بنیادی صفحہ / نظر / اسلامی نظام کی اساس أمرھم شوری بینھم

اسلامی نظام کی اساس أمرھم شوری بینھم

(امت کے فیصلے امت کے مشورے سے)
ڈاکٹر محی الدین غازی، ہیڈ آف ریسرچ دار الشریعہ،متحدہ عرب امارات وممبر مجمع فقہاء الشریعہ بامریکا
پس جو کچھ تمھیں ملا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع حقیر ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں بہتر اور پائیدار ہے، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اور جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور کھلی ہوئی بے حیائیوں سے اور جب غصہ ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں، اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہا اور نماز کا اہتمام کیا اور ان کے معاملات ان کے مشورے سے ہوتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، اور وہ کہ جو انتقام لیتے ہیں اس وقت جب ان پر تعدی ہوتی ہے۔ (سورہ شوری ۳۶ تا ۳۹)

قرآن مجید میں اہل ایمان کی پہچان بتاکر جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں، ان میں اہل ایمان یعنی امت مسلمہ کے افراد کو تمام قوموں سے زیادہ ممتاز اور نمایاں ہونا چاہئے، ان اوصاف میں پیچھے رہ جانے کا مطلب اپنی پہچان کھودینا ہے۔
اگر مما رزقناھم ینفقون کا تقاضا یہ ہے کہ اس قرآن کو ماننے والی امت کے افراد انفاق کے میدان میں تمام قوموں میں ممتاز حیثیت کے حامل ہوں، اور اگر اس صفت میں یہ امتیاز اس امت کو حاصل نہ رہا تو یہ بہت بڑی خرابی اور قرآن سے دوری کی دلیل ہے،تو أمرھم شوری بینھم کا تقاضا یہ ہے کہ شورائی نظام ، شورائی مزاج اور شورائی کلچر میں اس امت کو دنیا کی تمام اقوام میں امتیازی حیثیت حاصل رہے، خود سری ، سرکشی اور استبداد کو اگر دنیا بالآخرمعیوب سمجھنے لگے تو یہ امت مسلمہ میں مستحسن یا قابل قبول نہیں قرار پائے۔مطلق العنان جابر حاکموں کو اگر دنیا دیس نکالا دے چکی ہو تو ان کو سواری کے لئے امت مسلمہ کے افراد اپنی پیٹھ پیش نہ کریں۔جبر وتشدد اور تلوار کی نوک پر بیعت لے کر حکومت قائم کرنے کی تائید اور ہمت افزائی امت مسلمہ میں ہرگز نہ ہو، خواہ اس کا نام خلافت ہی کیوں نہ رکھ دیا جائے، اور جبر وتشدد کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے والا شخص خود کو خلیفہ راشد اور امام منتظر کیوں نہ قرار دے۔
پیش نظر مقالے میں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ أمرھم شوری بینھم کا وصف اجتماعی زندگی کے تمام پہلووں کا احاطہ کرتا ہے، اور سیاسی نظام کی تشکیل اور صورت گری میں اسے اساسی حیثیت حاصل ہے۔
شورائیت ایک فریضہ ہے
عام طور سے رائے دہی کو حق قرار دیا جاتا ہے، اور اس سے بخوشی دست بردار ہوجانے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے، لیکن قرآن مجید اسے ایک حق سے زیادہ ایک فرض قرار دیتا ہے، حق سے دست بردار ہونا غلط ہو یا نہ ہو، فرض سے فرار بہرحال درست نہیں ہے۔
ڈاکٹرعلی صلابی نے شوری کے موضوع پر بیش بہا کتاب تصنیف کی اور اس کو عنوان دیا’’ الشوری فریضۃ اسلامیہ۔شورائیت ایک اسلامی فریضہ‘‘۔ یہ عنوان معنی خیز ہے، جس طرح مولانا صدرالدین اصلاحی نے اپنی کتاب کو ’’فریضہ اقامت دین‘‘ کا عنوان دیا، اس سے قبل عباس محمود عقاد نے غوروفکر کو ایک اسلامی فریضہ بتانے کے لئے ’’التفکیر فریضۃ اسلامیہ‘‘ کا عنوان دے کر اپنے موضوع پر معرکۃ الآراء کتاب لکھی تھی۔ غوروفکر اور شورائیت دونوں کا منبع ایک ہی ہے، غوروفکر میں انسان اپنے آپ سے مشورہ کرتا ہے، اور شورائیت میں دوسروں سے مشورہ کرتا ہے، غوروفکر میں آدمی خود سوچتا ہے، اور شورائیت میں سب لوگ سر جوڑ کر سوچتے ہیں۔ قرآن مجید میں غوروفکر پر بھی زور دیا گیا ہے اور شورائیت کی بھی تاکید کی گئی ہے، نہ غوروفکر کے کسی پہلو کی کسی طور سے مذمت کی گئی اور نہ شورائیت کے کسی پہلو کی کہیں نفی کی گئی، جس امت کے افراد کا شعار غوروفکر ہو اور جس کے اجتماعی فیصلوں اور قراردادوں کی اساس شوری ہو، اس امت کو ہر آن سانس لینے کے لئے تازہ ہوا ملتی ہے، اور اس کی رگوں میں ہمیشہ تازہ خون دوڑتا ہے، وہ روز ترقی کی نئی منزلیں طے کرتی ہے ، اور ہرطلوع ہونے والا سورج اس کے لئے نئی فتوحات کی نوید لاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ امت میں تقلید اور اجماع کا ایسا چرچا ہوا کہ غوروفکر کے دروازے بندہو گئے اور دوسری جانب حاکم وقت کو ظل الہی اور ہر حال میں واجب الاطاعت قرار دے کر شورائیت کے تمام تر سوتے خشک کردیئے گئے،بلکہ بسا اوقات خود ساختہ اہل حل وعقد اور نمائشی مجالس شوری کو آیت شوری کا مصداق قرار دے دیا گیا۔
شورائیت سیاسی نظام کی اساس ہے
سورہ شوری کی آیت شوری کا صریح تقاضا ہے کہ سیاسی نظام کی صورت گری ،حکومتی اداروں کا قیام اور حاکم کا انتخاب بذریعہ شوری ہو، اور مملکت کے تمام فیصلے شورائیت کے ذریعہ ہوں۔
خلیفہ دوم حضرت عمرؓ پر جب جان لیوا حملہ ہوا تو انہوں نے اس وقت موجود لوگوں کو جو بہت خاص ہدایتیں دیں ان میں پہلی بات یہ تھی کہ امارت شورائیت سے ہے، الامارۃ شوری۔ (۱) حضرت علی کے سامنے جب خلافت کی پیشکش رکھی گئی تو انہوں نے وہی بات کہی جو آیت شوری میں بیان ہوئی ہے، : اے لوگو ، یہ معاملہ تمہارا ہے، اس پرکسی کا اجارہ نہیں ہے، یہ حق اسی کو پہونچتا ہے جس کا انتخاب تم کرو۔ یا ایھا الناس، ان ھذا أمرکم لیس لأحد فیہ حق الا من أمرتم(۲)
عصر حاضر کے مشہوراسلامی ماہر سیاسیات ڈاکٹر حاکم مطیری نے اپنی معرکۃ الآراء کتابوں میں بڑی جرأت اور بھر پور تاریخی اورعلمی دلائل کے ساتھ یہ موقف پیش کیا ہے کہ اسلام کے صدر اول میں جب خلافت قائم تھی، آیت شوری کا صحیح شعور بھی عام تھا،سب کے نزدیک یہ حقیقت معروف اور مسلم تھی کہ خلیفہ کا انتخاب بھی امت کے مشورے سے ہو اور مملکت کے امور بھی مشورے سے انجام پائیں، لیکن جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی تو فقہی لٹریچر بھی اس تبدیلی سے متأثر ہوا، اور بتدریج حکومت بواسطہ وراثت اور حکومت بذریعہ قوت کو بھی شرعی حیثیت حاصل ہوگئی۔
صدر اول میں ظالم وجابر حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانے کو افضل جہاد کا درجہ حاصل تھا، بعد کے ادوار میں ظالم وجابر حکمرانوں کی اطاعت کو اجماع کے دعوی کے ساتھ واجب قرار دے دیا گیا، اور ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو حرام قرار دے دیا گیا۔
خاص بات یہ ہے کہ امت کے دیندار طبقہ نے سیاسی اصلاح کے تمام دروازے اپنے اوپر بند کرلئے، لیکن دنیادار اور اہل ہوس نے کبھی کسی ضابطے کی پابندی نہیں کی، اور ہر غیر اخلاقی طریقہ اختیار کرکے امت کی گردن پر سوار رہے۔
ڈاکٹر حاکم کے مطابق خلافت کا ملوکیت میں تبدیل ہوجانا اتنا خطرناک اور نقصان دہ نہیں تھا، جس قدر غیر شورائی نظام ملوکیت کو شرعی جواز بلکہ تحفظ فراہم کرنے والا فقہی لٹریچر ثابت ہوا، اس لٹریچر میں شوری کو محض مستحب بتایا گیا، اور مشورہ کو قبول کرنے اور نہیں کرنے کا اختیار دیا گیا،آگے چل کر فقہی موقف نے عقیدہ کا درجہ حاصل کرلیا۔ گمراہی عمل کی ہو تو اصلاح کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لیکن گمراہی جب عقیدہ وفکر کا حصہ بن جائے تو اصلاح کا کام بہت دشوار ہوجاتا ہے۔(۳)
شورائیت کے بغیر ہر حکومت غیر آئینی ہے
