بنیادی صفحہ / شرر / اپنی باتیں

اپنی باتیں

سال نو کی آمد آمد ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی نئے سال کی آمد پر ہر سو‘ جشن کا سماں ہے۔ مبارکباد اور نیک تمناؤں کے اظہار کا ایک سلسلہ ہے، جو کئی دنوں سے جاری ہے۔ وابستگان تنظیم کے لیے سال نو کے ساتھ ساتھ میقات نو کا بھی آغاز ہے۔ گزشتہ دنوں گوا میں منعقد ہونے والے آل انڈیا زیڈ اے سی اجلاس میں تنظیم کی میقات ۲۰۱۵ ؁ء تا ۲۰۱۶ ؁ء کے لیے نئی قیادت کا انتخاب عمل میں آیا۔ یہ انتخاب بہت ہی اعلی عزائم، اونچے خیالات اور نیک تمناؤں کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ اِس وقت ملک کے گوشے گوشے میں وابستگان تنظیم سال نو کے ساتھ ساتھ سالارِنو کا استقبال بہت ہی شوق اور وارفتگی کے ساتھ کررہے ہیں۔
ایس آئی او آف انڈیا صالح اور سنجیدہ طلبہ ونوجوانوں کی ایک ایسی اجتماعیت ہے جو گزشتہ زائد ازتین دہائیوں سے ملک عزیز کے اندر سرگرم عمل ہے۔ یہ اجتماعیت طلبہ ونوجوانوں سے تشکیل پاتی ہے اور ان ہی کے درمیان اپنی سرگرمیاں انجام دیتی ہے، ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی یہ سرگرم عمل ہے اور عام نوجوانوں کے درمیان بھی۔
ایس آئی او چاہتی ہے کہ امت مسلمہ کا جزو ہونے کی بنا پر دین اسلام کی دعوت وتبلیغ اور اس کے قیام کے سلسلے میں طلبہ ونوجوانوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان کے سلسلے میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کرے۔ اس کے لیے طلبہ ونوجوانوں کی صلاحیتوں کو نشوونما دی جائے۔ ان کے اندرمقصد کا شعور اور احساس بیدار کیا جائے۔ اعلی مقاصد کے لیے ان کے اندر ایثاروقربانی کا جذبہ پروان چڑھایا جائے۔ ملک سے برائیوں کو مٹانے اور بھلائیوں کو عام کرنے کے لیے منظم طور سے ان کی توانائیاں لگائی جائیں۔ ان کے اندر دنیا وآخرت میں رضائے الہی کے حصول کا شوق اور لگن پیدا کردی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار پھر سال نو کا آغاز ایسے حالات میں ہورہا ہے جبکہ ملک میں خیر اور بھلائی کا علم بلند کرنے والے بحیثیت مجموعی شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں، اور سماج میں شرپسند اور فسطائی ذہن رکھنے والے عناصر پوری طرح نہ صرف سرگرم ہیں، بلکہ مختلف شعبہ ہائے حیات کو بری طرح متأثر کررہے ہیں۔
ہر نیا سال اس بات کا شاندار موقع فراہم کرتا ہے کہ گزشتہ سال کا تجزیہ کیا جائے، کامیابیوں پر رب کائنات کا شکر ادا کیا جائے اور ناکامیوں کو کامیابیوں میں تبدیل کرنے کے لیے ازسرنو غوروفکر کیا جائے۔ ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک بہت ہی گہرا منطقی ربط پایا جاتا ہے، ضرورت ہے کہ عملی زندگی میں ماضی کو ماضی کی جگہ رکھا جائے اور حال اور مستقبل کو ان کا مقام دیا جائے۔ ماضی میں الجھ کر رہ جانے والے نہ صرف اپنے مستقبل سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں، بلکہ اپنے حال کو بھی مکدر کرڈالتے ہیں۔
سوچنے اور تجزیہ کرنے کے انداز مختلف ہوسکتے ہیں، اور ان کی روشنی میں لائحہ عمل پر بھی اختلاف آراء کے پورے امکانات موجود ہیں، لیکن سوچنے اور تجزیہ کرنے کا عمل بہرصورت جاری رہنا چاہئے۔ صورتحال کا بے لاگ تجزیہ اور مطالعہ کرتے ہوئے جرأتمندی کے ساتھ اس پر گفتگو کی جائے اور اسی کی روشنی میں لائحہ عمل طے ہو۔ ماضی میں سوچنے والوں نے اپنی صورتحال کے پیش نظر اور اپنے حالات اور امکانات کے مطابق بہت کچھ سوچا اور اس کے مطابق لائحہ عمل طے کیا، یقیناًاُن کی کوششوں کی قدر کی جانی چاہئے، تاہم فی زمانہ ان کی سوچ اور ان کے لائحہ عمل پر اکتفاء دانشمندی نہیں۔
صورتحال کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اسلامی تحریک کو اس وقت مختلف بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جس کالازمی تقاضا ہے کہ بیک وقت مختلف محاذوں پر کام کیا جائے۔ کچھ محاذ تو وہ ہیں جن کا تعلق ملت کے اندرون سے ہے، اور کچھ محاذ وہ ہیں جن کا تعلق عام ہندوستانی سماج سے ہے، جبکہ کچھ کا تعلق یکساں طور پر دونوں سے ہے۔ ملک میں فرقہ وارانہ سوچ کا فروغ پانا ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ آزادئ فکر ونظر اور آزادئ مذہب وعقیدہ پر حملہ ملک کے تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر بڑا مسئلہ ہے۔ اخلاقی قدروں کا زوال اور مخرب اخلاق کلچر کا فروغ ملک کی تہذیب وروایات کے لیے بڑا چیلنج ہے، جس کا نشانہ ملک کے تمام عوام بن رہے ہیں۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے مسائل ہیں جن کے سلسلے میں ملک میں عام بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ مسائل وہ ہیں جو ملت کے اندرونی مسائل ہیں، ان مسائل کا سامنا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان گہری ہوتی خلیج اور ملت اسلامیہ کے اندر تعصب کی بڑھتی دیواریں اور ملت کا فکری وذہنی انتشار اور معاشی وسیاسی عدم تحفظ سرفہرست مسائل ہیں۔ ملک میں سرگرم فرقہ پرست طاقتیں تعصب اور نفرت کو عام کررہی ہیں۔ مسلم دشمن عناصر کی پوری کوشش ہے کہ ہندومسلم تعلقات کی خوشگوار یادوں کو تلخ اور کڑوے تجربات میں تبدیل کردیا جائے، وہ اپنے کام میں مصروف اور بظاہر کامیاب ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کے علمبردار اِن تمام پہلوؤں کے سلسلے میں کس قدر بیداری اور حرکت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
(ابوالاعلی سید سبحانی)

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

کلچرل نیشنلزم : چند قابل غور نکات

محمد معاذ معلوم انسانی تاریخ کے مطالعے سے یہ امر عیاں ہوتا ...