بنیادی صفحہ / سخن (صفحہ 7)

سخن

خون کی نہیں قیمت، یہ بہت ہی سستا ہے پانی کی طرح یہ بھی ہر جگہ برستا ہے خون اپنے بھائی کا، اتنا کیوں کیا ارزاں کیا تمہارے سینے میں دل نہیں دھڑکتا ہے دوسروں کی بہنوں کی آبرو سے ...

مزید پڑھیں »

کچھ نہ کرے گی کوئی سرکار

  ہر ایک دن بڑھ رہی ہے اغواکاری زناکاری قتل وخوں خواری اور۔۔۔ سرکار کے جھوٹے دلاسے ہیں!! اور ان کا شکار ہوتی ہے اک ماں اک بیٹی اک بہن!!! لیکن۔۔۔ کارروائی کوئی نہیں کرتا نہ پولیس نہ سرکار سب ...

مزید پڑھیں »

غزل

نوجوانِ قوم اب تو تُو بھی غافل ہوگیا مغربی بدکاریوں میں تُو بھی شامل ہوگیا مال ودولت کی ہوس میں اتنا زیادہ کھوگیا دیکھ لو انسان ہی انساں کا قاتل ہوگیا جو کبھی اسلام کا منبع تھا اب وہ ملک ...

مزید پڑھیں »

غزل

راہ وفا! کرے گی کب! تو! اپنے وجود سے گریز خوابوں نے بھی ہے کرلیا، آنکھوں میں بود سے گریز اب تو اسے بناہی لے، جائے قیام زندگی! یوں ہی کرے گی کب تلک، میرے وجود سے گریز ذوق جبین ...

مزید پڑھیں »

غزل

مجھ کو دے دو سزائے پھانسی اب بات حق تھی زباں پہ آئی ہے ہم نے دامن بھرا ہے کانٹوں سے تم نے پھولوں سے بیر کھائی ہے دیکھو قاتل پھرے ہے آوارہ موت حصے میں میرے آئی ہے تہمتوں ...

مزید پڑھیں »

غزل

جس کا کوئی دنیا میں ٹھکانا نہیں ہوتا اس شخص کا دشمن بھی زمانا نہیں ہوتا آنکھوں کو چلو آج ہی آئینہ بنا لیں سنتے ہیں یہ آئینہ پرانا نہیں ہوتا جینا ہے تو خوش بو کا چلن سیکھ لو ...

مزید پڑھیں »