بنیادی صفحہ / نظر / اسلامی تحریک میں طلبہ کا رول اکیسویں صدی کے حوالے سے

اسلامی تحریک میں طلبہ کا رول اکیسویں صدی کے حوالے سے

ذیل میں معروف اسلامی دانشور ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی ایک اہم گفتگو پیش ہے، جو موصوف نے ایس آئی او مہاراشٹر ساؤتھ کے ایک تربیتی کیمپ میں پیش کی تھی۔ (ادارہ)

بیسوی صدی میں اسلامی تحریک برصغیر ہند میں بھی اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی، کسی نہ کسی طرح برپا رہی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی جدوجہد اس میں شامل رہی ہے، اور خاص طور سے 1930 کے بعد تو ہندوستان میں ان سب کاموں کا بہت چرچہ رہا ہے۔ علامہ اقبال کے اسفار، مولانا مودودی کی تحریریں، اس کے علاوہ اور دینی جماعتوں کی کوششیں،اس صدی کے بیچ تک آتے آتے ان تمام چیزوں کا چرچہ ہوچکا تھا۔ پھر صدی کے بیچ میں جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا، اور جن حالات سے اسلام اور مسلمان دو چار ہوئے، ان حالات میں لوگوں کی توجہ اسلام کی طرف مزید بڑھی۔
۴۰؍ کی دہائی میں ہمارے یہاں جماعت اسلامی کا قیامِ عمل میں آیا، منصوبے بنے، اور اس کی شوری نے پالیسی وپروگرام بنایا، اور ہم سب اس پر عمل پیرا ہوئے۔ بعد کے زمانے میں طلبہ کی ایک تحریک قائم ہوئی، لیکن بعض اسباب کی بنا پر بعد میں جماعت کی کوششوں سے SIO کا قیام عمل میں آیا۔ وہ بھی ماشاء اللہ اپنے کام میں ۳؍دہائیوں سے سرگرم ہے۔ اس پورے ماضی کو اپنے سامنے رکھئے، اس کا مطالعہ کیجئے، اس پر کافی لٹریچر موجود ہے، رودادیں، اور رپوٹس موجود ہیں۔ SIO اور جماعت کے جو لوگ ہیں یا دوسری تحریکوں کے جو لوگ ہیں، انھوں نے کافی اچھا ذخیرہ چھوڑا ہے، سب کا مطالعہ کیجئے اور اپنا مزاج یہ بناےئے کہ ہم کو آگے بڑھنا ہے، یہ نہ بناےئے کہ ہم کو پرانی چیزوں کو دہرانا ہے۔
اکثر ہمارے یہاں جو ذہنیت بنتی ہے بلکہ بنائی جاتی ہے اور بدقسمتی سے مدرسوں میں خاص طور سے یہ ذہن بنایا جاتا ہے کہ جو لوگ گزر گئے وہ ہم سے بہت اچھے تھے، کاش کہ ہم وہ کرسکتے جو وہ کرگئے۔ سب سے بڑی معراج آج کے 25/20/18 سال کے نوجوان کے لیے یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ آج سے 75/60سال پہلے کے بزرگ جو کہہ اور کرگئے اس کو نقل کرلیں اور اگر آدھا تہائی، دو تہائی بھی اس درجہ تک پہنچ جائیں تو وہ اپنے آپ کو بہت کامیاب سمجھتے ہیں۔ باقی رہی یہ امید کہ ہم ان سے آگے بڑھ سکیں گے تو یہ اگر محض سوچا ہی جائے تو سمجھاجاتا ہے کہ یہ آدمی بدتمیز اور مغرور ہے اور اس کو ذرا سی بھی تمیز نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شروع سے ہی دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش کو مار دیا جاتا ہے، اور مذہبی امور میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمارا جو بھی Achievement ہوگا, وہ کل والوں سے بہت ہی گرا ہوا ہوگا، اور اگر تھوڑا بہت بھی ہوجائے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، مزید کے لیے امید کرنا غرور میں شمار ہوگا۔
میں اس کے بالکل برعکس آپ کو دعوت دے رہا ہوں۔ یہ ذہنیت جس پر میں ابھی تنقید کر رہا تھا یہ آخری چند دنو ں کی ذہنیت ہے جو اس وقت بھی کام کر رہی ہے۔ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ جو بزرگوں نے کیا اس کا احترام کریں وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے، اور جو وہ نہیں کرسکے اس کو ہم Achieveکرنے کی کوشش کریں۔