موجود اور مروجہ دینی لٹریچر میں حاکم کی اطاعت پر زیادہ زور ملتا ہے، نظام سیاست شورائی ہو اس پر گفتگو بہت کم ہے، اس سلسلے میں ایک زوردار بیان مشہور مفسر ابن عطیہ اندلسی کا ہے، (وشاورھم في الأمر ) کی تفسیر میں وہ لکھتے ہیں: ’’ والشوری من قواعد الاسلام وعزائم الأحکام ، ومن لا یستشیر أھل العلم والدین فعزلہ واجب، ھذا ما لا خلاف فیہ‘‘ (۴) شوری اسلام کی بنیادوں میں سے ہے اور اس کا شمار اہم ترین احکام میں ہوتا ہے، اور جو اہل علم ودین سے مشورہ نہیں کرے اسے معزول کرنا واجب ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ گویا ابن عطیہ کے نزدیک شورائیت کو نظر انداز کردینے والا حاکم اس قابل ہے کہ اسے معزول کردیا جائے، بلکہ لوگوں پر واجب ہے کہ اسے معزول کردیں،ان کے مطابق اس پر سب کا اتفاق ہے، تاہم ابن عطیہ کے اس موقف سے ابن عرفہ نے اختلاف کیا ہے، انہیں اس اصولی بات سے اختلاف نہیں ہے کہ شورائیت مطلوب اور واجب ہے،لیکن اگرحاکم وقت شورائیت سے روگردانی کرے تو کیا اسے معزول کرنا واجب ہوگا، اس پر وہ ابن عطیہ سے اختلاف کرتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ جب فسق کی بنا پر حاکم کو معزول کرنا واجب نہیں ہے تو محض شورائیت کو ترک کردینے کی وجہ سے یہ اقدام کیونکر درست ہوسکتا ہے۔جدید مفسرین میں ابن عاشور نے ابن عطیہ کے موقف کی پرزورتائید کی ہے، انہوں نے ابن عرفہ کے موقف میں موجود کمزوری کی نشاندہی کی، ابن عرفہ کا خیال تھا کہ ترک شورائیت فسق کے درجہ کی چیز ہے یا اس سے بھی کم درجہ کی، ابن عاشور نے بتایا کہ فسق کے مقابلے میں ترک شورائیت بہت سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ ترک شورائیت تو اسلام کے پورے سیاسی نظام کی بنیاد منہدم کردینے کے ہم معنی ہے، اگر کوئی حاکم شورائیت ترک کرکے استبداد کا راستہ اختیار کرتا ہے تو گویا اس نے اپنے ہاتھوں سے اس نظام کی پوری عمارت زمین بوس کردی جس کی نگہبانی پر اسے مامور کیا گیا تھا، یا جس کی اس سے توقع کی گئی تھی، ایسی صورت میں پھر خود اس کے منصب حکمرانی پر برقراررہ جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، بلکہ ضروری ہوجا تا ہے کہ اسے معزول کرکے اسلامی نظام کی عمارت کی ازسر نو تعمیر کی جائے۔عام فسق کا تعلق حاکم کی ذاتی زندگی سے ہوتا ہے، لیکن ترک شورائیت سے تو امت کی زندگی کو نقصان پہونچتا ہے، جس کی اجازت کسی کو نہیں ملنی چاہئے۔(۵)
وأمرھم شوری بینھم حکم بھی اوردلیل بھی
آیت شوری میں شوری کے حکم کے ساتھ اس کی دلیل اور منطقی بنیاد کو بھی خوبصورتی سے سمودیا گیا ہے،أمرھم کہہ کربتایا گیا کہ جس معاملہ کا تعلق سب سے ہو ، اور اس سے جڑے نفع ونقصان سے سب متاثر ہورہے ہوں، اس کے سلسلہ میں کوئی بھی راہ تلاش کرنے اور کوئی موقف طے کرنے میں سب کی شرکت ضروری ہونا چاہئے، یہ بات عقل ومنطق کے خلاف ہے کہ سب لوگوں سے متعلق معاملہ میں فیصلہ کوئی ایک فرد یا ایک گروہ کرے ، اور صاحب معاملہ افراد یعنی پوری قوم سے رائے معلوم کرنے کی ضرورت ہی نہ محسوس کی جائے ، اور معلوم ہوجانے پر اس کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے۔
مولانا مودودی کے بقول : جس معاملے کا تعلق دو یا زائد آدمیوں کے مفاد سے ہو، اس میں کسی ایک شخص کا اپنی رائے سے فیصلہ کرڈالنا اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظر انداز کردینا زیادتی ہے۔ مشترک معاملات میں کسی کو اپنی من مانی چلانے کا حق نہیں ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک معاملہ جتنے لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو اس میں ان سب کی رائے لی جائے، اور اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہو تو ان کے معتمد علیہ نمائندوں کو شریک مشورہ کیا جائے۔(۶)
سیاسی نظام کو شورائی بنیادوں پر قائم کرنا عملا بہت مشکل کام ہے، ا س راستے کی بے شمار رکاوٹوں کا سب سے بڑا علاج یہ ہے کہ عوام الناس کے ذہن کو جو صدیوں سے آمریت سے متأثر ہیں،شورائیت آشنا بنایا جا ئے، اور انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ شورائی عمل میں ان کی شرکت ان کے اوپر کسی کا احسان نہیں ہے، بلکہ یہ تو ان کابنیادی حق اور فریضہ ہے، علامہ کوکبی کے بقول : جو قوم غلامی کے الم کو محسوس نہیں کرسکتی وہ آزادی کی حقدار نہیں ہے۔قرآن مجید کی آیت شوری کی صحیح تفہیم مسلمانوں کی ذہن سازی میں غیر معمولی کردار ادا کرسکتی تھی، اور وہ جمہوری انقلاب جو یوروپ میں آیا اور اہل مشرق خاص کر مسلمانوں کو اس کے لئے نا اہل سمجھا گیا ، درحقیقت اس انقلاب سے بہت بہتر شکل عالم اسلام کا امتیاز ہوسکتی تھی۔
حق خلافت اور حق شورائیت
أمرھم شوری بینھم کی آسان اورالفاظ سے قریب ترین تفسیر یہ ہے کہ مشاورت اور مشاورت کی روشنی میں فیصلہ پوری امت کا حق ہے ،امت سے متعلق تمام امور خود امت کے ذریعہ طے پائیں، بطور مثال حکومت کیسی ہو اور کس کی ہواور حکومت کا دورانیہ کتنا ہو، یہ قطعا اس شخص یا گروہ کا مسئلہ نہیں ہے جو حکومت کرنا چاہتا ہے یا کسی طریقہ سے کررہا ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف اور براہ راست امت کا مسئلہ ہے، اس سلسلے میں قابل اعتبار فیصلہ خود امت کا ہونا چاہئے، کوئی ایک فرد خواہ وہ کتنا ہی دیندار، صاحب فہم اور امت کا خیر خواہ ہو، اس کا مجاز نہیں ہے کہ وہ امت کے امور کے بارے میں اپنی تنہا رائے سے فیصلے کرے۔
مولانا مودودی نے آیت خلافت سے استدلال کرتے ہوئے حق حکمرانی کو امت کا حق بتایا ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’یہاں جو شخص حکمراں بنایا جاتا ہے، اس کی اصلی حیثیت یہ ہے کہ تمام مسلمان یا اصطلاحی الفاظ میں تمام خلفاء اپنی رضامندی سے اپنی خلافت کو انتظامی اغراض کے لئے اس کی ذات میں مرکوز کردیتے ہیں،وہ ایک طرف خدا کے سامنے جوابدہ ہے، اور دوسری طرف ان عام خلفاء کے سامنے جنہوں نے اپنی خلافت اس کو تفویض کی ہے۔ اب اگر وہ غیر ذمہ دار مطاع مطلق یعنی آمر بنتا ہے، تو خلیفہ کے بجائے غاصب کی حیثیت اختیار کرتا ہے، کیونکہ آمریت دراصل عمومی خلافت کی نفی ہے‘‘۔(۷)
مولانا مزید لکھتے ہیں: ’’ایسی سوسائٹی میں ہر عاقل وبالغ مسلمان کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت، رائے دہی کا حق حاصل ہونا چاہئے، اس لئے کہ وہ خلافت کا حامل ہے، خدا نے اس خلافت کو کسی خاص معیار لیاقت یا کسی معیار ثروت سے مشروط نہیں کیا ہے، بلکہ صرف ایمان وعمل صالح سے مشروط کیا ہے، لہذا رائے دہی میں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ مساوی حیثیت رکھتا ہے‘‘(۸)
امت کا جو حق مولانا نے آیت خلافت سے ثابت کیا ہے، وہی حق آیت شوری سے اور زیادہ وضاحت کے ساتھ ثابت ہوتاہے۔
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ لفظ خلافت کی اصل اہمیت نہیں ہے، بلکہ اصل اہمیت اس نظام حکومت کی ہے جو شورائیت پر قائم ہو، اگر جبر وتشدد سے کوئی خلافت قائم ہوتی ہے تو وہ کچھ بھی ہو اسلامی نظام حکومت نہیں ہے۔
أمري اور أمرھم میں فرق
ملکہ سبا کے پاس جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا پیغام پہونچا، تو اس نے اپنے درباریوں سے کہا :دربار والو، میرے معاملے میں مجھے مشورہ دو ’’یا أیھا الملأ أفتوني في أمري‘‘، دیکھا جائے تو وہ صرف اس کا معاملہ نہیں تھا بلکہ سب کا معاملہ تھا، لیکن بادشاہت خواہ کیسی ہی عادلانہ ہو، اور اس میں مشورہ کو خواہ کتنی ہی اہمیت دی جاتی ہو، تاہم جہاں بانی کا معاملہ بادشاہ کا ایک طرح سے ذاتی معاملہ سمجھا جاتاہے، عوام سے جب مشورہ لیا جاتا ہے، تو بھی اسی طور سے کہ وہ بادشاہ کے معاملہ میں بادشاہ کو مشورہ دیں ، اور عوام یہی سوچ کر مشورہ بھی دیتے ہیں، اسی لئے وہ صرف اسی صورت میں مشورہ دیتے ہیں جب ان سے مانگا جائے، اور اس وقت بھی ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ معاملہ کو بادشاہ سلامت کی بے پناہ ذہانت کے سپرد کرکے، ہرحال میں اپنی اطاعت کا یقین دلانے پر اکتفا کریں، اس لئے آمریت کی جو بھی شکل ہو ، اس میں أمري کی بنیاد پر مشورہ ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں، فیصلے کتنے ہی غلط ہوں، عوام الناس کو اعتراض کا حق نہیں ہوتا ہے، امور مملکت میں فرعون کی رعایا نے بھی قرآن مجید کے الفاظ کے مطابق فرعون کے معاملے کی پیروی کی، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حضرت موسی ؑ کی تصدیق یا تکذیب کو اپنا معاملہ سمجھ کر، اس پر خود غور وفکر کرتے ،اور اپنے معاملہ میں اپنا موقف طے کرتے، اس کے بجائے ، انہوں نے فرعون کی اندھی پیروی کی۔ فاتبعوا أمر فرعون وما أمر فرعون برشید۔ ہود ۹۷۔
