تحریک اسلامی کا طریق کار
ماہنامہ رفیق منزل فروری ۲۰۱۴ ؁ء کا شمارہ ایک جیتے جاگتے موضوع ’’تحریک اسلامی کا طریق کار‘پر چند اہم تحریروں کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس وقت جبکہ اسلامی تحریک کو لے کر مختلف قسم کی غلط فہمیاں عام ہیں،یہ موضوع مسلم برادران کے ساتھ ساتھ غیر مسلم برادران کے لیے بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے، اردو زبان کے علاوہ ہندی اور انگریزی زبانوں میں بھی اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے، اور ملک کے نوجوان طبقے میں خاص طور سے اس کو متعارف کرایا جائے۔مرکزی موضوع کے تحت ڈاکٹر محمد رفعت صاحب کا طویل مضمون اپنے موضوع پر اچھی اور وزن دار تحریر ہے، اس کے علاوہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب، جناب ایس امین الحسن صاحب، ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب، اور جناب زبیر ملک صاحب کی تحریریں بھی اہم اور مفید ہیں۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے یہ بہت ہی اہم بات لکھی ہے کہ ’’تحریک اسلامی کا مستقبل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ادھورے کاموں کو مکمل کرنے اور عصر حاضر میں اسلامی تعمیر نو کے تقاضوں کو پہچان کر انہیں پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بات بھی فیصلہ کن ہوگی کہ گزشتہ نصف صدی کی تاریخ نے تحریک کے فرد اور لائحہ عمل میں جن نقائص اور کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے ان کو پہچاننے اور دور کرنے میں تحریک کی نئی قیادت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ یہ نئی قیادت بانیانِ تحریک کی مقلدِ محض ثابت ہوتی ہے یا اُن ہی کی طرح اجتہادی فکر سے کام لیتی ہے۔ مستقبل کی تعمیر میں اس کی نگاہیں اپنے ماضی ہی کی طرف رہتی ہیں اور وہ اُسی سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہے یا معاصر حالات کے تجزیے اور مستقبل کے بارے میں مبنی بر بصیرت اندازوں کی روشنی میں لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ ایک راہ تحریک کے لیے جمود اور بالآخر موت کی راہ ہے اور دوسری راہ پر اقدام، کامیابی کا ضامن ہوسکتا ہے۔‘‘ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو تحریک اسلامی کے اس قافلے میں شامل ہونے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس میں نمایاں اور فعال کردار ادا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
راشد حسین، علی گڑھ
عزم سفر تازہ ہوا
رفیق منزل کا تازہ شمارہ موصول ہوا۔ سب سے پہلے اداریہ دیکھا۔ معمول سے کچھ ہٹ کر تھا۔ بار بار پڑھا۔ ہربار ایک نئی تازگی نصیب ہوئی۔ سچ مانئے اس بار کے اداریہ کو پڑھ کر عزم سفر تازہ ہوگیا۔ ایس آئی او آف انڈیا کیا ہے؟ اس کی تاسیس کا پس منظر کیا ہے؟ اس کے اغراض ومقاصد کیا ہیں؟ اور اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ اور وہ اس ملک میں کیا چاہتی ہے؟ ان تمام ہی سوالات کے بہت ہی مختصر مگر جامع جوابات، خود دستور کی زبانی سن کر طبیعت خوش ہوگئی۔ میرے خیال سے ہمیں اپنی سرگرمیوں کا بار بار جائزہ لیتے رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں، وہ کہاں تک ہمارے مقاصد سے میل کھاتا ہے۔ نیز مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کرتے وقت بھی اس چیز کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ فلاں اور فلاں پروگرام کس حد تک ہمارے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ محترم جنرل سکریٹری کا انٹرویو بھی دیکھا۔ البتہ جوابات کچھ غیر واضح یا سرسری قسم کے معلوم ہوئے۔ میرا ایک مشورہ ہے کہ تنظیم کا ہر سال پورا ہونے پر ایک جائزہ پر مبنی تفصیلی تحریر رفیق میں شائع ہونی چاہئے، تاکہ تنظیم کے تمام ہم سفر ساتھیوں کے اندر یک جہتی پیدا ہوسکے، اور انہیں اس بات کا اندازہ ہوسکے کہ اس وقت ہم کس مقام پر کھڑے ہیں، اور ابھی کس قدر مزید جدوجہد کی ضرورت ہے۔
محمد انور راجہ، شانتاپرم کیرلا
انٹرویوز کا مستقل کالم ہونا چاہئے
ماہنامہ رفیق منزل پابندی کے ساتھ موصول ہورہا ہے۔ الحمدللہ ہم طلبہ ساتھیوں کے لیے اس کے اندر کافی اہم اور مفید مواد ہوتا ہے۔ رفیق کے مستقل کالمس جس پابندی اور حسن وخوبی کے ساتھ شائع ہوتے ہیں وہ یقیناًمبارکباد کے لائق ہے۔ ہرماہ جس انداز سے سرورق کی کہانی کے تحت ایک موضوع کا مختلف پہلوؤں سے احاطہ کیا جاتا ہے، وہ ایک اچھی چیز ہے،جس کو جاری رہنا چاہئے۔ اس سے قارئین کو ہرماہ کم ازکم ایک موضوع پر تیاری کا اچھا موقع مل جاتا ہے۔ اسی طرح ’ذکر رفتگاں‘کے عنوان سے ہر ماہ کسی نہ کسی تحریکی قائد کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے، یہ بھی ایک اچھا سلسلہ ہے۔
میرے ذہن میں رفیق کے سلسلے میں ایک مشورہ آرہا تھا، امید کہ اس پر غور فرمائیں گے۔ رفیق کے اندر تقریبا پابندی کے ساتھ انٹرویوزشائع ہوتے رہتے ہیں، اگر انٹرویوز کے اس کالم کو مستقل کردیا جائے، اور اس میں وقتا فوقتا ایس آئی او کے یا اس کے علاوہ کچھ باہر کے نمایاں نوجوانوں اور طلبہ کے انٹرویوز آتے رہیں تو یہ ایک اہم اور مفید کام ہوگا، اور طلبائی تنظیم کے ترجمان کے مزاج سے یک گونہ ہم آہنگ بھی ہوگا۔ اس سے ذہین اور نمایاں طلبہ کو اچھا موقع ملے گا۔
محمد ثاقب، نئی دہلی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

آنترپرینیورشپ کے بارے میں پہلے کئی بار سنا تھا اور یہ جاننے ...