بنیادی صفحہ / رزم / آر ٹی ای : خصوصیات اور چیلنجیز

آر ٹی ای : خصوصیات اور چیلنجیز

ڈاکٹر عظمیٰ صدیقی
اے ایم یو، علیگڑھ

سڈنی جے ہیریس نے کہا تھا کہ تعلیم کا اصل مقصد آئینوں کو کھڑکیوں میں تبدیل کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں لاکھوں نوجوان ذہن ہیں جو اپنے خواب و خیالات کے آئینوں کو حقیقت کی کھڑکیوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں غربت اب بھی موجود ہے جو بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے بہت سے لوگوں کو روکتی ہے۔ تعلیم کا حق حکومت کی جانب سے لوگوں کو اس معذوری سے نجات دینے اور انہیں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لئے ایک کوشش ہے تاکہ وہ معاشرے کی خدمت اور اصلاح کے لئے علم حاصل کرسکیں۔ مفت اور لازمی تعلیم ایکٹ (آر ٹی ای) 6 سے 14 سال کی عمر کے ہر بچے کے لئے تعلیم کو ایک بنیادی حق کے طور پر پیش کرتا ہے۔

آر ٹی ای ایکٹ کے عنوان میں ‘مفت اور لازمی الفاظ داخل ہیں۔’مفت تعلیم کا مطلب ہے کہ کوئی بھی بچہ (اس کے علاوہ، جو اپنے والدین کی طرف سے کسی ایسے اسکول میں داخل کرایا گیا ہو، جو حکومت کی طرف سے حمایت کردہ نہیں ہے) کسی بھی قسم کی فیس یا اخراجات ادا کرنے کے لئے ذمہ دار نہیں ہوگا، جو اس کی ابتدائی اور لازمی تعلیم کو پورا کرنے سے روک سکتے ہیں۔ ‘لازمی تعلیم کا مطلب ہے کہ۶ تا ۱۴؍ سال کی عمر کے تمام بچوں کے داخلہ، حاضری اور بنیادی تعلیم کو پورا اور یقینی بنانے کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور حکومت کی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، ہندوستان نے حق کی بنیاد پر مبنی ڈھانچے کے لئے آگے بڑھ کر اقدامات کئے ہیں جو مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر آر ٹی ای قانون کی دفعات کے مطابق آئین کے آرٹیکل21-A میں موجود اس بنیادی تعلیم کے حق کو لاگو کرنے کے لئے ایک قانونی ذمہ داری رکھتا ہے۔ آر ٹی ای ایکٹ کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

۱) ۶ تا ۱۴؍ سال کی عمر کے ہر بچے کو اپنے قریب ترین اسکول میں مفت اور لازمی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے، جب تک کہ اس کی بنیادی تعلیم مکمل نہ ہوجائے۔

۲) نجی اسکولوں کو معاشرے کے کمزور اور پچھڑے طبقے سے۲۵؍ فیصد طلبہ کو اپنے اسکولوں میں داخلہ دینا پڑے گا۔ حکومت ان بچوں کی تعلیم کا فنڈ دے گی۔

۳) اس کوٹہ میں کوئی نشست خالی نہیں کی جا سکتی، ان بچوں کو بقیہ تمام بچوں کے برابر ہی مانا جائے گا اور سرکار کی جانب سے پوری امداد فراہم کی جائے گی۔

۴) تمام اسکولوں کو اس ایکٹ میں مقرر کردہ معیار اور شرائط کے بارے میں محتاط رہنا پڑے گا اور کوئی بھی اسکول جو۳؍ سال کے اندر ان شرائط کو پورا نہیں کرے گا، اسے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام نجی اسکولوں کو رجسٹریشن کرنے کے لئے درخواست داخل کرنا ہوگی، اگر وہ اس کام میں ناکام رہتے ہیں تو ان پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اگر وہ کام جاری رکھیں گے تو انہیں۱۰ ؍ہزارروپئے فی دن بطور جرمانہ ادا کرنے ہوں گے۔ استاد کی اہلیت اور ٹریننگ کے قوانین اور معیار بھی ایک تعلیمی اتھارٹی کی طرف سے مقرر کئے جا رہے ہیں۔تمام اسکولوں میں، اساتذہ کو۵سال کے اندر اندر ان قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے۔

۵) کسی قسم کے عطیہ یا کسی شخص سے بطور امداد پیسہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

۶) بچوں یا والدین کے لئے کوئی داخلہ امتحان یا انٹرویو نہیں ہوگا۔

۷) ابتدائی تعلیم کی تکمیل تک کوئی بچہ اسکول سے نہیں ہٹایا جاسکتا ہے اور اس کے لئے بورڈ کے امتحانات میں پاس ہونا ضروری ہے۔

 

۸) اس ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کے لئے ایک کمیشن قائم کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

۹) طلبہ اور اساتذہ کے درمیان ایک خاص تناسب کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

۱۰) تمام اسکولوں کو ان قوانین اور قواعد و ضوابط کی تعمیل کرنی ہوگی، اگر اسکول ناکام ہوتا ہے تو اسکول کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان تمام قوانین کو نافذ کرنے کے لئے، تین سالوں کی اخلاقی مدت کو تمام اسکولوں میں بڑھا دیا گیا ہے، جو ان کے لئے ضروری ہے۔

