بنیادی صفحہ / نظر / انتخابی نتائج کیا ؟ کیوں اور کیسے

انتخابی نتائج کیا ؟ کیوں اور کیسے

اترپردیش کے انتخابی نتائج نے مسلمانوں کے ذہن میں خلجان پیدا کردیا ہے۔ ایک تو ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ سارے مسلمان کیوں ہار گئے؟ اور دوسرے بہوجن سماج پارٹی کیوں اپنا کھاتہ نہیں کھول سکی؟ لوگ پریشان ہیں کہ یہ کیا ہوگیا؟ کیوں ہوگیا؟ اور کیسے ہوگیا؟ یہ سوالات ان ریاستوں کے حوالے سے پیدا نہیں ہوتے جہاں بی جے پی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی، مثلاً کیرلا،تمل ناڈو ، اڑیسہ ، مغربی بنگال اور سیماندھرا یا تلنگانہ وغیرہ اس لئے کہ اس کا آسان سا جواب ہے، وہاں ایک ایسی علاقائی قیادت موجود تھی جس پرمودی لہر اثر انداز نہیں ہوسکی۔ مدھیہ پردیش ،راجستھان، گجرات،چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ ،ہریانہ، آسام اور ہماچل وغیرہ کے علاقائی رہنما اس قدر کمزور تھے کہ وہ اس آندھی کا مقابلہ کرسکیں، اس لئے بہہ گئے لیکن ان ریاستوں میں بھی۹۰؍ سے سو فیصد نشستوں کا چمتکار ایک سوالیہ نشان ہے؟اس کے برعکس اتر پردیش میں ملائم اور مایاوتی جیسے رہنماؤں کے ہوتے اور بہارمیں لالو اور نتیش کے باوجودیہ آندھی کیوں نہیں رکی؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ دراصل یہ کوئی چمتکار نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی پر کامیابی کے ساتھ عملدرآمد کے نتائج ہیں جس کے لیے نریندر مودی، امت شاہ اور راج ناتھ سنگھ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ مودی اور شاہ کے سارے پاپ دھل گئے بلکہ یہ سیاسی کامیابی کی پذیرائی ہے۔
کیا ہوا؟ یہ جاننے سے قبل یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کیا ہوتا رہا ہے جس کے نہ ہونے سے ہم حواس باختہ ہیں، ورنہ بات واضح نہ ہوسکے گی؟ نتن گڈکری نے بہار میں کہہ دیا تھا کہ ذات پات یہاں کی رگ وپے (جینس)میں سمائی ہوئی ہے۔ اس پر ہنگامہ ہوا لیکن یہ حقیقت ہے۔ اس ذات پات کی تقسیم کے سبب ہندو ووٹ تقسیم ہوتا تھا اوراس کے بعد ہی مسلم ووٹ اہم ہو جاتا تھا۔ پچھلی مرتبہ بی جے پی کواترپردیش میں صرف ۹؍ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور مسلمانوں کی دانشمندانہ رائے دہندگی کے بڑے چرچے ہوئے۔ اس بار بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ذات پات کی دیوار کو توڑنے کا تھا۔ اس لئے کہ ذات پات کی تقسیم ہندو اکثریت کو اقلیت بناتی دیتی ہے اور اس کے ٹوٹتے ہی ہندو اقلیت پھر سے اکثریت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ امت شاہ کو گجرات کے اندر اس کام کا تجربہ تھااس لئے اس کو اترپردیش لایا گیا۔