قرآن مجید کی آیت شوری کا تصور اس سے مختلف ہے، یہاں مشورہ کی اساس أمری کے بجائے أمرھم ہے، مملکت سب کی ہے اور امور مملکت بھی سب کے ہیں، اگر کسی کو مشورہ کے عمل سے دور رکھا جاتا ہے تو یہ اس کے بنیادی حق سے اسے محروم کرنا ہے، اگر سربراہ مملکت اپنی من مانی کرتا ہے، تو وہ دراصل آئین مملکت کی خلاف ورزی کرتا ہے، جس کے بعد اس کے اپنے منصب پر باقی رہ جانے کا کوئی جواز نہیں ہے، اسلامی نظام مشورہ سے چلتا ہے، خواہ سربراہ مملکت اس کی ضرورت محسوس کرے یا نہ کرے، بلکہ عوام الناس کوبھی اس کا اختیار نہیں ہے کہ وہ سربراہ مملکت کی ذہانت اور خیر خواہی پر بھروسہ کرکے امور مملکت کے سلسلے میں اپنے حق شورائیت سے دستبردار ہوجائیں، چونکہ شوری محض ایک حق نہیں ہے بلکہ ایک فریضہ بھی ہے ، اس لئے غیر شورائی نظام کو اختیار کرنے یا اس پر مطمئن ہورہنے کی اجازت عام امت کو بھی نہیں ہے۔
آیت شوری کا دائرہ تمام اجتماعی معاملات
آیت شوری کی محض سیاسی تفسیر اسے بہت محدود کردیتی ہے،درحقیقت اس کے مفہوم میں اتنی وسعت ہے، کہ پوری زندگی کے تمام شعبے اس کے دائرہ میں آجاتے ہیں، آیت شوری کا تقاضا ہے کہ گھر اور خاندان کے فیصلے بھی اس آیت کی روشنی میں کئے جائیں، اور دیگر سماجی اداروں میں بھی اس آیت کی بالا دستی رہے،یوں بھی سیاسی نظام شورائیت کی اساس پر کامیابی کے ساتھ جب ہی قائم ہوسکتا ہے، جب غیر سیاسی شعبوں میں اور اجتماعیت کی مختلف سطحوں پر شورائیت کو بطور ایک اصول کے اختیار کیا جاچکا ہو، خاندان کی چھوٹی اکائی میں بھی اطاعت کے ڈنڈے کے بجائے شورائیت کا سکہ چلتا ہو، اور مسجد میں بھی تانا شاہی یا موروثی تولیت وامامت کے بجائے شورائیت کا بول بالا ہو، خواہ وہ گاؤں کی چھوٹی سی مسجد ہو یا کسی بڑے شہر کی شاہی جامع مسجدہو، جب امت ہر سطح پر شورائی قدروں کا احترام کرنا سیکھ لے گی تو سیاسی سطح پر وہ شورائیت کو بہت بہتر طریقہ سے پرفارم کرسکے گی،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیاسی نظام کو شورائی بنانے کے لئے اس وقت کا انتظار کیا جائے، جب پورا معاشرہ شورائیت آشنا ہوجائے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ شورائیت کی تبلیغ اور اس کے لئے ذہن سازی محض سیاست کی سطح پر کرنے کے بجائے بیک وقت ہر سطح پر کی جائے۔
امت کا حقیقی مسئلہ محض یہ نہیں ہے کہ اس کا سیاسی نظام شورائیت پر قائم نہیں ہے، اس کا حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ اس کے افراد کا مزاج شورائی نہیں ہے، اور اسی لئے ہر سطح پر شورائیت کے تقاضوں کو نظر انداز کیا جاتاہے۔شورائی نظام کے احیاء اور قیام کے لئے جو تحریکیں وجود میں آتی ہیں بسا اوقات ان کا اپنا نظام غیر شورائی ہوتا ہے۔
غوروفکر شوری کی اولین شرط
آیت شوری سے جہاںیہ معلوم ہوتا ہے کہ امت کے فیصلے بذریعہ امت طے پائیں، وہیں شوری کا لفظ جو اپنے اندر اجتماعی غوروفکر کا مفہوم رکھتا ہے ، تقاضا کرتا ہے کہ امت کے فیصلے امت کے غوروفکر کا نتیجہ ہوں، یعنی رائے دہی اور رائے شماری کا دیانتدارانہ نظام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ، غوروفکر کے لئے آزاد اور سازگارماحول بھی فراہم کیا جائے،اگر امت کے نگاہ وفکر پر کچھ لوگ قابض رہے ، اور بقول حفیظ میرٹھی ؂
کچھ سوچنے دیتے نہیں کچھ دیکھنے دیتے نہیں
وہ جو بیٹھے ہیں نگاہ وفکر پر قبضہ کئے
تو رائے شماری کا نظام کتنا ہی آزاد اور شفاف ہو، امت کی رائے کبھی سامنے نہیں آسکتی ہے، اصل مطلوب کسی رائے کے حق میں یا اس کے خلاف لوگوں کی تائید حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ اصل مطلوب لوگوں کو غوروفکر کے عمل میں شریک کرنا ہے۔ریفرنڈم میں اور شوری میں یہی فرق ہے۔
موسی ؑ کے خلاف اوراپنے حق میں عوامی تائید فرعون نے بھی حاصل کرلی تھی، تاہم قرآن اس کے بارے میں کہتا ہے، فاستخف قومہ فأطاعوہ انھم کانوا قوما فاسقین، گویا فرعون نے عوامی تائید لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اور ان کی اخلاقی پستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو بیوقوف بناکر حاصل کی تھی، یہ کسی شورائی عمل کا نتیجہ نہیں تھی، شورائی عمل میں کسی مخالف کی آواز کو زبردستی دبایا نہیں جاتا ہے، لیکن فرعون نے رجل مومن کے اختلاف رائے اور اس کے اظہار کو قبول نہیں کیا، اسی طرح جادوگروں نے جب صحیح بات مان لینے کے پیدائشی حق آزادی کو استعمال کیاتو ان کی اس آزادی کو سلب کرنے کے لئے سخت دھمکیوں کا استعمال کیا گیا ، اختلاف رائے کودبانے کا مطلب شورائیت کا گلا گھونٹ دینا ہے، خواہ اسے دارورسن سے دبایا جائے ، یا کسی مقام ومنصب کا رعب ڈال کر ، یا قومی اور جماعتی مصالح سے متعلق اندیشوں کا حوالہ دے کر،فرعون نے اختلاف رائے کو دبانے کے لئے ان سارے حربوں کا استعمال کیا تھا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ فرعون جو آمریت اورحاکمانہ تشدد کی ایک طرح سے تاریخی علامت رہا ہے، اس نے بھی لوگوں کو دھوکے میں رکھنے کے لئے مجلس شوری بنا رکھی تھی، اور اپنے ظالمانہ فیصلوں پر مجلس شوری کی مہر لگانے کا اہتمام بھی کرتا تھا، قرآن کا تصور شورائیت ایسے تمام جھوٹے اور فریب آمیز مظاہر کا ابطال کرتا ہے، جہاں انسانوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ماؤف کرتے ہوئے اپنے حق میں رائے عامہ بنائی جائے۔
آیت شوری کا تقاضا ہے کہ شورائی عمل ازاول تا آخر محض شورائیت اور غوروفکر پر جاری وساری رہے، کسی بھی مرحلے میں اگر کسی ایسے محرک نے مداخلت کردی جو شورائیت اور غوروفکر کے منافی ہو، تو شورائیت کی گاڑی اپنی پٹری سے اتر جاتی ہے، کسی شخصیت کا احترام ہو، یا کسی مسئلہ سے جذباتی نوعیت کا تعلق ہو، گروہ بندی کی لعنت ہو، یا طرز کہن پر اڑنے کی عادت ہو، غرض کوئی بھی چیز شورائیت اور غوروفکر کی راہ میں حائل نہ ہو۔ غوروفکر کے تقاضے اور خیر کی تلاش کا جذبہ سب پر مقدم ہونا چاہئے۔
نظام کی تشکیل میں شورائیت کا کردار
شارع حکیم نے جہاں شریعت بذریعہ وحی نازل فرمائی ہے، وہیں زندگی کے ایک وسیع میدان میں اس کی گنجائش رکھی ہے کہ شریعت کی تعلیمات کی رعایت اور حدود شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے اہل زمین اپنی عقل اور تجربات سے فائدہ اٹھائیں ، اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق نظاموں اور طریقوں کی تشکیل کریں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شریعت ناقص ہے، بلکہ شریعت کا منشا یہی ہے کہ انسانی عقل جو اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے اس کا بھی بھرپور استعمال ہو، گویا شریعت انسان کو عقل سے بے نیاز نہیں کرتی ہے بلکہ عقل کو ثمر آور ہونے کے لئے بہت موزوں ماحول اور بہت وسیع میدان فراہم کرتی ہے۔
اسلامی نظام حکومت میں حاکمیت اللہ کی ہوتی ہے اور انسانوں کا کام اللہ کی مرضی کے مطابق حکومت چلانا ہوتا ہے، جس میں انسان حاکم نہیں بلکہ نائب ہوتا ہے، تاہم اللہ کی مرضی جاننے کا جہاں پہلا اور اہم ترین ذریعہ وحی الہی ہے ، وہیں دوسرا ذریعہ اجتہاد اور شوری ہے، اور اس ذریعہ کا ثبوت وحی الہی سے ہوتا ہے، اور اس ذریعہ کا استعمال بھی وحی الہی کی روشنی میں ہوتا ہے۔اللہ کے رسول نے شوری کا نظام قائم کیا تھا اور اس کی تربیت بھی دی تھی، خلفاء راشدین نے اس پر کامیابی سے عمل بھی کیا تھا، تاہم بعد میں جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی، جو سرتاسر شورائیت کے مخالف رویہ ہے، تو شوری کو بالکل معطل کردیا گیا،اور اس کی جگہ حاکم وقت کے انفرادی فیصلوں نے لے لی، غرض شوری کے ذریعہ اللہ کی مرضی جاننے کے بجائے ، حکمرانوں کی اپنی مرضی عملاقانون سازی کی اساس بنتی چلی گئی۔
غوروفکر بذریعہ افراد ، قانون سازی بذریعہ شوری
اسلامی ریاست میں اجتہاد اور غوروفکر کی ہر فرد کو آزادی ہوتی ہے، ریاست کو شریعت نے افراد کی دولت کو قومیانے کی اجازت دی ہے اورنہ اس کی اجازت دی ہے کہ اجتماعی مصالح کا حوالہ دے کریاامت کے انتشار کا اندیشہ بتاکریا کسی اور بہانے سے غوروفکر کے کسی عمل پر پابندی لگائی جائے، البتہ کسی حاصل غوروفکر کو قانونی درجہ دینے کے لئے امت میں موجود بہتر سے بہتر شورائی عمل سے گزارناضروری ہے۔
