بنیادی صفحہ / سخن / محفل / آیتِ نحل
Credit: worldquran.com

آیتِ نحل

’’جب مکھی گھر سے نکلتی ہے تو اس کو اپنے گھر کا راستہ برقی مقناطیسی لہروں کی مدد سے یاد رہتا ہے۔ وہ پھول، پھل پر بیٹھتی ہے اور رس لے کر واپس گھر لوٹتی ہے۔ لیکن درمیان میں موبائل، سگنلز کی لہروں کا جال بچھا رہتا ہے۔ شہد کی مکھی جب کسی سگنل کی لہر سے ٹکراتی ہے، تو مقناطیسی فیلڈ متاثر ہوتا ہے، یوں سمجھئے وہ چکرا کر رہ جاتی ہے اور ’’کنفیوژڈ‘‘ ہوجاتی ہے۔ اس ٹکرسے وہ سمت کا تعین کھودیتی ہے۔ وہ اپنے گھر کا راستہ بھول جاتی ہے۔ وہ پھر ماری ماری ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑتی ہے۔ اور یوں ہی بھٹک بھٹک کر کہیں گر کر مر جاتی ہے۔ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ گھر لوٹنے والی مکھیوں کی تعداد کم سے کم ہورہی ہے۔‘‘


جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے سوچا کہ … یہ آیت نحل ہے، اتنی اہم جس سے سورہ کا نام لکھا ہے، تو شہد کی مکھی کی مثال بیان کرنے کا کیا مقصد ہوسکتا تھا؟
تب مجھے احساس ہوا کہ یہ موبائلز ہماری دنیا سے مٹھاس کیسے غائب کررہے ہیں۔ کتنی ہی پیاری اور اچھی لڑکیاں جنھیں اپنے گھروں کی شیرینی بڑھانی تھی، وہ روز گھر سے نکلتی ہیں، پھولوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی آس لے کر، آسان راستوں پر چلتی ہیں، مگر پھر… درمیان میں یہ موبائل سگنلز آجاتے ہیں، اور ان کے راستے مشکل ہوجاتے ہیں۔وہ کنفیوز ہوجاتی ہیں۔ کسی نامحرم سے فون پر بات کرنے کے لیے ڈھیڑوں دلیلیں گھڑتی ہیں۔ فتوے لیتی ہیں، کزن بھی تو بھائی ہوتا ہے، اسلام اتنا بھی سخت نہیں، میں غلط بات تو نہیں کررہی وغیرہ وغیرہ۔ اور اسی کرب اور کنفیوژن میں وہ گھر کا راستہ بھول جاتی ہیں۔ وہ دربدر بھٹکتی رہتی ہیں۔ ان کو تو آسان راستوں پر چلنا تھا، اپنے دلوں میں موجود قرآن سے، اور نور سے، لوگوں کو شفا دینی تھی، اپنے ٹیلنٹ اور پوٹینشل کو میٹھے کاموں کے لیے استعمال کرنا تھا۔ مگر یہ موبائل سگنلز ان کو بیمار کردیتے ہیں۔مرضِ عشق بہت موذی مرض ہے۔ اگر آپ میں سے کوئی اس میں مبتلا ہے تو یاد رکھیے اس مرض کی شفا ہے، لیکن اس شفا کے لیے پہلے آپ کو اپنے راستے ٹھیک کرنے ہوں گے۔ وہ مشکل راہیں جن میں کرب ہے، پکڑے جانے کا خوف ہے، ان کو ترک کرنا ہوگا۔


قصہ مختصر، یہ آیات نحل ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ جیسے گوبر اور خون کے درمیان سے پاکیزہ چیز نکل سکتی ہے، اور جیسے انگور اور کھجور سے ناپاک شے بن سکتی ہے، ویسے ہی شہد کی مکھی کے راستوں کو مشکل بنانے والی چیزوں کا صحیح یا غلط استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مگر اتنا یاد رکھیے گا کہ جو آپ کے نصیب میں ہے، وہ آپ کو ضرور ملے گا۔ چاہے حرام سے یا چاہے حلال سے۔ لیکن اگر آپ اس کو حرام سے لینے کی کوشش کریں گے، تو اللہ آپ کے حلال کی لذت لے لے گا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

حقوق رازداری

شمس الضحیٰ، نئی دہلی انسانوں کے خود ساختہ قوانین و دساتیر میں ...