اس کے علاوہ ایک اور بات ہے، وہ یہ کہ ہمارے بزرگ ہم سے مختلف حالات میں تھے، اور اب ہمارے حالات مختلف ہیں۔ ان کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ حالات آنے والے ہیں، وہ اپنے حالات سے عہدہ برآ ہوئے اللہ ان کو جزائے خیر دے۔ ہمیں بالکل مختلف حالات میں اسلام کی دعوت پیش کرنی ہے۔ آپ کے سامنے اس کی شرح وتوضیح میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ خود ہی موبائل اور انٹرنیٹ کے زمانے میں رہتے ہیں، آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ آج سے 100؍سال پہلے /1913 یا 50 سال پہلے 1963 میں کہاں موبائل تھا، اور کہاں انٹرنیٹ تھا۔ کہاں یہ بات تھی کہ دنیا میں جو کچھ ہو وہ فوراً آپ کو معلوم ہوجائے، کہاں یہ تھا کہ آپ کو کچھ کہنے کا موقع ملے تو آپ کے Twitterاور بلاگ کے کمنٹ ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ چنانچہ اس دنیا سے جو کہ تار اور پوسٹ کارڈ کی دنیا تھی نکل کر آپ Emailاور انٹرنیٹ کی دنیا میں ہیں، تو اس دنیا کو نہ تو انھوں نے پایا تھا اور نہ ہی اس کے تقاضے سمجھے تھے، اور نہ ہی اس کے چیلنجز کا سامنا کرنے پر ہم ان پر تنقید کرسکتے ہیں۔ وہ چیلنجز تھے ہی نہیں تو وہ ان کا سا منا کیسے کرتے۔
اب ہمیں اور آپ کو یہ کرنا ہے کہ وہ حالات جو انھوں نے نہیں پائے تھے اور ہم نے پائے ہیں ان حالات کو ہم پوری طرح فیس کریں اور اس میں وہ کام کریں جو انھوں نے اپنے حالات میں کیا تھا۔ یہ ہے ان کی تکریم، ان کی تقلید، اور ان کے نقش قدم پر چلنا۔ یہ نہیں ہے کہ جو انھوں نے کیا وہی آپ بھی دہرائیں، اب اگر آپ اس بات کو سمجھ گئے کہ بزرگوں کے نقش قدم پر چلنا اس معنی میں نہیں ہے کہ اس کو دوبارہ کیجئے جو وہ کرچکے ہیں، بلکہ اس معنی میں ہے کہ جو مقاصد ان کے سامنے تھے اس کے لیے انہوں نے اپنے زمینی حالات کو دیکھتے ہوئے جو چیلنجز سمجھے ان کا سامنا کیا، اسی طرح آپ اپنے حقائق کو اچھی طرح سمجھئے اور ان چیلنجز کو سمجھنے کی کوشش کیجیے جوآج آپ کے سامنے ہیں۔
یہاں خود سے یہ بات نکلی کہ اگرآپ کوموثر اندازمیں اسلام کی دعوت پیش کرنی ہے، اور اسلام کو ایک نمونہ کے طور پر پیش کرنا ہے، تو پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اگر آپ صرف کتابیں پڑھتے رہے، تو کتابیں جو 25/50سال پہلے لکھی گئیں تھیں وہ آج کے ماحول کا صحیح تعارف نہیں کراتیں، آپ آنکھ سے دیکھیے، کان سے سنیے، آج جوآپ کے ہم عمر ،بزرگ اور بچے کہہ رہے ہیں ان پر کان لگا ئیے، تب آپ کومعلوم ہوگا کہ آج کے زمینی حقائق کیا ہیں۔
مثالیں دینے سے بات الجھ جاتی ہے لیکن مثال کے بغیر بہت سی باتیں سمجھ میں بھی نہیں آتیں۔اب ایک بات مثال کے طور پر آپ کو بتاتا ہوں۔یہ مت سمجھئے کہ میں کسی طریقے پر تنقید کررہا ہوں، اور اسے برا سمجھ رہا ہوں، اور یہ بھی نہ سمجھئے کہ کسی طریقہ کو میں اپنا نے کی دعوت دے رہا ہوں، میں صرف مثال دے رہاہوں۔ مثال ہے عورت کے سماجی رول کی۔ گھر کے اندر عورت کا کیا رول ہو اس پر ہم بہت کچھ لکھ پڑھ چکے ہیں۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہنا ہے۔ باہر کیا رول ہو آج سے 100؍سال پہلے یا 75؍سال پہلے بالکل دوسرا تصور تھا، اور کچھ ترقی کی موجودہ شکلیں نہ ہونے کے سبب ایسے حالات تھے کہ عورت کا گھر سے باہر کا رول خود بخود بہت محدود تھا۔ محدود ہونے کے باوجود زندگی سنور سکتی تھی، او رسوسائٹی میں ان کے کسی ایکٹیو اور بڑے رول کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن اب دنیا ایسی بدل گئی ہے کہ جو حوصلے مردوں کے ہیں وہی حوصلے عورتوں کے بھی ہیں۔ جو مواقع مردوں کے سامنے ہیں وہی مواقع عورتوں کے سامنے بھی ہیں۔ اور اکثر گھروں میں ایسی صورت حال ہے کہ ایک آدمی کی آمدنی سے ضروریات زندگی، عیش کوشی نہیں بلکہ روٹی کپڑا، مکان جو کہ بنیادی ضروریات ہیں وہ بھی پوری نہیں ہوتیں، او ر میاں بیوی مجبور ہیں کہ دونوں روزگار کا انتظام کریں، بچے بڑے ہوگئے ہیں، جس طرح بیٹے کوئی کیرےئر اختیار کرتے ہیں بیٹی کو بھی کوئی کیریئر اختیار کرنا ہوگا۔
ایک بڑے پیمانے آج جو ایک چیز سامنے آرہی ہے جو کہ 100اور75سال پہلے نہیں تھی، اور ہندوستان میں آج کل اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، وہ ہے گاؤں سے لوگوں کا شہر وں کی طرف منتقل ہونا، بہت بڑے پیمانے پر لوگ اب شہروں کی طرف آرہے ہیں۔ آپ نے کہیں پڑھا ہوگا کہ ممبئی میں روزانہ کتنے لاکھ لوگ باہر سے آجاتے ہیں، یہی حال دلی اور تمام بڑے شہروں کا ہے۔ لوگ روز گار اور بہتر زندگی کی تلاش میں، بہتر تعلیمی ماحول اور بہتر روز گار کی تلاش میں شہروں کی طرف آرہے ہیں، اس طرح شہروں کی آبادی بڑھتی جارہی ہے۔ بہت سے Housing کے مسائل پیدا ہورہے ہیں، اور ان سے معاشی ضروریات جوکہ دیہات کے زرعی سماج میں سادہ سے تھیں، وہ بڑھتی جارہی ہیں۔
