ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا توسیعی لکچر
رفیق منزل کی تازہ پی ڈی ایف کاپی بھیجنے کے لیے بہت بہت شکریہ۔ میں نے تمام ہی مشمولات پر ایک نظر ڈالی، یقیناًپورا مجلہ بہت ہی معلوماتی اور مفید ہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا توسیعی لکچر بہت ہی اہم ہے، مجھے یقین ہے کہ تحریکی نوجوان اسے سنجیدگی کے ساتھ لیں گے۔ اسلامی تحریکات اپنے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ اور ذاتی ارتقاء کی سوچ پروان چڑھانے میں اب تک کوئی خاص کامیاب نظر نہیں آئی ہیں،حالانکہ یہ دونوں چیزیں اچھی پیش رفت کے لیے بہت ہی اہم ہیں۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ مشرقی دنیا کے ماحول میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اختلاف رائے کو اس معنی میں لیا جاتا ہے، گویا بڑوں کو نشانہ تنقید بنایا جارہا ہے یا خدا کی جانب سے متعین کردہ رائے یا مذہب کو رد کیا جارہا ہے۔
عمر افضل، امریکہ
نان ایئرکنڈیشنڈ ایریا
ماہ اکتوبر کا رفیق منزل ملا، معمول کے مطابق ایک ہی نشست میں اس کا مطالعہ کرنے بیٹھ گیا، البتہ ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کے مضمون ’نان ایئر کنڈیشنڈ ایریا‘ پر جاکر گویا میں رُک سا گیا، ایک بار پڑھا، دوبار پڑھا، کئی بار پڑھا، اور میں سوچتا رہا کہ انسان کی زندگی بھی کیا چیز ہے، یہ تمام چیزیں انسان کی زندگی کے بہت ہی حساس ایریوں میں شمار ہوتی ہیں، اگر ان امور کے سلسلے میں کوتاہی برتی جائے تو اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج معاشرے میں ہم اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، کس قدر سماج میں گیپ پایا جاتا ہے، ایک آدم اور حوا کی اولاد کے درمیان، کس طرح ایک طرف دو وقت کی روٹی مشکل ہوجاتی ہے، فاقہ کشی کی نوبت آجاتی ہے، مرض اور تکلیف سے تڑپ تڑپ کر ایک غریب جان دے دیتا ہے، اس کے بچے معاشی کمزوری کے سبب بنیادی تعلیم تک سے محروم رہ جاتے ہیں، اور دوسری طرف ایک الگ ہی دنیا ہے، عیش وسرمستی کا کچھ الگ ہی نشہ ہے، ان کی اولاد اور ان کا رہن سہن کس قدر الگ نوعیت کا ہوتا ہے، ان تمام امور پر میں دیر تک سوچتا رہا،مجھے لگ رہا تھا، بلکہ میں اپنی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا کہ یہ عام سماج کا ہی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خود دیندار مسلم سماج کا بھی یہی حال ہے، ہم خود اس مسئلہ سے بری طرح دوچار ہیں، کس سطح پر یہ مسئلہ درپیش نہیں ہے، ہر سطح پر یکساں صورتحال ہے، ہر کوئی جدید دور کے اس سیلاب سے متأثر ہے، وہ بھی اس سے متأثر ہے جو اس کو مانتا ہے اور اس کا استقبال کرتا ہے اور وہ بھی اس سے متأثر ہے جو اس کے خلاف بڑے بڑے نعرے لگاتا اور لمبی لمبی تقریریں کرتا ہے۔ میں اسی طرح مختلف زاویوں سے اس پر سوچ رہا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ اسلام نے کس قدر مثالی تعلیمات دی ہیں، اور ہم ان تعلیمات سے کس قدر دور رہتے ہیں، اسلام نے دولت اور معیشت اور مالدار ونادار کے درمیان کے رشتے کو کس قدر مستحکم بنیادوں پر استوار کیا ہے، کس طرح اسلام فرد کو معاشی آزادی اور کسب وپیداوار کی کھلی آزادی دیتا ہے، اور پھر ’مما رزقناھم ینفقون‘ کہہ کر اسے کس اہم اصول کا پابند کرتا ہے۔ یہ اسلام کی محض ایک تعلیم ہے، قرآن وسنت کا مطالعہ کیا جائے تو ہر قدم پر اس قسم کی اعلی تعلیمات آپ کو دیکھنے کو ملیں گی، جو سماج کو اعلی اخلاق واقدار سے روشناس کراتی ہیں، اور سماج میں رہنے اور بسنے والے انسانوں کے درمیان موجود غیر ضروری گیپ کو ختم کرتی ہیں۔ بہر حال بات طویل ہوجائے گی، نہ جانے کتنے پہلو ہیں جو ذہن کو جھنجوڑ رہے ہیں۔ایک بار پھر رفیق منزل اور اس کے توسط سے ڈاکٹر محی الدین غازی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، کہ انہوں ایک بہت ہی انوکھے اور خوبصورت انداز میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کو متعارف کرایا، ضرورت ہے کہ ہم اپنی زندگی کے اس ایریے کے سلسلے میں بہت ہی حساس ہوجائیں، کیونکہ اس کے بغیر سماج میں کوئی بڑی اور مثبت تبدیلی لانا اور سماج پر اثرانداز ہونا آسان اور شائد ممکن نہیں ہے۔
محمد ثاقب، نئی دہلی
ماہ اکتوبر کا رفیق منزل اچھا لگا
اکتوبر کا رفیق منزل دیکھا، مولانا نسیم احمدغازی فلاحی صاحب کا بھرپور قسم کا انٹرویوایک اہم پیشکش ہے، جو ہم کو بہت ہی اہم دعوتی موادفراہم کرتا ہے، اس کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کا مضمون بھی بہت ہی اہم اور توجہ طلب ہے، خاص طور سے آپ کی یہ بات قابل غور ہے کہ ’’گلف میں رہتے ہوئے لگتا ہے کہ زندگی کے ہر خطے کو ایرکنڈیشن کی ہواؤں نے یخ بستہ کررکھا ہے، گھر ہو یا آفس کہیں گرمی کا ذرا سا احساس نہیں ہوتا، گاڑی بھی ایر کنڈیشنڈ ہے اور شاپنگ مال بھی۔ باہر کے درجہ حرارت کا اندازہ صرف حرارت نما اسکرینوں سے ہوتا ہے۔آج جبکہ میں اس مسجد میں بیٹھا ہوں اور گرمی سے میرے تن کا رواں رواں پریشان ہے، مجھ پر یہ انکشاف ہورہا ہے کہ ایرکنڈیشن سے نکلنے والی ٹھنڈی ہواانسان کے تن کو ٹھنڈک ضرور دیتی ہے، لیکن من کی دنیا میں پہنچ کر وہ باد سموم بن جاتی ہے، اور سب کچھ خاکستر کردیتی ہے، پھر وہاں احساس کا کوئی پودا مشکل سے ہی اُگ پاتا ہے۔مجھے یہ احساس زیاں اس مسجد میں ہورہا ہے جہاں پنکھے گھوم گھوم کر گرمی پھیلا رہے ہیں، جس دن یہ مسجد ایر کنڈیشنڈ ہوجائے گی، کچھ کھوجانے کا یہ احساس کہاں جاکر حاصل ہوسکے گا۔ ‘‘
شاہد حسین، لکھنؤ

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

آنترپرینیورشپ کے بارے میں پہلے کئی بار سنا تھا اور یہ جاننے ...