اسلامی ریاست میں قانون سازی کے دائرے پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا مودودی نے عبادات کو دائرہ قانون سازی سے خارج قرار دیا اور معاملات کے باب میں وہاں قانون سازی کی گنجائش بتائی جہاں کتاب وسنت خاموش ہیں۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے معاملات کے باب میں چار شعبوں کا ذکر کیا جن میں قانون سازی کے امکانات پائے جاتے ہیں، الف: تعبیر، ب: قیاس، ج: استنباط واجتہاد، د: استحسان اور مصالح مرسلہ۔ اس کے بعد مولانالکھتے ہیں: ان چار شعبوں کے متعلق کسی مجتہد یا امام کی انفرادی رائے اور تحقیق ایک ماہرانہ رائے اور تحقیق تو ہوسکتی ہے، جس کا وزن رائے دینے والے کی علمی شخصیت کے وزن کے مطابق ہی ہوگا، مگر بہر حال وہ ’’قانون‘‘ نہیں بن سکتی، قانون بنانے کے لئے ضروری ہے کہ مملکت اسلامیہ کے ارباب حل وعقد کی شوری ہو اور وہ اپنے اجماع سے یا جمہوری فیصلے (یعنی اکثریت کے فیصلے) سے ایک تعبیر، ایک قیاس، ایک استنباط و اجتہاد، یاایک استحسان ومصلحت مرسلہ کو اختیار کرکے قانونی شکل دے دیں۔خلافت راشدہ میں قانون سازی کی یہی شکل تھی۔ (۹)۔
موازنہ اجماع ومشاورت
اسلامی فقہ یا قانون کی عام طور سے چار اہم بنیادیں ذکر کی جاتی ہیں، قرآن ، سنت ، اجماع اور قیاس۔ فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کے درمیان اجماع کا جو تصور مشہور ہے ، وہ اس قدر سخت شرطوں پر قائم ہے کہ نہ وہ شرطیں بیک وقت پائی جاسکتی ہیں، اور نہ ہی وہ اجماع وجود میں آسکتا ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ ایک طرف اجماع کے انعقاد کی شرطیں انتہائی سخت ہیں، دوسری جانب اس کی حجیت کو بھی بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ، کہ بسا اوقات وہ قرآن وسنت سے بھی زیادہ قوی دلیل معلوم ہوتا ہے، مولانا مودودی نے اجماع کے تصور کو عملیت سے قریب کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے نزدیک اس کا اطلاق امت کی نمائندہ مجلس شوری میں اتفاق رائے سے ہونے والے فیصلوں پر ہوتا ہے، مولانا مودودی اجماع کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اگر کسی مسئلے میں نص شرع کی کسی تعبیر پر، یا کسی قیاس یا استنباط پر، یا کسی تدبیر ومصلحت پر اب بھی اہل حل وعقد کا اجماع، یا ان کی اکثریت کا فیصلہ فی الواقع ہو جائے تو وہ حجت ہوگا، اور قانون قرار پائے گا، اس طرح کا فیصلہ اگر تمام دنیائے اسلام کے اہل حل وعقد کریں تو وہ تمام دنیائے اسلام کے لئے قانون ہوگا، اور کسی ایک اسلامی مملکت کے اہل حل وعقد کریں تو وہ کم ازکم اس مملکت کے لئے قانون ہونا چاہئے۔(۱۰)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کے نزدیک اجماع دراصل قانون سازی کے ممکنہ دائرے میں اہل حل وعقدکے کسی مسئلے پر اتفاق کی ایک تعبیر ہے، جس کے نتیجہ میں ایک رائے کو قانونی حیثیت حاصل ہوجا تی ہے، اور اس کی پابندی ریاست کے ہر فرد پر لازم ہوتی ہے۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے، کہ اجماع کے عمل سے گذر کر جب ایک رائے قانون کی حیثیت کرلے تو کیا ریاست کے افراد کے لئے اگلے کسی زمانے میں یا خود اسی زمانے میں دیگر آراء پر مزید غوروفکر کرنے کی، ان کومع دلائل ، اہل حل وعقد کی مجلس شوری میں پیش کرنے کی اجازت ہے؟، اور کیااس مجلس شوری کو موجودہ قانون کے بذریعہ اجماع منظور ہوجانے کے علی الرغم ،دوسری نئی رائے پر غور کرنے کی اور دلائل کی روشنی میں اس کے قوی تر ثابت ہوجانے کے بعد، اس کو قانون بنانے کی اجازت حاصل ہے ؟۔ مولانا مودودی کے یہاں اس سلسلے میں مشہورروایتی موقف سے ہٹ کر کوئی بات نہیں ملتی۔ امت کا مشہور روایتی موقف یہ ہے کہ اگر اجماع اپنی تمام مطلوبہ شرائط کے ساتھ عمل میں آگیا، تو پھر اس اجماعی رائے کے علاوہ کسی اور رائے پر نہ افراد کو غوروفکر کی اجازت ہے اور نہ امت کو اسے اختیار کرنے کی اجازت ہے۔
آیت شوری سے اس روایتی موقف کی تائید نہیں ہوتی ہے، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ شوری ایک نہیں رکنے والا عمل ہے، اگر ایک رائے کو شورائی عمل سے گذرتے ہوئے امت کے مکمل اتفاق رائے کے ساتھ قانونی حیثیت حاصل ہوگئی ، تو بھی آنے والے کسی بھی دور میں امت کو یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ شورائی عمل کے ذریعہ ہی کسی دوسری رائے کو کثرت رائے یا اتفاق رائے سے قانونی حیثیت دے دے۔کسی دور کی امت، کسی دوسرے دور کی امت کو شورائی عمل اپنانے کے حق سے محروم نہیں کرسکتی۔اور اگر امت شورائی عمل کے ذریعہ کسی سابقہ اجماعی فیصلے کو بدل دینے کا اختیار رکھتی ہے، تو اس کے افراد بھی اپنی انفرادی حیثیت میں سابقہ اجماعی اور غیر اجماعی تمام فیصلوں کے سلسلے میں غوروفکر کرتے رہنے کا کبھی ختم نہیں ہونے والا حق رکھتے ہیں۔امت کے اجتماعی یا اجماعی فیصلے ، افراد کے لئے واجب العمل ضرور ہوتے ہیں، تاہم افراد سے غوروفکر کی آزادی نہیں سلب کرتے ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ مولانا مودودی نے اجماع کے انعقاد کے لئے آسان شرطوں والے تصور کو ترجیح دے کر اسے ممکن العمل بنادیا ہے بلکہ اسے قانون سازی کے معمولی عمل (Routine Legislation Process)کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ مشہور روایتی موقف میں تو خود اس کے انعقاد کی شرطیں اس قدر سخت ہیں، کہ عملا اس کا انعقاد ہی ناممکن ہوجاتا ہے۔
اجماع کے مروجہ تصور کو غلو پر مبنی اور اس کی جگہ شوری کے تصور کو اختیار کرنے کی بھر پور وکالت ڈاکٹر صلاح سلطان نے کی ہے،انہوں نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’الغلو فی حجیۃ الاجماع‘‘ میں دلائل سے ثابت کیا ہے کہ امت کے اندرانجام پانے والا شورائی عمل ہی اصل اجماع ہے، اور اجماع کے نام سے جو تصور امت میں عام ہوگیا ہے وہ بے بنیاد اور بعد کی ایجاد ہے، انہوں نے یہ موقف بھی پیش کیا کہ شورائی عمل اور اس کے نتیجہ میں اتفاق رائے سے ہوجانے والے فیصلوں پر بھی نظر ثانی ہوسکتی ہے اور دلائل کی بنیاد پر کبھی بھی امت اپنے سابقہ اجماعی فیصلے کے علی الرغم دوسرا فیصلہ کرسکتی ہے۔
مذکورہ کتاب سے حسب ذیل اہم نتائج سامنے آتے ہیں:
مروجہ تصور اجماع کے حق میں کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے، شوری کے حق میں قرآن وسنت کے قطعی دلائل ونظائر ہیں۔
مروجہ تصوراجماع کی شرطیں اس قدر سخت ہیں کہ اس کا وقوع ناممکن یا انتہائی مشکل ہے جبکہ شوری کا انعقاد ممکن اورآسان ہے۔
کسی مسئلہ پر اجماع کا انعقاد تاریخی لحاظ سے ثابت کرنا بہت مشکل ہے، جبکہ شوری کے انعقاد کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
اجماع کے انعقاد کے لئے ضروری ہے کہ امت کے تمام افراد یا تمام مجتہدین کی رائے حاصل ہوگئی ہو اور کسی ایک نے بھی اختلاف نہ کیا ہو، اور ان کے عہد کے گزر جانے تک ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی رائے سے رجوع نہ کیا ہو، جبکہ شوری کے لئے ایسی کوئی شرط ضروری نہیں ہے۔بلکہ ممکن حدتک لوگوں کی رائے معلوم کرنا اور کثرت کی بنیاد پر فیصلہ تک پہونچنا کافی ہے۔
اجماع کے انعقاد کے ثبوت کے لئے بھی قطعی ذرائع مطلوب ہیں، اگر اجماع منعقد ہوجانے کی خبر ظنی طریقہ سے پہونچتی ہے تو اس کی حجیت محل نظر ہوجاتی ہے، جبکہ شوری کے سلسلے میں اس کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہے۔
اگر اجماع کے مروجہ تصور کو مان لیا جائے تو اس کے انعقاد کے بعد پھر کسی بھی زمانے میں کسی کے لئے اس سے اختلاف کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ جبکہ شوری کے تحت ایسے کسی بھی مسئلہ پر جس پر کسی بھی زمانے میں شوری سے فیصلہ ہوچکا ہو دوبارہ شوری کے ذریعہ گفتگو کرائی جاسکتی ہے۔
اجماع کا حوالہ دے کر تاریخ کے مختلف ادوار میں اجتہادی کوششوں پر روک لگانے کی کوشش کی گئی،اور مخالف رائے کو دبانے کے لئے اس حوالے کا استعمال کیا گیا ، جبکہ شوری کے حوالے سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔(۱۱)
