اللہ سے آپ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں؟!
اپنی زندگی کا ، اپنی مساعی کا، اور اپنے جذبات کا جائزہ لیجئے۔ اپنا حساب آپ خود لے کر دیکھئے کہ ایمان لاکر اللہ سے بیع کا جو معاہدہ آپ کرچکے ہیں اسے آپ کہاں تک نباہ رہے ہیں؟ اللہ کی امانتوں میں آپ کا تصرف ایک امین ہی کا سا تصرف ہے یا کچھ خیانت بھی پائی جاتی ہے؟ آپ کے اوقات اور محنتوں، قابلیتوں اور اموال کا کتنا حصہ خدا کے کام میں جارہا ہے اور کتنا دوسرے کاموں میں؟ آپ کے اپنے مفاد اور جذبات پر چوٹ پڑے تو آپ کے غصے اوت بے کلی کا کیاحال ہوتا ہے اور جب خدا کے معاملے میں بغاوت ہورہی ہو تو اسے دیکھ کر آپ کے دل کی کڑھن اور آپ کے غضب اور بے چینی کی کیا کیفیت رہتی ہے، یہ اور دوسرے بہت سے سوالات ہیں جو آپ خود اپنے پر کرسکتے ہیں، اور اس کا جواب لے کر ہر روز معلوم کرسکتے ہیں کہ اللہ سے آپ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں، اور ہے تو کتنا ہے اور اس میں کمی ہورہی ہے یا اضافہ ہورہا ہے۔
(مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ )

خواب بنام خواب
بیٹا! دیکھو تو کون ہے، دروازہ کھول دو۔گھنٹی سن کر علیم نے اپنے بیٹے سے کہا۔
ابّو ! شکیل انکل آئے ہوئے ہیں ۔سلیم نے جاکراپنے والد کو اطلاع دی۔
ٹھیک ہے بیٹا، انہیں بٹھاؤ۔ میں ابھی آتا ہوں۔سلیم کے والد نے جواب دیا۔
تشریف رکھیں ۔ابو ابھی آتے ہیں۔سلیم نے جاکر مہمان کو بٹھایا۔
آؤ بھئی آؤ! بڑے دنوں کے بعدہماری یاد آئی ہے۔کہاں چلے گئے تھے؟ کئی دنوں سے نظر نہیں آئے۔کہو کیا مزاج ہیں؟ علیم نے اپنے دوست شکیل کا پر جوش استقبال کیا ۔
ہاں یار، کچھ ضروری کام سے لکھنؤ جانا پڑا ۔ کل صبح ہی تو آیا ہوں۔ باقی سب ٹھیک ٹھاک ہے۔شکیل نے وضاحت کی۔
یار! کل شام کو تمہارے بیٹے سے ملاقات ہوئی تھی۔ بڑا ہی پیارا اور ذہین ہے تمہارا بیٹا ۔ کس کلاس میں ہے؟ شکیل نے کہا ۔
دسویں کلاس میں ہے۔ہے تو بہت ہی ذہین۔ پڑھنے میں بہت من لگتا ہے اس کا۔ محنت بھی کرتا ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ میری بات ہی نہیں مانتا ۔ علیم نے اپنے بیٹے سلیم کے بارے میں بتایا ۔
بات نہیں مانتا، کیا مطلب؟ شکیل نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا۔
ہاں یار! اس کو تو صرف یہی دھن سوار ہے کہ وہ بڑا ہوکر ایک اچھا ٹیچر بنے ،جبکہ میں اسے ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں۔ مگر وہ میری ایک نہیں سنتا ۔علیم نے تھوڑی ناراضگی ظاہر کی ۔
ارے صاحب! اس میں ناراضگی کی کیا بات ہے؟ اس نے ایک خواب دیکھا ہے، اسے اس کے خواب کو پورا کرنے دو ۔ شکیل نے علیم کو سمجھایا ۔
مگر میں نے تو اسے ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھا ہے۔علیم نے پر زور انداز میں اپنی بات رکھی۔
دیکھئے جناب ! کہیں ٹکراکر دونوں خواب چکنا چور نہ ہو جائیں۔شکیل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
محمد ندیم ، گورکھپور

ابن الجوزی کی مجلس وعظ

یہ عظیم الشان اجتماع کس کے اعزاز میں منعقد ہوا ہے۔ جدھر نظر اٹھتی ہے ،خلق خدا کا ایک عظیم سمند ر موجزن دکھائی دیتا ہے ،بیس پچیس ہزار سے کم لوگ کیا ہوں گے، پھر دیکھئے کس طرح گوش برآواز بیٹھے ہیں۔اشتیاق بھری آنکھیں لبریز پیالے کی مانند چھلک رہی ہیں۔ چہروں کا اتار چڑھاؤ غمازی کرتا ہے کہ دلوں کی دنیا میں ایک اضطراب اور طوفان برپا ہے۔ کہنے والا ان سے کہا کہہ رہا ہے اور وہ کون ہے؟
یہ ابن الجوزی کی مجلس وعظ ہے۔ ابن الجوزی(پیدائش۵۱۰ھ وفات ۵۹۷ھ)جن کا نام اپنے عہد ہی میں نہیں اسلام کی پوری علمی تاریخ میں بقائے دوام حاصل کرنے والا ہے۔ نام عبدالرحمن ہے، لقب جمال الدین، خانوادہ ابو بکرؓ سے تعلق رکھتے ہیں، ابن الجوزی کے عرف سے مشہورہیں، جامع العلوم ہیں، تفسیر ،حدیث، فقہ ،اسما ء الرجال ، جغرافیہ ،طب ،شعروادب الغرض اپنے عہد کے تمام مروجہ علوم وفنون میں صاحب کمال ہیں اور ان میں سے کون سا علم وفن ایساہے جس پر قلم نہیں اٹھایا؟ ان کے اس کمال کو ابنِ خلکان اور مستقبل کے نامور علماء وفضلاء، حدیث وفقہ کے امام اور مفسر خراج تحسین ادا کرنے والے ہیں۔ یہ ان متبحر اہلِ علم اور جلیل الشان محدثین کی صف میں شامل ہونے والے ہیں،جن کے تذکرے کے بغیر اسلام کی دینی و علمی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی، کثیر التصانیف ہیں، خود کہتے ہیں کہ میں نے اپنی اِن دوانگلیوں سے ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں۔ ایک ہزار کتابیں! اور ان میں سے بعض نہایت ضخیم ہیں۔ اتنا عظیم کام اللہ کی توفیق اور ایمان کی حراست ہی سے انجام پاسکتا ہے۔
(پہاڑی کے چراغ:آباد شاہ پوری)

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سلسلہ اقبال شناسی،1

ڈاکٹر حسن رضا ولایت پادشاہی علم اشیاء کی جہاں گیری                       یہ سب ...