’’سنسد میں شکشا‘‘ کے عنوان سے رپورٹ کا اجراء
۱۰؍اگست بروز پیر جناب پروفیسر انل سد گوپال صاحب نے سنسد میں شکشا کے عنوان سے ایک اہم رپورٹ کا اجراء کیا۔ یہ اجراء کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا نئی دہلی میں عمل میں آیا۔ ایس آئی او کی جانب سے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا، جس میں نئی تعلیمی پالیسیز اور اس موضوع پر ایوان میں ہوئی بحثوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایس آئی او نے سنسد میں شکشا کے عنوان سے ایک رپورٹ بھی تیار کی ۔ جناب توصیف احمد نے رپورٹ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ ایوان کے ارکان کے درمیان ہوئی بحثوں، جو مختلف سیشن پر مشتمل ہیں، کا احاطہ کرتی ہے۔ موصوف نے تجزیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے تعلیمی معیار میں آئی گراوٹ پر روشنی ڈالی نیز مادری کو ذریعہ تعلیم بنانے کے سلسلے میں برتی جانے والی لاپرواہی کی نشاندہی کی، اقلیتی اداروں اور مدرسے کے طلبہ کے مناسب تعداد میں داخلوں جیسے مسائل کا حل بھی پیش کیا۔ انہوں نے دلیل کے ساتھ کہا کہ حکومت کی پالیسیاں عوامی مسائل کو نگاہ میں رکھ کر وضع نہیں کی جاتیں۔
سیشن کو آگے بڑھاتے ہوئے جناب پروفیسر انل سد گوپال صاحب (سماجی کارکن وماہر تعلیم) نے ایس آئی او کو بالخصوص توصیف احمد مڈیکری کو اس رپورٹ کی تیاری پر مبارکباد دی اور کہا کہ ہمارے ملک کی پالیسیاں کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں کہ ان کا فائدہ کچھ چنندہ افراد ہی کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں کو نظرانداز کررہی ہے اور پرائیویٹ اداروں کو پروان چڑھارہی ہے۔ ہر سال ۰۰۰،۶۰،۰۰۰،۵۰؍ کروڑ روپے بجٹ ان پرائیویٹ اداروں کے نام سے خرچ ہوجاتا ہے، جبکہ یہ بجٹ اسکولوں کے معیار کو اونچا اٹھانے کے لیے صرف ہونا چاہئے۔ فِن لینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ملک ہے جہاں کی تعلیمی حالت کچھ عرصے پہلے تک نہایت خستہ تھی، ان کی حکومت نے اپنے اسکولنگ سسٹم پر دھیان دیا، جس کے نتیجے میں ۳۰؍سال کے مختصر وقفے کے اندر فِن لینڈ دنیا کے اعلی ممالک کی فہرست میں آگیا۔ جبکہ ہمارے ملک میں امبانی برلا کی ایجوکیشنل ریفارم رپورٹ پیش کی گئی ، اور اس وقت سے تمام تعلیمی ادارے ا س کی تقلید کرتے نظر آرہے ہیں۔ جس کا سیدھا فائدہ سماج کے اہل ثروت طبقات کو پہنچ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا پڑھا لکھا طبقہ اس دھوکہ میں ہے کہ حکومت کی پالیسیاں تو اچھی ہیں لیکنان پر صحیح ڈھنگ سے عمل نہیں ہوپارہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسیاں عام آدمی کے مفاد کے خلاف ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسیوں کا مطالعہ اور تجزیہ مختلف نقطہ ہائے نظر سے کیا جائے جیسا کہ ایس آئی او اس سمت میں کوشش کررہی ہے۔
پروفیسر مدھوپرساد نے اس موقع پر کہا کہ آج ہماری پالیسیاں اکثریتی طبقے کے زیراثر وضع کی جاتی ہیں۔ حالانکہ ایک جمہوری ملک میں سب کے مفاد کو سامنے رکھ کر پالیسی وضع کرنی چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ آج تعلیم برہم واد کے رنگ میں رنگ دی گئی ہے اور اسے نچلے طبقوں پر زبردستی تھوپا جارہا ہے۔
سیشن کا اختتام جناب لئیق احمد خان سکریٹری ایس آئی آو آف انڈیا کی گفتگو سے ہوا، آپ نے کہا کہ سنسد میں ہونے والی گفتگو اور تبادلہ خیال بہت ہی مایوس کن ہے، انہوں نے تفرقہ، سماجی ومعاشی ناہمواری، جنسی استحصال، اور ایک طبقے کے کلچر کو پوری سوسائٹی پر زبردستی مسلط کرنا ، جس سے تکثیری اور اخلاقی اقدار متأثر ہوتے ہیں، پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تما شرکاء کو مبارکباد دی اور کہا کہ آپ ایک ایسے کام میں ایس آئی او کا ساتھ دے رہے ہیں جو کہ اصلاََ حکومت وقت اور انتظامیہ کے کرنے کا کام ہے۔

اے پی جے عبدالکلام کی وفات پر اظہار تعزیت
سابق صدر جمہوریہ اور ایوارڈ یافتہ بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام آئی آئی ایم شیلانگ (میگھالیہ) میں لکچر کے دوران انتقال فرماگئے۔ اس موقع پر ایس آئی او آف انڈیا کی جانب سے ان کے انتقال پراظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یقیناًاے پی جے عبدالکلام کی ملک کے لیے گراں قدر خدمات ہیں، انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے ملک کے ہزاروں لاکھوں افراد کو حصول علم اور ترقی کے منازل طے کرنے کے لیے حوصلہ اور امنگ دیا تھا۔