۱۱) اس قانون میں اساتذہ کی ٹریننگ اور قابلیت کے قوانین کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

۱۲) نجی اور غیر امداد یافتہ اسکولوں کے علاوہ تمام اسکولوں کو اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کی طرف سے منظم کیا جاتا ہے، جس میں۷۵؍ فیصد ارکان والدین اور سرپرست ہیں۔ان خصوصیات پر غور کرنے کے بعد یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آر ٹی ای ایک جادو کی چھڑی نہیں ہے جو کہ پسماندہ بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے موجودہ مسائل کو اپنے فوری اثرات سے ختم کر دے گی۔ مسائل اور چیلنجز ابھی بھی موجود ہیں اور وہ کافی بڑے ہیں۔ جب آر ٹی ای یعنی تعلیم کا حق ایکٹ منظور کیا گیا تھا، تو یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ کل ۱۰ء۶؍ لاکھ اساتذہ کو پیشہ ورانہ تربیت یعنی ٹریننگ کی ضرورت ہے، جو ایکٹ کے نفاذ سے زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے اندر مکمل کیا جانا تھا، یعنی مارچ ۲۰۱۵ ؁ تک لیکن موجودہ وقت میں، نااہل اساتذہ کی تعداد پارلیمنٹ میں وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کے بیان کے مطابق، ۱۱؍ لاکھ ہے۔ ترمیم بل کی منظوری کے ساتھ، ان کے اساتذہ کو اب کم از کم قابلیت حاصل کرنے کے لئے مارچ۲۰۱۹ ؁ تک کا وقت دیا گیا ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ جو مقصد سات سالوں میں حاصل نہیں کیا جا سکا، وہ دو سالوں میں کس طرح حاصل کیا جائے گا؟ اسی طرح ہندوستان میں پرائمری اسکولوں کی خستہ حالی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ Gross Enrollment Ratio کا لگاتار کم ہونا اورڈراپ آوٹ

 

 

طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونا بہتر مستقبل کی نشاندہی نہیں کرتے ہیں۔ ورلڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ ۲۰۱۷ ؁ کے مطابق ہندوستان نے مالاوی کے بعد۱۲؍ممالک کی فہرست میں دوسرا نمبر درج کیا ہے جہاں درجہ دوم کا طالب علم ایک مختصر متن کا ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکتا۔ اسی طرح ہندوستان سات ممالک کی اس فہرست میں سب سے اوپر ہے جہاں درجہ دوم کا طالب علم دو ہندسوں کو گھٹا کر باقی نہیں نکال سکتا۔ حال ہی میں پارلیمنٹ میں آر ٹی ای ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے درجہ ہشتم سے پہلے طلبہ کو فیل کرنے کے راستے بھی کھول دئیے گئے ہیں۔ماہر تعلیم مانتے ہیں کہ اس ترمیم کے بعد Enrollment میں مزید کمی آئے گی۔ دیگر مسائل مثلاً اسکولوں سے باہر یعنی اسکولوں سے محروم بچوں کا حساب کس طرح کریں، پسماندہ بچوں کے والدین کا تعلیم یافتہ نہ ہونا، عوام کے درمیان آر ٹی ای کے بارے میں بیداری کی کمی، معیاری اسکولوں کا فقدان، بنیادی سہولیات کی کمی، مالی امداد کی کمی اور تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، نجی اسکولوں اور سرکاری اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم میں بڑا فرق، ہندوستان میں آر ٹی ای کے عملدرآمد میں اہم چیلنجز ہیں، جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کورس، نصابی کتابوں، تعلیم کے اخراجات، علاقائی زبانوں میں تعلیم ، ایک مناسب استاداورتربیتی پروگرام جیسے اہم پہلوؤں پر دوبارہ اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔آر ٹی ای کے مثبت عمل کے لئے، اس ایکٹ کے تمام بنیادی اعضاء کو صحیح جگہ میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کے تعلیمی نظام کو بچوں کے تعلیمی حق کے احترام کے لئے خود کو زیادہ آسان بنانے اور تیزی سے کام کرنے ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے محروم طبقوں تک تعلیم کی روشنی پہنچ سکے جو انہیں ناخواندگی کی تاریکی سے باہر لے کر آئے اور ایک بہترین معاشرے کی تشکیل ہو۔

ملک کے ایک حصے میں بلٹ ٹرین کو دوڑا دینا ہمارے ملک کو ایک بہترین ملک نہیں بنا سکتا۔ہندوستان ایک بہترین ملک تبھی مانا جائے گا جب اس بلٹ ٹرین تک ہر شخص کی پہنچ ہو گی۔ اسی طرح کچھ ‘عالمی معیاری یونیورسٹیاں’ تعمیر کرکے ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک نہیں بنایا جا سکتا۔ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک تبھی بنے گا جب اس کی پرائمری اور ثانوی تعلیم کا اہتمام ‘عالمی معیار’ کا ہو گا۔اگر ہماری بنیاد مضبوط ہوگی، چند مدت میں تینوں سطح کے تعلیمی نظام (پرائمری، ثانوی اور اعلی) میں بھی بہتری آئے گی اور واقعی یہی ترقی کی سمت میں ایک ‘معروف قدم’ ثابت ہوگا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

انگلش اینڈ فارن لنگویجیز یونیورسٹی

ریاض الحق، اے ایم یو، علی گڑھ آزاد ہند کے ابتدائی ایام ...