نالج کا حال یہ ہے کہ پہلے تو یہ ممکن تھا کہ آپ اپنے گھر میں رہنے والی لڑکیوں کو جو چاہیں بتائیں اور جوچاہیں نہ بتائیں، اور اب جو حالات ہیں اس میں یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ آرام دہ زندگی گزارنا چاہیں اور موبائل فون کسی کے پاس نہ ہوں۔ تعلیم دلوانا چاہیں لڑکیوں کو اور انٹر نیٹ اور T.V. نہ ہو۔اس سے بہت سی معلومات خود بخود آپ کے گھر پہنچتی رہتی ہیں، اور معلومات سے ظاہر ہے حوصلے اور توقعات بنتی ہیں۔
مجھے خود 2013 میں ایسے لوگ ملے ہیں جنہوں نے بڑے فخر سے کہا کہ ہمارے ابا نے اپنی ساری بیٹیوں کو صرف بہشتی زیور پڑھایا، اور صرف ناظرہ قرآن پڑھایا، اورالحمدللہ کہیں تعلیم کے لیے نہیں بھیجا۔ اگر آپ بہشتی زیور پڑھیں جو آج سے 70سال پہلے لکھی گئی ہے، تو دیکھیں گے کہ اس میں عورتوں کی تعلیم کے بارے میں ایک بڑا محدود نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے، بہت سے لوگ اب بھی اس پر کار بندہیں، اور اس کو اب بھی اپنا کارنامہ سمجھتے ہیں، لیکن کیا اس طریقے سے اپنی عورتوں کو رکھ کر ہم کوئی مؤثر اسلامی زندگی گزار سکتے ہیں، یہ ہے زیر بحث موضوع اور اس سے پہلے جو زمینی حقائق ہیں وہ یہ ہیں کہ کسی والدین کے لیے خصو صاً شہری علا قوں میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول نہ بھیجیں،اور انکار کر دیں۔ ریا ستیں اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں اور بچوں کو وہ ایک الگ شخصیت کا مالک سمجھتی ہیں، ان کے کچھ حقوق ہیں، ان کے حقوق سے ان کے والدین کو انہیں محروم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لڑکیاں یا عورتیں یہ دیکھتی ہیں کہ پوری دنیا میں کسی بھی مضمون میں بڑی بڑی خوا تین پروفیسر بھی ہیں، بہت اچھی اچھی کتابیں خواتین کی لکھی ہوئی ہیں، سیاست میں وہ لیڈر کی حیثیت سے ہیں، سماجی اور رفاہی کام میں وہ فعال کردار ادا کررہی ہیں۔ہر فیلڈ میں وہ دیکھ رہی ہیں کہ عورتیں بھی خدمت خلق میں، سیاست میں ، تجارت ومعیشت میں، ہر میدان میں آتی ہیں، تو کیسے آپ مسلمان بچی یا عورت کو وہ تعلیم دے سکتے ہیں جو آج سے 100 سال پہلے کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔
جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے تو دو با تیں یاد رکھئے، ان دو باتوں سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارا جو پچھلا طریقہ تھا اس کو یہ سند تو حاصل ہے کہ وہ اُس زمانے کے عرف، عادات، اور حالات کے مطابق تھا، لیکن اُس کو یہ سند حاصل نہیں ہے کہ اُس کو بدلا نہ جاسکے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر شخص کو فرداً فرداً مخا طب کیا ہے، اور آخرت کے حساب کے لیے سب سے کہہ دیاہے کہ’’ ان میں سے ہر کوئی اللہ کے حضور قیامت کے دن اکیلے آئے گا‘‘یہ نہیں کہ میاں بیوی کے ساتھ آئیں اور بیوی کی جگہ سارا حساب کتاب دے دیں، یا بیوی میاں کا حساب کتاب دے دے، ان دونوں سے اللہ الگ الگ حساب لے گا،اور دونوں کے حساب کتاب کے معیار آپ جانتے ہیں کہ ایک ہی ہیں۔ اللہ نے ایمان اور ارکان اسلام کی پابندی اور بہت سے حقوق و فرائض کی ادائیگی میں عورتوں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ دونوں کو ایمان لاناہے، اور دونوں ہی کو نماز و زکوۃ بھی دینی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