اجماع کا مروجہ تصور امت میں اختلاف رائے کی آزادی اور اجتہاد کے مواقع کو محدود کردیتا ہے، جبکہ شوری کا تصور یہ آزادی اور مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس لئے امت کومروجہ تصور اجماع کی جگہ قرآن مجید میں پیش کردہ تصور شوری کو اختیار کرنا چاہئے، اور قانون سازی کے عمل میں اجماع کے بجائے شوری سے مدد لینا چاہئے۔
شورائیت الزامی یا محض اعلامی
شورائیت کو ضروری مان لینے کے بعد ایک بہت اہم بحث یہ ہوتی ہے، کہ شورائیت کے نتیجہ میں اتفاق یا اکثریت سے سامنے آنے والی رائے کو امیر کے لئے ماننا ضروری ہے، یا محض اسے سن لینا کافی ہے، مولانا مودودی لکھتے ہیں: ’’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں مقننہ (اہل الحل والعقد) کی صحیح حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ محض صدر ریاست کی مشیر ہے، جس کے مشوروں کو رد یا قبول کرنے کا صدر ریاست کو اختیار ہے؟ یا صدر ریاست اس کی اکثریت یا اس کے اجماع کے فیصلوں کا پابند ہے؟ اس باب میں قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے انجام پانے چاہئیں (وأمرھم شوری بینھم) اور نبی اکرمؐ کو بحیثیت صدر ریاست کے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالی حکم دیتا ہے: (وشاورھم في الأمر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ) اور ان سے معاملات میں مشورہ کرو، پھر (مشورے کے بعد) جب تم عزم کرلو تو اللہ کے بھروسے پر عمل کرو۔
یہ دونوں آیتیں مشورے کو لازم کرتی ہیں، اور صدر ریاست کو ہدایت کرتی ہیں کہ جب وہ مشورے کے بعد کسی فیصلے پر پہونچ جائے تو اللہ کے بھروسے پر اسے نافذ کردے، لیکن اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتیں جو ہمارے سامنے پیش ہے، حدیث میں بھی اس کے متعلق کوئی قطعی حکم مجھے نہیں ملا ہے، البتہ خلافت راشدہ کے تعامل سے علماء اسلام نے بالعموم یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نظم ریاست کا اصل ذمہ دار صدر ریاست ہے، اوروہ اہل الحل والعقد سے مشورہ کرنے کا پابند ہے، مگر اس بات کا پابند نہیں کہ ان کی اکثریت یا ان کی متفقہ رائے پر ہی عمل کرے، دوسرے الفاظ میں اس کو ’’ویٹو‘‘ کے اختیارات حاصل ہیں۔(۱۲)
تاہم تفہیم القرآن میں مولانا مودودی کی رائے اس سے مختلف نظر آتی ہے(۱۳)
دوسری جانب ڈاکٹر علی صلابی بعض معاصر علماء کا حوالہ دیتے ہوئے پورے شد ومد کے ساتھ امیر کو شوری کی رائے کا پابند قرار دیتے ہیں، وہ ایک طرف اسے فطرت اور عقل وقلب کی آواز بتاتے ہیں تودوسری طرف دلائل شریعت کا تقاضا بھی قرار دیتے ہیں، ان کے بقول شوری کا پابند کرکے ہی امیر کو استبداد اور مطلق العنانی سے باز رکھا جا سکے گا۔اپنی تائید میں وہ حیات رسولؐ کی ان بعض نظیروں کو بھی پیش کرتے ہیں، جب اللہ کے رسولؐ نے لوگوں کی رائے سامنے آجانے کے بعد اپنے موقف سے رجوع کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امیر امت کا ایک فرد ہوتا ہے، اورفرد کی رائے کے مقابلے میں امت کی رائے کا صحیح تر ہونا بہر حال زیادہ قرین قیاس ہے، ایک فرد کی رائے میں غلطی کے جس قدر امکانات ہوتے ہیں ، ایک بڑے گروہ کی رائے میں وہ امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر شوری کی رائے کو لازمی قرار دینے کا صرف ایک یہی فائدہ حاصل ہوتا ہو کہ اس طرح مطلق العنانی کا دروازہ بند ہوجاتا ہے تو یہ اپنے آپ میں ایک طاقتور دلیل ہے۔(۱۴)
دراصل آیت شوری کے الفاظ اسی دوسری رائے کی تائید کرتے ہیں، کہ جب معاملہ کا تعلق سب سے ہو تو ایک فرد کو محض اپنی صوابدید سے کوئی فیصلہ کرلینے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا ہے، اگر معاملہ حاکم کا ذاتی ہو تب تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ جن لوگوں کو اہل الرائے اور قابل اعتماد سمجھتا ہو ان سے مشورہ لے اور اس کی روشنی میں پوری آزادی کے ساتھ فیصلہ کرے، کیونکہ معاملہ اس کا ذاتی ہے، تاہم اگر معاملہ اس کا نہیں بلکہ امت کا ہو، اور ہونے والے فیصلے کا راست اثر امت کے افراد پر ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں وأمرھم شوری بینھم پر عمل کیا جائے گا، اور امت یا امت کے نمائندوں سے مشورہ لیا جائے گا، اور وہ جس رائے تک پہونچیں گے اسی کو لازمی طور سے اختیار کیا جائے گا۔ شاورھم في الأمر سے تو ایسی کوئی گنجائش نکل سکتی تھی، کہ حکم مشورہ میں شریک کرنے کا ہے ، مشورہ کو مان لینے کا نہیں ہے، لیکن أمرھم شوری بینھم کا تقاضا تو یہی ہے کہ جو بھی فیصلہ ہو وہ شورائی عمل کے ذریعہ ہی وجود میں آئے، اس میں کہیں بھی کسی ایک فرد کی رائے کو سب کی رائے پر محض اس وجہ سے برتری حاصل نہ ہو کہ وہ کسی امیر کی رائے ہے یا کسی بزرگ کی رائے ہے،کیونکہ آیت میں زور افراد پر نہیں بلکہ معاملہ پر ہے کہ وہ افراد کی باہمی مشاورت سے فیصل ہوتے ہیں۔اگر افراد مشاورت میں شریک ہوں لیکن معاملات کسی کی ذاتی رائے سے فیصل ہوتے ہوں تو یہ أمرھم شوری بینھم نہیں ہے۔
شورائی عمل میں عورت کی شرکت
مولانا مودودی اسلامی ریاست کے شورائی عمل میں عورتوں کی شرکت کے قائل نظر نہیں آتے، وہ الرجال قوامون علی النساء اور لن یفلح قوم ولوا أمرھم امرأۃ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہ دونوں نصوص اس باب میں قاطع ہیں کہ مملکت میں ذمہ داری کے مناصب (خواہ وہ صدارت ہو یا وزارت یا مجلس شوری کی رکنیت یا مختلف محکموں کی ادارت) عورتوں کے سپرد نہیں کئے جاسکتے، اس لئے کسی اسلامی ریاست کے دستور میں عورتوں کو یہ پوزیشن دینا، یا اس کے لئے گنجائش رکھنا نصوص صریحہ کے خلاف ہے، اور اطاعت خدا اور رسولؐ کی پابندی قبول کرنے والی ریاست اس خلاف ورزی کی سرے سے مجاز ہی نہیں ہے۔ (۱۵)
تاہم بعض دوسرے معاصر علماء خواتین کی شورائی عمل میں شرکت اور اس کے لئے تشکیل کردہ مجالس شوری کی رکنیت کی بھر پوروکالت کرتے ہیں، علامہ علال فاسی سورہ بقرہ کی آیت (فان أرادا فصالا عن تراض منھما وتشاورفلا جناح علیھما) (۲۳۳)سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب چھوٹے خاندان کی سطح پر عورت سے خاندانی امور میں مشورہ کو مطلوب قرار دیا گیا، تو بڑے خاندان یعنی امت اور ریاست کی سطح پر آدھے خاندان (خواتین) کو شورائیت کے حق سے کیسے محروم رکھا جاسکتا ہے۔ (۱۶)
ڈاکٹر علی صلابی نے خواتین کی شورائی عمل میں شرکت کے حق میں حیات رسولؐ اور خلافت راشدہ کی عملی نظیریں پیش کی ہیں ، جن سے خواتین کا ریاست کے امور میں مشورے دینا، اور ان مشوروں کو قابل لحاظ مقام دیا جانا معلوم ہوتا ہے۔خاص طور سے خلیفہ دوم حضرت عمرؓ کے بارے میں اس کا خاص اہتمام منقول ہے۔(۱۷)
ڈاکٹر علی صلابی نے ایک لطیف استدلال کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن مجیدمیں عورت کا مشورہ کرنا بھی مذکور ہے اور مشورہ دینے کا بھی تذکرہ ہے، مشورہ مانگنے کی مثال سورہ نمل آیت ۲۹ تا ۳۵، میں مذکور ملکہ سبا کا واقعہ ہے جس میں ملکہ سبا نے حضرت سلیمان ؑ کے پیغام کے تعلق سے اپنے درباریوں سے مشورہ مانگا تھا، جبکہ مشورہ دینے کی مثال سورہ قصص کی آیت نمبر ۲۶ میں مذکور وہ واقعہ ہے جب دو بہنوں میں سے ایک نے اپنے والد کو موسیؑ کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ قرآن مجید میں مذکورہ دونوں واقعات اس انداز سے بیان کئے گئے ہیں کہ شارع کی رضامندی ظاہر ہوتی ہے۔(۱۸)
عورتوں کو امور مملکت سے یکسر دور کردینے کامولانا مودودی کا موقف ، آیت خلافت کی مولانا مودودی کی تفسیر سے بھی ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ خلافت کا وہ وصف جو مولانا کے بقول ہر مسلمان کو کار جہانبانی میں شریک ٹھہراتا ہے، اس وصف میں مرد اور عورتیں برابر کی شریک ہیں، مولانا خود لکھتے ہیں: ’’ایسی سوسائٹی میں ہر عاقل وبالغ مسلمان کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت، رائے دہی کا حق حاصل ہونا چاہئے، اس لئے کہ وہ خلافت کا حامل ہے، خدا نے اس خلافت کو کسی خاص معیار لیاقت یا کسی معیار ثروت سے مشروط نہیں کیا ہے، بلکہ صرف ایمان وعمل صالح سے مشروط کیا ہے، لہذا رائے دہی میں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ مساوی حیثیت رکھتا ہے‘‘ (۱۹)۔ اگر رائے دہی کا حق خواتین کو حاصل ہے تو اسلامی ریاست کی مجلس شوری کی رکن ہوکر ریاست کی انتظامیہ کو مشورہ دینے کا حق حاصل کیوں نہ ہو۔
