بنیادی صفحہ / نظر / آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع

آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع

ایم اے حمید، حیدر آباد

آسٹریلیا کے یونیورسیٹیز عالمی سطح پر اپنے معیارِ تعلیم اور تحقیق کے لئے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہاں کی حکومت AQF آسٹریلین کوالیفکیشن فریم ورک(Australian Qualificaion Framework) کی مسلمہ حیثیت دیتے ہوئے معیار کی سند دیتی ہے، جو آسٹریلین تعلیم کے نیشنل کوالٹی فریم ورک کا حصہ ہے۔ آسٹریلیائی جامعات کے ریسرچ مراکز نے ان کے تحقیقی ورک پر کئی بین الاقوامی ایوارڈس حاصل کئے جس میں ۱۱ نوبل ایوارڈ شامل ہیں ، اب آسٹریلیا میں بیرونی ممالک کے طلبہ کو تعلیمی مواقع ، ذرائع ، سہولیات اور کورسیز سے متعلق مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ طالب علم انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ کہلاتے ہیں، ایسے انٹرنیشنل طلباء اگر آسٹریلین یونیورسیٹیز سے گریجویشن کرتے ہیں تو ان کو یہاں کام کرنے کے بھی شاندار مواقع ہیں اگر کوئی انٹرنیشنل طالب علم یہاں بیاچلرس ، ماسٹرکورس ورک ڈگری کرتا ہے اور وہ کم از کم دو سال آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو کورس کی تکمیل کے بعد وہ مزید دو سال تک کام کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ اسی طرح ماسٹر اور پی ایچ ڈی سطح کے کورس کی تکمیل کے بعد چار سال تک کام کرنے کا اہل ہوتا ہے۔

آسٹریلیا کا اعلیٰ تعلیم ، یونیورسٹی سطح کا عام طور پر سالانہ دو سمسٹر سسٹم چلاتا ہے ، پہلا سمسٹر فروی تا جون اور دوسرا سمسٹر جولائی تا نومبر، بعض اور دوسرے یونیورسیٹیز Tri-semester ہے۔ آسٹریلیائی تعلیمی نظام میں لچکدار اسٹیڈی کو رکھا گیا ہے ، اسکولی سطح کی تعلیم کے بعد اگر کوئی طالب علم آسٹریلین سینئر سکنڈری اسکول یا فارن سرٹیفیکٹ کورس مماثلت کا کیا ہوتو وہ ڈپلوما ، اڈوانس ڈپلوما یا بیاچلر ڈگری کرسکتا ہے۔ بعض سارے کورسیز انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ کے لئے آسٹریلین اکیڈمک ماحول کے لحاظ سے بنائے گئے ہیں ۔ اسٹریلیا میں جملہ 39 یونیورسٹیز ہیں یہ یونیورسٹیز سرٹیفیکٹ ، ڈپلوما ، بیاچلر ڈگری ، ماسٹرس ڈگری اور ڈاکٹریٹ پروگرامس رکھتی ہیں۔ ان میں بیاچلر ڈگری تین تا چار سال کی ہے ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ایک سال ، دیڑھ سال اور دو سال تک کا ہے اوردو تا پانچ سال تک ڈاکٹریٹ ڈگری ہے۔ فارن اسٹوڈنٹ یعنی انڈین طالب علم کو آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلش کا ٹسٹ کامیاب ہونا ضروری ہوتا ہے جو IECTs , TEEFL یا PTEہے۔ GMAT اور GRE بھی بعض یونیورسٹیز میں پوچھا جاتا ہے۔

یونیورسٹیز اپنے ڈگری کے مارکس اور بتائے گئے قواعد و ضوابط کی تکمیل پر داخلہ دیتی ہے اور آفر لیٹر دیا جاتا ہے اس کی بنیاد پر فیس ادا کرتے ہی وہزا کو اپلائی کرنا ہوتا ہے اور ہائی کمیشنر اسٹوڈنٹ ویزا جاری کرتا ہے۔ ان دنوں ہندوستانی طلبہ کا رجحان آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بہت زیادہ ہے، آسٹریلیا کا صدر مقام کیانبرا ہے اور یہاں دو یونیورسٹیز ہیں ، ریاست نیو سائوتھ سیلس ہے جہاں ملک کا بڑا شہر سڈنی ہے اور آسڑیلین کیتھولک یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سڈنی کے بسمول 11 یونیورسٹیز ہیں ، کوئینس لینڈ میں8 یونیورسٹیز ہیں ، نارتھن ٹرئیٹری میں چارلس ڈارون یونیورسٹی ہے ، سائوتھ آسٹریلیا میں چار یونیورسٹیز ہیں ، تسمانیہ میں یونیورسٹی آف تسمانیہ ہے ، وکٹوریہ میں بشمول وکٹوریہ یونیورسٹی کے 8 یونیورسٹیز ہیں ، وسٹرن آسٹریلیا میں چار یونیورسٹیز ہیں ۔ جو طالب علم آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم کا منصوبہ بناتا ہے پہلے وہ اپنی تعلیمی قابلیت اور انگلش ٹسٹ سے اسکور کے بعد مالی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی ، شہر اور کورس کا انتخاب کریں۔ اس وقت آسٹریلیا میں تعلیم اور روزگار کے شاندار مواقع ہیں، صحیح حکمت عملی اور اچھے تعلیمی ریکارڈ کے ساتھ اچھی اور معیاری یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرکے شاندار مستقبل بنایا جاسکتا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ترکی میں تعلیم کے نئے مواقع

انصاری سلیم، بنگلور گزشتہ کچھ دہائیوں کے اندر کئی اہم سماجی، تکنیکی ...