دوسری بات یہ کہ صاف صاف کہا گیا: ’’و المو منون و المومنات بعضھم اولیاء بعض……..‘‘ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مدد گار ہوتے ہیں، ایمان لاتے ہیں اللہ پر، نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالی نے بتادیا کہ یہ دنیا آزمائش کے لیے ہے: ’’خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا‘‘ اللہ نے موت و حیات کا سلسلہ اس لئے بنایا، تاکہ یہ دیکھے کہ تم میں سے کون عمل میں اچھا رہتا ہے۔ یہ مرد اور عورت دونوں پر صادق آتا ہے، تو جب یہ صورت ہے تو یہ سوچنا کہ عورت کا رول کیا ہو وہ مرد طے کریں گے اور ان کو اللہ کی طرف سے یہ اتھارٹی ہے کہ وہ متعین کر یں کہ عورت کس دائرے کے اندر رہے، اور اس سے باہر نہ نکلے، اس کی کوئی اسلامی بنیاد نہیں ہے۔ ایک تو یہ سوچنے کی چیز ہے کہ ہر بالغ عورت بیوی نہیں ہوتی، اس میں بہت سی بیوہ ہوتی ہیں، بہت سی غیر شادی شدہ ہوتی ہیں، تو سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جاسکتا۔ جو ذمہ داریاں کسی پر بیوی یا بیٹی کی حیثیت سے ہیں یا کسی اور حیثیت سے ہیں وہ ذمہ داریا ں وہ ضرور پوری کرے، لیکن ہر وقت آپ ہر عورت کو ایک حد کا پابند اسلام کی روشنی میں نہیں کرسکتے، رہی بات رواج کی تو اس کی روشنی میں تو بہت سی جگہوں پر بہت کچھ کیا جاتا ہے، اور یہ آپ کو معلوم ہی ہے۔
یہ مثال میں نے اس لیے پیش کی کہ آپ وہاں نہ رکئے جہاں پر وہ لوگ پہنچے تھے، آپ ان سے آگے بڑھنے کی کو شش کیجئے۔ دوسرا یہ کہ قدرتی طور پر پچھلی صدی میں جب اسلامی تحریکیں اٹھیں خاص طور سے بیچ صدی سے پہلے، تو اس وقت دنیا کے زیادہ تر مسلمان ممالک غلام تھے مغربی طاقتوں کے، آپ کو معلوم ہے کہ سب سے پہلا مسلمان ملک جو آزاد ہوا 1945 میں وہ انڈو نیشیا تھا، اور اس کے بعد دیگر ممالک آزاد ہوئے، 1963 میں الجیریا آزادہوا، 1945 اور 1963 کے بیچ جوقریب 20؍ سال ہوتے ہیں اس میں کوئی 50کے قریب مسلمان ممالک جو مغربی طاقتوں کے غلام تھے وہ آزاد ہوگئے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ آزادی سے پہلے کی فضا، اس میں کرنے کی باتیں، اور کام کرنے کا انداز دوسرا تھا،اس وقت زیادہ زور ملے گا آپ کو اسلامی تحریکوں میں امت کو مضبوط بنانے، اور اس کو متحد کرنے پر، کیونکہ اس کو مغرب سے لڑنا ، اور اس سے آزادی حاصل کرنا تھی، اوراب آزادی حاصل کرنے کے بعد اسلام پر عمل کا مسئلہ ہے۔
اب دنیا میں کوئی بھی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں مغربی طاقتیں حکومت کر رہی ہوں۔ سیریا، عراق وغیرہ میں تشویشناک حالات ہیں لیکن بہر حال مسلمان آزاد ممالک میں رہتے ہیں۔ %60 مسلم 56/ آزاد ممالک میں رہتے ہیں، اور %40 مسلمانوں میں جمہوری ممالک میں زیادہ اور بہت کم تعداد غیر جمہوری ممالک میں اقلیت کے طور پر رہتے ہیں، اور اقلیت میں تقریباً 200ملین ہندوستانی مسلمان بھی شامل ہیں، اور ایک دو ملین چھوٹے چھوٹے ممالک کے مسلمان بھی شامل ہیں۔ ایسی صورت میں اب صرف امت پر توجہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے، بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ ہمارا فوکس انسانیت ہو۔ یاد رکھئے اصل جو حیثیت مسلمانوں کی ہے، اور جو قرآن کریم کی آیت سے واضح ہوتی ہے ’’و کذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شھیدا۔ اس آیت سے یہ صاف واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیجے،آخر میں محمدؐ آئے، اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اب جو نبی پر ایمان لاکر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے، ان کو باقی انسانیت میں وہی کام کرنا ہے جو نبیؐ نے اور انبیاء کرامؑ نے کیا تھا، یعنی باقی انسانیت تک اللہ کا پیغام پہنچانا قول وعمل دونوں سے۔
اس کام کو کرنے کے لیے فوکس انسانیت پر ہونا چاہیے، ویسے بھی گلوبلائزیشن کے اس دور میں مسائل بہت حد تک مشترک ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کے مسئلے کچھ الگ ہوسکتے ہیں، ہر ملک میں الگ الگ مسائل ہیں، ہندوستان میں الگ، سری لنکا میں الگ، فرانس، اور برازیل وغیرہ میں الگ، لیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ کہیں بھی آپ رہتے ہوں آپ کو ان سے سابقہ پڑے گا، ابھی The Hindu میں ایک رپورٹ دیکھی کہ سمندر کی سطح اونچی ہونے کی جو رفتار گزشتہ صدیوں میں تھی، گزشتہ 30/20سال میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، اور اندازہ یہ بتایا جارہاہے کہ 2100 ؁ء تک یعنی آج سے 86 سال بعد تقریباً ایک فٹ سطح سمندر اونچی ہوچکی ہوگی، ایک فٹ اونچی ہونے سے اگر دنیا کا نقشہ آپ لے کر بیٹھیں تو دیکھیں گے کہ بہت بڑی آبادی پانی کے نیچے آرہی ہے۔ اس میں امریکی علاقے بھی شامل ہیں اور بہت سے جزائر مالدیپ وغیرہ بھی، یہ سب مشترکہ مسائل ہیں۔ ایک طرف گلوبل وارمنگ کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف نئی نئی بیماریاں آ رہی ہیں، یہ سب وہ مسائل ہیں جنہیں تمام انسانوں کے ساتھ مل کر حل کرنا ہوگا۔ یہ طریقہ اگر ہم اپنائیں تو زیادہ موثر ہوگا۔