عورت کے حق رائے دہی کے سلسلے میں بنیادی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے أمرھم شوری بینھم کی جہاں تعلیم دی ہے، وہاں عورت مردکی کوئی تفریق نہیں کی ہے، بلکہ جن اوصاف کے درمیان شورائیت کے وصف کا تذکرہ کیا ہے، ان میں سے کوئی بھی وصف مردوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
خلفاء راشدین میں حضرت عمر کے بارے میں تو صراحت سے ملتا ہے کہ وہ عورتوں سے مشورہ لیتے تھے اور ان کی رائے قبول بھی کرتے تھے(۲۰)
غیر مسلموں کی شورائی اداروں میں شرکت
گوکہ آیت شوری سے اس طرح کی کوئی بات ثابت نہیں کی جاسکتی، کیونکہ آیت شوری میں مسلمانوں کا ذکر ہے، تاہم بعض دوسری دلیلوں کا سہارا لے کر بعض جدید اسلامی مفکرین نے اسلامی ریاست کی مجالس شوری میں غیر مسلموں کی رکنیت کی وکالت کی ہے، ڈاکٹر علی صلابی اسی موقف کے حامی ہیں، اور انہوں نے اپنی تائید میں علامہ یوسف قرضاوی اور ڈاکٹر عبدالکریم زیدان کاحوالہ دیا ہے۔(۲۱)
مولانا مودودی نے خاص طور سے مجلس شوری کی رکنیت کا ذکر کرکے تو کچھ نہیں لکھا ہے، البتہ ایک مقام پر وہ لکھتے ہیں: ’’ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے صاحب امر بننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ایک اشتراکی ریاست میں منکرین اشتراکیت اور ایک جمہوری ریاست میں مخالفین جمہوریت کے لئے اولی الأمر بننے کا نہ عقلا کوئی موقع ہے اور نہ عملا‘‘ (۲۲) ، مولانا کی گفتگو جس سیاق میں ہے، اوراس میں جن دلائل کا سہارا لیا گیاہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کی رائے میں اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو ایسی مجالس کی رکنیت نہیں دی جاسکتی ہے۔
تاہم اگر کسی فیصلہ کا تعلق براہ راست غیر مسلموں سے ہو تو ان سے مشورہ لینے کی تائید ائمہ سلف کے یہاں ملتی ہے، اس کی مثال ابوعبید نے یہ دی ہے کہ اگر کسی قلعہ کا مسلمانوں نے محاصرہ کرلیا، اور قلعہ کے سردار صلح کے لئے راضی ہوں تو اس پیشکش پر اس وقت تک عمل نہیں کیا جائے جب تک کہ قلعہ کے بقیہ لوگوں کی رائے بھی معتبر ذرائع سے معلوم نہیں ہوجاتی، حضرت عمر بن عبد العزیز کی یہی ہدایت تھی۔ (۲۳)

شورائیت کے باب میں انسانی کوششوں سے استفادہ
شورائیت کے زریں اصول کو بہتر عملی جامہ عطا کرنے کے لئے جہاںیہ ضروری ہے کہ کتاب وسنت اور امت کے موجود فکری سرمائے سے استفادہ کیا جائے، وہیں عام انسانوں کی دریافتوں سے فائدہ اٹھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ شورائیت کا اصول انسان کی فطرت میں ودیعت ہے، اورانسانوں کی بہت ساری دریافتیں وحی و فطرت کے مطابق ہوتی ہیں، انسانی کوششوں سے استفادہ کے ذیل میں جمہوری طریقہ انتخاب اور طرز حکومت کا نام سب سے پہلے آتا ہے، جمہوریت کا ایک پہلو نظریاتی ہے، جس کا سب سے زیادہ قابل اعتراض حصہ حاکمیت جمہور ہے، لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ مملکت کا نظریہ اور عقیدہ تو اسلام ہو، قانون سازی کے لئے اصل رہنما خدا کی کتاب ہو، تاہم حکومت بنانے اورچلانے کے لئے بطور سسٹم وہ طریقے اختیار کئے جائیں جن کو انسانی ذہن نے ایک طویل سفراور بے شمار تجربات کے بعد دریافت کیا ہے، انسانوں نے اسے نام جمہوری طرز حکومت کا دیا ہے ، اس کے بہت سارے پہلو اسلامی تعلیمات سے متصادم بھی ہوسکتے ہیں، لیکن ان میں ترمیم واصلاح کرکے اگر اختیار کیا جائے تو شورائیت کے تقاضوں کے مطابق حکومت چلانے کے لئے وہ سسٹم موزوں بھی ہوسکتا ہے۔
آمریت زدہ کلچر اور مزاج کے زیر سایہ ماضی قریب کے تلخ تجربات سے گزرنے کے بعد اب اسلامی تحریکات اور علماء نے بہت ساری انسانی دریافتوں کی ستائش شروع کردی ہے، جوراقم کے نزدیک کسی مرعوبیت کا نتیجہ نہیں بلکہ تلاش حکمت کے تحت ہے۔تاحیات امیر کے تصور کے بجائے اب مختلف اسلامی تنظیموں کے دساتیر میں یہاں تک شامل کیا گیا ہے، کہ امیر کے لئے ایک دورانیہ ہوگا، اور کوئی شخص دو دورانیوں سے زیادہ امارت کے لئے منتخب نہیں کیا جاسکے گا۔
رائے شناسی کے لئے رائے شماری ضروری ہے
جمہوریت پر تنقید کرتے ہوئے علامہ اقبال کا ایک شعر اکثر ذکر کیا جاتا ہے ؂
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اس تنقید کا کیا مطلب ہے، اور علامہ اقبال کے ذہن میں انسانوں کو گننے کے بجائے تولنے کا کیا ممکن طریقہ موجود تھا، اس سے قطع نظر، انسانوں کو نہیں گننے کا موقف اور ان کی خواص اور عوام میں تقسیم اور ان کے درمیان یہ تفریق کہ فلاں کی رائے قابل اعتبار ہو اور فلاں کی نہ ہو، فتنوں کا نیا دروازہ کھولتی ہے، دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں رائے دہی اور رائے شماری کا شفاف اور دیانتدارانہ انتظام ہو، اور جہاں ہر ایک کو سوچنے اور اپنا خیال ظاہر کرنے کی پوری آزادی ہو، وہاں وزنی رائے رکھنے والوں کو اپنی رائے دوسروں تک پہونچانے کا اور اپنی رائے کا وزن منوانے کا پورا موقعہ حاصل ہوتا ہے، گویا لوگوں کو تولنے کے لئے سازگار ماحول وہیں بنتا ہے جہاں سب کو رائے دینے کا یکساں حق ہو اور جہاں سب کی رائے یکساں طور پر شمار کی جائے، سب کی رائے کو رائے شماری کے وقت یکساں وزن دینے سے واقعاتی سطح پر ایسا ہوسکتا ہے کہ کبھی کسی غلط رائے کو اکثریت حاصل ہوجائے ، اور وہ محض کثرت رائے کی بنیاد پر مان لی جائے ، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس طریقہ پر عمل پیرا ہونے سے کبھی امت کے بعض مصالح متأثر ہوجائیں ، لیکن اس رویہ سے احتراز کے نقصانات زیادہ شدید ہوتے ہیں،کسی بھی اجتماعی معاملہ میں آخری فیصلہ بہر حال رائے شماری کے ذریعہ ہو،یہی أمرھم شوری بینھم کی تعلیم ہے ، اوریہی احترام انسانیت کاتقاضا ہے۔ العوام کالأنعام ایک خراب اور ناپسندیدہ صورتحال کی تعبیر ہے جو شہنشاہی نظام کے تحت رہتے رہتے وجود میں آئی ہے۔یہ کوئی حکیمانہ اصول نہیں ہے جس کی بنا پر کسی نظام کی تشکیل ہو۔ضرورت اس صورتحال کو بدلنے کی ہے نہ یہ کہ اس کو قبول کرکے اسے ایک اساس کی حیثیت دے دی جائے۔
نمائندگی شورائیت کے لئے معاون ہے اس کا بدل نہیں ہے
شورائیت کے اصول کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر فرد اپنے حاصل غور وفکر کو لوگوں تک اور بطور خاص فیصلہ ساز اداروں تک پہونچانے کے بھرپورمواقع رکھتا ہو، لیکن جہاں صاحب معاملہ افراد کی تعداد زیادہ ہو اور سب کو براہ راست مشورے میں شریک کرنا ممکن نہ ہو وہاں ضرورت کے تقاضے کے تحت نمائندگی کے اصول کو اختیار کیا جاتا ہے، نمائندگی کا مقصد شورائی عمل کو ممکنہ حد تک فعال بنانا ہوتا ہے، لیکن بسا اوقات نمائندگی شورائی عمل میں معاون ہونے کے بجائے خود اس راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہے، نمائندے غوروفکر کے اجارہ دار بن کر پوری قوم کو غوروفکر کے عمل سے محروم کردیتے ہیں، نمائندوں کے غوروفکر کو پوری قوم کے غوروفکر کا بدل سمجھ لینا، اور نمائندوں کی مشاورت کو وہ حیثیت دے دینا کہ پوری قوم مشاورت کی ذمہ داری سے بالکل کنارہ کش ہوجائے ، مثالی رویہ نہیں ہے۔اگر مشاورت کا مقصدبہتر رائے تک پہونچنا ہے تو اس کے امکانات کم نہیں ہوتے کہ نمائندہ افراد سے زیادہ بہتر رائے تک وہ افراد پہونچ جائیں جو نمائندہ نہیں ہیں، ایسے افراد کی رائے کو بے وزن ہونے سے بچانا اور غیر نمائندہ افراد کی قیمتی آراء کو نمائندہ افراد کی رائے کی طرح قانونی اعتبار عطا کرنا،تمدنی سفر کا ایک اہم ہدف ہونا چاہئے۔نمائندگی کو مستقل اور مثالی حکمت عملی کے بجائے وقتی اور عبوری حکمت عملی قرار دے کر ایسے نظام کے امکانات پر غور کرنا چاہئے جہاں ہر فرد براہ راست مشاورت کے عمل میں حصہ لے اورجہاں أمرھم شوری بینھم کی ذمہ داری سب ادا کریں اور اس کی برکتوں سے پورا معاشرہ فیضیاب ہوسکے۔
اہل حل وعقد کی اصطلاح بعد کی ایجاد ہے