امت شاہ کا نام آتے ہی ہم لوگ ایک خاص سمت میں سوچنے لگتے ہیں۔ امت شاہ نے آتے ہی مظفر نگر کے فساد کروائے اور ہندوعوام کا دل جیت لیا۔ شاید یہ اس قدر سہل نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس مرکزی اور ریاستی حکومت نہ ہو تو اس کے لئے اس قدر بڑا فساد کروادینا اور اسے روکنے میں رکاوٹ پیدا کرنا ناممکن ہے۔ سچ تو یہ ہے مظفر نگر فساد سے بی جے پی نے کوئی خاص فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ امت شاہ کے جس بیان پر بوال مچا یا گیا تھاوہ تھا آپ اپنے اپمان کا بدلہ ہمیں ووٹ دے کر لیں۔ اس میں تشدد کی نہیں ووٹ کے ذریعہ جواب دینے کی بات تھی جس میں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔مظفر نگر کا فساد جس نے بھی کرایا ملائم نے اسے روکنے میں کوتاہی کی تاکہ جاٹو ں کو اجیت سنگھ سے متنفر کرکے اپنے قریب کیا جاسکے اور کانگریس نے مسلمانوں کو بلا واسطہ یہ پیغام دیا کہ ملائم تمہاری حفاظت نہیں کرسکتا، اس لئے آئندہ پارلیمانی انتخاب میں تمہیں ہماری پناہ میں آجانا چاہئے۔ مایا وتی خاموش تما شائی بنی رہیں۔یہ لوگ انجامِ بد تک اس لئے پہنچے کہ مسلمان تینوں سے مایوس ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کا ووٹ لے کر انہیں مجبور سمجھنے والوں کو اپنی اس شکست سے صحیح پیغام مل گیا ہوگا اور ممکن ہے وہ اپنا رویہ درست کریں گے۔
اس جملہ معترضہ (پیراگراف)کے بعد دوبارہ بی جے پی کی جانب لوٹیں کہ اس نے ذات پات کے مسئلے کو اس قدر سنجیدگی سے کیوں لیا ؟ اس کو ایک مثال سے سمجھیں، ہندوستان میں چونکہ پارلیمانی نظام رائج ہے اس لئے ہر حلقۂ انتخاب کا ایک امیدوار ہوتا ہے۔ اب وہ امیدوار کسی ایک ذات برادری کا ہی ہوسکتا ہے۔ فرض کیجئے کسی حلقۂ انتخاب میں ٹھاکروں کی اکثریت ہے تو بی جے پی نے ایک ٹھاکر برادری کے آدمی کو ٹکٹ دے دیا۔ اس کے بعدکرمیوں کا نمبر آتا ہے تو ملائم نے کرمی کو ٹکٹ دے دیا۔ برہمن تیسرے نمبر پرہیں تو اس کو مایا وتی نے ٹکٹ دے دیا۔ کانگریس نے کسی بنیا کو اپنا امیدواربنا دیا۔ اب ملائم کے یادو ووٹ کرمیوں میں جمع ہو گئے۔مایا کے ساتھ دلت پہلے سے ہیں، اب برہمن بھی ساتھ آگئے۔ کانگریس کے پاس اس کے وفادارووٹرس موجود تھے، اس میں بنیا سماج کا اضافہ ہوگیا۔ مسلمان یہ دیکھتا تھا کہ ان تینوں میں سے کون زیادہ طاقتور ہے۔ وہ اپنا وزن اس کے پلے میں ڈال کر بی جے پی کو ہرا دیتا تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی نے اس مشکل کے حل کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی ؟اس نے ذات پات کی دیوار کو ڈھانے کے لئے مقامی امیدوار کی اہمیت کو ختم کردیا۔ مودی کا یہ کہنا کہ آپ کا ووٹ میرے لئے ہے دراصل حلقۂ انتخاب کے امیدوار کی اہمیت کے خاتمے کا اعلان تھا، اس لئے اگر اس امیدوار کی حیثیت مٹادی جائے تو اس کی ذات اپنے آپ غیر اہم ہو جاتی ہے۔ اس کام کو کرنے کیلئے امیدواروں کے حلقۂ انتخاب بڑے پیمانے پرتبدیل کئے گئے، مرلی جی اس کو نہ سمجھ سکے اس لئے ناراض ہوگئے، لیکن راج ناتھ کی مثال سے اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔ راج ناتھ ٹھاکر ہیں لیکن وہ ٹھاکروں کاغازی آباد چھوڑ کر برہمنوں کے لکھنؤ چلے آئے، حالانکہ روایتی طور پر وہاں کسی مشرا یا جوشی کو لایا جانا چاہئے تھا۔ سماجوادی اور کانگریس دونوں نے برہمنوں کو ٹکٹ دیا لیکن بی جے پی نے رائے دہندگان سے کہا آپ کسی ٹھاکر کو نہیں مودی کو ووٹ دے رہے ہیں۔ کانپور میں برہمن کم ہیں لیکن وہاں بھی لوگوں سے کہا گیا آپ برہمن امیدوار نہیں مودی کو وزیراعظم بنانے کے لئے ووٹ دیں۔ دیوریا میں کہا گیا آپ کا ووٹ کلراج مشرا کے لئے نہیں مودی کے لئے ہے۔
اوپر کی مثال میں جوبرہمن ووٹر یہ سوچتے تھے کہ بی جے پی نے ٹھاکر کو ٹکٹ دیا ہے ہم اس کو ووٹ کیوں دیں؟ لیکن ہمارے برہمن کو تو بی ایس پی نے ٹکٹ دیا ہے ہم اس کو ووٹ دیں گے، وہ ذات پات سے اٹھ کر سوچنے لگا۔اس حکمت عملی نے اپنا رنگ دکھایا۔ لوگوں نے اپنے امیدوار کا جب مودی سے تقابل کیا تو وہ انہیں بونا نظر آیالیکن امیٹھی ،رائے بریلی ،اعظم گڑھ اور مین پوری میں یہ داؤں نہیں چل سکا، اور وہاں کے رائے دہندگان نے مودی پر راہل ، سونیا اور ملائم کو ترجیح دی، لیکن دیگر مقامات کے لوگ مودی پر فدا ہوگئے اس لئے وہاں کانگریس اور سماجوادی کا مقامی امیدوار ہار گیا۔ ملائم اور سونیا اپنے مقامی امیدوار کے لئے ووٹ مانگتے تھے تو جو کسی نہ کسی ذات کا بندہ تھا مگر مودی اپنے لئے ووٹ مانگتا تھا اس لئے امیدوار کی ذات ثانوی ہوجاتی تھی۔ اس حکمت عملی کا تقاضا یہ بھی تھا کہ وزیراعظم کے امیدوار کا اعلان پہلے کیا جاتا، اڈوانی اس ضرورت کو نہیں سمجھ سکے اور مودی کے اعلان پر استعفیٰ تک دے دیا۔ مینی فیسٹو کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی ضرورت نہیں مودی جو کچھ بولتا ہے وہی مینی فیسٹو ہے۔ نام کا برانڈ امیج مثلاً نامو چائے یا ہرہر مودی گھر گھر مودی اسی حکمت عملی کا حصہ تھا جو کامیاب رہی۔
گجرات کا تجربہ: گودھرا کا فساد یقیناًً مودی کی سیاسی زندگی کا ایک سنگ میل تھا لیکن ہم گزشتہ ۱۲؍ سال سے اسے اسپین کی نسل کشی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں حالانکہ مودی اور امت شاہ نے اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا۔ فساد کے بعد ان لوگوں نے انکاؤنٹرس کی مدد سے اپنی مقبولیت کو قائم رکھنے کی کوشش کی، اور اس کے پسِ پردہ گجرات کی اکثریتی پٹیل برادی کے سیاسی رسوخ کی بیخ کنی کردی۔ کیشو بھائی پٹیل کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے یہ ان کی اولین ضرورت تھی۔ ان لوگوں نے گجرات کی عوام سے ووٹ مقامی رہنماؤں کے توسط سے کبھی نہیں مانگا۔ گجرات کے اندر ہر اسمبلی الیکشن میں تیس فیصد کے آس پاس امیدوار بدل دئیے جاتے تھے جس سے ان کی عدم کارکردگی پر بھی پردہ پڑ جاتا تھا اور کسی رہنما کی کسی حلقۂ انتخاب کے حوالے سے شناخت بھی نہیں بنتی تھی۔