مسلمانوں کا 19؍ویں اور 20؍ ویں صدی میں جو وژن تھا، اور جس کے تحت ہمارے ملک میں تحریک چلی اور پاکستان بنا کہ مسلمان اپنی دنیا الگ بنائیں، اپنی شریعت نافذ کریں،وہ اپنے انداز سے رہیں، وہ ختم ہوگیا، روزگار وغیرہ کی تلاش میں اتنی ہجرت ہوئی کہ وہ سب ختم ہوگیا۔ یورپ میں جہاں گنے چنے مسلمان ہوتے تھے، آج ایک بڑی تعداد اب وہاں ہے۔ 70؍لاکھ مسلمان فرانس میں ہیں، 30؍لاکھ انگلستان میں بستے ہیں، امریکہ میں بہت بڑی تعداد ہے، اس طرح بہت بڑی تعداد پوری دنیا میں مسلمانوں کی ہے، تو مسلمان بھی گلوبلائزہوگئے ہیں، یہ امت بھی گلوبلائز ہوگئی ہے۔اب اپنی دنیا الگ بنانے کی کوشش نہ تو کامیاب ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی صورت نظر آتی ہے۔ کوشش اس کی ہونی چاہیے کہ جو دنیا جیسی ہے، اسی کو بہتر بنایا جائے، اور وہ بہتر کیسے بنے گی، اس کے لیے بنیادی قدریں ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ سب سے بڑی قدر اس کے لیے سورۂ الحدید کی وہ آیت ہے ’’لیقوم الناس بالقسط‘‘ اللہ نے انبیاء بھیجے تاکہ لوگ عدل وانصاف کے ساتھ زندگی گزاریں۔
سب سے بڑا کام یہ ہے کہ ظلم اور فساد سے زمین پاک ہو، جس حد تک بھی ممکن ہو عدل و انصاف قائم ہو۔ عدل یہ ہے کہ جس کا جو حصہ بنتا ہو وہ اس کو ملے، اور احسان یہ ہے کہ جو کمزور، غریب اور پس ماندہ ہیں ان کو کچھ زیادہ ہی ملے تاکہ وہ صحیح سے زندگی گزار سکیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ’’لقد کرمنا بنی آدم‘‘، ا نسانی تشخص کے ساتھ وہ زندگی گزار سکیں۔ یہ نہ ہو کہ کچھ انسانوں کے پاس کھانے پینے کو نہیں ہے اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ اس طرح ہمارا فوکس انسانیت پر ہونا چاہیے، اور امت کو فوکس بنالینے کا سلسلہ ختم ہو۔جب ہم امت کو فوکس بنا لیتے ہیں تو ہم باقی انسانیت سے کٹ جاتے ہیں جو کہ دعوت کے لیے مضر ہے۔
آپ طلبہ ہیں اور میں بھی طالب علم ہی ہوں، تو ہمارا رول جو بھی بنتا ہے وہ نالج کے گرد آجاتا ہے۔ طلبہ علم حاصل کرتے ہیں اور استاد علم بکھیرتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ نالج سے کیا مراد ہے، ایک تو وہ نالج ہے جو آج تک حاصل کی جاچکی ہے، اس میں وہ بھی شامل ہے جو وحی کے ذریعہ سے آئی ہے، کتاب و سنت، اس کی شرح و تفسیر اور اس کی تاریخ۔ اور اس میں وہ بھی شامل ہے جو سائنس کے ذریعہ آئی ہے جس میں مسلمانوں اور عربوں کا بہت زبردست رول رہا ہے۔ 13؍ویں صدی عیسوی تک اور گزشتہ 4/3 صدی میں کسی وجہ سے مسلمان اتنے سرگرم نہیں رہے، سائنس میں مغربی ملکوں کا حصہ زیادہ رہا ہے لیکن وہ ہے سارے انسانوں کی میراث۔ اس کا تعلق اس سے بھی ہے کہ ہم فاصلے کیسے طے کرسکتے ہیں، اس سے بھی ہے ہم کمیونیکیٹ کتنا تیز کرسکتے ہیں، اس سے بھی ہے کہ ہم بیماریوں کا علاج کس طرح کرسکتے ہیں، اس سے بھی ہے کہ ہم اپنا فوڈ کیسے بہتر بنا سکتے ہیں، وغیرہ۔
نالج کے بارے میں طلبہ کا نقطہ نظر یہ ہونا چاہیے کہ اب تک جو نالج آئی ہے وہ صحیح ہے، لیکن اب اختصاص کا زمانہ ہے، 10؍ویں کے بعد کوئی سائنس میں جاتا ہے تو کوئی کامرس میں، اختصاص ضروری ہے، لیکن جہاں بھی ہوں آپ مکمل ہوں۔ ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جتنی معلومات یا علم ہے اتنا حاصل کرلو، یہی بہت ہے۔ اور ایک یہ ہوتا ہے کہ ہم اور نالج بنائیں یا پیدا کریں۔ مطلب یہ ہے کہ دل، دماغ، گردہ، ان سب کے علاج کے متعلق ترقی ہو رہی ہے۔ پچھلے دس سالوں پر آپ نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ کتنی نئی نالج سامنے آئی۔ تب آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ 2003سے 2013 تک جتنی نئی نالج آئی اس نئی نالج کو بنانے میں مسلمانوں نے کتنا رول ادا کیا۔ جب آپ دنیا میں سب سے مل کر رہیں گے، اور دنیا کو کچھ دیں گے تو دنیا اس سے متأثر ہوگی کہ آپ نے یہ یہ دیا۔