فقہ اور اسلامی سیاست کی کتابوں میں اہل حل وعقد کی اصطلاح کثرت سے استعمال ہوتی ہے، اور قاری کو یہ تأثر ملتاہے کہ یہ اصطلاح اسلام کے سیاسی نظام کی ایک اہم بنیاد ہے، اور امت کا مطلوبہ شورائی نظام اہل حل وعقد کے توسط سے چلتا ہے،اس اصطلاح پر ڈاکٹر حاکم مطیری کا درج ذیل تبصرہ غور طلب ہے،وہ لکھتے ہیں: شوری سب کا حق ہے، اس پرکسی کابھی خواہ وہ کوئی بھی ہودوسروں سے زیادہ حق نہیں بنتاہے، فقہ اور احکام سلطانیہ کی کتابوں میں موجود اہل حل و عقد کی اصطلاح صحابہ کے درمیان معروف نہیں تھی، عہد نبوت اور عہد خلافت راشدہ میں مشاورت سب کے لئے عام تھی ،اہل حل وعقد کی اصطلاح عباسی دور میں ایجاد ہوئی، اہل حل وعقد کے سلسلے میں ایسی شرطیں رکھی گئیں جو شاذ ونادر کسی میں پائی جائیں اور جن کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے، اس طرح سب کے مشورہ سے امیر کے انتخاب کا جو بہت بنیادی حق امت کو دیا گیا تھا،اس حق سے امت کو یہ کہہ کر محروم کردیا گیا کہ یہ تو اہل حل وعقد کے دائرہ اختصاص میں آتا ہے، پھرزوال اور کمزوری کے زمانوں میں امت کا حال یہ ہوا کہ خلیفہ اور سلطان ہی اہل حل وعقد کا تعین کرنے لگا، اور تعین بھی ان لوگوں کا کیا جاتا جو نہ قوت فیصلہ رکھتے نہ جرأت اظہار، جو امت کے لئے بے سود ہوتے اور خلیفہ کے لئے بے ضرر(۲۴)
شورائیت کے تقاضے اور انصاف کے تقاضے
بسا اوقات شورائیت کے تقاضوں اور انصاف کے تقاضوں میں باہم تعارض درپیش ہوتا ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ ایسا سسٹم لایا جا ئے جس میں دونوں تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
سقیفہ بنی ساعدہ میں جب اسلامی تاریخ کے پہلے خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ زیر بحث آیا تو اسلامی امت کے اندر موجود ایک تقسیم ابھر کر سامنے آئی، اور وہ انصار اور مہاجرین کی تھی، انصار کی طرف سے مطالبہ آیا کہ ایک امیر ہم سے ہو اور ایک تم میں سے ہو، منا أمیر ومنکم أمیر،(۲۵) اگر اس تقسیم پروہ اصرار کرتے تو وہ مطالبہ مبنی بر انصاف تھا، لیکن اکابر صحابہ نے اس تقسیم کو ذہن سے نکال کر امت کے عمومی تصور کو پیش کیا جس میں ایسی کسی تقسیم سے بالاتر ہونا تھا، جس کے بعد سب نے مل کر ایسی شخصیات کی تلاش شروع کی جن کا انتخاب پوری امت کے مفاد میں ہو، یہ اتفاق تھا کہ وہ سب شخصیات یعنی خلفاء راشدین مہاجرین میں سے تھے، لیکن ان کا انتخاب دونوں گروہوں کی مرضی سے ہوا تھا۔
اگر تقسیم ایسی ہو جس کو نظر انداز کرنا اور اس سے اوپر اٹھناممکن ہو تو یہی مثالی کیفیت ہے، لیکن اگر کسی معاشرہ میں موجود کوئی تقسیم ایسی شکل اختیار کرلے کہ اس کو نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو، تو جب تک وہ تقسیم ختم نہیں ہوجاتی ہے، اس کو ایک واقعہ مان کر ایسا شورائی نظام تشکیل دیاجائے جس میں شورائیت کے تقاضوں کے ساتھ معاشرہ کے تمام گروہوں کے ساتھ انصاف کے تقاضے بھی ادا ہوسکیں۔
اگر کوئی گروہ منا أمیر کا مطالبہ رکھتا ہو، تو امارت کے تداول کا ایسا نظام ضرور ہونا چاہئے، جس میں ہر ایسے قابل لحاظ گروہ کے مطالبہ کی رعایت ہوسکے، اور معاشرہ کے کسی گروہ کو محرومی کا احساس نہیں رہے۔
ایک اہم مسئلہ
کسی ایک علاقہ کے مسلمانوں کے مشورہ سے اگر ایک شخص امیر بنتا ہے تو وہ صرف اس علاقہ کے لوگوں کا امیر قرار پائے گا، یا دنیا کے سارے مسلمانوں کے لئے اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا ضروری ہوگا، یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کی تحقیق ضروری ہے، شورائیت کا تقاضا تو یہی لگتا ہے کہ جس علاقہ کے لوگ جسے امیر بنادیں وہ اس علاقہ کا ہی امیر قرار پائے، لیکن اشکال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا بیک وقت عالم اسلام میں متعدد خلیفہ اور امیر المومنین ہوسکتے ہیں۔ خلافت راشدہ کے دور میں اس کی مثال نہیں ملتی، بعد کے ادوار میں بعض مثالیں ملتی ہیں، لیکن وہ مثالیں دلیل کا درجہ نہیں رکھتی ہیں۔ یہ مسئلہ حالیہ واقعات کے تناظر میں بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے، یہ تصور کہ ایک علاقہ کے مسلمانوں کا امیر دوسرے سارے مسلمانوں کو بذریعہ شمشیر اپنی بیعت پر مجبور کرسکتا ہے، یا کم از کم انہیں دائرہ امت سے خارج سمجھا جائے جو اس کی بیعت سے انکار کردیں، بہت خطرناک ہے اور شورائیت کے اصول سے راست متعارض ہے۔
راقم کو وقت کے فقیہ احمد ریسونی کی بات سے پورا اتفاق ہے کہ : اگر خلافت اور خلیفہ کا لفظ مسلمانوں کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے روپوش ہوجائے تو ان کے دین میں ذرہ برابر کمی نہیں آئے گی، لیکن اگر محض ایک دن کے لئے عدل روپوش ہوگیا، شورائیت کو دیس نکالا دے دیا گیا اور آئین کی پاس داری کوپامال کردیا گیاتو یہ سب سے بڑی مصیبت ہوگی۔
حرف آخر
جن مسلم ملکوں میں غیر شورائی بلکہ آمرانہ نظام عرصہ دراز سے نافذ ہے، وہاں آمریت کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے، کہ معاشرہ تمدنی لحاظ سے بالغ اور جمہوری طرز حکومت کے لئے تیارنہیں ہوا ہے، اور اگر امور مملکت عوام کے حوالے کردئے گئے، تو پورا ملک بدترین قسم کے انتشار واختلاف سے دوچار ہوجائے گا، اوراس کا اندیشہ ہے کہ غلط قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آجائے گا، جو ملک کو تباہی کے راستے پر لے جائیں گے،ڈاکٹر طہ جابر علوانی کے بقول، ان شاطر اور سرکش حکمرانوں نے امت کو یہ باور کرایا ہے، کہ امت نابالغ یتیم کی طرح ہے جسے ایک سرپرست کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ سرپرست وہ خود ہیں، یتیم فرد تو کبھی بالغ بھی ہوجا تا ہے، تاہم یہ امت وہ یتیم ہے جوہمیشہ نابالغ رہے گی اورسرپرست کی ضرورتمند رہے گی۔ یہ غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈہ سرکش حکمراں ٹولہ کے علاوہ ان کے حاشیہ بردار علماء اور دانشور بھی کرتے ہیں۔
مولانا مودودی نے اس موضوع پر جمہوریت کے حوالے سے جو گفتگو کی ہے وہ فکر انگیز ہے ، مولا نالکھتے ہیں: ’’اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جمہوریت میں بھی بہت سے نقائص ہوتے ہیں، اور وہ نقائص بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں، جبکہ کسی ملک کی آبادی میں شعور کی کمی ہو، ذہنی انتشار موجود ہو، اخلاق کمزور ہوں، اور ایسے عناصر کا زور ہو جو ملک میں کے مجموعی مفاد کی بہ نسبت اپنے ذاتی، نسلی، صوبائی، اور گروہی مفاد کو عزیز تر رکھتے ہوں، لیکن ان سب حقائق کو تسلیم کرلینے کے بعد بھی یہ عظیم تر حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ ایک قوم کی ان کمزوریوں کو دور کرنے اور اسے بحیثیت مجموعی ایک بالغ قوم بنانے کا راستہ جمہوریت ہی ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ ایک انسان اسی وقت اپنے بل بوتے پر زندگی بسر کرنے کے قابل ہوتا ہے جبکہ اسے اپنے اختیار سے کام کرنے اور اپنی ذمہ داریاں خود سنبھالنے کا موقع حاصل ہو، آغاز میں اس کے اندر بہت سی کمزوریاں ہوتی ہیں، جن کی بنا پر وہ ٹھوکریں کھاتا ہے، مگر تجربات کی درسگاہ بالآخر اسے سب کچھ سکھا دیتی ہے، اور ٹھوکریں کھا کھا کر ہی وہ کامیابی کی راہ پر آگے بڑھنے کے قابل بنتا ہے، ورنہ اگر وہ کسی سرپرست کے سہارے جیتا رہے تو ہمیشہ نابالغ ہی بنا رہتا ہے، ایسا ہی معاملہ ایک قوم کا بھی ہے، وہ بھی کبھی نابالغی کی حالت سے نہیں نکل سکتی جب تک کہ اس امر واقعی سے اس کو سابقہ پیش نہ آجائے کہ اب اپنے بھلے برے کی وہ خود ذمہ دار ہے، اور اس کے معاملات کا اچھی طرح یا بری طرح چلنا اس کے اپنے ہی فیصلے پر منحصر ہے، آغاز میں وہ ضرور غلطیاں کرے گی ، اور ان کا نقصان بھی اٹھائے گی لیکن صحیح طریقے پر کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہونے کا کوئی راستہ ان تجربات کے سوا نہیں ہے، علاوہ بریں جمہوری نظام ہی وہ نظام ہے جو ایک ایک شخص میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ملک اس کا ہے، ملک کی بھلائی اور برائی اس کی ہے اور اس بھلائی اور برائی کے رونما ہونے میں ذاتی طور پر اس کے اپنے فیصلے کی صحت یا غلطی کا بھی دخل ہے، یہی چیز افراد میں اجتماعی شعور پیدا کرتی ہے۔ اس سے فردا فردا لوگوں کے اندر اپنے ملک کے معاملات سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے، اور اسی کی بدولت بالآخر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ملک کی بھلائی کے لئے کام کرنے اور ملک کو داخلی وخارجی مضرات سے بچانے میں پورے ملک کی آبادی اپنی پوری طاقت استعمال کرنے لگے۔ دوسرا جو نظام بھی ہو، خواہ وہ بادشاہی ہو یا ڈکٹیٹر شپ یا اشرافیت، اس میں عوام الناس حالات کے محض تماشائی بن کر رہتے ہیں، اور جب ان حالات کے ردو بدل یا بناؤ اور بگاڑ میں ان کی رائے اور مرضی کا دخل نہیں ہوتا تو وہ ان میں دلچسپی بھی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ جمہوریت کے جو اور جیسے بھی نقائص ہوں، انہیں اس نقصان عظیم سے بہر حال کوئی نسبت نہیں ہے(۲۶)