اس مرتبہ گجرات کے لوگوں نے مودی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے ووٹ تو دے دیا اب اگلی بار کیا ہوگا یہ دیکھنا پڑے گا۔ نریندر مودی نے دراصل پہلے بی جے پی کو گجرات کی سطح پرجئے للیتا،ممتا، بیجو، ملائم ،مایا اورچندرا بابو جیسے لوگوں کی طرح اپنی ذاتی پراپرٹی بنایا، اب قومی سطح پر گاندھی خاندان کی تقلید کرتے ہوئے اسے اپنی ذاتی ملکیت میں بدل دیا۔ اڈوانی اور جوشی کا اس بات کا افسوس ایک تو اس لئے کہ وہ خود وزیر اعظم نہ بن سکے لیکن یہ غم بھی ہے کہ جس پارٹی کو انہوں نے فرد کے بجائے نظرئیے کی بنیاد پر پروان چڑھایا تھا اس میں تنظیم سے زیادہ اہمیت فرد کو حاصل ہو گئی ہے۔ یہ نہ صرف نریندر مودی کی بلکہ بی جے پی کی بھی ایک بہت بڑی ضرورت تھی۔ اس لئے کہ جیسے افراد کے ساتھ ذات پات لگی ہوئی ہے اسی طرح یہ سیاسی جماعتوں کی بھی شناخت بن جاتی ہے۔
قومی سطح پر کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کویہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ کسی ایک ذات یا مذہب کی نمائندہ نہیں سمجھی جاتیں، اب اس فہرست میں عام آدمی پارٹی کا اضافہ ہوا ہے۔ علاقائی پارٹیوں میں ڈی ایم کے ، انا ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل ، ترنمول وغیرہ پر ایسا کوئی نشان نہیں ہے، لیکن ان کے علاوہ آرجے ڈی اور سماجوادی یادووں کی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ جے ڈی یو کرمیوں کی اور بی ایس پی دلتوں کی۔ شیوسینا پر ذات کا نہیں بلکہ فرقہ پرستی کا نام کھدا ہوا، اور بی جے پی نہ صرف فرقہ پرست بلکہ برہمن بنیا پارٹی کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔ بی جے پی فرقہ پرستی کا نشان پوری طرح اس لئے نہیں مٹانا چاہتی کہ اس کے ذریعہ سے اسے ہندوسماج کو متحد کرنے میں مدد ملتی ہے، اس لئے درمیان میں کوئی گری راج بول دیتا ہے اور اس کی سرزنش نہیں کی جاتی لیکن اقتدار کی خاطربرہمن بنیا والے داغ کو دھونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم کے بجائے فردیعنی مودی کو تشہیر کا ذریعہ بنایا گیا۔ اس لئے کہ بی جے پی کا نام آتے ہی برہمنوادی عکس سامنے آجاتا ہے۔ یہ گویا اسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔
ہندوسماج کے اندر ذات پات کے علاوہ ایک اور تقسیم پائی جاتی ہے۔ وہ لوگ جو ذات برادری کو اہم سمجھتے ہیں اوروہ جو اسے اہم نہیں سمجھتے۔ اول الذکر لوگوں میں بڑی تعدادبزرگوں کی ہوتی ہے جن کو اپنے ماضی سے محبت ہوتی ہے اور مؤخر الذکر زیادہ تر جواں عمر لوگ ہوتے ہیں جن کو مستقبل کی فکر بے چین کئے رہتی ہے۔ اس کے علاوہ روایتی سوچ کے لوگوں کی بڑی تعداد گاؤں میں اور غیرروایتی آبادی شہروں میں آباد ہے۔ پہلے طبقے کی وفاداری اپنی ذات برادی والی جماعت کے ساتھ مستقل ہوتی ہے لیکن دوسری قسم کے لوگوں کی وفاداری بدلتی رہتی ہے جسے فلوٹنگ ووٹرس کہا جاتا ہے۔ ساری انتخابی مہم اس دوسرے طبقہ کو اپنے قریب کرنے کے لئے کی جاتی ہے اور اگر ان کے درمیان کوئی لہر چلا دے تو وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ اس بار مودی لہر نے ان ووٹرس کا دل جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔
اس طبقہ کی نفسیات یہ ہے کہ یہ بہت جلد پرامید ہوجاتا ہے اور بہت جلد مایوسی کا شکار بھی ہوجاتا اور اسی بنیاد پر اپنی وفاداری بدل دیتا ہے۔ اس کا مظاہرہ مختلف مواقع پر ہوتا رہا ہے۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو ایک آزادی صبح نے اس کو پرامید کردیا تھا لیکن چین کی جنگ کے بعدجب مایوسی چھانے لگی تو اندرا گاندھی نے غریبی ہٹاؤ کا نعرہ لگا کر اس کو پرامید کیا۔ اس سے رام منوہر لوہیا کے سوشلزم کی کشش کانگریس کی جھولی میں آگئی، بی جے پی کے راشٹر واد( نیشلزم ) کو بے اثر کرنے کے لئے بنگلہ دیش کی جنگ کا سہارا لیا گیااور انتخابات میں کامیابی درج کرائی گئی۔ اندرا جی نے فسطائی حکمت عملی کا استعمال سکھوں کے خلاف کیا اور اس کی مدد سے اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سنبھالا۔ راجیو نے ۲۱؍ ویں صدی میں نوجوان قیادت کا نعرہ لگا کر اس طبقے کو ساتھ لیا۔بی جے پی کو تو ۲۵؍جماعتوں کی حمایت سے ۲۸۲ نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ۱۹۸۴ ؁ء میں کانگریس کواپنے بل بوتے پر ۴۱۵؍ سیٹیں ملی تھیں۔ سیاست میں نوواردراجیو کے ساتھ ماں کی موت سے حاصل ہونے والی ہمدردی کی لہر بھی تھی۔
جنتا پارٹی نے اس طبقہ کا دل جیتنے کے لئے ایمرجنسی کے بعد جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگایا اور کامیاب رہی۔ پانچ سال بعد وی پی سنگھ راجیوگاندھی سے بددل ہونے والوں کا دل جیتنے کے لئے بوفورس کی توپ سے لیس ہوکرمیدان میں اترے اور قلعہ فتح کرلیا۔ اڈوانی جی نے نرسمہا راؤ کے خلاف رام رتھ یاترا نکال کر اس طبقہ کو قریب کرنے کی کوشش کی اور اٹل جی نے بنگلہ دیش کی طرح کارگل کی جنگ کا سہارالے کرتیسری بار حلف لیا۔ سونیا نے اٹل کے مقابلے کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ کا نعرہ لگا کر ۲۰۰۴ ؁ء میں کامیابی حاصل کی اور ۲۰۰۹ ؁ء میں راہل کے ذریعہ ایک روشن مستقبل کی امید دلاکر ان ووٹرس کو قریب کیا گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے ۲۰۰۹ ؁ء میں کانگریس کی سیٹوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا لیکن جب ۲۰۱۴ ؁ء میں یہ طبقہ مایوسی کا شکار ہوا تو کانگریس کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں اختیار کرسکی۔ مودی نے ترقی کا حسین خواب دکھلا کرذرائع ابلاغ کی مدد سے ان کا من موہ لیا۔ ذات پات کی دیوا ر کے علاوہ یہ دوسراسبب تھا جواس بار بی جے پی کی کامیابی کا سبب بنا۔ دراصل بی جے پی کے سامنے اب سب سے بڑاچیلنج اس کو ساتھ رکھنے کا ہے اس لئے کہ اس کی وفاداری مستقل نہیں ہوتی اور یہ بہت جلد بددل ہوجاتا ہے۔ اس نے نہ صرف راجیو اور وی پی سنگھ کا ساتھ بہت جلد چھوڑ دیا بلکہ اٹل جی سے بھی پیچھا چھڑانے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔
اس انتخاب کے دوران عام آدمی پارٹی کی حکمت عملی کے اندر اچانک ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ بدعنوانی کی تحریک کے دوران کانگریس اس کے نشانے پر تھی اوراخباروالوں کو ان سے بی جے پی کے خلاف ایک جملہ اگلوانے میں خاصی محنت کرنی پڑتی تھی لیکن پھر یہ ہوا کہ ان کی مخالفت کا مرکز مودی ہوگیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب اسی غیر مستقل ووٹر کا دل جیتنے کی کوشش میں پوشیدہ ہے۔ عاپ نے یہ دیکھا کہ لوگ بدعنوانی پر کان نہیں دھرتے اور راہل کی مخالفت سے نہ خبر بنتی ہے نہ نوجوان ووٹرس ساتھ آتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ پہلے ہی مودی کو راہل کا متبادل تسلیم کر چکے ہیں تو انہوں نے اپنے آپ کو مودی کا متبادل بنا کر پیش کیا۔ ان کا دعویٰ تھا مودی کی ترقی کا وعدہ کھوکھلا ہے حقیقی ترقی کا علمبردار وہ نہیں ہم ہیں۔کیجریوال کا گجرات دورہ اس حکمت عملی کا حصہ تھا۔ عاپ نے رائے دہندگان کو یقین دلانے کے لئے مودی کو راہل نہیں کیجریوال روک سکتے ہیں بنارس سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ حکمت عملی درست تھی مگر تنظیم اور وسائل کی کمی ان کے راستے کا روڑہ بن گئی۔ اس حکمت عملی سے بلا واسطہ بی جے پی کا یہ فائدہ ہوا کہ کانگریس اور ایس پی کا وفادار مسلم ووٹر جو ان کی بے اعتنائی سے بھرا بیٹھا تھا عاپ کے ساتھ ہوگیا لیکن ہندو سماج نے اس کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں کی۔
کیا؟ کیوں؟؟ اور کیسے ؟؟؟کے بعد اب نوے سے سو فیصد سیٹوں کی جانب چلتے ہیں۔ رائے دہندگان کے تناسب پر منحصر نمائندگی کا نظام ہمارے یہاں نہیں ہے۔ اس لئے اگر کوئی جماعت ہر حلقہ انتخاب میں ۵۱؍فیصد ووٹ حاصل کر لے تو یقینی طور پر ۱۰۰؍ فیصد سیٹیں اسے مل جائیں گی۔ لیکن ۵۱؍ فیصد کی ضرورت اس وقت پیش آئیگی جب مخالفت متحد ہو۔ اگر مخالف منقسم ہیں اور مخالفین میں سے کوئی بھی اگرکسی حلقہ انتخاب میں ۳۰؍ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرسکے توہر جگہ ۳۱؍ فیصد ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو بھی صد فیصد سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھا کر بی جے پی نے چند ریاستوں کی ساری نشستوں پر قبضہ کرلیا۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ بی جے پی کو کل ۳۱؍ فیصد ووٹ ملے اور ۵۱؍ فیصد نشستیں اس کے حصے میں آئیں جبکہ کانگریس کو ۱۹؍فیصد ووٹ ملے مگر اس کو ۸؍ فیصد پر اکتفاء کرنا پڑا۔ اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قومی سطح پر تیسرے نمبررہنے والی بہوجن سماج پارٹی جس کو ۴؍ فیصد ووٹ ملے اپنا کھاتہ نہ کھول سکی۔ ترنمول کانگریس نے صرف۸ء۳ فیصد ووٹ حاصل کرکے ۳۴؍ نشستوں پر قبضہ جمایا اور اس سے بھی کم ۳ء۳ فیصد ووٹ پانے والی اناڈی ایم کے۳۷؍ نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ ایک اور دلچسپ موازنہ دیکھیں عاپ کو۲؍ فیصد ووٹ کے عوض چار نشستیں ملیں جبکہ شیوسینا کو ۹ء۱؍ ووٹ کے بدلے ۱۸؍ اور بیجو جنتا دل ۶ء۱؍ فیصد ووٹ پاکر۲۰؍ نشستیں جیت گئی۔ ان اعدادوشمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیٹوں کی تعداد کا زمینی حقائق سے سیدھا تعلق نہیں ہے۔