آج صورت حال یہ ہے کہ ہم لینے میں تو بہت تیز ہیں۔ ساری چیزیں ہم دوسروں کی ایجاد کی ہوئی استعمال کرتے ہیں، چاہے اس کا تعلق علاج سے ہو یا کمپیوٹر سے یا پھر تعلیم سے۔ ہم ان کو استعمال کرتے ہیں، لیکن ہم نے دنیا کو دیا کیا ہے، ہم نے ماضی میں بہت کچھ دیا تھا، لیکن اب دھیرے دھیرے بہت ہی کم ہوگیا ہے۔ 8؍ویں اور 9؍ ویں صدی سے 13؍ویں اور 14؍ ویں صدی عیسوی تک عربوں نے جو بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں، جن کا تعلق ریاضی، سائنس اور طب سے ہے، تو وہ بات اب نہیں رہ گئی ہے۔ شاذ و نادر کہیں کسی مسلمان کا نام آتا ہے۔
یہ گمان آپ نہ کریں کہ نئی نالج بنانا صرف سائنس کے دائرے میں ہے، اور دین تو آج سے 1400؍ سال پہلے ہی مکمل ہوچکا، قرآن آچکا، سنت مدون ہوچکی، اب کیا نالج میں اضافہ ہوگا، نہیں ہمیں 100 سال پیچھے دیکھنا چاہیے کہ جو تفاسیر اس وقت تھیں اس کے بعد جو تفاسیر لکھیں گئیں، جو حدیث پر کام تھاپھر اس کے بعد جو کام ہوا، وہ سب الگ الگ افادیت رکھتا ہے، چاہے مولانا مودودی کا اردو ترجمہ وتفسیر ہو یا پھر محمد اسد کی انگریزی یا پھر دوسری چیزیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی یا ان سے پہلے کے لوگوں کی تفاسیر پڑھیں تو ان کا انداز اور مولانا مودودی یا محمد اسد صاحب کا انداز بالکل مختلف ہے۔
تو اس طرح سے وحی میں نالج بنانے اور بیدار کرنے کی پوری گنجائش ہے، کیونکہ اللہ کی آیات کے الفاظ نہیں بدلتے لیکن ہماری سمجھ تو بدلتی ہے۔ اس طرح دونوں دائروں میں، سائنس میں بھی اور وحی پر مبنی متن میں بھی جس میں قرآن و حدیث اور ان کی تفاسیر بھی ہیں، سب میں نئی چیزیں آنے کی پوری گنجائش ہے۔
ایک لفظ آج کل دنیا میں چل پڑا ہے (Unknown) کا، کچھ چیزیں Knownہوتی ہیں اور کچھ Unknown، بہت سی چیزیں انسان یہ سمجھتا تھا کہ ہمارے دائرہ علم سے باہر ہیں۔ علم جیسے جیسے بڑھتا جارہا ہے وہ بھی دائرہ علم میں آتی جارہی ہیں۔ جتنا علم بڑھتا ہے، آدمی اتنا ہی سوچتا ہے کہ ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے یعنی جتنا Knownکا دائرہ بڑھتا ہے، اتنا ہی Unknownکا بھی دائرہ بڑھتا ہے۔
دنیا کا یہ اصول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے کہ ’’جو لوگوں کے لیے مفیدچیز ہوتی ہے وہ جم جاتی ہے‘‘، اور نبیؐ کا فرمان ہے کہ ’’خیر الناس من ینفع الناس‘‘ لوگوں میں سب سے اچھے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔آج اگر ہمیں دعوت پہنچانی ہے، اسلام کا اچھا تعارف کرانا ہے، اگر ہمیں اس وقت کے سب سے بڑے چیلنج اسلام کی بگڑی ہوئی تصویر کو سنبھال کر اس کی اچھی تصویر پیش کرنا ہے، تو ہمیں اپنے کو دوسروں کے لیے مفید بنانا ہوگا۔ بحیثیت طالب علم آپ دوسروں کے لیے مفید بن سکتے ہیں، نالج کے میدان میں کچھ ایسا کرکے دکھاےئے جو دوسروں نے نہ کیا ہو۔
ایک قصہ ملاحظہ ہو، ایک پاکستانی نوجوان 40؍سال کا، سلمان خان نام ہے، اس کے کچھ بھانجے بھتیجے تھے، وہ ذرا پڑھنے میں پیچھے تھے، اور سلمان خاں انفارمیشن ٹکنالوجی میں تھے، بھانجوں بھتیجوں نے سلمان خان سے پڑھنے میں مدد مانگی تو انھوں نے ان کو Mathوغیرہ پڑھانا شروع کیا، مگر ان کا جو ٹائم تھا چھٹی کا، اس وقت بچوں کو پڑھنے میں دل نہیں لگتا تھا،چنانچہ انہوں نے کہا کہ آپ ویڈیو بنا دیجئے ہم آرام سے اسے دیکھ لیا کریں گے۔اس پر سلمان خان نے جو کچھ بچوں کو پڑھانا تھا اس کی ویڈیو تیار کرلی، اور جب ویڈیو بن گئی تو ان بچوں کے جو دوست تھے ان کو بھی معلوم ہوا، انہوں نے بھی اسے طلب کیا، اس طرح وہ ویڈیو پھیلتی چلی گئی۔ اس کی خبر بل گیٹس کو ملی تو اس نے سلمان خان سے کہا کہ تم اپنی نوکری چھوڑو اور ایک کمپنی بناؤ جو تمام مضامین پر اس طرح کی ویڈیو بنائے، اس سے زیادہ تنخواہ ہم تمہیں دیں گے جو تم کو ملتی ہے۔ اس طرح خان اکیڈمی وجود میں آئی، جس کا دنیا بھر میں نام ہے۔ وہ سارے مضامین کے ویڈیو بناتی ہے، یہ ویڈیو آج دنیا بھر میں دستیاب ہیں۔ ہر وقت، ہر جگہ اورہر مضمون کے ویڈیو موجود ہیں، اور آج ان کی بڑی مانگ ہے۔ آج سلمان خان اس کارپوریشن کے ہیڈ ہیں، اور کافی لوگ اس خان اکیڈمی میں ملازم ہیں اور خان اکیڈمی مستقل ترقی کر رہی ہے۔
