اقدامی صحافت
آپ نے اچھا کیا جو آن لائن مضمون روانہ کیا، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔جزاک اللہ خیرالجزاء۔ آج کل لوگ مضمون بھیجنا تو درکنار رسید تک روانہ نہیں کرتے لیکن یہ آپ کی بہت اچھی سعی ہے۔ اس کو جاری رہنا چاہئے اور مقبول عام ہونا چاہئے۔
آپ کی کوششوں سے شمارہ بہت خوب ہے ماشاء اللہ خواتین کے موضوع پر جو آپ نے مضامین لکھوانے کی محنت کی وہ رنگ لائی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس اقدامی صحافت کو قبول فرمائے ورنہ تو لوگ جو کچھ ان کے پاس چل کر آتا ہے اسی سے کام چلا لیتے ہیں۔ اپنے تئیں کسی کو بلانے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ بدقسمتی سے جرائد کے ساتھ ساتھ تحریک میں بھی یہی ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر سلیم خان،

 

صنف نازک پر بڑھتی زیادتیاں
’’صنف نازک پر بڑھتی زیادتیاں: استحصالی نعرے اور ہمارا روایتی سماج ‘‘ کے عنوان پر ماہنامہ رفیق نومبر ۲۰۱۳ ؁ء کا شمارہ دیکھا، مبارکباد قبول فرمائیں۔ رفیق منزل نے اس موضوع کا حق ادا کردیا۔ سعود الاعظمی، ڈاکٹر فہیم الدین، محمد آصف علی، سہیل امیر شیخ، مطلب مرزا، اور ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحبان کی تحریریں مختصر اور تفصیلی اہم ہیں، اور موضوع کا ہر پہلو سے نہ سرف احاطہ کرتی ہیں بلکہ سوچنے کے لیے نئے مواقع بھی پیش کرتی ہیں۔ توقیر اسلم انعامدار صاحب کی تحریر’’اب سیکھئے تجارت نئے انداز میں‘‘ بھی ایک اہم اور جدید مسئلے پر بھرپور رہنمائی کرتی ہے۔ میرے خیال سے اس قسم کے موضوعات پر مستقل تحریریں آنی چاہئیں۔ آصف نواز صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ایک نئے اور اہم موضوع پر بھرپور تجزیہ پیش کیا ہے، شائد اردو زبان میں اس موضوع پر یہ پہلی اس قدر جامع اور بھرپور تحریر شائع کی گئی ہے۔ بہرحال ہماری طرف سے ایک بار پھر مبارکباد قبول فرمائیے ، اللہ تعالی جزائے خیر دے۔
یوسف فارقلیط، نئی دہلی
عالم اسلام کے حالات پر تجزیہ 
رفیق منزل ماہ نومبر کا شمارہ دیکھا، میں رفیق منزل کا پرانا قاری ہوں، اور ہر ماہ شدت کے ساتھ اس کا انتظار کرتا ہوں، ادھر ماہ اگست سے اب تک کے رفیق کے شمارے کافی اہم مضامین پر مشتمل ہیں۔ بالخصوص عالم عرب کے حالات کا بہترین اور بھرپور انداز سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ تازہ شمارے کا ٹائٹل اور مضامین سبھی پسند آئے، تاہم ڈاکٹر سلیم خان کا مضمون ’عالم اسلام: دشمنوں سے دوستی اور دوستوں سے دشمنی‘‘ کافی اہم اور پر مغز ہے۔ ڈاکٹر سلیم خان کی یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ’’مصر اور پاکستان دونوں کثیر آبادی والے مسلم ممالک ہیں۔ دونوں مقامات پرسیاست ومعیشت میں دلچسپی رکھنے والی طاقتور فوج ہے۔ دونوں ممالک انگریزوں کے غلام رہ چکے ہیں اورامریکہ کے باجگزار ہیں۔ ان ممالک کے اندر ایک ایسا پڑھا لکھا بااثرخوشحال سیکولرطبقہ پایا جاتا ہے جو نہ صرف مغرب کا ذہنی غلا م ہے بلکہ ملک کے عام لوگوں کو اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ اتفاق سے اس طبقے کے لوگ فوج اور سیاست دونوں مقامات پر اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر بھی یہی چھائے رہتے ہیں۔ اب اگر پرویز مشرف کی نواز شریف کے خلاف بغاوت کا موازنہ السیسی کی جانب سے مرسی حکومت کا تختہ الٹنے سے کیا جائے تو کچھ اور مشابہت سامنے آتی ہے۔ السیسی اور پرویز مشرف جب تک اقتدار کی کرسی پر فائز رہے امریکہ و اسرائیل کی آنکھوں کا تارہ بنے رہے۔اس کی جانب سے نواز شریف کے ہٹائے جانے سے قبل ان کے بارے میں کہا جانے لگا تھاکہ وہ دیگر جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیتے۔ اپنے بھائی یا والد سے مشورہ پر اکتفا کرتے ہیں اور عدالت کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی طرح کے بے بنیاد الزامات صدر مرسی پر لگائے گئے کہ وہ اخوان کا ایجنڈاعوام پر تھوپ رہے ہیں۔دیگر جماعتوں اور عدالت کی نہیں سنتے۔‘‘
گزارش ہے کہ اس قسم کے مضامین کا سلسلہ جاری رکھیں، جہاں ملکی حالات، طلبہ کے مسائل، اور دعوت دین کے تعلق سے مضامین ہمارے یہاں شائع ہوتے ہیں، وہیں ہر شمارے میں اس کو بھی جگہ دی جائے۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔
محمد ثاقب، علی گڑھ
مصر کے حالات پر مضامین
رفیق منزل کا ماہِ ستمبر کا شمارہ ہاتھوں میں ہے،مصر میں پیش آنے والے اس سانحہ کو جتنا رفیق کی ٹیم نے لوگوں کے سامنے پیش کیا، دیگر پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا اُسے پیش کرنے سے قاصر رہے، اس پر مبارکباد پیش ہے۔اس شمارے کے تقریباََ تمام ہی مضامین بہترین اور علم میں اضافہ کرنے والے ہیں۔ \”آزمائش انسان کی شخصیت سازی میں اہم رول ادا کرتی ہے، اگر نیکی کی راہ میں آزمائش ہو تو وہ اس کے لئے رحمت بن جاتی ہے، اور اقامتِ دین یا دعوتِ دین کے لئے آزمایا جائے تو سماج کامیاب ہو یا نہ ہو فرد ضرور کامیاب ہوجاتاہے ،اللہ تعالیٰ مومن کو جنت میں ڈالنا چاہتا ہے تو آزمائشوں کے ذریعہ سے اس کی شخصیت کو سنوار کر پاک و صاف کرتا ہے\”۔ توقیر اسلم انعامدار کے مضمون کے یہ قیمتی جملے دل کو بھا گئے ۔ساتھ ہی ساتھ رابعہ عدیہ کا خوش نصیب میدان محی الدین غازی کا لکھا ہوا مضمون پڑھنے سے آنکھیں بھر آئیں۔ مدیر ابولاعلیٰ سبحانی نے جس محنت سے مصر میں پیش آنے والے حالات کا تجزیہ کیا ہے شاید ہی اتنی گہری نظر ان حالات پر کسی کی ہوگی۔ تمام ہی مضامین معلومات سے لبریز رہے ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسی طرح رفیق منزل نئی نسل کا معمار ثابت ہوتا رہے۔
محمد یٰسین امین ، بسواکلیان

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

آنترپرینیورشپ کے بارے میں پہلے کئی بار سنا تھا اور یہ جاننے ...