تربیت کی سخت ضرورت ہے
ماہ ستمبر کا رفیق منزل پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ سب سے پہلے تو فہرست مضامین پر نظر ڈالی۔ تمام ہی مضامین پڑھنے کے قابل تھے۔ جناب محمد اقبال ملا صاحب کامضمون ’’کامیابی اور نجات کا حقیقی تصوراور اس کا حصول‘‘ نے بہت متاثر کیا۔ واقعی یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب اللہ نے انسان کو اس جہان میں پیداکیا تو یوں ہی بیکار اور بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑدیا بلکہ زندگی گزارنے کابہتر طریقہ ہمیں بتایا اور ایک پورا نظام قرآن کی شکل میں عطا کیا۔ اسی قرآن نے کامیابی اور نجات کا حقیقی تصور ہمارے سامنے بیان کیا اور اس کے حصول کے طریقے بھی بتائے۔
دوسرے جس مضمون نے مجھے حددرجہ متاثر کیا وہ ہے جناب محی الدین غازی صاحب کا مضمون ’’رابعہ عدویہ کا خوش نصیب میدان‘‘۔ یہ مضمون پڑھتے ہوئے میری روح لرز اٹھی اور آنکھوں میں آنسو بھی ٹمٹمانے لگے۔ خاص طور سے ان کا یہ جملہ ’’رابعہ عدویہ کے میدان میں وہ لاکھوں لوگوں کا دھرنا نہیں تھا بلکہ ایمان کی تربیت کا گہوارہ تھا کہ معرفت کے پیاسے خوب خوب سیراب ہوئے‘‘، پڑھ کر یہ محسوس ہواکہ ان کی جس طرح تربیت ہوئی ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ میں مزید پڑھتا رہا اور محسوس کرتارہاکہ ہمیں بھی تربیت کی سخت ضرورت ہے کیونکہ بغیر تربیت کے کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
محمدندیم،اسلامی اکیڈمی، نئی دہلی
مصر کی منتخب جمہوری حکومت پر شب خون
ماہنامہ رفیق منزل اگست ۲۰۱۳ء کا شمارہ دیکھا، اس میں مدیر رفیق ابوالاعلی سید سبحانی کے قلم سے ’’مصر کی منتخب جمہوری حکومت پر شب خون‘‘ کے عنوان سے دستا ویزی نوعیت کا مضمون آنسوؤں کی بارش کے ساتھ پڑھا۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ مصری فوج نے ایک خطرناک سازش کے تحت مصری تاریخ کی پہلی منتخب جمہوری حکومت پر شب خون مارا۔موصوف کی اس بات کو اس سے بھرپور تائید ہوتی ہے کہ محمد مرسی کے مخالفین کے دومظاہروں کے بعد ہی فوج نے محمد مرسی کی حکومت کو برخواست کرکے حکومت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا، اورچند دنو ں کا بھی انتظار نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلے ہی سے بنا بنایا منصوبہ تھا۔ لیکن آج محمد مرسی کی حمایت میں تقریباً پورا مصر امڈ آیا ہے اور خاک اور خون کی جنگ لڑ رہا ہے، اور اس داخلی انتشار و خلفشار اور لڑائی میں اب تک ہزاروں نہتے اور معصوم لوگوں کی جانیں چلی گئیں، بے شمار افراد زخمی ہوگئے، خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے، اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے بزرگ لیڈران کو بلا جواز گرفتار کیا جارہا ہے اور قیدیوں کو مختلف بہانوں کے ذریعہ قتل کیا جارہا ہے، اربوں کی املاک کو تباہ کردیا گیا، بجلی، پانی، ذرائع ابلاغ اور ترسیلی نظام درہم برہم رہا، کھانے پینے اور ادویات جیسی ضروری چیزوں کی شدید قلت ہے۔ اسی طرح مصری فوج کے سربراہ جنرل سیسی نے اس انسانیت سوز ظلم و بربریت اور جبر و سفاکیت کی ذریعہ اپنی ایسی خونیں تاریخ رقم کی جس کی مثال ملنی مشکل ہے اور مصر کی اسی خونیں لڑائی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو لوگ مارے جارہے ہیں وہ بھی مسلمان ہیں اور ان پر جو فوج مظالم ڈھا رہی ہے اور شب خون مار رہی ہے وہ بھی مسلمان ہے اور فوج کا سربراہ بھی مسلمان ہے۔ مصر کی اس ناگفتہ بہ صورت حال کا شرمناک اور دلدوز پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی شہنشاہ بھی اس درندہ صفت جنرل کی حمایت میں لوگوں کے احتجاج اور مظاہروں کو دہشت گردی کا نام دے رہا ہے، اور درپردہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اخوان المسلمین کے وجود وہی کو کچل کر ختم کردیا جائے، جیسا کہ رفیقِ منزل کے اسی تازہ شمارے میں سعودی شہنشاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کا عبوری صدر عدلی منصوری کے نام ایک تہنیتی پیغام بھی نظر سے گزرا ہے، جس میں سعودی شہنشاہ کہتا ہے: ’’مصر کی مسلح افواج نے ملک کو گہری کھائی میں گرنے سے بچا لیا۔ اگر مصری فوج فوری ایکشن نہ لیتی تو نہ جانے اس کے بعدکی صورت حال میں کیسے نتائج سامنے آتے۔ عوام کی جانب سے اور ہم اپنی طرف سے مصری تاریخ کے اس نازک دور میں آپ کی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی مدد کرے، تاکہ آپ پر جو ذمہ داری آئی ہے اسے آپ نبھا سکیں، اور اپنے ملک کے باشندوں کی خواہشات کا احترام کرسکیں‘‘۔
سعودی شہنشاہ کے اس قابلِ مذمت پیغام سے اندازہ ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ کے تئیں اس کے کس طرح کے عزائم ہوں گے، اور یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کے دو مقدس ترین مقامات بیت اللہ اور مسجد نبوی جن لوگوں کی تولیت میں ہیں اور وہ اپنے مفادات کی خاطر کس حد تک گرسکتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر سعودی عرب میں بھی لوگ گھروں سے باہر آگئے اور سعودی ملوکیت و بادشاہت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو یہ سعودی حکمراں شام کے بشار الاسد اور مصر کے جنرل سیسی سے بھی دو قدم آگے نکل کر نہ صرف لوگوں کا قتل عام کریں گے بلکہ اس کے بعد مذکورہ دونوں مقدس ترین مقامات کی سلامتی کا مسئلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

آنترپرینیورشپ کے بارے میں پہلے کئی بار سنا تھا اور یہ جاننے ...