پاکستان کے اس مسلم نوجوان نے ایک کام کیا جو ما ینفع الناس کی تعریف میں آتا ہے۔ ہمارے ذہن میں اس کی جو تعریف ہے وہ یہ کہ عوام کے سامنے ایک اچھا سا لکچر دے دیں، تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھاسکیں کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، نیکی کرنی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ لوگوں کو اس وقت وہ چاہیے جو ان کے پاس نہیں ہے۔ ہم سوچ لیں کہ ہم ایسے بنیں جس سے دوسروں کو فائدہ ملے، کسی فیلڈ میں بھی ہم یہ فائدہ دے سکتے ہیں۔ تعلیم، صحت، انڈسٹری، ٹرانسپورٹیشن کوئی بھی فیلڈ ہوسکتی ہے۔ اس سے ہمیں امید ہے کہ ہم اسلام کے کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
آج کی دنیا میں ہمارے سامنے بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری تصویر بگاڑ دی گئی ہے۔ دیکھئے یہ سلسلہ تو 500/400 سال سے قائم تھا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ پہلے آپ سپر پاور تھے اور یورپ اس وقت جہالت اور پسماندگی کی آغوش میں تھا۔ ہمارے بغداد، دمشق اور استنبول ترقی کی راہ پر تھے، لیکن دھیرے دھیرے حالات بدلے اور مغرب میں ہمارے خلاف خطرناک زہریلا لٹریچر عام کیا گیا۔ نبیؐ کی شخصیت سے لے کر قرآن و حدیث، مسلمانوں کے کلچر، کھانے پینے کے انداز، رہن سہن، صفائی ستھرائی، پہناوا ہر چیز کے بارے میں مذاق اڑانا، ان پر تنقید کرنا، ان کو محدود بتانا ہی ان کا کام ہے، او رانھوں نے اپنے کلچر، اپنے گانوں اور اپنی فلموں تک میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کے پاس نالج نہیں ہے، بلکہ جو کچھ ہے وہ ہمارے پاس ہی ہے۔ اب تو بالی ووڈ میں بھی یہ چیز آگئی ہے کہ جو برے کردار ہیں وہ عرب ہوں گے، ان کو جبہ اور داڑھی میں دکھایا جائے گا، اور جو اچھے کردار ہیں وہ عام طور پر غیر مسلم ہوں گے، اس طرح ساری دنیا کی میڈیا میں ایک غلط تصویر نبیؐ کی، اسلام اور مسلمانوں کی پیش کی جا رہی ہے ، کہ اسلام تشدد سکھاتا ہے، مسلمان متشدد ہوتے ہیں، اختلاف نہیں برداشت کرتے، آپس میں ایک دوسرے کو مارتے رہتے ہیں۔ اس فضا میں مثبت دعوت کا پہلا قدم یہ ہے کہ منفی خیالات کو ختم کیا جائے، اوراس میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آپ اچھے بنیں اور دوسروں کو اچھا بنانے کی جدوجہدکریں۔
بہت سی ایسی روایتیں موجود ہیں مغربی لوگوں کی کہ کبھی افریقہ، کبھی انڈونیشیا اور دوسرے مسلم علاقوں میں ان کی پوسٹنگ ہوگئی۔ جب وہ واپس ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا اور لکھا بھی کہ ہم نے تو مسلمانوں کو بہت اچھا پایا، بہت با اخلاق ہوتے ہیں، وقت پر مدد کرتے ہیں۔ بہت سی عورتوں نے جو کہ افغانستان وغیرہ میں صحافی کے طور پر گئی تھیں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ انھوں نے مسلمانوں کا سلوک دیکھا کہ یہ لوگ کتنے اچھے اور سچے ہیں، انہیں یہ ہر جگہ دیکھنے کو ملا۔
انسان دو چیزوں سے متأثر ہوتا ہے، ایک تو ماینفع الناس سے اور دوسرے آپ کے اخلاق سے، آپ دوسروں کو اپنے وقت، مال اور صلاحیت سے کتنا دے سکتے ہیں۔ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ ہم غلط فہمیوں کے اس سیلاب کو روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں، اور اسلام کے خلاف غلط پروپگنڈہ کو ختم کرسکتے ہیں۔
کسی کتاب پر تبصرہ میں تھا کہ پچھلے 20 سال میں اسلام مخالفت کا گراف بڑھا ہے، اس کی وجہ 9/11 ہو، یا پھر ’وار آن ٹیررزم‘ہو، جو بھی ہو سروے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے 20؍سالوں میں بڑے پیمانے پر اسلام کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے، اور آج ایک عام آدمی کے ذہن میں بھی یہ بیٹھا ہوا ہے کہ اسلام ایک متشدد مذہب ہے، اور یہ دوسرے تمام مذاہب کا دشمن ہے۔
