حالیہ اسمبلی انتخابات پر خصوصی تحریریں
دسمبر ۲۰۱۳ ؁ء کے مؤقر ماہنامہ میں آپ نے حالیہ اسمبلی انتخابات کو خاصہ کوریج دیا ہے۔ ’’انتخابی سیاست اور اشتراکی تحریک‘‘ کے عنوان پر ڈاکٹر سلیم خاں صاحب نے کھینچ تان کر اپنا من پسند نتیجہ اخذ کرڈالا ہے۔ ’’خلاصہ کلام یہ ہے کہ انتخابی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار فکر نے نہ صرف اشتراکی بلکہ ہندوستان کی بیشتر نظریاتی تحریکوں کوان کی امتیاز ی شان سے محروم کرکے انہیں مفاد پرست سیاسی جماعتوں کے ہم پلہ کھڑا کردیا ہے۔ بظاہر سب کچھ روشن اور چمکدار نظر آتا ہے لیکن انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے دولت و طاقت کی روز افزوں ضرورت اورانتخابی کامیابی کو مفید تر بنانے کی خاطر کی اختیار کی جانے والی مصلحت و مصالحت انہیں اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کررہی ہے۔‘‘ موصوف کاروئے سخن ہندوستان کی کون سی ’’بیشتر نظریاتی تحریکوں ‘‘ کی طرف ہے؟ آر ایس ایس (ہندوتوا تحریک)، سوشلسٹ تحریک، آریہ سماج تحریک، اکالی تحریک، دراوڑ تحریک؟؟ غالباََ موصوف کے ذہن میں یہ تحریکات نہ ہوں گی، اور تحریک اسلامی ہند کو بھی محض خوفزدہ کرنا ہوگا، اور پڑوس کی تحریکاتِ اسلامی کی مثال ہی محرک بنی ہوگی کہ دیکھو اُدھر جو ’’دیدۂ عبرت نگاہ ہو‘‘۔
دو اور انجینئرز صاحبان کے سیاسی تجزیوں میں یہ چیز دیکھنے کو بالکل نہیں ملتی، جسے موصوف کی ’دور رس نگاہ‘ نے بھانپ لیا؛
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
کہ ناحق خون پروانوں کا ہوگا!
بہرحال نظر اپنی اپنی، قلم اپنا اپنا۔ انتخابات تو محض ذریعہ ہیں سیاسی قیادتوں کی تبدیلی کا،زمام اقتدار فساق وفجار کے ہاتھوں میں رہنے دیا جائے؟ اور صالحین ومومنین ’بسم اللہ‘ کے گنبد تلے ’چھومنتر‘ کرنے میں مشغول رہیں؟ یا گلی کوچوں اور دیوان خانوں میں ’انقلابی فکر‘ کو پروان چڑھاتے رہیں۔
سید شکیل احمد انور، حیدرآباد
اداریہ بہت ہی فکرانگیز ہے
ماہ جنوری کا رفیق منزل موصول ہوا، اداریہ بہت ہی فکر انگیز ہے، مدیر موصوف نے جائزہ اور احتساب کے جن پہلوؤں کی جانب اشارہ کیا ہے، وہ نہ صرف فکر انگیز ہیں، بلکہ قابل توجہ بھی ہیں، تحریک اسلامی ہند اور اس کے وابستگان کو ان پہلوؤں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ موصوف کی یہ بات بار بار ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ’’جائزہ اور احتساب انفرادی طور پر بھی ہوتا ہے اور اجتماعی طور پر بھی، اسی طرح عزم سفر کا بھی معاملہ ہے، ان دونوں میں اجتماعی پہلو سے زیادہ انفرادی پہلو اہمیت رکھتا ہے۔ اجتماعی فیصلوں اور ارادوں کی کامیابی کی ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ وہ اجتماعیت میں شامل ہر فردکا ارادہ اور فیصلہ بن جائے، ہر فرد اسے اپنے دل کی آواز سمجھنے لگے، اور ذاتی حیثیت میں خود کو اس کے لیے جوابدہ محسوس کرنے لگے۔
دوراول کے جس عظیم انقلاب کا حوالہ دیا جاتا ہے، اس انقلاب کے پیچھے یہی وہ سب سے بڑی قوت تھی جو کارفرما نظر آتی ہے،اس کو توفیق خداوندی کہا جائے یا جو بھی مناسب نام دے دیاجائے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اُس وقت دربار رسالت سے جاری ہونے والا ہر فیصلہ اور ہر ارادہ انفرادی طور پر پوری امت کا ارادہ اور فیصلہ ہوتا تھا، اور ذاتی طور پر ہر فردِ امت خود کو اس کے لیے بارگاہِ خداوندی میں جوابدہ محسوس کرتا تھا۔‘‘اللہ رب العزت ہم سب کو اس جانب توجہ دینے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
محمد ثاقب، نئی دہلی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

آنترپرینیورشپ کے بارے میں پہلے کئی بار سنا تھا اور یہ جاننے ...