مندرجہ بالا حقائق سے قطع نظرسچی بات تو یہ ہے کہ جمہوری سیاست میں اقلیت کے لئے ان حلقہ انتخاب کے علاوہ جہاں وہ اکثریت میں بھی ہوں اور منقسم بھی نہیں ہوں، اپنے بل بوتے پر کامیابی کی گارنٹی ممکن نہیں ہے۔ اقلیت کے لئے یہ تو ممکن ہے کہ وہ اکثریت کی تقسیم کا فائدہ اٹھائے لیکن اگر کوئی قوم اگر اپنے آپ کو مذہب کی بنیاد پر متحد کرنا چاہتی ہے تو اسے روکنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ جس طرح ہم انہیں امت مسلمہ کوتقسیم کرکے اس کا فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے اسی طرح بی جے پی اگرنفرت وعنادکاسہارالئے بغیرآپس میں اتحاد قائم کرے تو ہمارا جز بز ہونا مناسب نہیں ہے۔ جمہوری نظام کی کسی کمزوری سے اگر ہم مستفید ہو سکتے ہیں تو ان کو بھی اس کا حق ہے۔ جس کو انہوں نے اس بار بڑی چالاکی سے استعمال کیا ہے۔ اس مسئلہ کا ایک حل ووٹ کے تناسب کے مطابق نمائندگی ہے لیکن اپنے سیاسی مفاد کے پیش نظر غیر مسلمین کی کوئی سیاسی جماعت اس پر راضی نہیں ہوگی۔
مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی کے خاتمہ کے لئے کم از کم بی جے پی مخالف دھڑے کا اتحاد لازمی ہے۔اس لئے کہ آج بھی ۶۹؍ فیصد لوگوں بی جے پی کی اور ۶۱؍ فیصد لوگوں نے این ڈی اے کی تائید نہیں کی ہے۔لیکن اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سیکولر ابن الوقتوں کے ذاتی مفادات اور اقرباء پروری ہے۔ مثلاً اگر کل کو سماجوادی اور بہوجن سماج آپس میں اتحاد کرلیں جیسا کہ ماضی میں ایک بار کرچکے ہیں تو اتر پردیش میں بی جے پی کے لئے مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔ اس سے مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا لیکن یہ فی الحال ناممکن نظر آتا ہے۔ بہار کی مثال لیں نتیش کی حکومت بچانے کے لئے لالو اور کانگریس نے ہاتھ بڑھایا ہے اگر یہ اتحاد قائم ہو جائے تو مودی کا جادو فیل ہو سکتا ہے لیکن اگر لالو پرساد سے نتیش کمار پوچھیں کہ لالو جی میری جگہ وزیراعلیٰ کے طور پر آپ کس کا نام تجویز فرمائیں گیاور اس کے جواب میں لالو ارشاد فرمائیں میری بیٹی میسا بھارتی کے سوا کون اس کا مستحق ہو سکتا ہے؟ تو بھلایہ اتحاد کیونکر دیرپا ہوسکے گا۔ میں تو کہتا ہوں اگر یہ دونوں مل کرچراغ پاسوان کو وزیراعلیٰ بنانے پر راضی ہوجائیں تو بہار میں بی جے پی کا بیڑہ غرق ہوجائے گا لیکن ایسا صرف مسلمان چاہتا ہے باقی لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ
ہر قبیلہ اپنے اک اک فرد کی ایک فوج ہے
میں نے ایکے کی کہی تھی میں اکیلا رہ گیا
ڈاکٹر سلیم خان

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

معاشیات میں تحقیق کے لئے رہنمایانہ خطوط

ڈاکٹر محمد طارق پروفیسر،ڈپارٹمنٹ آف اکنامکس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، نئی چیزوں ...