طلبہ کو یہاں جو رول ادا کرنا ہے، وہ یہ کہ ان کے عمل ، زبان اور ان کی لکھی ہوئی چیزوں سے اسلام کی تصویر بہتر ہو۔ اشوز کون سے ہوں جن پر آپ کی بات دوسرے سن سکتے ہوں۔ آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ اشوز جن کو وہ اہم سمجھتے ہیں ان پر آپ ان سے قریب ہوےئے، آپ اپنے قرب و جوار، ہم جماعت، اور ہم عمر لوگوں میں دیکھئے کہ وہ کن باتوں کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔ کہیں پر آزادی سب سے بڑا موضوع ہے، کہیں پر غربت سب سے بڑا مسئلہ نظرآتی ہے، تو اس میں آپ کا کیا Standہو وہ اہم ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے ہی اشوز پر تقریر کرتے رہیں جبکہ دوسرے اس کو اشو ہی نہ سمجھتے ہوں۔ ان کے اشوز لیجئے پھر اس میں سوچئے کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ تاریخ سے آپ کو کیا پیش کرنا ہے۔ آج کے دور سے آپ کو کیا پیش کرنا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ تاریخ میں ہم حضرت عمرؓ ہی کی مثال دیں، اس پر تو لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو پہلے کی بات ہے۔ آج بھی بہت سی اچھی مثالیں مسلمانوں میں موجود ہیں۔ ان کو معلوم کرکے لوگوں کے سامنے لاےئے اور جو بھی مشہور اشوز ہوں اس میں دیکھئے کہ لوگوں کے Stand کیا ہیں۔ کہیں نہ کہیں آپ کو کامن گراؤنڈمل جائے کا، امن وہ بھی چاہتے ہیں آپ بھی چاہتے ہیں۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ کوئی مزدور بغیر مزدوری کے نہ رہے اور آپ بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہاں طریقہ کار الگ ہوسکتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ مستقبل کو دیکھئے اور ماضی میں پھنسے مت رہیے، یہ ذہنیت ہمیشہ کے لیے ختم کر دیجئے کہ ماضی کی شخصیات سے آپ بہتر نہیں ہوسکتے، جتنا علم ان کو تھا اس سے زیادہ علم آپ کے پاس ہے۔ ان کے زمانے تک جتنا کام ہوا تھا اس سے زیادہ آج ہوچکا ہے۔ آپ کے پاس ان سے زیادہ معلومات ہیں۔ ان کو اسلام کی تاریخ کا 1300؍سال کا تجربہ ملا تھا آپ کو ایک اور صدی 1400 سال کا تجربہ ملا۔لہذا اس بات کو چھوڑ دیجئے کہ ہم اپنے بزرگوں سے آگے نہیں بڑھ سکتے، آپ کو آگے بڑھنا چاہیے اورحقیقت یہ ہے کہ قدرت نے آپ کو آگے رکھا ہے۔
آنے والاکل گزرے ہوئے کل سے بہت مختلف ہوگا، اس پر تو باقاعدہ تحقیق ہوچکی ہے۔ کل کے آنے والے مسائل اور چیلنجز کو سمجھئے اور ان کو حل کرنے کی کوشش کیجئے۔ آپس میں ڈسکشن کیجئے۔ کھل کر اظہار خیال کیا کیجئے۔ اگر اس میں کوئی رائے غلط ہوگی تو دوسرا ساتھی اس کو صحیح کرے گا، نہیں تو کل کو آپ کو خود اپنی غلطی محسوس ہوگی ، پھر آپ خوداس کی تصحیح کرلیجئے گا۔ اس ڈر سے کہ میرے منھ سے کوئی غلط بات نہ نکل جائے آدمی کو اپنی زبان بند نہیں کرنی چاہیے۔
میری آپ سے یہی درخواست ہے کہ مطالعہ خوب وسیع کیجئے، قرآن کا مطالعہ کیجئے، ایک ترجمہ یا تفسیرکو مت پکڑےئے، تمام مفسرین کو پڑھئے۔ روز نئے نئے ترجمے آرہے ہیں ان کو پڑھئے، کیونکہ ہر ترجمہ و تفسیر لکھنے والا کوئی نئی بات بتانا چاہتا ہے، اسی لیے اس میں اتنا وقت لگاتا ہے۔ اسی طرح حدیث کا بھی اور تمام دیگر چیزوں کا مطالعہ کیجئے۔ البتہ کتابوں کو حرف آخر سمجھ کر نہ پڑھئے بلکہ تنقیدی مطالعہ کیجئے۔ اردو میں جو چیزیں آتی ہیں وہ اس معیار سے بہت نیچے رہتی ہیں جو انگریزی میں، یا مغرب میں اسلام پر اسٹڈی اور ریسرچ کرنے والوں کے قلم سے آتی ہیں۔ میری مراد وہ مسلمان مصنفین ہیں جو امریکہ میں رہتے ہوئے اسلام پر لکھ رہے ہیں اور بحیثیت مسلمان کے لکھ رہے ہیں۔ ایمان کے دعوے کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔مغربی اسلامی لٹریچر میں بہت اچھا معیار ہے، الغرض خوب مطالعہ کیجئے، کھل کر بحث کیجئے، پوری دنیا پر نظر رکھئے، آنے والے کل کے بارے میں سوچئے، اور پوری دنیا کو اپنا میدان کار سمجھئے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سماجی تبدیلی اور اسلامی فکر

ذوالقرنین حیدر سماج کیا ہے اور سماجی تبدیلی کیا ہے؟ سماجی تبدیلی ...