ایس آئی او آف انڈیا کا مرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اقلیتی اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے آدھار نمبر کو لازم قرار دینے کا فیصلہ واپس لے۔
حکومت کو ہمیشہ کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت مخصوص طبقات کی ویلفیئر اور بھلائی کا خیال ضرور رکھنا چاہئے۔ لیکن مرکزی وزارت اقلیتی امورکا حالیہ فیصلہ کہ اقلیتی اسکالرشپ لینے کے لیے آدھارنمبر لازمی ہے، اس میں اس حقیقت کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ بلکہ اس پروسیس کو ضروری قرار دینے سے بڑی تعداد میں اسٹوڈنٹس اس اسکالرشپ کے حصول سے محروم رہ جائیں گے۔ اور یہ بات اور زیادہ قابل مذمت ہے کہ مرکزی حکومت نے معزز سپریم کورٹ کے حکم تک کو نظرانداز کردیا، جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’کسی بھی شہری کو حکومت کی جانب سے مہیا کردہ کوئی بھی سہولت حاصل کرنے سے آدھار نمبر کی بنا پر محروم نہ کیا جائے‘‘۔ چنانچہ حکومت کو کوئی حق اور اختیار نہیں ہے کہ وہ آدھار نمبر کو لازم قرار دے۔ UIDAIکے اعداد وشمار کے مطابق 6؍سے 18؍سال کی عمر میں صرف 22.94% اسٹوڈنٹس آدھار نمبر حاصل کرچکے ہیں، اور ابھی بھی اکثریت کو آدھار نمبر حاصل کرنا باقی ہے۔ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ اسٹوڈنٹس کی اکثریت کو اسکالرشپ کے حصول سے محروم کردے گا، اور وہ ناقابل بیان دشواریوں میں پڑجائیں گے۔ اور محض آدھار نمبر نہ ہونے کی بنا پر ان کا کریئر خطرے میں پڑجائے گا۔ چنانچہ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کی جناب سے جناب توصیف احمد مڈیکری نے ۲۸؍فروری ۲۰۱۵ ؁ء کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تاخیر اپنے اس فیصلے کو واپس لے۔
ایس آئی او آف انڈیا کا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 
طلبہ یونین الیکشن بحال کرنے کا مطالبہ
معزز سپریم کورٹ نے ۲۲؍ستمبر ۲۰۰۶ ؁ء میں اپنے ایک فیصلے میں یہ حکم جاری کیا تھا کہ اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کے بارے میں لنگدوہ کمیٹی نے جو سفارشات کی ہیں ان کو یونیورسٹیز اور کالجز میں روبہ عمل لایا جائے۔مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں یونین الیکشن پر ۲۰۰۶ ؁ء سے پابندی عائد ہے۔ متعدد بار طلبہ اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے اس کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا، پھر بھی اس کو شروع نہیں کیا گیا۔ ۲۰۱۱ ؁ء میں حامدالرحمن نام کے آخری سال کے طالب علم نے دہلی ہائی کورٹ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خلاف پٹیشن جاری کی۔ جولائی ۲۰۱۲ ؁ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا کہ ہم پھر سے یونین الیکشن شروع کریں گے۔ یونیورسٹی کی جانب سے اس کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، اوراس کمیٹی نے اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کے لیے اصول وضوابط ڈرافٹ کرکے وائس چانسلر کو پیش بھی کئے۔ لیکن اس کے باوجود آج تک جامعہ میںیونین الیکشن نہیں کرائے گئے۔اگر اسٹوڈنٹس یونین نہیں ہو تو اسٹوڈنٹس کے مسائل کو کون ایڈریس کرے گا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے جولائی ۲۰۱۴ ؁ء میں اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کو لے کر کافی دلچسپی دکھائی تھی۔ پھر بھی پچھلے سال اس کو شروع نہیں کیا گیا۔ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) کے سکریٹری جناب توصیف احمد مڈیکری نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جون سے شروع ہونے والے اکیڈمک سال میں یونین الیکشن شروع کرائے۔ موصوف نے ایچ آرڈی منسٹر سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامعہ کی انتظامیہ کو جلد از جلد الیکشن شروع کرانے کا حکم جاری کرے۔ ۱۸؍مارچ ۲۰۱۵ ؁ء کو اس سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا گیا، جس میں جلد از جلد یونین الیکشن کی بحالی کی مانگ کی گئی۔ اس موقع پر طلبہ ونوجوانوں کے علاوہ جنرل سکریٹری ایس آئی او آف اندیا برادر الف شکور، مرکزی کیمپس سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا برادر توصیف احمد، سکریٹری برائے رابطہ عامہ برادر لئیق احمد خان ودیگربھی موجود تھے۔
جناب محمد جمیل الدین احمد کی وفات پر ایس آئی او کااظہار تعزیت
جناب محمد جمیل الدین احمد صاحب ، سابق امیر مقامی بیدر کی وفات پر ایس آئی او ضلع بیدر کی جانب سے اظہار تعزیت کیا گیا۔ اس موقع پر جاری پریس ریلیز میں ضلعی صدر ایس آئی او بیدر برادر الطاف امجد نے کہا کہ ’’ محمد جمیل الدین احمد صاحب ایک بہت ہی معزز، مخلص و متحرک اور فعال اسلامی قائد کے طور پر یاد کئے جائیں گے‘‘۔ موصوف نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تحر یک اسلامی بیدر ایک مخلص اور فعال قائد سے محروم ہو گئی لیکن ان کی خدمات ، بالخصوص تحریک اسلامی کے میدان میںآئندہ نسلوں کے درمیان انہیں زندہ و جاوید رکھیں گی۔
ضلعی صدر نے مزید کہا کہ مرحوم ایس آئی اوکے نوجوانوں سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔نوجوانوں کو وہ ہمیشہ بڑے دلنشین انداز میں نصیحتیں کرتے اور انہیں اپنی صلاحیتیں اور جوانی جیسی عظیم نعمت کو اسلامی کاز میں لگانے کا جذبہ پیدا کرتے تھے ۔ انہوں نے مرحوم کی مختلف شخصی و تحریکی اوصاف بیان کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک منکسر المزاج، سادگی پسند اور سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے۔ جماعت اسلامی ہند سے وابستگی نے ان کی شخصیت کے میں مقصد کے حصول کے لئے جہد مسلسل، تڑپ، لگن، خلوص، استقلال اور قربانی کا مادہ پیدا کیا۔ آخر میں اللہ رب العز ت سے دعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ آمین ثم آمین

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ایس آئی او افلو انتظامیہ کے طلبہ مخالف اقدام کی مخالفت کرتی ہے.

  اشفاق علی ایک پارٹ ٹائم طالب کا کیمپس میں داخلہ بغیر ...