ایس آئی او نے سی بی ایس ای کے خلاف کیس واپس لیا
ایس آئی او نے سی بی ایس ای (اے آئی پی ایم ٹی) کے خلاف کیس واپس لے لیا ہے، چونکہ اس معاملے میں چیف جسٹس ایچ ایل دتونے دلچسپی نہیں دکھائی۔
جناب اقبال حسین صاحب صدر ایس آئی او آف انڈیا نے چیف جسٹس کے اس جملے پر سخت انتظار کیا کہ ’’اگر تم امتحان میں اسکارف کے بغیر بیٹھتی ہو، تو اس سے تمہارا ایمان متأثر نہیں ہوگا‘‘۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس نے درخواست کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ ’’یہ کچھ نہیں ہے سوائے ایک اکڑ اور گھمنڈ کے‘‘ جبکہ اس موقع پر ایک سینئر وکیل نے قرآن کریم کی آیات کا بھی حوالہ دیا تھا، اور ایک دوسرے وکیل شادان فراست نے کہا کہ ’’عرضی داخل کرنے والوں کو اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ لڑکیوں کی تلاشی خواتین کے ذریعے لی جائے لیکن ان کے مذہبی لباس پر پابندی لگانا ایک بڑا مسئلہ ہے جو کہ سی بی ایس ای کے بنیادی مقاصد سے میل نہیں کھاتا‘‘۔ البتہ اس کے بعد سے مستقل مسلم طلبہ وطالبات کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج جاری ہیں۔ طلبہ وطالبات کا یہ کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو اپنا یہ نامناسب بیان واپس لینا چاہئے اور اپنے بیانات پر مسلم عوام سے معذرت کرنی چاہئے۔ اس کے لیے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، پبلک پروگرامس، پریس کانفرنسیں وغیرہ کا انعقاد جاری ہے۔
ایس آئی او کا احسا س ہے کہ بورڈ کو جلد ازجلد اس نازک مسئلے کو حل کرنے کی سمت پیش رفت کرنی چاہئے اور محض یک طرفہ اعتماد جاری کرنے پر اکتفاء نہیں کرنا چاہئے۔ لباس ایک ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کی وجہ سے دوبارہ امتحان لیا جائے۔ ایس آئی او کی عدالت عظمی میں عرضی داخل کرنے کے بعد سی بی ایس ای نے مسلمان لڑکیوں کو ان کے مذہبی لباس کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے دی، ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کردی کہ وہ امتحان سے کچھ وقت پہلے اپنی چیکنگ کرالیں۔
نامناسب تقرری کے خلاف
ایس آئی او اور ایف ٹی آئی آئی نے آواز بلند کی
جناب گجندر چوہان کی حالیہ تقرری پر طلبہ برادری اور فلم انڈسٹری نے بھرپور تنقید کی، چوہان کی تقرری پر عام تأثر یہ ہے کہ اس سے ایف ٹی آئی آئی کا آزادانہ اور شفاف کلچر متأثر ہوگا، جس کا اثر خاص طور سے ہندوستانی کلچر اور سینما پر پڑے گا۔ ایس آئی او پونہ نے اس یک طرفہ تقرری کے خلاف آواز بلند کی اور ایف ٹی آئی آئی کے ساتھ مل کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ پونہ یونٹ کے ذمہ دار برادر ندیم رسول اور سکریٹری برادر توصیف امین نے ایف ٹی آئی آئی اسٹوڈنٹ یونین کے صدر ہری کرشن اور دوسرے اساسی ارکان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ایس آئی او اس جدوجہد کے ہر مرحلہ میں آپ کے ساتھ ہے۔ اسٹوڈنٹس یونین صدر نے بتایا کہ ان کا وفد آئی این بی منسٹری سے ملاقات کرنے کے لیے گیا تھا، لیکن انہوں نے مسٹر چوہان کی تبدیلی کے معاملے میں آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ اسٹوڈنٹس یونین کے صدر نے ایس آئی او پونہ کے صدر سے مستقل سپورٹ کی بھی درخواست کی۔ اس نازک موقع پر ایس آئی او ممبئی نے ایف ٹی آئی آئی کے ساتھ کاٹر روڈ تک پیدل مارچ کیا، اس مارچ میں طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد شامل ہوئی۔ ایس آئی او کو یقین ہے کہ ہندوستان کے ہر شہری کو آزادئ رائے اور آزادئ تعلیم کا حق حاصل ہے۔ فی الوقت حکومت کا رجحان یہ ہے کہ وہ ادارے جن کی قومی اہمیت ہے انہیں ایک خاص رنگ میں رنگ دینا چاہتی ہے۔ ایس آئی او کا حکومت کو یہ پیغام ہے کہ ہم تعلیمی اداروں کے زعفرانی رنگ میں رنگ دینے کی مہم کے خلاف یکجا ہیں، اور ملک کی فاشسٹ طاقتیں جو زبردستی اپنا کلچر دوسری اقلیتوں پر تھوپنا چاہتی ہیں، اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اقلیتی ادارے میں اردو کی زبوں حالی نامنظور؛ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ ’باب صدی‘ کا نام اردو رسم الخط میں درج کرے : طلحہ منان

اس جمہوری ملک ہندوستان کے آئین کے تحت اقلیتوں کو اپنی تہذیب ...