حواشی
(۱) مصنف عبدالرزاق ، ۱۰/۳۰۲
(۲) تاریخ الطبری ، ابن جریر، ۲/۷۰۰
(۳) ملاحظہ ہو ڈاکٹر حاکم المطیری کی کتاب تحریر الانسان وتجرید الطغیان، المؤسسۃ العربیۃ للدراسات والنشر۔
فقہاء نے اس مسئلہ پر کیا موقف اختیار کیا اس کی ایک مثال مولانا ابوالکلام آزادکا مذکورہ ذیل بیان ہے، وہ لکھتے ہیں: اگر نظام شرعی کی جگہ ملکی قبضہ وتسلط کی صورت پیدا ہوجائے، اور جمہور کو انتخاب ونصب کا موقعہ نہ ملے، تو اس صورت میں ازروئے شرع مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے، سو اس کی نسبت چونکہ احادیث صحیحہ اور اجماع صحابہ وغیرہ میں بالکل صاف صاف موجود تھا، اس لئے تمام امت بلا اختلاف اس پر متفق ہوگئی، کہ جب ایک مسلمان منصب خلافت پر قابض ہوجائے، اور اس کی حکومت جم جائے، تو ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اسی کو خلیفہ اسلام تسلیم کرے، اسی کے سامنے گردن اطاعت جھکائے، بالکل اسی طرح جیسے ایک اہل ومستحق خلیفہ کے آگے جھکنا چاہئے، اطاعت واعانت کی وہ تمام باتیں جو منصب خلافت کے شرعی حقوق میں سے ہیں ایسے خلیفہ کو حاصل ہوجاتی ہیں۔ اس سے روگردانی کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں، اس کے مقابلے میں خروج اور دعوے کا حق کسی کو نہیں پہونچتا، اگرچہ کیسا ہی افضل اور جامع الشروط کیوں نہ ہو، جو کوئی ایسا کرے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے مقابلے میں اور قتل میں خلیفہ کا ساتھ دیں، وہ شرعا باغی ہے اس کو قتل کردینا چاہئے۔(مسئلہ خلافت ، ابوالکلام آزاد۷۰، جوادبرادر ، لاہور)
مولانا مزید لکھتے ہیں: اگرچہ ایک نااہل مسلمان کا خلیفہ ہوجانا برائی ہے، لیکن اس سے بھی بڑی برائی یہ ہے کہ تمام ملک برباد ہوجائے، اسلام نے ملک وشرع کی حفاظت کو مقدم رکھا، جو کلی مصلحت کا حکم رکھتی ہے، اور نااہل وفاقد الشروط کا تسلط گوارا کرلیا، جس کا فساد جزئی فساد ہے۔(مسئلہ خلافت،۷۱)
واضح رہے کہ مولانا کے مذکورہ موقف کا اطلاق ظالم حکمراں پر بھی ہوتا ہے۔
مولانا آزاد نے اتنا تو کیا کہ اصل اور مطلوب جمہوری طریقہ انتخاب کو بتایا، اور اگر کوئی زبردستی بزور قوت مسلط ہوجائے تو اسے مصلحتا برداشت کرلینے کی صلاح دی، شاہ ولی اللہ نے تو بزور قوت اقتدار حاصل کرنے کو بذریعہ شوری اقتدار تک پہونچنے کے برابر قرار دیا ہے، اور دونوں میں کوئی تفریق تک نہیں کی ہے۔ (ملاحظۃ ہو، حجۃ اللہ البالغہ، شاہ ولی اللہ دہلوی)
شیخ عبدالقادر عودہ لکھتے ہیں: بزور غلبہ حاکم بن جانے والے کی حکومت کو فقہاء نے اس لئے قبول کرلیا تھا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے، اس طرح فتنوں سے ، اور تفرقہ سے امت کوبچایاجا سکے گا، لیکن اس کے بطن سے تو سب سے شدید فتنوں نے جنم لیا، اور اس کے سبب اسلامی اجتماعیت پارہ پارہ ہوئی، مسلمانوں میں کمزوری آئی، اور اسلام کی بنیادیں منہدم ہوگئیں، اگر فقہاء کو یہ معلوم ہوتا کہ اس اجازت سے کیا برے نتائج سامنے آنے والے ہیں، تو وہ اس کی اجازت ایک لمحہ کے لئے نہیں دیتے۔ (ملاحظہ ہو، الاسلام وأوضاعنا السیاسیۃ ۱۷۰، بحوالہ الشوری فریضۃ اسلامیۃ، ۱۸۳)
(۴) المحرر الوجیز، ابن عطیہ ، ۲/۳۵، مکتبہ شاملۃ
(۵) التحریر والتنویر، محمد الطاہر بن عاشور، ،۳/۲۶۸ مؤسسۃ التاریخ العربی بیروت
(۶) تفہیم القرآن، ابوالأعلی مودودی، ۴/۵۰۹
(۷)اسلامی ریاست، ابوالأعلی مودودی،۱۵۳،مرتب پروفیسر خورشید احمد ، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
(۸)اسلامی ریاست،۱۵۵
(۹) اسلامی ریاست،۴۸۰
(۱۰) اسلامی ریاست،۴۸۵
(۱۱) ملاحظہ ہو ڈاکٹر صلاح سلطان کی کتاب، الغلو فی حجیۃ الاجماع۔
ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے اجماع کے بارے میں جو رائے دی ہے، اس سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے، وہ لکھتے ہیں: ایسے قانون کو جس پر سب علماء متفق ہوجائیں، لازما زیادہ قابل قبول قرار دینا پڑتا ہے، اجماع کو ہم ایک خاص اہمیت ضرور دیتے ہیں، لیکن کم ازکم حنفی فقہاء کے نزدیک اجماع اٹل اور ناقابل تبدیل نہیں ہے، بلکہ ایک جدید تر اجماع کے ذریعہ ایک قدیم تر اجماع کو منسوخ کیا جاسکتا ہے، جس طرح ایک نبی کے احکام کو دوسرا نبی منسوخ کرسکتا ہے، اسی طرح ایک فقیہ کی رائے کو دوسرا فقیہ رد کرکے اپنی علیحدہ رائے دے سکتا ہے، چنانچہ اگر ایک قدیم اجماع کو بدل کر دوسرا جدید اجماع قائم ہوجائے تو وہ پہلے اجماع ہی کی طرح واجب التعمیل ہوجائے گا، اور پرانا اجماع باقی نہیں رہے گا، یہ رائے خاص امام ابویوسف البزدوی کی ہے، اصول فقہ پر ان کی مشہور کتاب میں ان کے الفاظ یہی ہیں کہ جدید تر اجماع کے ذریعے سے قدیم تر اجماع منسوخ کیا جاسکتا ہے، یہ اسلامی قانون کی ایک بہت بڑی خدمت تھی، چونکہ یہ قانون خدا اور رسول کی طرف سے آیا ہوا اٹل قانون نہیں ہے، اس لئے اس کے ہمیشہ کے لئے پابند نہ ہوجائیں، بدلنے والے حالات کے تحت، بدلنے والی ضرورتوں کے تحت ، ہم ایک انسان کے قانون کو دوسرے انسان کے قانون کے ذریعے بدل سکیں گے۔ لیکن اس قاعدے کے تحت جو امام بزدوی نے بیان کیا ہے، اولا کسی نہ کسی کو پرانے اجماع کے خلاف زبان کھولنی پڑے گی، اور پرانی رائے پر اعتراض کرنے کی ضرورت پیش آئے گی، پھر بعد میں معاصر فقہاء اس رائے کو قبول کرتے جائیں گے، جب سارے لوگ اس پر متفق ہوجائیں گے تو پرانا اجماع ختم ہوجائے گا۔(اسلامی ریاست، عہد رسالت کے طرز سے استشہاد، ڈاکٹر محمد حمیداللہ، ۷۰۔۷۱، الفیصل ، لاہور)
(۱۲)اسلامی ریاست،۳۵۳۔۳۵۴
(۱۳)تفہیم القرآن، ۴/۵۱۰، آیت شوری کی تفسیر کرتے ہوئے مولانالکھتے ہیں: جو مشورہ اہل شوری کے اجماع(اتفاق رائے) سے دیا جائے، یا جسے ان کے جمہور (اکثریت) کی تائید حاصل ہو، اسے تسلیم کیا جائے۔ کیونکہ اگر ایک شخص یا ایک ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہوتو مشاورت بالکل بے معنی ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالی یہ نہیں فرمارہا ہے کہ’’ان کے معاملات میں ان سے مشورہ لیا جاتا ہے‘‘ بلکہ یہ فرمارہا ہے کہ ’’ان کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں‘‘ اس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہوجاتی، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو اسی کے مطابق معاملات چلیں۔
(۱۴) الشوری فریضۃ اسلامیۃ، علی محمد الصلابی،۱۱۳،دار ابن کثیر
(۱۵) اسلامی ریاست،۴۰۲
(۱۶) مدخل فی النظریۃ العامۃ للفقہ الاسلامی، ۱۰۱، بحوالہ الشوری فریضۃ اسلامیۃ،۱۲۸
(۱۷)الشوری فریضۃ اسلامیۃ،۱۳۰
(۱۸) الشوری فریضۃ اسلامیۃ،۱۳۰۔۱۳۱
(۱۹) اسلامی ریاست،۱۵۵
(۲۰) سنن بیہقی کبری حدیث نمبر ۲۰۱۱۹ باب من یشاور،مکتبہ دار الباز ، مکہ مکرمہ
(۲۱) الشوری فریضۃ اسلامیۃ، ۱۳۵۔۱۳۶
(۲۲) اسلامی ریاست ،۴۰۸
(۲۳) کتاب الأموال، أبوعبید قاسم بن سلام، ۱۹۱۔۱۹۲، دار الفکر،بیروت
(۲۴) تحریر الانسان،۳۲۵۔۳۲۷
(۲۵) صحیح بخاری، حدیث نمبر۳۶۶۸کتاب بدء الوحی،دار الشعب القاہرہ
(۲۶) تفہیمات، ابوالأعلی مودودی، ۵/۱۷۶۔۱۷۷،ادارہ ترجمان القرآن، لاہور

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

محمد ﷺ مرد ربانی

قسط: 07 مصنف: سید حسین نصرمترجم: اسامہ حمید فتح مکہ اور سیرت ...