زبان میں قرآن مجید اور دعوۃ کِٹ بھی تحفتاً پیش کیے گئے۔ طلبہ کے لیے کچھ سیمینا ر بھی رکھے گئے جن میں طلبہ نے مختلف النوع سوالات کیے۔

ایس آئی او مہاراشٹر کا طلبائی منشور برائے اسمبلی انتخابات ۲۰۱۴
آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ طلبہ و نوجوان سماج کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں اور ایک بڑی آبادی ان پر مشتمل ہے، اور انہیں ہی مستقبل میں اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم رول ادا کرنا ہے ۔دیکھا جاتا ہے کہ الیکشن کے موقع پر ان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ سیاسی پارٹیاں ان کی صلاحیتوں کو اپنے لئے ایک قیمتی اثاثہ تصور کرتی ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ایس آئی او ساؤتھ مہاراشٹر نے یہ محسوس کیا کہ ایک ایسا منشور ترتیب دیا جائے جس کے نکات طلبہ کے مسائل، ضروریات اور حقوق پر مشتمل ہوں۔لہٰذا طلبہ و نوجوانوں کی تنظیم ہونے کے ناطے ایس آئی او نے ریاست بھر کے طلبہ ونوجوانوں، ماہرین تعلیم و سماجی کارکنان میں اسے موضوع بحث بنایا۔کافی غور و خوض کے بعد چند ضروری مطالبات کے ساتھ ایک \”طلبائی منشور \” ترتیب دیا گیا ہے۔
۹؍ اکتوبر بروز جمعرات پترکار سنگھ ممبئی میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں ایس آئی او آف انڈیا کے ریاستی سطح کے ذمہ داروں کے ہاتھوں اس طلبائی منشور کا اجرا ہوا ۔اس موقع پر ریاستی جنرل سیکریٹری محمد صدیق خان ،پبلک ریلیشن سیکریٹری محمد علی،کیمپس سیکریٹری محمد سلمان اور جوائنٹ سیکریٹری شیخ انور موجود تھے۔
پبلک ریلیشن سیکریٹری محمد علی نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر تعلیمی لحاظ سے ایک اہم ریاست ہے، اس کے باوجود یہاں ایک بھی مرکزی سطح کی یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ حتیٰ کے جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ضمنی شاخ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تو اسے بھی سیاست کی نظر کردیا گیا۔RTIسے جب ہم نے معلوم کیا تو پتہ چلا اورنگ آباد میں جس جگہ نشاندہی کی گئی تھی اسے ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے۔ ریاستی جنرل سیکریٹری محمد صدیق خان نے طلبائی منشور کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج طلبہ کی ایک بڑی تعداد سیاسی پارٹیوں کی استحصالی پالیسیوں کی نذر ہوچکی ہیں ۔نوجوانوں میں بڑھتی نشے کی لت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے محمد صدیق خان نے کہا کہ الکوہل، تمباکو، ڈرگس جیسی مضر اشیاء پر پابندی عائد کی جانی چاہئے،اور جو نوجوان ان عادتوں میں ملوث ہیں حکومت کی جانب سے ہر علاقے میں خصوصاً Slumعلاقوں میں ان کی نفسیاتی اور اخلاقی کاؤنسلنگ کے مراکز قائم کئے جانے چاہئیں۔بے قصور نوجوانوں کی گرفتاریوں سے متعلق موصوف نے کہا کہ \”آج نوجوا ن اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہے، صرف سیاسی روٹیاں سیکنے اور نئے نئے تمغے اپنی وردی پر لگانے کے لئے غیر قانونی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے حکومت کوچاہئے کہ وہ نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاریوں پر روک لگائے اور فاسٹ ٹریک عدالتوں میں ان کا مقدمہ چلائے اور جو بے قصور ثابت ہوں حکومت ان کو مناسب معاوضہ دے اور انہیں کر کیریکٹر سرٹفیکٹ بھی دیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم یا روزگار جاری رکھ سکیں۔
اس موقع پر محمد سلمان کیمپس سیکریٹری نے کیمپس الیکشن کے تناظر میں لنگڈہ کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا، ٹویشن کلاسیس کے جال اور تعلیم کے بازاری کرن پر کنٹرول کے لئے پالیسی بنانے کی بھی بات کی ۔
ریاستی سطح کے مطالبات:
)ریاست مہاراشٹر ایک اہم تعلیمی ریاست ہونے کے باوجود اب تک سینٹرل یونیورسٹی سے محروم ہے ۔ریاست میں کم از کم ایک سینٹرل یونیورسٹی قائم کی جائے ۔
) ریاست کے ہر ضلع میں ماڈل ڈگری کالج اور ان کے ساتھ ہاسٹل کا قیام عمل میں لایا جائے ۔
)ریاست مہاراشٹر میں مرکز کی جانب سے منظور شدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سب سینٹر اب تک سیاسی وعدوں کی نذرہے ۔AMUکے اس سینٹر کو فوراًقائم کیا جائے ۔
)تعلیم سے متعلق ایک ڈاٹا بنک کا قیام قومی و ریاستی سطح پر فوراً عمل میں لایا جائے ۔
)ریاست کے نجی کالجس میں فیس کے نظام میں یکسانیت لائی جائے، اور اس پر مستقل نظر رکھنے کا نظام تشکیل دیا جائے، تاکہ نجی کالجس اپنے حساب سے طلبہ سے فیس کے نام پر لاکھوں روپئے اصول نہ کر سکیں۔
)حکومت ٹویشن کلاسیس کے نام پر جاری اس انڈسٹری کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ضابطہ تشکیل دے، اور اس پر باقاعدگی کے ساتھ عمل کو یقینی بنائے۔
)طلبائی سیاست و کیمپس الیکشن کے تناظر میں لنگڈہ کمیشن کی سفارشات کو فوراً ریاست میں نافذ کیا جائے ۔
)طلبہ کو دی جانے والی EBCکی سہولت میں سرپرست کی موجودہ سالانہ آمدنی پندرہ ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ تک کی جائے ۔
)اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لئے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام میں وہ تمام تر تعلیمی اسکیمات بھی شامل کی جائے جن کا فائدہ پسماندہ طبقات SC/ST کو دیا جاتا ہے۔
حکومت مہاراشٹر کی طرف سے اعلان شدہ مسلم ریزویشن کو ودھان سبھا ایکٹ میں شامل کیا جائے ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اقلیتی ادارے میں اردو کی زبوں حالی نامنظور؛ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ ’باب صدی‘ کا نام اردو رسم الخط میں درج کرے : طلحہ منان

اس جمہوری ملک ہندوستان کے آئین کے تحت اقلیتوں کو اپنی تہذیب ...